نواز شریف: فرد سے علامت تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف اب ایک فرد نہیں، ایک علامت کا نام ہے: مزاحمت کی علامت۔

یہ عام لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں کوئی ایک واقعہ، ایک نعرہ مستانہ، فرد سے علامت بنا دیتا ہے۔ تاریخ کے کسی موڑ پر وہ جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ماہ و سال سے اٹھ جاتے ہیں۔ پھر تاریخ انہیں اپنے آغوش میں لے لیتی ہے۔ علامت بننا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس کی ایک قیمت ہے جو دینا پڑتی ہے۔ یہ اعزاز ملتا ہے تو کبھی اقتدار کی قربانی سے اور کبھی جان کے عوض۔

تاریخ کے صفحات جن لوگوں کے تذکرے سے روشن ہیں، ان میں سے اکثر عام لوگ ہی تھے۔ دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ۔ کسی لمحے انہوں نے ایک عہد کیا اور پھر اس کو نبھانے کے لیے خود کو داؤ پر لگا دیا۔ در حقیقت، تاریخ دو طرح کے لوگوں بناتے ہیں۔ ایک وہ جو خدا کی طرف سے کوئی سند یا صلاحیت لے کر نمودار ہوتے اور پھر ان کی کوشش یا فکر سے وقت کا دھارا ایک نئے رخ پر بہنے لگتا ہے۔ دوسرے وہ جو اپنی عزیمت یا استقامت سے زمانے کا چلن بدل دیتے ہیں۔ نواز شریف دوسری طرح کے لوگوں میں شامل ہیں۔ وہ خاص آدمی نہیں تھے لیکن ان کی عزیمت نے انہیں معاصر اہلِ سیاست سے ممتاز کر دیا۔

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن

اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

نواز شریف ایک عام آدمی ہیں۔ اتنے ہی نیک جتنا کوئی عام آدمی ہوتا ہے۔ اتنے ہی گناہ گار جتنا ایک عام آدمی ہوتا ہے۔ عام آدمی دیوتا ہوتا ہے نہ شیطان۔ حالات انہیں ایک ایسے مقام پر لے آئے جہاں وہ چاہتے تو ایک عام آدمی ہی کی طرح جیتے۔ اعجاز شاہ صاحب کے الفاظ میں، وہ چوتھی بار بھی پاکستان کے وزیر اعظم بن جاتے۔ شاہ صاحب درست کہتے ہیں۔ اگر وہ مزاحمت نہ کرتے تو آج ملک کے وزیر اعظم ہوتے۔ وہ وزیر اعظم بن جاتے تو کیا ہوتا؟ ان کو آسودگی کے چند سال مزید مل جاتے، مگر وہ علامت نہ بن پاتے۔

انہوں نے ایک خاص لمحے میں مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ آسودگی کی زندگی پر جیل کی صعوبتوں کو ترجیح دی۔ اقتدار ہی نہیں گیا، ان کی زندگی بھی داؤ پر لگ گئی۔ خاندان بکھر گیا۔ بیٹی پر تعیش محلات سے نکلی اور تکلیف دہ حوالات جا پہنچی۔ یہ نواز شریف کا اپنا انتخاب تھا۔ یقیناً یہ آسان فیصلہ نہیں تھا۔ وہ اس کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو گئے اور یوں فرد سے علامت بن گئے۔

یہ اب کوئی راز نہیں کہ ان سے ”ڈیل‘‘ کی بہت کوشش کی گئی۔ لوگ ‘ این آر او‘ ہاتھ میں لیے پھرتے رہے۔ سفارشیں کراتے رہے کہ وہ اسے قبولیت سے نوازیں۔ نواز شریف نے ہر بار انکار کیا۔ سادہ سی بات ہے۔ اگر باہر رہنا ان کی ترجیح ہوتا تو وہ ملک میں آتے کیوں؟ اس معاملے میں وہ اپنے بھائی کی سننے پر آمادہ ہوئے نہ سیاسی رفقاء کی۔ سیاسی رفیق بھی ریاست کی قوت کے سامنے کمزور پڑتے گئے۔ نواز شریف لیکن ڈٹے رہے۔ یہ عزیمت اور استقامت کا راستہ تھا۔ علامت بننا تاریخ میں کبھی آسان نہیں رہا۔

‘ پوسٹ ٹرتھ‘ سے عبارت سیاسی بیانیے نے کرپشن کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنایا اور پھر ابلاغ کی ساری کوششیں اس نکتے پر مرتکز کر دیں کہ نواز شریف کو کرپشن کی علامت بنا دیا جائے۔ ‘سٹیٹس کو‘ کی قوتوں کو اندازہ تھا کہ وہی ان کے راستے میں مزاحم ہو سکتے ہیں۔ نوزائیدہ سیاسی ذہن اس کا شکار ہوئے کہ ” پوسٹ ٹرتھ‘‘ کا ہدف ہمیشہ نیم خواندہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔

نواز شریف اللہ کے ولی کبھی نہیں تھے نہ اب ہیں۔ وہ ایسے ہی ایک کاروباری آدمی ہیں جیسے ہمارے ہاں ہوتے ہیں۔ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی، ان کے خلاف اگر کچھ ہاتھ آیا تو ”اقامہ‘‘۔ عدالت نے سزا اقامہ پر دی مگر ”پوسٹ ٹرتھ‘‘ کا کمال دیکھیے کہ عوامی مقدمہ پاناما کا بنا۔ ”آف شور‘‘ کمپنیاں تو یہاں عمران خان سمیت سب نے بنائیں۔ پھر پچیس سال پرانے ”منی ٹریل‘‘ مانگے گئے۔ قطری شہزادے کے خط کو ”پوسٹ ٹرتھ‘‘ کی قوت سے ان کے خلاف ہتھیار بنا دیا گیا‘ مگر جمائما خان کا ایفی ڈیوٹ نظر انداز ہوا جو عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا گیا۔

مکرر عرض ہے کہ نواز شریف کو میں فرشتہ نہیں سمجھتا، لیکن انہیں کرپشن کی علامت بنانا ”پوسٹ ٹرتھ‘‘ کا کمال ہے۔ یہ اسی نظام کی عطا ہے جس میں بی آر ٹی پشاور جیسے کرپشن اور نا اہلی کے مقدمے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ جہانگیر ترین کو بھی اسی عدالت عظمیٰ نے تاحیات نااہل کیا لیکن وہ کرپشن کی علامت نہیں بنے۔ آج بھی امورِ حکومت اور فیصلہ سازی میں شریک ہیں۔

پوسٹ ٹرتھ نے نواز شریف کو کرپشن کی علامت بنانا چاہا مگر وقت نے انہیں مزاحمت کی علامت بنا دیا۔ یہ مزاحمت کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں، اس سوچ کے خلاف ہے جو عوام کے حقِ اقتدار کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ جو آئین کو کاغذ کا ایک چیتھڑا سمجھتی ہے۔ جو قومی مفاد کی تعریف ایک مخصوص گروہ کا استحقاق جانتی ہے، عوام کے نمائندوں کا نہیں۔ یہ سوچ ریاستی اداروں میں پائی جاتی ہے اور سول بیوروکریسی میں بھی۔ صحافت میں اس کے علم بردار موجود ہیں اور مذہبی طبقات میں بھی۔

یہ سوچ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں پہلے سے موجود تھی۔ سیاسی حرکیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب تک کوئی سوچ پنجاب میں جڑ نہیں پکڑتی، قومی بیانیہ نہیں بنتی۔ نواز شریف کی وجہ سے یہ سوچ پنجاب میں بھی اب ایک مقبول بیانیہ بن چکی ہے۔ نواز شریف کے حق میں دوسروں صوبوں سے توانا آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ان کے لیے ہمدردی کی ایک لہر ہے جو ملک بھر میں پھیل رہی ہے۔ یہ وفاق کے لیے نیک شگون ہے۔ نواز شریف کا بیانیہ انشااللہ پاکستان کو مضبوط اور متحد کرنے کی بنیاد بنے گا۔

ہماری تاریخ اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر چکی کہ یہ ریاستی ادارے نہیں، قومی سیاسی جماعتیں ہیں جو وفاق کو متحد رکھ سکتی ہیں۔ آمروں نے اپنے اقتدار کے لیے قومی سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا اور علاقائی و لسانی جماعتوں کو ابھارا۔ جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف نے جس طرح کراچی کو برباد کیا، وہ ہماری تاریخ کا ایک الم ناک باب ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کا کردار ہے۔ 1979ء سے 2007ء تک، پیپلز پارٹی نے وفاق کو متحد رکھنے کے لیے شاندار کردار ادا کیا۔ بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت معمولی واقعات نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی نے ان نازک موقعوں پر سندھ کو سنبھالا دیا۔ آصف زرداری نے ”پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ بلند کر کے، قومی خدمت سرانجام دی۔ ‘پوسٹ ٹرتھ ‘ کا ایک کمال یہ ہے کہ اس نے زرداری صاحب کی مبینہ کرپشن کو بھولنے نہیں دیا لیکن اُن کے اِس کردار کو عوامی یادداشت سے محو کرا دیا۔

وفاق کے لیے یہی خدمت آج نواز شریف سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے مخالفین سرتوڑ کوشش میں رہے کہ نواز شریف کو کرپشن یا پھر فوج کے خلاف ایک علامت کے طور پر پیش کریں۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے کے خلاف یہ مقدمہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ وہ محبِ وطن عوامی قوتوں کے نمائندہ ہیں۔ ان کا بیانیہ ہی پاکستان کو متحد رکھ سکتا ہے۔ دیگر صوبوں میں ان کی پذیرائی اس کا بین ثبوت ہے۔ میرا تاثر ہے کہ اگر ملک کے سیاسی نظم کو اس بیانیے پر استوار کر دیا جائے تو یہاں علیحدگی پسند تحریکیں مہینوں میں دم توڑ دیں۔

آج بھی کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ نواز شریف کو کرپشن کی علامت بنائے رکھیں۔ یوں ان کا بیانیہ پس منظر میں چلا جائے اور قومی سطح پر بحث کا موضوع نہ بنے۔ میری خواہش ہو گی کہ جنہیں نواز شریف پسند نہیں، وہ ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، اس بیانیے پر ضرور غور کریں۔ یہ بیانیہ ہی پاکستان کو متحد رکھنے کی ضمانت ہے۔ جس دن سندھ، کے پی، پنجاب اور بلوچستان کے عوام میں یہ تاثر پختہ ہو گیا کہ ان کی قسمت کا فیصلہ ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، پاکستان کسی خارجی جبر کے بغیر ہی متحد ہو جائے گا۔

بشکریہ: روز نامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •