دیپ جلتے رہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم کالج کے مالک سے کہہ چکے تھے کہ اب ہم اپنی پوری تنخواہ ملنے کے بعد ہی پڑھائیں گے کیوں کہ تنخواہ کے آسرے پراس کالج میں مزید رہناحماقت تھی۔ مرد لیکچرار تو کالج میں ہنگامہ کر کے اپنے واجبات لے کر جاچکے تھے اور ہم جو اب تک ضبط کیے بیٹھے تھے۔ جب کالج کے پرنسپل نے آخری بار ہمیں ہفتے کے دن تنخواہ ملنے کا آسرا دے کر شام کے وقت بلایا۔تب تھانیدار کی بد تمیزی، ایک دن میں تین مرتبہ کالج آنے جانے کی تھکن اور کسی نکمے طالب علم کی طرح ڈھیٹ قسمت پر غصہ اتارنے کا موقع ہمارے ہاتھ آ ہی گیا۔

 ہفتے کے روز کالج کی چھٹی ہو تی تھی،موہوم سی امید ہماری اور ہم رشی،را مش کی انگلی تھا مے کالج کے آفس میں داخل ہو ئے۔ موصوف اور ان کی برقعہ پوش اہلیہ غائب تھے۔ ہم نے ان کے آفس کی میز پر پڑا پلاسٹک کھینچ لیا۔ ٹیلی فون سمیت ساری چیزیں زمین پر گر پڑیں۔ آفس سے باہر نکل کر کولر کو لات مار کر زمین پر گرا دیا۔چوکیدار بھا گا چلا آیا اس کی اپنی تنخواہ رکی ہو ئی تھی، دیکھا ان دیکھا کر کے واپس چلا گیا۔بچوں کے پاس بھی ماں کا غصہ کم کر نے کے لیے کھیل ہاتھ آگیا، دنیا کے تماشے میں، اپنا وجود ثابت کرنے کے لیے اٹھا پٹخ کتنی ضروری ہے،یہ جان چکے تھے۔ انہوں نے بھی ہمارے ساتھ کالج کی مختلف چیزیں پھینکنا شروع کر دیں۔

لکڑی کے فرنیچر کو ایک دوسرے پر گر ا کر اپنے تئیں ہم نے کالج کے مالک کو سبق سکھایا اور گھر واپس آگئے۔

کچھ دنوں بعد ہی ایک صاحب امریکہ سے آئے، امریکہ میں عزادری کی روایات زندہ رکھنے کے لئے انہوں نے اپنے چودہ سالہ بیٹے کو نوحہ خوانی کے لیے پاکستان میں لینڈ کیا۔ اب ان مہربان کا نام بہت یاد کرنے پر بھی ذہن سے محو ہو چکا ہے۔اس زمانے میں احمد کے لکھے گئے نوحے پوری دنیا کی شیعہ برادری میں بے حد مقبول تھے۔ انہوں نے احمد سے اپنے بیٹے کے لیے نوحوں کی ایک پوری کیسٹ، منہ مانگی رقم پر تیار کرنے کو کہا۔ ایسی بھی قسمت کبھی کبھی کھلتی ہے احمد نے پچھتر ہزار کہے وہ راضی ہو گئے۔ اور جناب تین دن میں آٹھ نوحے تیار کر کے وہ تو خوشی خوشی روانہ ہوئے۔ اور ہم فوری طور پر وہ علاقہ چھوڑ کر موتی محل کے سامنے کارسن کمپلیکس کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔ بچوں کا اسکول میں ایڈمیشن کرا یا۔ یہاں سیکنڈ ہینڈ بیڈروم سیٹ، فرسٹ ہینڈ بید کے صوفوں اور خوبصورت شو پیس سے گھر کی آرائش کی اور بچوں کے لیے اٹھا ئیس ہزار کاڈیسک ٹاپ کمپیو ٹر لیا۔

اظفر رضوی کراچی کی علمی، ادبی اور سیاسی شخصیت تھے۔ایم کیو ایم سے وابستگی تھی۔ کوئی سات آٹھ برس ہوئے،انہیں گولی مار دی گئی۔سنا ہے اپنوں ہی نے بھتہ نہ دینے پر جان لی۔ انہوں نے اپنے کئی اسکول کھول رکھے تھے۔ اب کالج بھی کھول لیا تھا۔ اپلائی کیا تو دوسرے روز ہی کال آگئی یہاں بھی تین سبجیکٹ پڑھانے کی شرط پر ہمیں بطور لیکچرار نوکری مل گئی۔ زندگی کی گاڑی بنا کسی ارتعاش کے آگے بڑھنے لگی۔

میری بہن ببلی کی بہت پیاری با صلاحیت دو بیٹیاں ہیں۔ خود ٹیچر ہے۔ سولہ برس قبل وہ امید سے ہوئی، تو پریشان ہوگئی۔ وہ اپنی فیملی میں اضافہ نہیں چاہتی تھی۔مجھ سے مشورہ کیا کہ نئی افتاد سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے،ہم نے اس کے حوصلے اور اس اقدام کو بہت سراہا، ہمت بڑھائی اور اس کی بھر پور مدد کا وعدہ کیا۔ہم نے اسے بتا یا کہ ہماری سہیلی نے حال ہی میں گلشنِ اقبال کے بلاک ٹو کے ایک چھوٹے سے کلینک میں جو فیملی پلاننگ میں خواتین کی مدد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ وہاں بہت ہی کم پیسوں میں اس نے ڈی این سی کراوئی ہے۔ وہ بھی چاہے تو اس امید کا گلا گھونٹ سکتی ہے۔

ہم اسے کلینک لے کر گئے۔ لیڈی ڈاکٹر نے اسے اگلے ماہ کی تاریخ دے دی۔

لیکن قدرت کے کام بھی عجیب ہیں۔ وہ روح جو ہماری معاونت سے ببلی کے بطن سے نکالی گئی تھی، ایسا لگا جیسے اسے ہمارے بطن میں الہام کر دیا گیا۔

دو ماہ عجیب شش و پنج میں گزرنے کے بعد جب ہم نے چیک اپ کرایا تو معلوم ہوا ننھی جان کی دل کی دھڑکنیں ہماری دھڑکنوں کے ساتھ نغمے گا رہی ہیں۔ اب اس افتاد سے گھبرانے کی ہماری باری تھی۔ ببلی نے تو کونپل کو کھلنے سے پہلے مسل دیا تھا۔ پر ہمارے پھول نے تو دھڑکنا شروع کر دیا تھا۔ احمد کو بتا یا، تو خوشی کے مارے پاگل ہی ہو گئے۔ ہم نے کہا زیادہ خوش نہ ہوں ہم اسے دنیا میں لانے والے نہیں ہیں۔ ویسے ننھی جان کو قتل کرنے کا تو ہمارا بھی ارادہ نہیں تھا۔ لیکن اپنی ٹینشن اور آنے والے دنوں کا خوف کم کرنے کا یہ ہی طریقہ تھا کہ احمد کو جی بھر کر پریشان کیا جا ئے۔

ہمارے دس بہن بھا ئی تھے۔ ہماری امی کبھی بچوں سے بیزار نہ ہو تیں، ہم سب چھوٹے بہن بھا ئی امی پاپا کے ساتھ سفر کرتے تو امی مسافر خواتین کے پوچھنے پر پانچ بچوں کو اپنا اور پانچ کو اپنی بہن یا بھا ئی کے بچے ظاہر کرتیں۔ ہماری حیرت کے جواب میں امی نے وضاحت کی کہ دس بچوں کا سن کر لوگ حیرتے ہیں نظر لگ جا ئے گی۔

امی سے ہم نے ایک روز پوچھا اتنے بچے پیدا کر کے آپ تھکی نہیں؟ جواب ملا: مامتا کبھی نہیں تھکتی،ہاں مجبوریاں اسے تھکا دیتی ہیں۔

 لیکن پتہ نہیں کیوں ہمیں تیسرے بچے پر ہی تھکن ہو رہی تھی۔ کون سی مجبوری ہماری مامتا کو تھکا رہی تھی، سوچا تو دماغ نے گنتی شروع کر دی۔ انگلیوں کے پور ختم ہو گئے، اکتیسویں پور سے گنتے ہوئے تھکن غالب آگئی۔

بچہ اپنا رزق ساتھ لا تا ہے۔ ایسا سنا تو ہے پر مجھ جیسی ظالم حقیقت پسند کو اس پر یقین بالکل نہیں۔ ڈاکٹر ہر بار چیک اپ کرانے پرشاید چشمے کا نمبر زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ کچھ حقیقتیں نمایاں ہو جا تی ہیں۔ اس بڑھے ہو ئے نمبر سے یہ ہی نظر آیا کہ رزق کی فراوانی کی وجہ سے امیر حساب نہیں رکھ پاتا اور غریب کا بچہ ماں کا خون چوس کر اسے ذرا چھوٹاکر کے خود ذرا بڑا ہو جا تا ہے تواپنے بہن بھا ئیوں کے رزق پر ہاتھ صاف کرنے لگ جاتا ہے اور باپ ہر نطفے کے ظاہر ہونے پر سینہ چوڑا کر کے کہتا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اور اس کے گھر کا سب سے بڑا فرشتہ بنا بارش برسائے رزق کی ترسیل میں مصروف ہو جا تا ہے۔ اور نومولود کلکاریاں مارتا اس کے لائے رزق میں مٹی شامل کر کے اپنا پیٹ پھلاتا رہتا ہے۔

احمد نے ایسا کچھ نہیں کہا، کہا تو صرف اتنا کہ تم دیکھ لینا اس بار ہماری بیٹی ہو گی۔ اور تم نے ایسا کیا تو تمہارا شمار بھی دورِ جاہلیت کی عرب قوم میں ہو گا، ہم تو عہد جدید کی عرب قوم میں بھی اپنا شمار نہ چاہتے تھے۔ سو چپ ہورہے۔ ہم نے کہا ہمیں نوکری چھوڑنی پڑے گی۔ بچے کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔

کہاں میں شاعری چھوڑ دوں گا، اور نوکری کروں گا۔

 ہم نے کہا ہم تو اب سب کچھ بھول چکے ہیں۔ بارہ سال بعد نئے سرے سے یہ مشقت ہم سے نہیں ہو گی۔

کہا، تم کسی قسم کی فکر مت کرو میں اس کا خیال رکھوں گا۔

بہت خوش تھے ان کا قوی خیال تھا کہ اس با ر بیٹی ہی ہو گی۔

انہوں نے رشی رامش کو اپنے پاس بلا یا اور بتا یا کہ تمہاری بہن آنے والی ہے۔ رامش با قاعدہ رونے لگا اوررشی کچھ سوچنے لگا۔

رونے کاسبب پوچھنے پر رامش نے بتایا کہ بہن نہیں بھائی چاہیے۔ بہن ان کے ساتھ باہر جا کر نہیں کھیل سکتی۔

 احمد نے کہا بالکل کھیلے گی، کیوں نہیں کھیلے گی۔

رامش نے بتایا کہ ان کی دوست ان کے ساتھ سائکل چلا تی تھی۔ لیکن اب اس کے بھا ئیوں نے اسے باہر نکلنے سے منع کر دیا ہے، اب وہ سب کو کھڑکی سے دیکھتی ہے۔

تو کیا ہوا، آپ اپنی بہن کو قید مت کرنا۔ اس کی خوشی اور آزادی کا خیال رکھنا، پھر دیکھنا وہ آپ کا کتنا خیال رکھے گی۔ اچھا بتاؤ نام کیا رکھیں اس کا۔

 رامش سوچنے لگا لیکن رشی پٹ سے بولا: ثوبیہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •