کمپیوٹر وائرس سے وائی فائی تک کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شعیب بٹھل لندن سے آیا ہوا تھا۔وہ میانوالی میں اپنے گائوں بالا سے ہو کر رات کو لیٹ اسلام آباد میرے پاس پہنچا تھا۔صبح لندن واپسی کی فلائٹ تھی۔ دونوں پرانی یادیں تازہ کرنے بیٹھ گئے۔ ملتان یونیورسٹی سے دوستی کا جو تعلق قائم ہوا‘ وہ اب تیس برس پر محیط ہو چکا تھا۔
میں اسے بتانے لگا کہ پچھلے دنوں ہمارا بورے والہ کا کلاس فیلو محمود بھٹی بیوی بچوں سمیت گھر آیا ہوا تھا۔ شعیب نے پوچھا: بھٹی کیسا ہے؟ میں نے کہا: جیسے یونیورسٹی میں تھا آج بھی ویسے ہی ہے‘ مجال ہے ذرا بھی تبدیل ہوا ہو۔ محمود بھٹی بھی زبردست کردار ہے۔ یاروں کا یار اور دشمنوں کا دشمن۔ درمیان میں کوئی گنجائش نہیں۔ ایک دفعہ ہمارا پرچہ تھا۔ پوری رات میں اور شعیب ہوسٹل کے کمروں میں پڑھتے رہے۔ پیپر دینے کے بعد واپسی پر ہم بہائوالدین یونیورسٹی کے ابوبکر ہال کی کینٹین پر درختوں کے نیچے رکھی کرسیوں پر چائے پینے بیٹھ گئے۔
پیپر اچھا نہیں ہوا تھا لہٰذا ہمارا موڈ اچھا نہیں تھا۔ اتنی دیر میں کلف لگے کڑکڑاتے شلوار قمیض پہنے، پائوں میں تازہ تازہ کالی پالش ہوئی چپل پہنے بھٹی نمودار ہوا۔ ہماری شکلوں پر بارہ بجے دیکھ کر محمود بھٹی نے قہقہہ لگایا اور بولا: اوئے پینڈوز کیا ہوا؟ شعیب نے کہا: یار پوری رات پڑھتے رہے لیکن پرچہ اچھا نہیں ہوا۔ بھٹی ہنس ہنس کر دوہرا ہوگیا اور گالی دے کر بولا: تم لوگ پوری رات پڑھتے رہے ہو جبکہ میں کل ہی استاد صاحب سے پورا پرچہ لے آیا تھا۔ میری تو فرسٹ ڈویژن پکی ہے۔ میں نے محمود بھٹی کو کہا: بھٹی میرا کزن اگر اوکاڑہ میں ڈپٹی کمشنر ہوتا تو مجھے بھی استاد صاحب سوالات بتا دیتے۔ بھٹی کی ہنسی نہ رکی تو شعیب نے رونا سا منہ بنا کر کہا: بھٹی‘ ہم اگر رات بھر پڑھتے رہے تو کوئی گناہ کر بیٹھے ہیں؟
یونیورسٹی کے تین دوست ہماری اے ٹی ایم ہوتے تھے۔ مختار پارس، محمود بھٹی اور سلمان قریشی۔ ان تینوں نے کینٹین پر ہمارے کھانے پینے، بوتلوں اور چائے پانی کا بل دینا ہوتا تھا۔ بھٹی سخی مزاج تھا اور اتنا ہی جارحانہ۔ کبھی اندازہ نہ ہوتا کہ وہ کب کسی سے لڑ پڑے گا۔ ایک دفعہ پارس ہمیں فلم دکھانے لے گیا تو وہ وقفے میں سموسے لینے گیا۔ دیر ہوگئی تو میں پتہ کرنے گیا۔ وہ وہاں سموسے والے سے لڑ رہا تھا۔ مشکل سے چھڑایا۔ بولا: یار اس نے چٹنی میں نمک زیادہ ڈالا ہوا تھا۔ میں ہنس ہنس کر دوہرا ہوگیا۔
جب محمود بھٹی میرے گھر بیٹھا تھا تو میں اسے یہی واقعات یاد دلا رہا تھا۔ اس کا پیارا سا بیٹا بیٹھا یہ باتیں سن رہا تھا۔ میں نے اسے قریب بلا کر پیار کیا اور بتایا کہ میں آپ کے پاپا کا دوست ہوں‘ تو اس نے شکوہ کیا: آپ اچھے دوست ہیں ابھی تو آپ میرے بابا کی شکایتیں کررہے تھے۔ میں نے قہقہہ لگایا اور بھٹی کو کہا: دیکھ لو جونیئر بھٹی غصے میں تم سے بھی آگے ہے۔
دوست تو جس دور کے بھی ہوں بہت پیارے ہوتے ہیں‘ لیکن پتہ نہیں یونیورسٹی کے دوستوں میں ایسا کیا ذائقہ ہے کہ بھلائے نہیں بھولتے۔ اگرچہ میں نے لیہ کالج ہوسٹل میں چار سال گزارے اور کیا کیا خوبصورت دوست بنائے لیکن جو دوست ملتان یونیورسٹی میں بنے‘ ان کی یاد آتی ہے۔ اب بھی یہ کالم لکھتے ہوئے ان سب کو مس کر رہا ہوں۔
رات گئے تک یونیورسٹی کینٹین پر بیٹھ کر گپیں لگانا ایک ایسا رومانس تھا جس سے اب تک باہر نہیں نکل سکا۔ پچھلے دنوں ملتان گیا تو ظفر آہیر اور شکیل انجم سے یہی باتیں ہوتی رہیں۔ جمشید رضوانی اور شکیل کو کہا: یار بڑا دل کرتا ہے کسی دن میں اسلام آباد سے آئوں، اکٹھے یونیورسٹی جائیں اور ان راستوں پر دوبارہ چلنے کی کوشش کریں جہاں کبھی ہمارے قدم پڑتے تھے اور لگتا تھا یہ سورج کبھی غروب نہیں ہو گا۔ پھر سوچتا ہوں‘ کبھی ماضی کو ری وزٹ نہیں کرنا چاہیے۔ ماضی آپ کو ویسا نہیں ملتا جیسے آپ اسے چھوڑ آئے ہوتے ہیں۔
مجھے اس کا تجربہ اس وقت ہوا تھا جب میں نے اپنے ایک کزن کو کہا تھا کہ مجھے بیٹ کچے علاقے میں جانا ہے۔ انہوں نے کار نکالی تو میں نے کہا‘ جناب پیدل چلنا ہے‘ یہاں سے پیدل دریائے سندھ تک چلیں گے‘ تا حد نظر سبزے، کچے چنے کے کھیتوں کے درمیان سے گزریں گے، دور دور تک سرسوں کے پھول ہوں گے‘ کہیں گنے توڑ کر چوسیں گے تو دور کہیں چرتے جانور اور ان کے پیچھے بھاگتے کتے دیکھیں گے۔ یا پھر بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے پیچھے چلتے بانسری کی تانیں بکھیرتے گڈریے اور دور کہیں کھجور کے طویل قامت درختوں پر لٹکے بچوں اور شہد اتارنے کے لیے درختوں کے جھنڈ کے نیچے سلگائی گئی آگ سے اٹھتے سفید دھویں کی آسمان سے باتیں کرتی لکیر کا نظارہ کریں گے۔
میرا کزن مجھے حیران ہوکر دیکھتا رہا‘ پھر بولا: یہ تم کب اور کہاں کی بات کررہے ہو؟ میں نے کہا: بیٹ کی جہاں ہماری آبائی زمینیں ہیں۔ وہ ہنس پڑا اور بولا: یہ اس وقت کی بات ہے جب تم دس بارہ سال کے تھے‘ اب کہاں رہ گیا ہے یہ سب کچھ‘ وہ بیٹ کب کا مر چکا‘ اب وہاں ایسا کچھ نہیں رہا۔ میں نے بچے کی سی ضد کی: نہیں ایسا ہی ہوگا۔ کزن بولا: پھر ایک کام کرو‘ تم کار پر چلو‘ پیدل چلنے کا دل کرے تو اتار دوں گا۔ جب ہم شاہ جمال بند سے نیچے اترے اور آگے ایک بستی سے گزرے جہاں سے کسی زمانے میں آپ کو تین چار کلومیٹر دور سے دریائے سندھ تک سب نظر آتا تھا تو مجھے یوں لگا‘ میں کسی اورہی دنیا میں آ گیا ہوں۔
ایسا کوئی منظر نہیں تھا جو میری یادداشتوں میں محفوظ تھا۔ وہاں اب گھر بن چکے تھے۔ دریا کے قدرتی راستے کب کے آباد ہو چکے تھے۔ سب جنگلی جھاڑیاں، درخت کب کے کٹ چکے تھے۔ مجھے پہلی دفعہ محسوس ہوا‘ ذہنی تشدد کسے کہتے ہیں۔ یوں لگا سب کچھ چھن گیا تھا۔
میرے کزن نے کہا: اب کیا کرنا ہے؟ میں نے افسردہ ہوکر کہا: گاڑی واپس موڑ لو‘ میں تو ان راستوں کو پہچان تک نہیں سکتا‘ یہ وہ جگہ تو نہیں جہاں میرا ماضی دفن ہے‘ ہم چھوٹے ہوتے تو یہاں سے پیدل زمینوں پر جاتے تھے اور اس علاقے میں کیا سماں ہوتا تھا۔ کیا خوبصورتی تھی۔ اس کے بعد جب بھی ملتان گیا ہر دفعہ دل چاہا‘ یونیورسٹی جائوں لیکن پھر یہ سوچ کر ڈر جاتا ہوں کہ وہاں ماضی دفن ہے تو اسے دفن ہی رہنے دو۔ مجھے لگتا ہے اگر کبھی وہاں گیا تو بھی شاید دل حرکت کرنا بھول جائے۔
شعیب اتنی دیر سے میری تبدیل ہوتی حالت دیکھ رہا تھا۔ میرے موبائل فون پر فلمی گانے سن کر کہا: یہ ریڈیو کہاں سے لگا ہوا ہے؟ میں نے کہا: ایک ایپ ہے۔ فون لے کر اسے وہ ایپ ڈائون لوڈ کر دیا۔ اس نے وہی سٹیشن لگایا جو میں نے لگایا ہوا تھا تو اس کی آواز گم ہو گئی۔ کہنے لگا: لگتا ہے وائی فائی میں مسئلہ ہے‘ ایک ہی وقت میں دو موبائل فونز پر ایک ریڈیو سٹیشن لگا ہوا تو دوسرا بند ہو جاتا ہے۔ میں نے غیریقینی نظروں سے شعیب کی طرف دیکھا اور ہنس ہنس کر دوہرا ہوگیا۔
میں نے کہا: شعیب تمہیں یاد ہے انیس سو چھیانوے میں لاہور کے کوٹھا پنڈ فلیٹس میں ہم بیروزگاری کے دن کاٹ رہے تھے تو میرے فلیٹ پر خان پور کا عبیداللہ بھی رہتا تھا جو سارا دن میرے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیے ناولز کمپوز کرتا تھا۔ ایک دفعہ کمپوٹر خراب تھا۔ تم نے پوچھا کیا ہوا؟ عبیداللہ نے کہا: کمپیوٹر میں وائرس آگیا ہے اور تم نے کہا تھا: کتنی دفعہ کہا ہے کہ کھڑکی بند رکھا کرو‘ وائرس کھڑکی سے اندر آکر کمپیوٹر میں گھس گیا ہو گا۔ میں نے کہا: آج تئیس برس بعد تم وائی فائی کے بارے میں کہہ رہے ہو اگر موبائل فونز پر ہم دونوں ایک وائی فائی استعمال کررہے ہوں تو صرف ایک ریڈیو چلے گا‘ مجھے خوشی ہے کہ لندن میں پندرہ برس گزارنے کے بعد بھی تمہارے اندر کا پینڈو آج تک زندہ ہے۔
تمہاری بیٹیاں ماشاء اللہ لندن کی ٹاپ یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں‘ لیکن داد دیتا ہوں لندن اور ٹیکنالوجی مل کر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ تئیس برس قبل تمہیں لگتا تھا وائرس اڑ کر کھڑکی کے راستے کمپیوٹر میں داخل ہوسکتا ہے اور آج تمہیں لگتا ہے وائی فائی پر صرف ایک ریڈیو سٹیشن چل سکتا ہے۔
میں نے کہا: استاد بٹھل بندہ لندن پہنچ جائے تو بھی ہمارا پینڈو پن کہیں نہیں جاتا۔ شعیب بغیر بے مزہ ہوئے بولا: بکواس بند کرو اور اب اس پر کالم نہ لکھ دینا‘ ورنہ میرے بچے مجھ پر بہت ہنسیں گے۔ میں نے کہا: استاد دل چھوٹا مت کرو‘ یہ ہمارے جیسے پینڈوز کی خوبصورتی ہے، سادگی ہے، بیوقوفی نہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •