طبلِ جنگ بچ چکا، قیامت بپا ہونے کو نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 27 اکتوبر کو ”آزادی مارچ“ کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور محروم کشمیریوں کی آزادی کے نعرے کے ساتھ۔ عجیب اتفاق ہے! مظلوم کشمیریوں پہ جاری قیامت کو 85 روز ہو چلے ہیں اور جانے اُنہیں ابھی آزادی کی صبح دیکھنے کو کتنا طویل انتظار کرنا پڑے؟ (البتہ مولانا فضل الرحمان کو زیادہ لمبا انتظار نہیں کرنا پڑے گا) لیکن آزادی کے نعرے ہر سُو گونج رہے ہیں۔ جب لوگ غلام اور مجبور و مقہور ہو رہنے سے انکار کر دیں تو اُنہیں کوئی زنجیر قید میں نہیں رکھ سکتی۔

حقِ خودارادیت کے استعمال سے جو دو ریاستیں وجود میں آئیں وہاں ابھی بھی لوگ ویسے آزاد نہیں جیسا کہ خواب دیکھا گیا تھا۔ آزاد، جمہوری اور سیکولر بھارت کو ملا بھی تو مودی اور اس کی ہندو راشٹرا۔ پاکستان کو ملے تو فوجی آمر جن کے ہاتھوں زچ ہو کر اور خون میں نہا کر مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے حقِ علیحدگی استعمال کرتے ہوئے نئے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی جو بھارت کی نوآبادی بننے کی بجائے شرح معاشی نمو اور ترقی میں بھارت سمیت دُنیا بھر میں آگے ہے۔

لیکن مسلم بنگالیوں کے حقِ خود مختاری کے حقیقت کا روپ دھارنے کے باوجود بھارت نے کوئی سبق سیکھا، نہ پاکستان نے۔ یہ ایک دوسرے کے خلاف دوسرے کے غلبے کے شکار لوگوں پہ نظرِ عنایت تو کرتے رہے، اپنے اپنے لوگوں کی آواز سننے سے بے بہرہ رہے۔ لوگوں کی جمہوری، انسانی اور معاشی اُمنگوں کو کچلا جائے گا تو بھارت کی جمہوریہ جاری رہے گی نہ پاکستان کی لولی لنگڑی سول انتظامیہ کو اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کی جگہ میسر آئے گی۔

پاکستان بننے کے بعد سے ہر جمہوری حق کے لیے لوگوں کو لڑائی لڑنا پڑی کہ انگریز سے ورثے میں ملا وائسرائی جدید نوآبادیاتی ڈھانچہ اپنی آمرانہ بالادستی پہ مصر رہا۔ ملک تڑوانا منظور کر لیا، لیکن مقتدرہ کے کروفر میں کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان گئے بھی تو 1968 کی عظیم عوامی بغاوت کے نتیجے میں۔ جنرل یحییٰ خان رخصت ہوئے بھی تو شکست کھا کر جس کے نتیجے میں 1973 کے متفقہ آئین کی بدولت پاکستان جمہوریہ بنا اور پہلے با اختیار وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت بن پائی جس کی پاداش میں پھر مذہبی کارڈ استعمال ہوا اور پھر سے مارشل لا مسلط کر دیا گیا اور بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔

جنرل ضیا الحق کے خلاف تحریکِ بحالیِ جمہوریت (MRD) کامیاب ہوئی بھی تو فضائی حادثہ کے طفیل۔ اور جنرل مشرف سدھارے تو چارٹر آف ڈیماکریسی کی جیسی کیسی جمہوری ایکتا کی بدولت۔ ساٹھ برس کے طویل انتظار کے بعد ایک دہائی کے لیے سویلین حکمرانی کا تسلسل تو رہا لیکن خنجر کی نوک پر۔ عدلیہ آزاد کروائی گئی، لیکن پلٹ پڑی منتخب حکمرانوں کے خلاف۔ یہی حال میڈیا کا ہوا جو آزاد ہو کر پہلے جمہوری حکمرانی کو مسمار کرنے پہ لگا رہا اور آخر میں اپنی آزادی کی عصمت گنوا بیٹھا۔

ایک عشرے کے جمہوری تسلسل کے دوران دو حکومتوں نے بس اپنی اپنی مدتیں پوری کرنے کے لیے ہر طرح کے سمجھوتے کیے بھی تو کام نہ آئے۔ جمہوریت کا دوسرا نام کرپشن (Kleptocracy) ٹھہرا اور پھر سے احتساب احتساب کے نعرے گونجنے لگے۔ اب اُس دور کی دونوں حکومتوں کے تمام بڑے کردار یا تو جیلوں میں ہیں یا مقدمات بھگت رہے ہیں۔ تین بار منتخبہ وزیراعظم میاں نواز شریف انتہائی ناروا سلوک کے ہاتھوں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور حکومت کو فکر لاحق بھی ہوئی ہے تو اس لیے کہ کہیں وہ اُن کی قید میں نہ چل بسیں۔

صدر آصف زرداری کی حالت بھی غیر لگتی ہے۔ لیکن اُن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ ایسے میں آج مولانا فضل الرحمان اپنے آزادی مارچ پہ روانہ ہو چکے ہیں اور اُن کے ساتھ اب اے پی سی کی تمام جماعتیں شامل ہو چکی ہیں۔ ابھی معاملہ جلوس اور اسلام آباد میں 31 اکتوبر کو جلسے تک محدود لگتا ہے۔ اس سے پہلے کیا ہوتا ہے اور اس کے بعد کیا طوفان بپا ہوتا ہے، اس کا دارومدار فریقین کی حکمتِ عملیوں اور حالات کے رحم و کرم پر ہے۔

گذشتہ جمعہ کو حکومتی ٹیم اور اے پی سی کی رہبر کمیٹی میں دو ملاقاتوں میں آزادی مارچ کے مقام پر تعطل ختم نہ ہو سکا۔ مولانا فضل الرحمان اور رہبر کمیٹی نے پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ کی شرط منوائے بغیر اس شرط پہ مذاکرات شروع کر دیے کہ اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دی جائے۔ مذاکرات کا اندرونی ماحول مضحکہ خیز تھا۔ حکومتی ٹیم کے ہاتھوں میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کی نقول تھیں جن میں دھرنے کے خلاف حقِ اجتماع کی حدود و قیود بیان کی گئی تھیں۔

126 روزہ دھرنا کرنے والوں کے ہاتھوں میں یہ فیصلے مگر پشیمانی کا باعث نہ بنے۔ حکومتی ٹیم کا اصرار تھا کہ اپوزیشن پریڈ گراؤنڈ جلسہ سجا لے، جبکہ اے پی سی والے ڈی چوک کے قریب (ریڈ زون سے باہر) جلسہ کرنے پہ مصر رہے۔ اس پر حکومتی وفد نے چائنا چوک پہ جلسہ کرنے کی تجویر دی جسے رہبر کمیٹی نے مسترد کر دیا۔ اب اگر حکومت اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دینے پہ تیار ہو گئی ہے تو دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔

حکومت ایک طرف اے پی سی کو گفتگو میں مشغول کر کے ماحول ٹھنڈا کرنے کا جتن کر رہی ہے تو دوسری طرف پورے ملک کی شاہراہیں بند کی جا رہی ہیں۔ خندقیں کھودی جا رہی ہیں اور کارکنوں کو گرفتار اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اُدھر مولانا عازمِ جہاد ہیں اور اب ساری اپوزیشن پارٹیاں اُن کی ہم رکاب ہو چکی ہیں۔ اب اگر حکومت جلوسوں کو روکتی ہے تو چاروں صوبوں میں ہنگامہ آرائی زیادہ شدید ہوگی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ نواز، بلوچستان میں پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی اور خیبرپختون خوا میں اے این پی، قومی وطن پارٹی اور دیگر پارٹیاں جمعیت علمائے اسلام سے بڑھ کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔

اور اگر لیت و لعل کے باوجود آزادی مارچ کو اسلام آباد جانے دیا گیا تو قیامت آنے والی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک بہت بڑا اجتماع ہوگا اور بات بڑھی بھی تو چند روز کے دھرنے کے بعد لوگ گھروں کو سدھار جائیں گے۔ ابھی تک رہبر کمیٹی میں دھرنے پہ کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور جمعیت کے سوا دیگر پارٹیاں دھرنے کے ابھی حق میں نہیں۔ لگتا یہی ہے کہ اب ایک سلسلہ احتجاج چل نکلے گا۔ جب بڑی سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگایا جائے گا اور جمہوری کھیل سیاسی ہاتھوں سے چھین لیا جائے گا تو دو سَروں والی انتظامیہ بھی چلنے سے رہی۔

ابھی یہ کالم لکھ رہا تھا کہ خوفناک بریکنگ نیوز سامنے آ رہی ہیں۔ میاں نواز شریف کی حالت بہت ہی بگڑ گئی ہے۔ انہیں دل کا دورہ بھی پڑا ہے اور اُن کے پلیٹلٹس پھر سے بہت نیچے گر گئے ہیں۔ اُن کی زندگی سخت خطرے میں ہے۔ غالباً انہی رپورٹس کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہفتہ کو ہی اُن کی ضمانت کی درخواست کی سماعت شروع کر دی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی طرح، اسلام آباد ہائی کورٹ بھی اُن کی ضمانت پہ رہائی کا آرڈر جاری کرنے جا رہی ہے۔

لیکن بہت دیر ہو چکی۔ خدانخواستہ میاں نواز شریف قید و بند کی صعوبتوں، حکومتی و نیب کی چیرہ دستیوں اور نظامِ انصاف کی زیادتیوں کے ہاتھوں رحلت کر گئے تو یہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور محترمہ بے نظر بھٹو کی شہادت کے بعد ایک خوفناک صورتِ حال کو جنم دے گا، لیکن اس بار سندھ یا بلوچستان یا پختون خوا میں نہیں پاکستان کی راج دھانی کے مرکز پنجاب میں جانے کیا سے کیا ہو جائے۔ ایسے حادثے کی صورت میں پھر 31 اکتوبر سے پہلے ہی جانے کیا طوفان کھڑا ہو جائے جسے سنبھالنا شاید کسی کے بس میں نہ رہے۔ بس اب بے بسی کے عالم میں دُعا ہی کی جا سکتی ہے، خدا نواز شریف کو صحت دے اور مقتدرہ کو عقل کے ناخن!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 98 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam