من کہ ایک مقتول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا نام نقیب اللہ محسود ہے۔ اگر آپ بھول نہیں گئے تو میں ایک مقتول ہوں۔ میری زندگی میں بس ایک خواہش تھی کہ میں خوبصورت لگوں اور خدا لگتی بات ہے میں خوبصورت ہوں بھی۔ یقین نہ آئے تو میرا نام گوگل میں ڈال کر دیکھیے آپ کو میری تصویریں مل جائیں گی، پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے میں خوبصورت ہوں کہ نہیں۔ میرا خیال تھا کہ میں ماڈلنگ کی دنیا میں نام پیدا کروں گا۔ میرے اس خیال پر میرے والد کو اعتراض رہتا تھا۔ بھائی بھی مجھے دیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوتے تھے‘ لیکن میں اپنی دھن میں لگا ہوا تھا۔ میں نے بڑی محنت سے اپنی تصویریں دوستوں سے بنوائی تھیں اور فیس بک پر انہیں لگایا تھا کہ شاید کسی پروڈیوسر ڈائریکٹر کی نظر پڑ جائے۔
میں نے والد سے چھپ چھپ کر اداکاری سیکھنے کی بھی کوشش کی تھی‘ لیکن مجھے لگتا تھا یہ میرا کام نہیں۔ میں کراچی میں ہی کام کرنا چاہتا تھا لیکن کبھی کبھی والد کہتے تھے‘ واپس ڈیرہ اسماعیل خان جا کر کوئی کاروبار کر لو۔ میں نے مزدوری کر کے کچھ پیسے اکٹھے کر لیے تھے اور پروگرام تھا کہ سہراب گوٹھ میں دکان بناؤں گا۔ اسی چکر میں پھر رہا تھا کہ ایک رات مجھے ملیر پولیس نے پکڑ لیا۔ انہوں نے مجھ سے پیسے مانگے۔ اب اگر میں اپنے جمع کیے ہوئے پیسے انہیں دے دیتا تو دکان کیسے بناتا؟ سوچا‘ والد کو اگر پتا چل گیا کہ پولیس کو پیسے دیے ہیں تو وہ مجھے ویسے ہی گھر سے نکال دیں گے کہ میں پتا نہیں کیا کرتا پھرتا ہوں۔
میں نے پیسے نہ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے مجھے مارا بھی لیکن میں کیا کر سکتا تھا۔ میرا خیال تھا‘ یہ لوگ مجھے چھوڑ دیں گے، لیکن انہوں نے مجھے بہت مارا، اتنا مارا، اتنا مارا کہ میں کیا بتاؤں۔ پھر ان کے صاحب نے انہیں کہہ دیا کہ ٹھوک دو۔ وہ مجھے لے گئے اور ملیر کے ویرانے میں جا کر صرف دو گولیاں ماریں اور میں مر گیا۔ مجھے مارنے والے کا نام آپ بھی جانتے ہیں، جی ہاں وہی راؤ انوار، ایس ایس پی ملیر۔ وہ بہت بڑا آدمی ہے۔ اسے کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ میں مر گیا، میرا باپ انصاف کے لیے بلکتا مر جائے گا لیکن راؤ انوار کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا۔
میرا نام خلیل ہے۔ میں بھی ایک مقتول ہوں۔ میں اسی سال جنوری میں اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ بوریوالہ جا رہا تھا۔ گاڑی ہمارے محلے کے ایک شریف لڑکے ذیشان کی تھی‘ جسے میں نے کہا تھا‘ پٹرول ڈلوا دوں گا تم ہمیں لے چلو۔ اس نے ہامی بھر لی اور ہم صبح سویرے نکل پڑے۔ ہم نے سوچا کہ دوپہر تک بوریوالہ پہنچ جائیں گے۔ جب ہم ساہیوال کے قریب پہنچے تو اچانک پولیس کی گاڑیاں ہمارے ارد گرد آ گئیں اور ان گاڑیوں میں بیٹھے پولیس والوں نے ہم پر بندوقیں تان لیں۔ ہم ابھی رکنے ہی والے تھے کہ ان میں سے کسی نے گولی چلا دی۔ ہم نے گاڑی روکی تو ہمیں پولیس والوں نے گھیرے میں لے لیا۔ میں نے صرف اتنا کہا کہ مارنا نہیں‘ پھر گولیاں چلنا شروع ہو گئیں۔
میں نے دیکھا‘ میری بیٹی عریبہ کو بھی گولی لگی ہے۔ میری بچی کے لیے تو ایک ہی گولی کافی تھی۔ میری بیوی بھی گولیوں کی زد میں تھی۔ نجانے اسے کتنی گولیاں کس کس جرم میں مار دی گئیں۔ ذیشان کی گردن سے بھی خون بہہ رہا تھا، وہ مر چکا تھا۔ جتنی گولیاں مجھے لگی تھیں‘ اس کے بعد زندہ نہیں رہا جا سکتا۔ سو میں بھی مارا گیا۔ میں گناہگار آدمی تھا‘ لیکن مجھے یہ پتا نہیں تھا کہ مجھے کس جرم میں مارا گیا ہے۔ میرے دس سالہ بیٹے اور چار سالہ بیٹی نے مجھے مرتے دیکھا تھا۔ پتا نہیں انہیں کیوں چھوڑ دیا گیا۔ اگر یہ رحم دلی تھی تو میری بیٹی عریبہ کو بھی چھوڑ دیتے۔ تھوڑا سا رحم اور ہوتا تو میری بیوی کو بھی چھوڑ دیتے۔
ویسے تو مجھے اپنے مرنے اور ذیشان کے مرنے کی وجہ کا بھی نہیں پتا‘ لیکن عورتوں اور بچوں کو تو اس طرح نہیں مارا جاتا۔ خیر میرے مرنے کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا۔ رونا دھونا، پولیس، مقدمہ، عدالت۔ نتیجہ یہ کہ گولیاں چلانے والے چھوٹ گئے۔ میں کیوں مارا گیا، اس کا کوئی حساب نہیں۔ ویسے بھی پاکستان میں زندہ رہنے والوں کا کیا ہے جو مرنے والوں کا کچھ ہو۔
میرا نام صلاح الدین ہے۔ مجھے یہ سارے دنیا والے الٹے دکھائی دیتے ہیں۔ بھلا یہ کوئی بات ہے کہ مجھے سکول بھیج دیا گیا۔ میں بڑا آدمی ہوں، یہ مجھے پیدا ہوتے ہی پتا چل گیا تھا۔ اس لیے میرا پڑھنے میں دل نہیں لگتا تھا۔ مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ لوگ اپنی چیزوں کی حفاظت کیوں کرتے ہیں؟ میں چھوٹا تھا تو بھی دنیا کی ہر چیز کو اپنا سمجھتا تھا۔ اپنے شہر کا ہر گھر مجھے اپنا ہی گھر لگتا تھا۔ بس مجھے اتنا پتا تھا کہ اباجی ایک ہی ہوتے ہیں، کیونکہ میرے ابا جی ہی واحد آدمی تھے جو میری بات سمجھ لیتے تھے۔ کوئی مجھے سائیں کہتا، کوئی پاگل کہتا، بس ابا جی تھے جو مجھے کچھ نہیں کہتے تھے۔
ایک دو بار میں گم ہو گیا تو انہوں نے میرے بازو پر گھر کا پتا اور فون نمبر لکھوا دیا تھا۔ مجھے بڑی دیر بعد سمجھ آئی کہ میں جہاں بھی ہوں، گھر والوں کو کیسے پتا چل جاتا ہے کہ میں کہاں ہوں۔ مجھے کئی باr پولیس نے بھی پکڑا، مارا اور چھوڑ دیا۔ مجھے زندگی میں صرف دو باتیں سمجھ میں آئی تھیں کہ دنیا میں ہر چیز پیسے سے ملتی ہے اور پیسے اے ٹی ایم مشین سے ملتے ہیں۔ مجھے یہ پیسے نکالنے کا طریقہ آ گیا تھا۔ جتنے نکلتے میں ادھر ادھر اڑا دیتا۔ ویسے بھی کبھی پیسے نکلتے تھے، کبھی نہیں نکلتے تھے۔ میں یہ کام چھپ کے نہیں کرتا تھا۔ وہ جو کیمرا اے ٹی ایم کے اوپر لگا ہوتا ہے اس میں اپنی تصویر بھی بنواتا تھا۔
ایک دن میں نے پھر یہی کیا۔ پھر مجھے لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس والے مارتے تھے، پوچھتے تھے اور پھر مارتے تھے۔ جس دن پکڑا گیا‘ اس کی اگلی رات کو مجھے کچھ لوگ ساتھ لے گئے۔ انہوں نے بھی کچھ پوچھا، مارا، پھر پوچھا اور پھر مار ہی دیا۔ ابا جی کو جب خبر ملی کہ میں مارا گیا ہوں تو رو پڑے۔ پولیس پر پرچہ کرایا۔ پھر اپنے پیر صاحب کے کہنے پر چھوڑ دیا۔ پیر صاحب جیل میں ہوتے ہیں، بڑے آدمی ہیں۔
میرا نام حبیب اکرم ہے۔ میں ابھی تک مارا نہیں گیا، یا یوں کہیے کہ نقیب اللہ، خلیل یا صلاح الدین کی طرح قتل نہیں ہوا۔ مجھے بائیس برس ہو گئے صحافت کرتے ہوئے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اگر کوئی تگڑا آدمی کسی کو مار ڈالے تو اس کو بچانے کے لیے زمینی و آسمانی طاقتیں حرکت میں آ جاتی ہیں۔ قاتل کبھی جنرل ضیاء الحق کے قصاص و دیت آرڈیننس کا سہارا لے کر بچ جاتا ہے۔ کبھی اس لیے بچ جاتا ہے کہ وہ تو سرکاری کام کی انجام دہی کے دوران قتل کر بیٹھتا ہے۔ کبھی کبھار علماء و فضلاء اسلام میں فی سبیل اللہ معافی کے درجات بیان کرکے قاتل کو بچا لے جاتے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے تو ایک اور پراسرار قوت بھی قانون کی کتابوں میں پائی گئی ہے۔ اس غیبی قوت کے زیر اثر گواہ بدل جاتے ہیں، شواہد مٹ جاتے ہیں، مدعی بھاگ جاتے ہیں۔ نقیب اللہ، خلیل یا صلاح الدین کو اس سارے قانونی چکر کا کوئی علم نہیں تھا‘ مارے گئے۔ یہ سب ڈرامے میرے دیکھے بھالے ہیں۔ اس لیے مجھے خوف بھی عام آدمی کی نسبت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ میں ذرا سا خطرہ بھانپ کر کنارے ہو جاتا ہوں، شاید اسی لیے اب تک زندہ ہوں ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرے پیارے ملک میں مقتول ہونے میں زیاد دیر نہیں لگتی۔ اگر کسی دن مجھے کوئی راؤ انوار دہشت گرد قرار دے کر مار ڈالے، میرے خاندان کے سامنے مجھے قتل کر ڈالے، تو کچھ نہیں ہو گا۔
اس ملک میں سارے مقتول نقیب اللہ، خلیل احمد، صلاح الدین اور حبیب اکرم ہیں۔ جو قاتل ہیں وہ سب راؤ انوار ہیں۔ آپ راؤ انوار ہیں تو خوش قسمت ہیں، آپ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اگر ہم میں سے ہیں تو اپنے مقتول ہونے کا انتظار کیجیے۔ اس ملک میں سارے مقتول نقیب اللہ، خلیل احمد، صلاح الدین اور حبیب اکرم ہیں۔ جو قاتل ہیں وہ سب راؤ انوار ہیں۔ آپ راؤ انوار ہیں تو خوش قسمت ہیں، آپ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اگر ہم میں سے ہیں تو اپنے مقتول ہونے کا انتظار کیجیے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •