مارچ یا مظاہرے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ اورمظاہرے پاکستان میں کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کثرت سے، اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گاہے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول لیے اس مضبوط ہتھیار کو استعمال کیا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک مارچ یامظاہرے سے کیا ہوسکتا ہے، اور کیا نہیں ہو سکتا؟ اس سوال کا درست جواب دینے کے لیے چند ایک بڑے مارچ یا مظاہروں پر سرسری نظر ضروری ہے۔

ایک تاریخی مارچ تھا، جو انقلاب فرانس سے کچھ پہلے برپا پوا تھا۔ یہ احتجاجی مارچ سترہ جولائی سترہ سو نواسی میں ہوا۔ اس مارچ سے اس دس سالہ بغاوت نے جنم لیا، جس نے بلاخر فرانس میں بادشاہت کو ختم کر دیا۔ اس مارچ کے دن فرانسیسی مزاحمت کاروں نے بسٹائل کے گورنر کا سر قلم کیا، اور جیل پر قبضہ کر لیا، جہاں بہت بڑی تعداد میں سیاسی قیدی بند تھے۔ پھر واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جو بادشاہت کے خاتمے پر منتج ہوا۔

ایک مشہورمارچ موہن داس کرم چند گاندھی نے بھی کی تھی۔ یہ مارچ برطانوی راج میں نمک بنانے پر پابندی اور ٹیکسوں کے خلاف تھی۔ اس احتجاجی مارچ میں موہن داس گاندھی اور ان کے پیروکار مسلسل تئیس دن تک چلتے رہے، وہ دو سو چالیس میل کا سفر طے کر کہ ساحل سمندر پر پینچے اور نمک بنایا، کیونکہ کے برطانوی قانون کے تحت خود نمک بنانا غیر قانونی تھا۔ جواب میں انگریزوں نے گاندھی سمیت ساٹھ ہزار افراد کوگرفتار کر لیا۔ اس مارچ کی وجہ سے دنیا کی توجہ ہندوستان کی طرف مبزول ہوئی۔ اور دنیا کے کئی ملکوں اور رائے عامہ کے ایک بڑے حصے نے واضح طور ہندوستانیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔

برطانوی راج اور ٹیکسوں کے خلاف ہی ایک احتجاج سترہ سو تہترمیں بوسٹن میں ہوا تھا۔ اس انوکھے احتجاج کے دوران سو سے زائد لوگ خفیہ طریقے سے برطانوی جہازوں میں سوار ہوئے، اور انہوں نے پینتالیس ٹن چائے کی پتی سمندر میں پھینک دی۔ امریکی انقلاب کی شروعات سے پہلے احتجاج کا یہ ایک انوکھا واقعہ تھا۔

اس طرح کا ایک انوکھا احتجاج نیلسن مینڈیلا کی قیادت میں افریکن نیشنل کانگرس نے کیا تھا۔ انیس سو پچاس میں پارٹی کی اپیل پر لاکھوں لوگوں نے اپنے گھروں میں بند ہو کر ” گھر میں رہو” احتجاج میں حصہ لیا۔ احتجاج کا یہ بہت ہی پر امن اور محفوظ طریقہ کامیاب رہا، اور دنیا کے دیگر ممالک میں اپنایا گیا، جہاں مظاہرے کے دوران تشدد کا خطرہ ہوتا تھا۔ اور بعد ازاں افریکن نیشنل کانگرنس بار بار احتجاج کا یہ طریقہ اختیار کرتی رہی۔ کشمیر میں موجودہ بحران کے دوران چھوٹے پیمانے پر ہی سہی مگر کچھ لوگوں نے احتجاجا اپنے “گھر میں رہو” کی طرز کا طریقہ کار اختیار کیا۔ اس دوران ایک دوسرے سے کسی کھلے رابطے کے بغیر لوگوں نے اپنے بچوں کو سکولوں اور کالجوں میں جانے سے روک دیا۔ دوکان داروں نے رضاکارانہ طور پر اپنی دوکانیں بند رکھِیں۔ اور یہی طرز عمل سماج کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے اپنایا، اور اپنے گھروں میں بند ہو گئے۔ وادی میں اس طرز عمل یا طریقہ احتجاج کی ایک بڑی وجہ بہت بڑے پیمانے پر بھارتی سیکورٹی فورسز کی موجودگی اورتشدد کا خطرہ تھا۔

واشنگٹن مارچ بھی دنیا کے ان بڑے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہے، جس نے صورت حال بدل کر رکھ دی۔ یہ مارچ انیس سو تریسٹھ میں ہوئی۔ یہ وہی مارچ تھی جس میں مارٹن لوتھر کنگ نے ” میرا ایک خواب ہے” والی مشہور تقریر کی تھی۔ اس مظاہرے میں دو لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے، جو اس وقت آبادی کے تناسب سے بہت بڑی تعداد تھی، جس سے جان ایف کنیڈی شہری حقوق کے بارے میں قانون سازی پر مجبور ہوئے۔

چین کی تائینامن سکوئیر کی مارچ بھی تاریخ کے بڑے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوتی ہے۔ اس مارچ میں ملین سے زائد لوگ شریک ہوئے۔ یہ زیادہ تر نوجوان لوگ تھےجوجمہوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ لوگ سات دن تک اس جگہ احتجاج کرتے رہے، یہاں تک کہ چینی فوج نے مظاہرین کے خلاف پرتشدد کاروائی کر کے ان کومنتشر کر دیا۔ اس واقعے سے کئی سو لوگ مارے گئے تھے۔ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک سنگین واقعہ تھا، جس پر کئی برسوں تک دنیا میں بات ہوتی رہی۔

جرمنی میں انیس سو نواسی کے مظاہرے بھی تاریخ میں بڑی اہیمت رکھتے ہیں۔ یہ مظاہرے جرمنی کے دو حصوں میں تقسیم اور دیوار برلن کے خلاف تھے۔ ان مظاہروں نے بالآخر جرمنی کے سینے پر بنی ہوئی اٹھائیس سالہ پرانی تقسیم کی دیوار کو گرا کر مشرقی اورمغربی جرمنی کو متحد کر دیا تھا۔

مارچ دوہزار تین میں عراق کی جنگ کے خلاف دنیا بھر میں کئی بڑے مظاہرے ہوئے۔ ان بڑے مظاہروں میں ایک بڑا مظاہرہ لندن میں ہوا۔ لندن کے اس مظاہرے میں ایک ملین سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ کچھ تاریخ دان اس مظاہرے کو انگلینڈ کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی مظاہرہ مانتے ہیں۔

یوکرین میں سال دو ہزار چار کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو لیکر ہزاروں لاکھوں لوگوں نے ملک کے دارالحکومت کیو میں احتجاجی مارچ کیا۔ یہ لوگ سخت بارش اور برف میں بارہ دن تک سڑکوں پر رہے۔ بالاآخر ارباب اختیار نے ان کا مطالبہ مان لیا،۔ ملک میں دوبارہ انتخابات میں یہ لوگ جیت گئے۔

تاریخ کی عظیم ترین مارچوں میں سے ایک مارچ وہ بھی ہے جو چیئرمین ماو نے کی تھی۔ یہ مارچ دوسری احتجاجی مارچوں سے اس لیے مختلف سمجھی جاتی ہے کہ اس میں چین کی سرخ فوج نے حصہ لیا تھا۔ یہ در اصل ایک نہیں بلکہ کئی مارچوں کا مجموعہ تھا، جس کا زیادہ حصہ عسکری تھا۔ اس مارچ میں چئیرمین ماو کی قیادت میں تین سو ستر دنوں کے اندر نو ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا گیا تھا۔ یہ مارچ ماو زے تنگ کےعروج اورچینی انقلاب کا باعث بنی تھی۔

پاکستان میں احتجاجی اورلانگ مارچ کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اسی کی دھائی کے بعد احتجاجی مارچ پاکستان کی سیاست کاایک عام مظہر بن گیا۔ چارپانچ جولائی انیس سو اسی میں ضیا الحق کی زکوت پالیسی کے خلاف اہل تشیع نے فیڈرل سیکریٹیریٹ کے سامنے احتجاجی مارچ کیا۔ اس احتجاج نے حکومت کو مفلوج کردیا۔ مطالبات فورا مان لیے گئے، اور اہل تشیع کو ریاست کوزکوت کی ادئیگی سے مستشنی قرار دیا گیا۔

ضیا الحق کی پہلی برسی کے موقع پراسلام اآباد میں ایک بڑا مارچ ہوا، جس کی قیادت نواز شریف نے کی تھی۔ اس وقت بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی۔ کچھ پس و پیش کے بعد مارچ کرنے والوں کو اجازت دے دی گئی، جو تقاریر وغیرہ کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ بعد ازاں انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف بے نظیر بھٹو نے ایک بڑا مارچ کیا۔ اس مارچ نے صدر غلام اسحاق کو مجبور کیا کہ وہ نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر ے۔ مگر عدالت نے نواز شریف کی حکومت کربحال کر دیا۔ اگلے سال بے نظیر نے دوبارہ مارچ کیا، جس کے نتیجے میں نواز شریف کو مستعفی ہونا پڑا۔ بے نظیر اور نواز شریف دونوں نے اپنی اپنی ضروریات کے مطابق مارچ اور مظاہروں کی طاقت کا کثرت سے استعمال کیا۔

 مظاہروں اور مارچ کے ان طویل سلسلوں میں حالیہ برسوں کے دوران کچھ مشہورمظاہرے اوردھرنے ہوئے ہیں۔ ان میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں اسلام آباد کا مشہور دھرنا قابل زکر ہے، جو ایک طویل احتجاجی مظاہرہ تھا، جس نے حکومت کی بنیادیں ہلا دیں تھیں۔۔ اس کے علاوہ مذہبی جماعتوں کا لاہور سے اسلام آباد اور بعد میں لاہور سے راولپنڈی بھی اہم مارچ تھے، جن سے وسیع پیمانے پر لوگ باہر نکلے۔ مگر ان مظاہروں کو کسی بڑے واقعے کی بغیر گفت و شنید کے ذریعے پر امن طور پر ختم کرا دیا گیا۔

تاریخ کا ہر مارچ یا مظاہرہ جس میں لاکھ دولاکھ سے زائد لوگ شامل ہوئے یا تو کسی فوری تبدیلی کا موجب بنا یا پھر اس کے بطن سے ایسے حالات و واقعات نے جنم دیا جو آگے چل کر کسی بڑی تبدیلی یا مکمل انقلاب کا باعث بنے۔ ایسے مارچ یا مظاہرے اگر حکومت بزور طاقت روکتی ہے، تو اس سے طاقت کا استعمال اور تشدد کرنا پڑتا ہے، جو بالآخر حکومت کے نامہ اعمال میں ایک داغ اور اس کے کند ھوں پر ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ دوسری طرف ارباب اختیار کی رائے ہوتی ہے کہ اگر پر امن مظاہرے کی اجازت دے دی جائے تو مطاہرین کافی حد تک اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور حکومت کی دیوار میں دراڑ پڑنی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر بڑے مظاہرے کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •