31 اکتوبر کو کشمیر میں آرٹیکل 370 کا باضابطہ خاتمہ: کیا یہ انڈیا کی تاریخ کا سیاہ دن ہے؟

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر

Getty Images

انڈیا کے زیرِ انتظام ریاست کشمیر کو آج (جمعرات) باضابطہ طور پر مرکز کے زیرِ انتظام دو علیحدہ خطوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

جموں کشمیر کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے انڈین آئین میں جو خصوصی اختیارات دیے گئے تھے وہ اب ختم کیے جا چکے ہیں۔

انڈیا میں ماضی میں مرکز کے زیر انتظام کئی علاقوں کو ریاست کا درجہ دیا گیا ہے لیکن تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی ریاست کی حیثیت ختم کر کے اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دیا گیا ہو۔

کشمیری دانشور سنجے کاک کہتے ہیں کہ ‘اس کا مقصد ریاست کی عوام کی توہین کرنا ہے۔ یہ ایک انتہائی شرمناک اور انڈیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

یورپی وفد کو کشمیر لانے والی مدھو شرما کون ہیں؟

کشمیر: لاک ڈاؤن کے دوران مقامی انتخابات کی تیاریاں

’ہمیں صرف یہ سمجھ آیا ہے کہ ہماری اب کوئی حیثیت نہیں‘

آرٹیکل 370 ختم کرنے کا فیصلہ ہو یا ریاست کو منقسم کر کے اسے مرکزی خطہ قرار دینے کی بات، کشمیر کی عوام کے مستقبل کے حوالے سے ہوئے ان دور رس فیصلوں میں کشمیری عوام کا کوئی رول نہیں تھا۔

انھیں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلے ان کے بہتر مستقبل کے لیے کیے گئے ہیں۔ فیصلہ کرنے سے پہلے ریاست کے تقریباً سبھی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا اور رابطے کے سارے ذرائع منقطع کر دیے گئے تھے۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ دفعات 370 اور 35 اے ریاست کی ترقی میں حائل تھیں۔

کشمیر

Getty Images
انڈیا میں مسلمانوں کی اکثریت والی واحد ریاست کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کا عزم ابتدا سے ہی آر ایس ایس اور بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے

وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ آئین کے ان آرٹیکلز کے سبب ریاست کے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان سے مرکز کی سینکڑوں سکیموں اور پروگراموں کا نفاذ نہیں ہو پا رہا تھا۔ ریاست ترقی نہیں کر پا رہی تھی اور انھیں ختم کیے جانے کے بعد ریاست میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔

انڈیا میں مسلمانوں کی اکثریت والی واحد ریاست کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کا عزم ابتدا سے ہی آر ایس ایس اور بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے۔

انگریزی جریدے کیراوین کے مدیر ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ کشمیر سے متعلق حکومت کے فیصلوں کا سٹریٹیجک، ٹیکنیکل یا آئینی پہلوؤں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ ایک نظریاتی پوزیشن ہے۔ یہ ہندو راشٹر سے جڑی ہوئی پوزیشن ہے جس کا مقصد مسلم اکثریت کو بے اختیار کرنا ہے اور اسے ایک علامت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ جس میں ملک میں مسلم اقلیت کودوسرے درجے کا شہری بنا کر پیش کرنا ہے۔’

کشمیر

BBC
ہرتوش سنگھ کے مطابق بی جے پی کی پوزیشن ‘ایک نظریاتی پوزیشن ہے۔ یہ ہندو راشٹر سے جڑی ہوئی پوزیشن ہے جس کا مقصد مسلم اکثریت کو بے اختیار کرنا ہے اور اسے ایک علامت کے طور پر پیش کرنا ہے‘

ہرتوش کے خیال میں کشمیر کو ملک کے دیگر ریاستوں میں ہندوؤں کو موبلائز کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں ‘پلوامہ کا جو واقعہ ہوا تھا وہ کشمیر میں ہوا تھا۔ اس سے مودی کو پارلیمانی انتخابات میں کم از کم سو سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔ اگر پلوامہ نہ ہوا ہوتا تو یہ الیکشن مودی کے لیے کہیں مشکل ہوتا۔‘

انڈین حکومت اس طرح کے الزامات اور مخالفت کو مسترد کرتی رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ کشمیر کے بارے میں یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کیونکہ آرٹیکل 370 سے 70 برس میں صرف علیحدگی پسندی کو ہوا ملی اور ہزاروں لوگ مارے گئے اور کشمیر پوری طرح انڈیا میں ضم نہ ہو سکا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان اقدامات سے حکومت اپنے اعلانیہ مقاصد کو حاصل کر سکے گی؟ کشمیر میں خیالات کے اظہار کی آزادی پر قدغن ہے۔ انڈیا کی حکومت کے ان یکطرفہ فیصلوں کے بارے میں عوام کے جذبات پوری طرح تبھی واضح ہو سکیں گے جب انھیں اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت ہو گی۔

سنجے کاک کہتے ہیں کہ ‘کشمیر ایک دائمی بے یقینی کی گرفت میں ہے۔ یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے اب اور الجھ گیا ہے۔‘

سیاسی امور کی تجزیہ کار زینب سکندر کہتی ہیں یہ ایک سیاسی قدم ہے اور اس سے بی جے پی کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ جو بی جے کے حمایتی ہیں انھیں لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وہ کر دیکھایا جو کوئی نہیں کر سکا۔

کشمیر

BBC
زینب سکندر کے مطابق یہ کرنے سے بی جے کے حمایتیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وہ کر دیکھایا جو کوئی اور نہ کر سکا

لیکن بی جے پی کے نقطہ نظر سے اس کا ایک اور زاویہ ہے۔ چونکہ کشمیر کی ایک خصوصی حیثیت تھی کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا جبکہ پاکستان سے بات چیت سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تھا اس لیے یہ جو فیصلہ ہے وہ ان کے مطابق کشمیر کے وسیع تر مفاد میں ہے جس سے استحکام آئے گا، اقتصادی اصلاحات شروع ہوں گی اور نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع کھلیں گے۔

زینب سکندر کہتی ہیں کہ اس زاویے کو نظر اندراز نہیں کیا جا سکتا۔ ‘لیکن اگر اس میں کشمیریوں کی رضامندی ہوتی یا انھیں سٹیک ہولڈر بنایا گیا ہوتا تو میں یہ مانتی کہ یہ قدم سچ میں ان کی بھلائی کے لیے اٹھايا گیا ہے۔ لیکن چونکہ کشمیر کو تین مہینے سے بند رکھا گیا ہے تو اس میں کشمیریوں کی بھلائی کیا ہے یہ ہم میں کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔’

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے اس معاملے پر مبہم پوزیشن اختیار کر رکھی ہے۔

ملک میں اپوزیشن کہیں نظر نہیں آتی، جو اپوزیشن ہے وہ کشمیر پر کوئی پوزیشن نہیں لے رہی اور مودی حکومت کو فی الحال کسی طرح کی سیاسی مخالفت کا سامنا نہیں ہے۔

جس وقت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سیاسی تبدیلیون سے گزر رہا ہو گا، ریاست کے بیشتر سیاسی رہنما اور کارکن قید میں ہوں گے۔ حکومت کے مطابق ان تبدیلیوں کے ساتھ کشمیر کے ایک خوشحال مستقبل کا دور شروع ہو گا۔

لیکن تجزیہ کار ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ کشمیر فوج کے ذریعے مرکز کے کنٹرول میں رہے گا۔ ‘اسے ملک کی سیاست کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ کشمیر کے جو بھی معنی ہوں اسے جہاں تک ممکن ہو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12805 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp