فقیر محمد کو زہر کہاں سے ملے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فقیر محمد پڑھا لکھا نہیں ہے کیونکہ وہ پانچ برس کی عمر سے کام کر رہا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس نے کتابیں نہیں پڑھیں۔ وہ نہیں جانتا کہ آئن رینڈ کون ہے اور اس کی تحریروں میں معاشرے کے لیے کیا درس ہیں۔ اسے معروضیت جیسی مشکل اصطلاحات کی سمجھ نہیں ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ آئن رینڈ کے بقول انسان کے لیے اس کی خوشی سب سے اہم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ وہ خوشی کے معنی نہیں جانتا۔ کبھی کبھی کسی دوست کے سنائے گئے گھٹیا سے لطیفے پر ہنس لینا کیا خوشی ہے۔ یا بہت دن کے وقفے کے بعد سستے ٹھرے سے چڑھنے والا خمار خوشی کہلا سکتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں بچوں سے خوشی جڑی ہوتی ہے پر اسے یہ یاد نہیں کہ پہلے بچے کی پیدائش  پر وہ خوش تھا یا پریشان۔ باپ بننے کی خوشی تھی یا ایک اور جان کو پالنے کی ذمہ داری کی پریشانی۔ کچھ زندگی میں بدلا ضرور تھا ، اسی طرح جب اس کا باپ ٹی بی جیسی قابل علاج بیماری کا علاج نہ کروا سکنے کی سکت کی وجہ سے ایک کمرے کی اس دنیا میں مر گیا تھا جسے فقیر محمد گھر سمجھتا رہا۔ خوشی اور غم کے بیچ کی ہلکی سی لکیر فقیر محمد کے لیے اکثر دھندلا جاتی ہے۔ بس بدلاؤ کی ایک کیفیت ہوتی ہے جو کبھی کبھی وہ محسوس کرتا ہے۔ جیسے اس دن بھی کچھ بدلا تھا جب اس کی شادی ہوئی تھی۔ اچھا کوئی پوچھے کہ یہ شادی کیوں ہوئی تھی، تو فقیر محمد کا خدا جانے۔ شاید اس لیے کہ شادی تو سب ہی کی ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد پھر بچے بھی پیدا کرنے ہوتے ہیں تو ایک کے بعد اسی ایک کمرے میں جہاں ایک کونے میں ماں کا بستر بھی تھا اور دو بہنیں بھی سوتی تھیں ، چار بچے بھی ہو گئے۔ پردہ، حیا ، شرم وغیرہ جیسے مسئلے فقیر محمد جیسے لوگوں کے کہاں ہوتے ہیں۔

ویسے تو آپ پوچھ سکتے ہیں کہ پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو۔ کسی کوخاندانی منصوبہ بندی کی کیوں نہ سوجھی تو بھیا بات یہ ہے کہ  جتنا فقیر محمد نے شادی کے وقت سوچا تھا اور جتنا جسم میں زور مارے ہوئے کچھ حیوانی جذبوں کی تسکین کے وقت فقیر محمد سوچ سکتا تھا ، اس میں ایسی منصوبہ بندی کے گزر کی جگہ نہیں تھی۔ یوں بھی کسی نے کبھی بتا دیا تھا کہ رزق آسمان سے اترتا ہے اور بچے پل ہی جاتے ہیں۔

فقیر محمد آج بھی اسی کمرے میں بھوک، بے روزگاری، افلاس اور پریشانی سے لڑ رہا ہے۔ نہیں، لڑنا شاید غلط لفظ ہو گا۔ فقیر محمد کو لڑنا تو آتا نہیں ہے۔ اس نے سر جھکانا سیکھا ہے۔ لڑنے کے لیے سر اٹھانا پڑتا ہے۔ اور فقیر محمد کی دنیا میں سر اٹھانے کی گنجائش نہیں ہے سو وہ سر جھکا کر جی رہا ہے۔ لیکن جینا بھی تو غلط لفظ ہے۔ کیا سانس کے آنے جانے کو جینا کہہ سکتے ہیں۔ بہت سے دنوں کی طرح آج بھی فقیر محمد یہ سوچ رہا ہے کہ کیا وہ اپنے بچوں اور بیوی کو زہر دے سکتا ہے۔ ماں تو رہی نہیں، ایک بہن کہیں چلی گئی ہے اور کسی کو پتہ نہیں کہ کہاں، اور ایک بہن کی فقیر محمد جیسے ہی ایک شخص سے شادی ہو گئی ہے ۔ اس کی زندگی بھی تقریبا ویسی ہی ہے جیسے فقیر محمد کی لیکن اسے زہر دینا اب اس کے شوہر کی ذمہ داری ہے۔

فقیر محمد صرف اپنے بیوی بچوں کا سوچتا ہے۔ اور ہر ایسے دن سوچتا ہے جب دو یا تین دن پانی اور سوکھی روٹی پر گزرتے ہیں۔ ہاں، عید وغیرہ جیسے تیوہاروں پر بھی، کیونکہ تیوہار پر بچوں کی آنکھوں کے سوال فقیر محمد کو بہت زور سے چبھتے ہیں۔ بیوی کی آنکھوں میں دیکھنا اس نے بہت سالوں سے چھوڑ دیا ہے۔ پھر فقیر محمد سوچتا ہے کہ زہر دے کر اسے خود بھی زہر کھا لینا چاہیے، چھت سے لٹک جانا چاہیے یا شہر کے بیچوں بیچ بہنے والی نہر میں ڈوب جانا چاہیے۔

بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد عجیب واہیات خیالوں کا ایک اور سلسلہ ہے۔ پتہ نہیں نہر اتنی گہری ہے کہ وہ اس میں ڈوبے گا بھی یا نہیں۔ چھت کی کڑی سے لٹکا رسہ ٹوٹ گیا تو ۔ بچوں اور بیوی کے مرنے کا یقین تو اس نے خود کرنا ہے پر اس پر زہر نے پوری طرح اثر نہ کیا تو پھر۔ گنجان محلے کا کوئی پڑوسی ٹوٹے کواڑوں سے جھانک کر گھر میں چلا آیا تو۔ کیا ہو اگر سب مر گئے اور وہ بچ گیا تو۔ کہتے ہیں ایک دفعہ خودکشی کی کوشش ناکام ہو تو پھر ہمت نہیں پڑتی۔ تو کیا وہ اسی طرح جیتا رہے گا؟ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی قبر اپنے ساتھ لیے لیے۔ فقیر محمد کو لگتا ہے کہ اس طرح جینا بہت مشکل ہو گا ۔ اس سے بھی مشکل جتنا کہ اب ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ اس جینے کی تصویر بناتا رہتا ہے۔ ہو گا کیا۔ وہ جیل چلا جائے گا۔ سنا ہے وہاں کھانا مفت ملتا ہے۔ تو ایک مسئلہ تو ختم ہو گا لیکن کیا کھانا ہی صرف مسئلہ ہے۔ فقیر محمد کو پتہ نہیں کہ احساس جرم اور احساس گناہ کیا ہوتا ہے کیونکہ اسے دونوں کا کبھی موقع نہیں ملا۔ ویسے تو اس نے ہزار کام ایسے کیے ہیں جو مولوی صاحب گناہ بتاتے ہیں پر ان سے وہ کبھی پریشان نہیں ہوا۔ کسی گناہ کا کوئی چونی برابر فائدہ ہوتا تو وہ نفع نقصان کا میزانیہ بناتا۔ سو وہ تو ہوا نہیں۔ رہا جرم تو فقیر محمد کیا جرم کرتا اور کہاں کرتا۔ سر جھکا کر جرم نہیں کیے جاتے۔

میں نے آپ کو بتایا تھا للپ کہ فقیر محمد آئن رینڈ کو نہیں جانتا تو ظاہر ہے کہ اس نے “اٹلس شرگڈ” بھی نہیں پڑھا۔ اگر وہ پڑھ سکتا تو اسے یہ سوچ کر بڑا اطمینان ہوتا کہ وہ لوگ جن کے آگے وہ سر نہیں اٹھاتا ، وہ اگر ایک دن معاشرے کا بوجھ اٹھانا چھوڑ دیں تو معاشرہ دھڑام سے گر جائے گا۔ مجھے یقین ہے معاشرے کے یوں دھڑام سے گرنے کی تصور سے فقیر محمد کو بہت تسلی ہوتی۔ کیونکہ کبھی کبھی اس کا دل کرتا ہے کہ سب ایک ساتھ ، ایک وقت میں مر جائیں۔ اسے پتہ نہیں کہ وہ ایسا کیوں سوچتا ہے لیکن اسے اس احساس سے ایک اطمینان سا ملتا ہے۔ سو بس کبھی کبھی اس اطمینان کے لیے۔ اس احساس کو خوشی کہہ سکتے ہیں۔ پتہ نہیں۔ ہو سکتا ہے۔ چونکہ آئن رینڈ بھی کبھی فقیر محمد سے نہیں ملا اس لیے اس نے خوشی کی یہ تعریف متعین نہیں کی۔ پر فقیر محمد کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ سوچتا ہے کہ صرف اس کے بیوی بچے ہی نہیں، سب مر جائیں اور وہ گلیوں میں سر اٹھا کر اکیلا گھومے۔ کوئی اسے پوچھنے والا نہ ہو۔ وہ جو چاہے کرے۔ جو چاہے، اٹھا کر کھا لے اور ۔۔۔۔ اس سے آگے اس کی سوچ نہیں جاتی۔ پیٹ بھرنے کے بعد اور کیا ہو سکتا ہے ، یہ اس نے کبھی سیکھا نہیں ہے۔ جب بھی وہ سوچتا ہے کہ وہ ایک ڈھابے سے جی بھر کر روٹی کھائے اور ساتھ میں ہانڈی میں پڑا مرغ کا سالن اور کوئی اس سے قیمت لینے والا نہ ہو تو مونچھوں کے نیچے اس کے ہونٹوں پر ایک خبیث سی مسکراہٹ آ جاتی ہے۔

لیکن اسے پتہ ہے کہ سب لوگ نہیں مریں گے۔ اس لیے جلد ہی اس مسکراہٹ کو دبا دیتا ہے۔ اس ڈر سے کہ کہیں کوئی یہ جان نہ لے کہ اس کے اندر ایک انارکسٹ اور ایک نیہیلسٹ چھپا ہوا ہے ۔ وہ الگ بات ہے کہ یہ دو لفظ تو میں نے لکھے ہیں ۔ غریب فقیر محمد کو ان دونوں تراکیب کا بھی کوئی علم نہیں ہے۔ وہ انتشار پسند ہے پر دل ہی دل میں۔ اخلاقی اور مذہبی اقدار پر اسے ٹکے کا یقین نہیں ہے لیکن اسے پتہ نہیں کہ اسے اپنے اندر پلتے ہوئے احساسات کو اظہار کا جامہ کیسے پہنانا ہے، اس لیے وہ چپ رہتا ہے۔ بس کبھی کبھی ایک خبیث مسکراہٹ اور پھر وہ بھی نہیں۔

فقیر محمد نے تین چار انتخابات میں ووٹ بھی ڈالا ہے۔ ووٹ ڈالنے کے وقت مہر کس نشان پر لگانی ہے، اس کا فیصلہ اس نے محلے کے کچھ چلتے پرزوں پر چھوڑا ہوا ہے۔ ایک دفعہ اسے دو سو روپے ملے ۔ ایک دفعہ پورے گھر کے لیے کھانا۔ تیسری بار پانسو روپے کا وعدہ تھا لیکن ملے پھر وہی دو سو روپلی۔ بس اسی طرح کے حساب کتاب تھے۔ امیدوار کون تھا، کون نہیں ، وہ کیا کرتا تھا کیا نہیں اور منتخب ہونے کے بعد اس نے کیا کیا اور کیا نہیں ، فقیر محمد کو خاک خبر نہیں ۔ ہاں یہ ضرور پتہ ہے کہ ہر انتخاب کے بعد اس کی زندگی کی گاڑی پہلے سے سست اور مشکل ہوتی چلی گئی اور اب تو یہ لگتا ہے کہ وہ سڑک پر نہیں ، کیچڑ اور گارے میں گاڑی کو دھکا لگا رہا ہے۔ زور بہت لگتا ہے پر زندگی سرکتی ہی نہیں۔ ایک دو دفعہ تین چار سو روپیہ لے کر اس نے جلسوں میں نعرے بھی لگائے لیکن پھر ایک جلسے میں پولیس کی لاٹھیاں کھانے کے بعد اس کام سے توبہ کر لی۔ اب جلسوں کے موسم میں وہ دور سے تماشہ دیکھتا ہے۔

بہت سے لوگ بہت سے باتیں کرتے ہیں۔ ادھر ادھر چلتے چلتے اس کے کان میں کچھ پڑتا رہتا ہے۔ سیاست کس چڑیا کا نام ہے، یہ تو فقیر محمد کو خبر نہیں پر اسے یہ پتہ ہے کہ کس کس کا نام چلتا ہے اور کس کس کا سکہ بکتا ہے۔ سب کے اپنے اپنے حامی ہیں۔ ہر کچھ مہینوں بعد کسی بہانے ان کا آپس میں سر پھٹول چلتا رہتا ہے۔ باریاں لگی رہتی ہیں۔ فقیر محمد کو کوئی نہ کوئی سرگوشی میں یہ بتاتا رہتا کہ اب کی بار، بس اب کی بار جو تبدیلی آنے کو ہے اس سے فقیر محمد کی دنیا بدل جائے گی۔ فقیر محمد کو پتہ نہیں کہ بدل جانے کے بعد کیا ہو گا۔ اسے پتہ ہے کہ سارے تو مرنے سے رہے ہاں کچھ ایسا ہو جائے کہ پھر وہ اپنے بچوں کو، اپنی بیوی کو زہر دینے کا نہ سوچے  تو شاید اچھا ہو۔ ویسے اسے پتہ نہیں کہ زہر کہاں سے ملتا ہے اور مل بھی گیا تو وہ اسے انہیں کھلائے گا کیسے لیکن وہ اتنی منصوبہ بندی تو ویسے بھی نہیں کرتا۔ اسے بس کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ مر جانا اتنا مشکل نہیں ہو گا جتنا مشکل فاقہ ہوتا ہے۔

 یہ کانوں میں سرگوشی کرنے والے اور زیادہ گہری سرگوشی میں فقیر محمد کو اب یہ بتاتے ہیں کہ ان کے مخالف خود سے کرسی پر نہیں بیٹھے ، انہیں بٹھایا گیا ہے۔ کس نے بٹھایا ہے ، یہ کوئی کھل کر نہیں بتاتا لیکن فقیر محمد کو لگتا ہے کہ جانتے سب ہیں ۔ وہ کبھی کبھی حیران ہوتا ہے کہ سب ایک دوسرے پر ایک جیسا الزام کیسے لگا سکتے ہیں۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ اگر ایک خدا اوپر بیٹھے سب کی ڈوریاں ہلا سکتا ہے تو ہو سکتا ہے ایسا ایک خدا زمین پر بھی ہو۔ فقیر محمد اس سے زیادہ اس پر غور نہیں کرتا کیونکہ اسے یقین ہے کہ خدا آسمان پر ہو یا زمین پر ، اسے فقیر محمد کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ ہوتی تو فقیر محمد کو زہر کے بارے میں کیوں سوچنا پڑتا۔

ڈوریاں ہلانے والوں کی باتیں سرگوشیوں سے اب اشاروں میں ڈھل گئی ہے۔ لوگ ہونٹوں پر ایک انگلی رکھ کر ایک دوسرے کو اشاروں سے کہانیاں سناتے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ سارے آپس میں لڑتے ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہیں ، ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں ۔ فقیر محمد کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب ایک دوسرے سے کیوں لڑتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے انہیں کیا شکایت ہے۔ فقیر محمد نے تو کبھی کسی سے شکایت نہیں کی۔ اسے سکھایا گیا ہے کہ اس کی تقدیر خدا نے لکھی ہے تو کبھی کبھی جب اس کو موڈ بہت خراب ہوتا ہے تو وہ خدا سے لڑ لیتا ہے۔ اسے ان لوگوں کی سمجھ نہیں آتی۔ ان سب کی تقدیر جو بھی لکھ رہا ہے یہ اس سے لڑنے کے بجائے ایک دوسرے کی تقدیر پر کیوں لڑتے ہیں۔

فقیر محمد ہوتا تو تقدیر کے کاتب سے پوچھتا ، بھائی، تجھے سب کی کہانیاں لکھنے کو کس نے کہا تھا۔ یہ تیرا کام ہے بھی یا نہیں۔ جا اپنا کام کر۔ لیکن نہیں ، فقیر محمد کیوں پوچھتا۔ یہ کام اس کا بھی تو نہیں ہے۔ جن کا کام ہے وہ ہی کریں۔  سرگوشیوں سے اشاروں کا سفر کرنے والے، یوں بھی لگتا ہے صلح کل ہیں ، کاتب سے لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اسے منانے میں زیادہ دل چسپی رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کسی نے فقیر محمد کوایک کہاوت سنائی تھی “سہاگن وہی جو پیا من بھائے “۔ فقیر محمد کو کچھ خاص  سمجھ تو نہ آئی لیکن اسے بات یاد رہ گئی۔ ہربار ان اشاروں اور سرگوشیوں والوں کر دیکھ کر اسے وہی کہاوت یاد آ جاتی ہے۔  ساتھ ساتھ  اسے ایسے پیا پر غصہ بھی آتا ہے جس کو منانے سہاگنیں اس کے اردگرد گھوم رہی ہوں۔ اب پتہ نہیں حسد ہے کہ طیش پر فقیر محمد کبھی کبھی سوچتا ہے کہ پیا کو دو چپتیں لگا دی جائیں۔ فقیر محمد تو لگا نہیں سکتا لیکن اس کا خیال ہے کہ سہاگنوں کو ایسے پیا کو منانے کے بجائے اس کی مرمت کرنی چاہیے تاکہ اس کا دماغ درست ہو جائے۔ فقیر محمد کو بس ایسے ہی واہیات خیال آتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ۔

 دیکھیں بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ میں تو آپ کو بتا رہا تھا کہ آج بھی فقیر محمد سوچ رہا ہے کہ زہر کہاں سے ملے گا۔ کچھ دن سے سب کچھ معطل ہے۔ ہر سمت کنٹینر لگے ہیں۔ دیہاڑی مل نہیں رہی۔ اور فقیر محمد کے بچوں کی آنکھوں کے سوال نوکیلے ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر زہر مل جاتا تو اچھا تھا کیونکہ ان سوالوں کے فقیر محمد کے پاس اور کوئی جواب نہیں ہیں۔ اسے بس یہ پتہ ہے کہ شہربند ہے کیونکہ پیا سے شکوہ رکھنے والی دو سہاگنیں پیا کو منانے کے لیے پھر لڑ پڑی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 145 posts and counting.See all posts by hashir-irshad