سیاست کے مقتل میں کھڑے نوازشریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف سیاست کے مقتل میں کھڑے ہیں اور ن لیگ وقت کی عدالت میں۔ایک طرف نشترِ قاتل سے قطرہ قطرہ موت ٹپک اور رگِ جاں میں اتر رہی ہے۔ نواز شریف اس کی چاپ سن رہے ہیں جو لحظہ لحظہ قریب آتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ن لیگ کی صفوں میں کوئی اضطراب نہیں۔ وقت کے آبِ رواں پر اس کا سفینۂ حیات تیر رہا ہے۔ لہریں پُر سکون ہیں اور مسافر میٹھی نیند سو رہے ہیں۔
ایک حادثہ ہے جو ہماری سیاست پر گزر گیا۔ مولانا مودودی، ولی خان اور نواب زادہ نصراﷲ کیا رخصت ہوئے کہ ہماری اقدار ایک ایک کر کے یہاں سے ہجرت کر گئیں۔ کہتے ہیں‘ جہاں سے ایک بار دریا گزر جائے مدتوں زمین سیراب رہتی ہے۔ زوال کے دور میں بھی آنکھوں کی حیا باقی تھی۔ عمران خان حادثے کا شکار ہوئے تو نواز شریف نے اپنی انتخابی مہم کے رخشِ رواں کو لگام دی اور عیادت کو جا پہنچے۔ اس سے پہلے بے نظیر بھٹو پر حملے کی خبر ملی تو نواز شریف ہسپتال کی طرف دوڑ پڑے تھے۔ ہم سب نے ان کو آب دیدہ دیکھا۔ پیپلز پارٹی میں بھی اس روایت کی جھلک موجود ہے۔
آج ہم سیاست کے ‘دورِ عمران‘ میں زندہ ہیں۔ روایت، قدر، ہر شے بے معنی ہو چکی۔ جیسے کوئی سونامی، یادداشت سمیت، سب کچھ بہا لے جائے اور ایک نئے جزیرے پر ایک نئی بستی نمودار ہو، جس کے مکینوں کا کوئی ماضی نہ ہو۔ اس بستی میں سگا جواں سال چچا زاد بھائی موت کی وادی میں اتر گیا اور عمران خان اسلام آباد میں سالگرہ مناتے رہے۔ وقت کے پاس کوئی ایسا مرہم نہیں جو حفیظ اﷲ خان اور انعام اللہ خان کے سینے کا یہ زخم بھر سکے۔ قمر زمان کائرہ کا جواں سال بیٹا باپ کی آنکھوں کو ویران کر گیا اور انہوں نے فون ہی پر اکتفا کیا۔ خان صاحب کے دورِ اقتدار میں، اس لیے یہ توقع رکھنا کہ نواز شریف یا آصف زرداری سے انسانی بنیادوں پر معاملہ ہو گا، چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرنا ہے۔
شکایت، اس لیے عمران خان سے نہیں، ن لیگ سے ہے۔ طبیب حیرت میں ہیں کہ نواز شریف بچ کیسے گئے۔ انسانی وجود میں پلیٹ لیٹس کی کم از کم مطلوب تعداد ڈیڑھ لاکھ ہے۔ دو ہزار تک پہنچ جائے تو جسم و روح کے رشتے کا قائم رہنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی ایک معجزہ ہی تو ہے۔ عالم کا پروردگار جب چاہے، ایک ‘کن‘ کی صدا سے دل کی دھڑکن خاموش ہو جائے۔ نواز شریف بچ نکلے، یہ الگ بات کہ انہیں موت کی دہلیز تک لے جانے والے کسی عدالت میں جواب دہ نہیں ہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے مگر اس سب میں، وہ شامل نہیں جو اپنے تئیں زندگی اور موت کے فیصلے کرتے ہیں۔
شکایت تو ن لیگ سے ہے کہ سینیٹرز کی وہ فوج ظفر موج کہاں ہے جو بے نامی سے نکلے اور نواز شریف کی ایک جنبشِ ابرو سے قانون ساز ادارے تک جا پہنچے۔ کیا اُن پر لازم نہیں تھا کہ جب موت ان کے محسن سے ہم کلام تھی، وہ گھروں سے نکلتے اور اس کا ہاتھ تھامتے؟ کہاں ہیں آصف کرمانی جو ‘وزیرِ اعظم‘ نواز شریف کی گاڑی کا دروازہ کھولنے کو باعث فخر سمجھتے تھے؟ کہاں گئی دلاور خان کی دلاوری؟ کہاں ہیں رانا محمودالحسن، رانا مقبول، حافظ عبدالکریم، پیر صابر شاہ، جنرل صلاح الدین ترمذی، جنرل عبدالقیوم، نزہت صادق، کلثوم پروین اور نہ جانے اور کتنے؟ اور تو اور چوہدری تنویر بھی بیرونِ ملک جا بسے۔
لے دے کے ایک پرویز رشید ہیں یا پھر مشاہداللہ خان جو سیاست کے مقتل میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ احسن اقبال کہتے ہیں: نواز شریف کو کچھ ہوا تو عمران خان ذمہ دار ہوں گے؟ عمران خان ہی کیوں؟ احسن اقبال اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں: عمران خان ہی یا عمران خان بھی؟
عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی
سنتے تو یہ بھی ہے کہ جنہیں بطلِ حریت سمجھا جاتا تھا، اب خیر سے مخبری کرتے ہیں۔ یا پھر شب کی آخری ساعتوں میں‘ جب خدا کے بندے اس کے حضور میں سجدہ ریز ہوتے ہیں، یہ ‘مواحد‘ کسی اور چوکھٹ پہ جھکے ہوتے ہیں۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی اپنی اپنی صلیب اپنے کندھے پر اٹھائے مقتل میں کھڑے ہیں اور حواری کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ نواز شریف کو کیا سب کے گناہوں کا کفارہ تنہا ادا کرنا ہے؟
مسلم لیگ کی تاریخ یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں آسودہ رہتی ہے۔ عوامی چوپال اس کے لیے کبھی سازگار نہیں رہے۔ تاثر یہی رہا کہ یہ ایک خاص اعیانی کلچر کی نمائندہ ہے جو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا ایک پڑاؤ ہے۔ لوگ اقتدار سے لطف اٹھانے آنے کے لیے یہاں ٹھہرتے ہیں۔ یہ آمروں کا پسندیدہ بازار رہا ہے جہاں سے ان کے لیے حسبِ ضرورت مال دستیاب ہوتا رہا ہے۔
نواز شریف نے سرمایہ دارانہ پس منظر کے باوجود اس کلچر کو بدل ڈالا۔ وہ اسے چوپال اور جرگے تک لے گئے، بھٹو صاحب کی طرح، جنہوں نے جاگیردار ہونے کے باوصف پیپلز پارٹی کو ایک عوامی جماعت بنایا۔ مسلم لیگ اب آمروں کی چراگاہ نہیں رہی۔ نواز شریف پر عوامی اعتماد نے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو بھی مجبور کیا کہ وہ مسلم لیگ سے وابستہ رہیں۔ ان ایوانوں کے آداب سے وہ پہلے ہی واقف تھے۔ آہستہ آہستہ انہوں نے حکومت اور جماعت کے مناصب پر قبضہ کر لیا۔
نواز شریف اس کا پوری طرح ادراک نہ کر سکے کہ مسلم لیگ کی عوامی حمایت کو سیاسی طور پر منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے صحیح معنوں میں ایک عوامی جماعت بننا ہے تو اس کی عوامی سطح پر تنظیم ضروری ہے۔ انہوں نے سینیٹ کے ٹکٹ بھی کسی میرٹ پر نہیں دیے۔ اس کا انہیں نقصان ہوا۔ آج ان سینیٹرز میں دو تین کے سوا کوئی ان کے بیانیے کے ساتھ نہیں کھڑا۔ سب خاموش ہیں یا نوحہ خواں کہ نواز شریف نے انہیں بھی مصیبت میں پھنسا دیا۔ اگر عوام استقامت نہ دکھاتے تو یہ کب کے رخصت ہو چکے ہوتے۔
اور تو اور، سید مشاہد حسین بھی کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ نون لیگ ان کے علم و دانش سے محروم ہے۔ انہیں ‘پاک چین دوستی‘ کے مشن ہی سے فرصت نہیں کہ وہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں پریشان ہوں۔ قیادت کی سطح پر مسلم لیگ کی صفوں میں ایسی بے حسی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ کیا اس جماعت میں کوئی دوسرا رانا ثنااللہ نہیں ہے؟ کوئی دوسرا شاہد خاقان نہیں؟ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک مشکل کام ہے۔ مقتل میں کھڑے لوگوں کا ساتھ دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کو اتنی توفیق بھی نہیں کہ وہ کسی مظلوم کے حق میں آواز اٹھا سکیں؟ مظلوم بھی وہ جو ان کا محسن ہے۔ جس نے انہیں لاشے سے ایک با معنی وجود بنا دیا۔
نون لیگ احتجاجی تحریک اٹھانے کا تمام اخلاقی جواز رکھتی ہے۔ اس کا مقدمہ ہے کہ اس پر انصاف کے دروازے بند کر دیے گئے۔ عوام سے مخاطب ہونے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ اس نے حکومت کو ایک میثاقِ معیشت کی پیش کش کی۔ شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں تعاون کی بات کی جسے زبانِ حال سے مسترد کر دیا گیا۔ اب اگر وہ احتجاج نہ کریں تو کیا کریں؟ افسوس کہ ن لیگ کے یہ سینیٹر اور ارکانِ اسمبلی یہ سادہ مقدمہ بھی پیش نہ کر سکے۔
ن لیگ معرضِ امتحان میں ہے۔ سوال اٹھے گا کہ جب نواز شریف اور مریم نواز استقامت کا پہاڑ بن کر کھڑے تھے، نون لیگ کی قیادت کس حال میں تھی؟ سر افگندہ یا سر بکف؟ وقت کی عدالت کو اس کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ لیگیوں کو سوچنا ہو گا کہ وہ اس عدالت میں سرخرو ہونا چاہتے ہیں یا پھر مسلم لیگ کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟ اگر بے حسی اسی طرح غالب رہی تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ مورخ لکھے گا کہ ٹیپو سلطان اور میر جعفر کی داستان، اکیسویں صدی میں ایک بار پھر دھرائی گئی، بس اتنی تبدیلی کے ساتھ کہ ٹیپو سطان تو چند ایک ہی تھے مگر میر جعفروں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •