وزٹ نہ سہی، ایک کال ہی کر لیتے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برق رفتار دور میں، جب کسی خبر، کسی اطلاع کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رسائی کے لئے صرف ایک Click درکار ہوتا ہے، جناب وزیر اعظم کو اپنے سیاسی حریف کے لئے نیک خواہشات کے اظہار (اور اس کی صحت یابی کے لئے دعا) میں چالیس گھنٹے لگ گئے۔ سیاسی حریف جو عدالت سے انتخابی سیاست کے لئے تاحیات نا اہل قرار پا چکا اور عدالتیں جسے ایک کیس میں دس سال اور دوسرے میں سات سال قید سنا چکیں۔ اس کے باوجود اسے تاحیات اپنا سیاسی قائد قرار دینے والی جماعت نے الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ ووٹ حاصل کیے اور یہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے۔

 سیاسی حریف، جو دو بار ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ اور تین بار ملک کا وزیر اعظم رہا۔ کبھی ان میں گہرا دوستانہ بھی تھا۔ وہ لاہور جم خانہ میں اکٹھے کرکٹ کھیلا کرتے۔ شوکت خانم ہسپتال کے لئے جس نے 16 ایکڑ اراضی الاٹ کی (اور اس عظیم الشان منصوبے کے لئے دیگر ضروری سہولتیں بھی فراہم کیں ) لیکن وہ اس کا ذکر نہیں کرتا کہ اس کے خیال میں یہ عمران خان پر کوئی احسان نہ تھا۔ 1992 کے ورلڈ کپ پر اسلام آباد میں قیمتی پلاٹ کی الاٹمنٹ بھی کوئی احسان نہ تھا کہ یہ پلاٹ، کرکٹ کا عظیم کارنامہ انجام دینے والے تمام کھلاڑیوں (اور غالباً اس دور کے پی سی بی آفیشلز کو بھی) ملے تھے۔

 فیصل ٹاؤن لاہور میں خان کے لئے ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ اس کا صوابدیدی اختیار تھا اور یہ اختیار اس نے سینکڑوں دیگر مستحقین کے لئے بھی استعمال کیا تھا۔ جلا وطنی کے دنوں میں شہباز شریف نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے 25 لاکھ کا عطیہ بھجوایا، تو چھوٹے میاں بھی اسے کوئی احسان نہیں سمجھتے کہ یہ ان کے اپنے کینسر سے شفایابی کا صدقہ تھا (شہبازنے یہ علاج امریکہ میں کروایا تھا)۔

2013 کے انتخابات میں وہ ایک دوسرے کے حریف تھے۔ انتخابی مہم میں خان کا لب و لہجہ شدید تر تھا۔ عمران خان ایک انتخابی جلسے میں سیڑھی سے گر کر زخمی ہو گئے، تب نواز شریف غالباً راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے انتخابی حریف کے لیے نہ صرف دعا کروائی بلکہ اگلے روز ملک بھر میں اپنی انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ شہبازشریف اسی شب ہسپتال پہنچے (اور ملاقات پر پابندی کا سن کر، وزیٹرز بک پر دعائیہ کلمات لکھ کر واپس آ گئے ) الیکشن کے بعد نواز شریف بھی ہسپتال آئے، کرکٹ کے دنوں کی خوشگوار یادیں تازہ کیں اور یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے، عمران!

 جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ ’ہم فرینڈلی میچ کھیلیں گے۔ پرانا مقولہ ہے، سیاست میں دوست اور دشمن نہیں ہوتے، حلیف اور حریف ہوتے ہیں۔ آج کے حلیف کل کے حریف اور گزشتہ کل کے حریف آج کے حلیف ہو سکتے ہیں۔ اپریل 1996 میں تحریک انصاف کے قیام کے بعد عمران خان بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہ تھے۔ 1999 میں ”نواز شریف ہٹاؤ“ کے ون پوائنٹ ایجنڈا پر، اُس دور کی جی ڈی اے میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواب زادہ صاحب کے شانہ بشانہ تھے۔

 یادش بخیر اپنے جنرل اسلم بیگ (عوامی قیادت پارٹی) اور علامہ طاہرالقادری (ابھی ”شیخ الاسلام“ نہیں ہوئے تھے ) بھی اس کا حصہ تھے اور 12 اکتوبر کی شب نوازشریف کی رخصتی پر مبارک سلامت کہہ رہے تھے۔ مشرف کے خلاف اے آر ڈی بنی تو خان نے اس کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ وہ ریفرنڈم میں مشرف کی حمایت کررہے تھے‘ لیکن الیکشن 2002 سے قبل اس بنیاد پر ڈکٹیٹر سے علیحدگی اختیار کرلی کہ اس نے گجرات کے ”کرپٹ چودھریوں“ کو اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا۔

 وزارتِ عظمیٰ کے لئے خان کا (واحد) ووٹ مولانا فضل الرحمن کے حق میں تھا۔ حالات کے جبر نے نوازشریف اور خان کے درمیان فاصلے مٹا دیے۔ خان جولائی 2007 میں لندن میں نوازشریف کی آل پارٹیز کانفرنس میں جوش وخروش کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ وہ نئے سیاسی اتحاد اے پی ڈی ایم میں بھی شامل تھے۔ فروری 2008 کے عام انتخابات میں اے پی ڈی ایم کی آدھی سے زائد جماعتیں حصہ لینے کی حامی، جبکہ عمران خان، قاضی حسین احمد اور محمود خان اچکزئی بائیکاٹ کے حق میں تھے۔

عدلیہ بحالی مہم میں وہ پھر شانہ بشانہ تھے۔ 2013 کے الیکشن کے بعد (چارحلقے کھولنے کے مطالبے کے باوجود) دونوں میں ذاتی اور پارلیمانی تعلقاتِ کار قائم رہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن میں جاوید ہاشمی (پی ٹی آئی کے امیدوار کے طورپر) نوازشریف کے مدمقابل تھے۔ 12 مارچ 2014 کو خان نے وزیر اعظم نواز شریف کو، بنی گالہ چائے پر مدعو کیا۔ پرُتکلف چائے پر یہ بے تکلف گپ شپ تھی۔

نوازشریف سروسز ہسپتال میں ہیں۔ ان کی میڈیکل ہسٹری خاصی طویل ہے۔ دوبار ہارٹ سرجری، چھ سات سٹنٹ اس کے علاوہ ہیں۔ فروری میں کوٹ لکھپت جیل میں علیل ہوئے تو خود حکومت کے مقررکردہ پانچ میڈیکل بورڈز کی رپورٹس دل کے سنگین عارضے کے علاوہ بلڈ پریشر، شوگر اور گردے کی تیسری درجے کی بیماری کی نشاندہی کررہی تھیں (اس دوران وہ مختلف ہسپتالوں کے درمیان ”شٹل کاک“ بنے رہے ) محکمہ جیل خانہ جات کی طرف سے ان کے لئے ”سپیشلائزڈ کارڈیک ایمبولنس“ کی فراہمی کی درخواست پر محکمہ صحت نے معذوری کا اظہار کیا کہ اس کے پاس اپنے ہسپتالوں کے لئے بھی یہ ایمبولینسز ناکافی ہیں۔

 سپیشلائزڈ ایمبولینس میں کارڈیک مانیٹر، وینٹی لیٹراور ای سی جی کے علاوہ ڈیفیبریلیٹر Defibrillator بھی ہوتا ہے ’جو دل کے شدید دورے میں ہائی انرجی الیکٹرک شاک میں کام آتا ہے۔ نوازشریف 11 اکتوبر سے (چودھری شوگر ملز کیس میں ) نیب کی تحویل میں ہیں۔ ان کے پرسنل فریشن ڈاکٹر عدنان کے بقول، بار بار درخواست کے بعد انہیں 18 اکتوبر کو ملاقات کی اجازت ملی۔ دوسرے دن وہ ای سی جی مشین سمیت ضروری آلات ساتھ لے گئے۔ میاں صاحب کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک گر چکے تھے۔ ان کی طرف سے سوشل میڈیا پر چیخ پکار اورالیکٹرانک میڈیا پر رات گئے شہبازشریف کے بیان کے بعد مریض کو سروسز ہسپتال پہنچانے کا فیصلہ ہوا۔

نوازشریف کی زندگی شدید ترین خطرے سے دوچار تھی۔ خود وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے بقول وہ ہسپتال آئے تو پلیٹ لیٹس 10 ہزار تھے، اگلے روز یہ 2 ہزار تک گرگئے تھے (ایسے میں کوئی معجزہ ہی مریض کو بچا سکتا ہے ) صوبائی دارالحکومت میں دستیاب بہترین ڈاکٹروں کی ٹیم اس کے اسباب جائزہ لے رہی تھی۔ امراضِ خون کے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر طاہر شمسی بھی کراچی سے لاہور پہنچ گئے تھے لیکن نیب ترجمان اسی شب (اور اسی وقت) اسے میاں صاحب کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی ادویات کا نتیجہ قرار دے رہاتھا۔

 ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کا دعویٰ بھی یہی تھا۔ انہوں نے یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ نوازشریف کو اللہ کی ذات پر اتنا یقین نہیں جتنا ڈاکٹر عدنان کے نسخے پر ہے۔ ماہرترین ڈاکٹر مریض کے اسباب جاننے میں مصروف تھے اور اگلی شام ڈاکٹر صاحبہ (کسی تشخیص کے بغیر) باقاعدہ پریس کانفرنس میں فرما رہی تھیں، آپ ہریسہ، نہاری اور دیگر مرغن غذائیں کھائیں گے اور پھر خون پتلا کرنے کے لیے ”لوپرین“ لیں گے تو پلیٹ لیٹس نے تو گرنا ہی ہے۔

 اس کے علاوہ وہ میاں صاحب کو غذا کے سلسلے میں اپنی ادائیں بدلنے کا مشورہ بھی دے رہی تھیں۔ وزیر اعظم کے ایک اور ترجمان، سینیٹر فیصل جاوید خان فرما رہے تھے، مریض کو خود بھی تو اپنا خیال کرنا چاہیے۔ میاں صاحب کواس حالت تک پہنچانے میں ان کے صاحبزادوں اور صاحبزادی کا بھی ہاتھ ہے۔ اور پھر وہی آموختہ، ان لوگوں نے اپنے اقتدار میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہ بنایا، جن میں ان کا علاج ہو سکے۔

خطرناک ترین حالت میں میاں صاحب کی ہسپتال منتقلی کے ساتھ ہی کیپٹن صفدر کی (ایک پرانی ایف آئی آر میں ) گرفتاری، مریم نواز کی طبیعت کی خرابی پر رات گئے ہسپتال آمد، یہاں مریض باپ کے ساتھ بیٹی کی ایک گھنٹہ کی ملاقات، مریم کا علاج کے لئے ہسپتال میں باقاعدہ ایڈمشن اور علی الصبح 5 بجے دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقلی۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے اپنے ترجمانوں کو ان کی صحت کے بارے میں بیان بازی سے منع کرنے کے علاوہ مریم کو اپنے والد کی تیمارداری کے لئے ہسپتال میں رہنے کی اجازت دی اور مریض کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی۔ وہ اس کے لئے گورنر اور وزیر اعلیٰ سے بھی رابطے میں ہیں۔ جناب وزیر اعظم موت کے دہانے سے واپس آنے والے اپنے سیاسی حریف کو وزٹ کرنے کے لئے وقت نہیں نکال سکے تو اسے ایک کال ہی کر لیتے!

بشکریہ: دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •