99 مجرم چھوڑ دیں۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو تین سال پہلے امریکہ میں پرانی کتابوں کی دکان سے ایک کتاب لی تھی جس میں امریکی تاریخ کے مشہور مقدمات کی تفصیل تھی۔ امریکی تاریخ کے باقی اہم مقدمے ایک طرف لیکن جس مقدمے نے مجھے متاثر کیا ’وہ قانون کے اس تصور کے بارے میں تھا کہ بے شک ننانوے گناہگار چھوٹ جائیں لیکن ایک بے گناہ کو پھانسی نہیں چڑھانا چاہیے۔

پہلے مجھے قانون کے اس تصور کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ بھلا ایک بے گناہ کو بچانے کے لیے کیوں ننانوے لوگوں کو چھوڑ دیا جائے جو اپنا جرم مان چکے، عدالتیں سزائیں دے چکیں اور سب کو علم ہے وہ قصوروار ہیں۔ لیکن پھر بھی قانون کے بڑوں نے یہ تصور دیا ہوا ہے کہ ایک بے گناہ کی خاطر ننانوے کو چھوڑ دیں؟

یہ بھی سوال ذہن میں اٹھتا تھا کہ عدالت یا جج کیسے ایک بے گناہ کو سزا دے سکتے ہیں کیونکہ قانون اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ مجرم اور بے قصور میں فرق کرے۔ اگر عدالت یہ فرق ہی نہیں کر سکتی تو پھر وہ کس بات کی عدالت ہے؟ یہ کتاب پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ بے قصور کو قانون کے ہاتھوں انصاف ملنا کتنا ضروری ہے۔

کوئی معاشرہ اس تصور پر چلتا ہے کہ اس معاشرے کے افراد جس ملک میں رہتے ہیں وہاں بے قصور کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی۔ اسی لیے سب لوگ ریاست، حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو اپنی آمدن سے ٹیکس دیتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ سوتے ہیں ریاست ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دے گی۔ انہیں یہ خبر سننے کو نہیں ملے گی ایک بے گناہ کو پھانسی چڑھا دیا گیا۔ اگر ایک بے گناہ پھانسی چڑھ گیا تو اس سے معاشرے میں ایسی بے یقینی پھیلے گی جو پوری ریاست کو تباہ کر دے گی۔

اسی لیے ایک انسان عمر بھر قوانین کی پیروی کرتا ہے اور اپنی آزادی ریاست کے آگے سرنڈر کرتا ہے۔ جب یہ نہیں ہوتا تو اس کا ایمان ریاست اور ریاست کے قوانین سے اٹھ جاتا ہے اور یہ بات معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسی لیے قانون میں یہ کہا جاتا ہے کہ بے گناہ کو سزا نہیں ملنی چاہیے چاہے سو لوگوں کو آپ کو چھوڑنا پڑے تاکہ لوگوں کا قانون پر سے اعتماد نہ اٹھ جائے کہ فلاں بے گناہ تھا پھر بھی مارا گیا تو ہم بھی کسی دن ایسے مارے جائیں گے۔ یہ سوچ معاشرے کو انارکی کی طرف لے جاتی ہے۔

لیکن اب اہم بحث یہ شروع ہوتی ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں جنہوں نے دن دہاڑے بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیوں سے بھون ڈالا ہو تو اس کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ تو کیا ساہیوال ٹریجڈی میں ملوث ان قاتلوں کو ہم ننانوے مجرموں کی فہرست میں ڈال دیں جنہیں چھوڑنا ضروری تھا ورنہ لوگوں کا قانون سے ایمان اٹھ جاتا؟ جس طرح ملزمان کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ ان کے خلاف ثبوت نہیں ملے، یہ ایک بے قصور کی خاطر ننانوے مجرموں کو چھوڑنے سے بھی زیادہ خوفناک عمل ہے۔ یہ بات اس دن طے ہو گئی تھی کہ ریاست اور ریاستی ادارے اس کیس میں دلچسپی نہیں رکھتے جس دن وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں بچوں کو ایک دو کروڑ روپے کا چیک دے کر انصاف خرید لیا تھا۔ پہلے دن سے ہی سب کو علم تھا کہ اس کیس میں انصاف نہیں ہو گا۔

وقتی طور پر لوگوں کا غم و غصہ کم کرنے کے لئے ایک ٹویٹ قطر جانے سے پہلے کر دیا تھا کہ واپس آنے دیں اور پھر دیکھیں وہ کیسے دھواں دھار قسم کا انصاف کرتے ہیں۔ اگر عمران خان اس انصاف میں سنجیدہ ہوتے تو وہ سب سے پہلے آئی جی پنجاب امجد سلیمی کے خلاف ایکشن لیتے جن کے دفتر سے پہلا یہ پریس ریلیز جاری ہوا تھا کہ چار دہشتگرد پنجاب پولیس نے مار ڈالے ہیں۔ اس کے لئے وہ قوم اور ملک سے داد مانگ رہے تھے۔ وہ پریس ریلیز آج بھی پڑھ لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ پولیس اور اس کے سربراہان کتنی قابلیت رکھتے ہیں۔

اس پر دکھ یہ ہوا کہ پولیس نے اپنی غلطی ماننے کی بجائے ان سب کو دہشتگرد بنانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ وزیر قانون راجہ بشارت کے بیانات اٹھا کر پڑھ لیں۔ آپ تصور کریں ’اگر وہاں سے گزرتی بس کے کسی مسافر کی بنائی گئی ویڈیو سامنے نہ آتی تو پولیس نے ان سب کو دہشت گرد ثابت کر دیا تھا۔ پاکستان میں یہ کلچر بن چکا ہے کہ ہر محکمہ اپنے پیٹی بھائیوں کو بچا لیتا ہے اور اس کے لئے ایسی ایسی تاویلیں گھڑ لی جاتی ہیں کہ بندہ حیران ہو جاتا ہے۔

پولیس کو ڈی ایم جی سے آزادی ملے اٹھارہ برس ہو چکے ہیں۔ اٹھارہ برس قبل جب پولیس افسر افضل شگری نے اپنے تئیں بڑا معرکہ مارا اور جنرل مشرف کو کہانیاں سنا کر نیا پولیس آرڈر جاری کرا دیا تھا‘ تو جشن منائے گئے تھے کہ پولیس ڈی ایم جی افسران سے چھٹکارے کے بعد اب ایسا انصاف معاشرے میں لائے گی کہ لوگ یورپ کی پولیس کو بھول جائیں گے۔ ان اٹھارہ برسوں میں پولیس نے محض بدقماش سیاستدانوں، کرپٹ حکمرانوں اور قبضہ مافیاز کے اقتدار کو دوام بخشنے اور ان کی انگلیوں پر ناچنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

کیا وجہ ہے کہ اٹھارہ برس بعد لوگ اب دوبارہ چاہتے ہیں کہ بے لگام پولیس کو دوبارہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے کنٹرول میں دیا جائے کیونکہ تھانے اب پھانسی گھاٹ بن چکے ہیں؟ اس پر پنجاب پولیس نے فوراً ردعمل دیا اور ہڑتال اور استعفوں کی دھمکیوں پر اتر آئے۔ کیا پولیس افسران نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت کی کہ اٹھارہ برسوں میں بھی عوام کا اعتماد کیوں نہیں جیت سکے؟ شتر بے مہار کیوں بن گئے ہیں جو پوسٹنگ ٹرانسفر کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں؟ پولیس عوام کی قاتل کیوں بن گئی؟

جب چند اچھے پولیس افسران اس کلچر کے آگے بند باندھنے کے لئے بڑھے تو ان کے لئے اپنے پیٹی بھائیوں میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا ’سب کو خطرہ تھا کہ پوسٹنگ نہ ماری جائے۔ حاکم وقت خلاف نہ ہو جائے۔ آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ اور ایس ایس پی محمد علی نیکوکارا نے اسلام آباد دھرنے کے دنوں میں مظاہرین پر گولیاں چلانے سے انکار کیا تو چوہدری نثار علی نے ان کے خلاف کارروائیاں کیں۔ محمد علی نیکوکارا کو تو نوکری سے برطرف تک کرا دیا گیا۔

پھر بھی ایک پولیس افسر نظر نہ آیا دھمکی دیتا کہ ہم سب استعفیٰ دے دیں گے۔ یہ وہی افسران ہیں جو اس وقت نوکریاں چھوڑنے کو تیار ہیں‘ اگر ضلعی پولیس کو دوبارہ ڈی سی کے نیچے دیا گیا یا ان سے عوام کو قتل کرنے پر باز پرس کی گئی۔ جب چند پولیس افسران پولیس کے امیج کے لئے لڑ رہے تھے ’نوکریوں کی قربانیاں دے رہے تھے اس وقت کسی افسر کو یاد نہ رہا تھا کہ انہیں ان افسران کا ساتھ دینا ہے۔

اس کلچر کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ پولیس عوام میں پہلے بھی کبھی اتنی ساکھ نہیں رکھتی تھی ’رہی سہی کسر اس ساہیوال واقعے سے پوری ہو گئی ہے۔ پنجاب پولیس کا نیا بھیانک روپ سامنے آیا ہے‘ جہاں دن دہاڑے ایک پورے خاندان کو ختم کرنے بعد آئی جی پنجاب کے دفتر سے پوری قوم کو بتایا جاتا ہے کہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

یہ بات طے ہے کہ یہ ریاست اور اس کے ادارے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ ریاست جب مجرموں کے ساتھ مل جائے اور چند اعلیٰ افسران کو بچانے کے لئے پورے معاشرے کو داؤ پر لگانے پر تُل جائے تو لکھ لیں بے شک ایک بے گناہ کو بچانے کے نام پر ننانوے گناہگاروں کو چھوڑتے رہیں، معاشرہ تباہ ہوتا رہے گا۔ ایسے مجرموں کو چھوڑنے کے اثرات تباہ کن ہوتے ہیں جیسے ساہیوال میں ہمیں نظر آیا ہے کہ عوام کا اعتماد قانون اور ریاست سے اٹھ گیا ہے۔

عمران خان تک سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ چند مجرموں کو بچانے کے لئے پوری ریاست کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھیں گے جو ساہیوال ٹریجڈی سے کم ٹریجڈی نہیں ہو گی۔ سب کو علم ہے کہ ریاستی ادارے اس کھیل میں شریک تھے ’جنہوں نے پہلے خاندان کو قتل کیا اور پھر اپنے بھیجے ہوئے قاتلوں کو بائیس کروڑ عوام کی آنکھوں کے سامنے بڑے آرام سے نکال کر لے گئے۔ ہو سکتا ہے آپ نے چند قاتلوں کو بچا لیا ہو لیکن آپ اس معاشرے کو نہیں بچا سکیں گے جو اس بات پر قائم ہے کہ جو مجرم ہو گا وہ نہیں بچ سکے گا۔

آپ نے کہا: نہیں ’ہم قتل بھی کریں گے اور بچ بھی جائیں گے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ قانون قدرت بھی کوئی چیز ہے۔ حاکم وقت انصاف نہیں کرتا تو پھر خدا انصاف کرتا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو پنجاب کے شریف خاندان کی حالت دیکھ لیں جن کے دور میں پولیس نے ماڈل ٹاؤن میں چودہ لوگوں کو گولیوں سے بھون کر بالکل اسی طرح کا ”انصاف“ کیا تھا جیسے اب عمران خان اور عثمان بزدار کے دور میں ساہیوال ٹریجڈی میں کیا گیا ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •