تیزگام ایکسپریس حادثہ: ٹرین میں سکیورٹی کی ذمہ داری کس کی ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریلوے حادثہ

Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تیزگام ایکسپریس کو پیش آئے حادثے نے مسافروں کی حفاظت کے لیے پاکستان ریلویز کے طریقۂ کار اور موجودہ سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

کراچی سے راولپنڈی آنے والی تیزگام ایکسپریس میں دو روز قبل صبح سویرے آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے میں 70 سے زائد مسافر ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

وزارت ریلوے کے حکام نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی کوئی بھی وجہ ہو یہ پاکستان ریلویز کی غفلت ہے کیونکہ مسافروں کا تحفظ ادارے کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان ریلویز کے ایک ریٹائرڈ افسر اشفاق خٹک نے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ ریلوے کا عملہ ’مجرمانہ غفلت‘ کا مرتکب ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرین میں آگ لگنے کے بعد کیا ہوا

تیزگام حادثے میں قصوروار کون: مسافر یا ریلوے انتظامیہ؟

ریل حادثے: بلاول، شیخ رشید کے دعووں میں کتنی سچائی؟

ریلوے حادثہ

Getty Images

کیا مسافروں کی باقاعدہ چیکنگ کی جاتی ہے؟

پاکستان ریلویز کے ضابطے کے مطابق ٹرین کے مسافر دھماکہ خیز یا خطرناک آتش گیر مواد جیسے کہ تیل، گیس اور گیس سلنڈرز وغیرہ نہیں لے جا سکتے۔

اشفاق خٹک کہتے ہیں ’مسافر یہ اشیا تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ کارگو ٹرین یا مال گاڑی میں لے جا سکتے ہیں۔‘

یہاں یہ بات اہم ہے کہ مسافر ٹرینوں میں اگرچہ عملہ تعینات ہوتا ہے اور وہ مسافروں کے سامان کی چیکنگ بھی کرتا ہے تاہم بعض اوقات سکیورٹی اہلکار غفلت برتتے ہیں اور چیکنگ نہیں کرتے۔

بی بی سی نے جب کچھ مسافروں سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے تک مسافر بغیر ٹکٹ پلیٹ فارم تک جا بھی نہیں سکتے تھے لیکن اب اس سلسلے میں زیادہ سختی نہیں کی جاتی۔

دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے سٹیشنز پر کوئی بڑے سکینرز استعمال نہیں ہوتے بلکہ عملہ اپنے طور پر یا ہاتھ سے استعمال ہونے والے چھوٹے سکینرز کے ذریعے سامان کی چیکنگ کرتا ہے۔

ریلوے حادثہ

Getty Images

حادثات سے بچنے کے لیے حفاظتی سامان؟

اس سوال پر کہ ٹرین میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی سامان موجود ہوتا ہے، ریلوے کے ایک حاضرِ سروس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ریل گاڑی میں آگ بجھانے والے آلات موجود ہوتے ہیں لیکن یہ ہر بوگی یا کوچ میں نہیں بلکہ مخصوص عملے کے پاس یا کوچز میں ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ’آگ بجھانے والے آلات ہر ریل گاڑی کے ڈرائیور، گارڈ، ایئر کنڈیشنرز کے نگران اور چارجنگ پلانٹ کے نگران کے پاس موجود ہوتے ہیں مگر یہ آلات چھوٹی یا محدود سطح کی آگ بجھانے کے لیے ہوتے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی صورت میں یہ آلات کارگر ثابت نہیں ہوتے۔‘

ریل گاڑی میں بجلی اور مکینیکل سطح پر سامان کی مرمت اور اسے ہمیشہ قابل استعمال رکھنے کے لیے ویسے تو عملہ تعینات ہوتا ہے مگر ریلوے کے مسافروں کے مطابق اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ریل گاڑیوں میں بجلی کا سامان مثلاً پنکھے، بلب کام نہیں کر رہے ہوتے اور ان کی مرمت کے لیے کوئی اقدامات بھی نہیں کیے جاتے۔

ریلوے حادثہ

Getty Images

ریل گاڑی کے اندر تعینات عملہ کیا کرتا ہے؟

ریلوے کے حکام نے بتایا کہ مسافروں اور ریل گاڑی کی حفاظت کے لیے الگ الگ عملہ تعینات ہوتا ہے۔

ریل گاڑی کے اندر ریلوے پولیس، الیکٹریکل سٹاف، مکینیکل سٹاف، مسافروں کو سہولیات فراہم کرنے والا عملہ اور ٹکٹ چیکر ہوتے ہیں۔

یہ عملہ ریل گاڑی میں اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی کے ساتھ کسی قسم کی غلطی یا غیر معمولی واقعہ دیکھتے ہی فوری طور پر متعلقہ اہلکاروں کو مطلع کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

اشفاق خٹک پوچھتے ہیں کہ سلنڈر اندر کیسے لے جایا گیا اور اگر سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی تھی تو متعلقہ عملے نے اس کی نشاندہی کیوں نہیں کی۔

وہ کہتے ہیں کہ سلنڈر ممنوعہ اشیا میں شامل ہے اور چیکنگ کرنے والے عملے کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔

’اگر یہ کہیں سے سلپ ہو کر اندر چلا گیا تھا تو ٹرین کے اندر بھی نگرانی کرنے والا عملے کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کی نشاندہی کرتے۔‘

ریلوے حادثہ

Getty Images

شارٹ سرکٹ کا ذمہ دار کون؟

اب تک کی تحقیقات میں یہ واضح نہیں ہے کہ آتشزدگی کیسے ہوئی اور اس غفلت کا مرتکب کون ہوا جس سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

کچھ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ تیزگام میں آگ شارٹ سرکٹ سے لگی۔ ایک اور عینی شاہد کے مطابق آگ ’اے سی کوچ سے لگی اور دیگر کوچز میں پنکھے بھی شارٹ تھے۔‘

اشفاق خٹک کہتے ہیں کہ اگر آگ شارٹ سرکٹ سے لگی تو عملہ کہاں تھا اور ریل گاڑی کی روانگی سے پہلے اس کی نشاندہی کیوں نہیں کی گئی۔

وہ یہ بھی نکتہ اٹھاتے ہیں کہ کہیں ان کوچز کی تیاری کے لیے مٹیریل کے استعمال میں غفلت تو نہیں برتی گئی؟

اشفاق خٹک کہتے ہیں کہ گذشتہ ایک، ڈیڑھ سال سے پاکستان ریلوے کے مینوفیکچرنگ ڈپارٹمنٹ پر شدید دباؤ تھا کہ مزید نئی کوچز تیار کی جائیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انھیں صرف ایک ریل گاڑی کے لیے 60 سے 70 کوچز تیار کرنی پڑتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سابق دور حکومت میں مسافر ریل گاڑیوں کی بہ نبست مال گاڑیوں پر زیادہ توجہ دی گئی لیکن اب موجودہ حکومت نے مسافر گاڑیوں پر توجہ دیتے ہوئے متعدد نئی سروسز شروع کی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ تحقیقات میں اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کہیں دباؤ کے حالات میں نامناسب مٹیریل نہ استعمال کیا گیا ہو۔

انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ریل کوچز کی تیاری میں ایسے مٹیریل کو ترجیج دی جاتی ہے جس سے آگ نہ پھیل سکے اور حکام کو اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مگر پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹیو افسر اعجاز برڑو اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ مینوفیکچرنگ ڈپارٹمنٹ پر دباؤ تھا بلکہ جب سے نئی کوچز کی پیداوار شروع ہوئی اور جن کوچز کو مرمت کی ضرورت تھی، ان پر کام ہوا تو ورکشاپس بھی بڑھائی گئیں اور ان کے اوقاتِ کار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ تیز گام حادثے سے اس کا کوئی تعلق ہے کیونکہ کوچز کی نشستیں اور بہت سارا دیگر سامان سلامت ہے۔

ریلوے حادثہ

Getty Images

پھیلتی آگ بجھائی کیوں نہیں گئی؟

یہاں یہ سوال بھی کیے جا رہے ہیں کہ جب کوچز میں آگ لگی تو اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اور آگ بجھانے والے آلات اور ان آلات کو استعمال کرنے والا عملہ کہاں تھا۔

حکام کے مطابق آگ بہت تیزی سے پھیلی اور اس کی ایک وجہ ریل گاڑی کی رفتار تھی اور تیز ہوا کی وجہ سے آگ جلدی پھیلی۔

اعجاز برڑو نے بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں سواریوں کی وجہ سے ہر ایک مسافر کو چیک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ جانی نقصان صرف اس کوچ میں ہوا ہے جن میں گیس سیلینڈرز رکھے ہوئے تھے۔ ’بزنس کلاس میں صرف ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ دوسری اکانومی کوچ میں دو سے تین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تحقیقات کا عمل جاری ہے اور جو شخص غفلت کا مرتکب پایا گیا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21754 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp