آرمی زیادہ جمہوری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 وقت کے ساتھ جس طرح بہت سی اور چیزیں تبدیل ہوئی اسی طرح  پہلے سیاسی مباحثوں کے لیے حمام کو جو مقام حاصل تھا اب وہی مقام تبدیل ہو کر سوشل میڈیا کو حاصل ہو گیا۔ سیاسی مباحث کا چونکہ براہ راست تعلق دانشوری سے ہے اس لیے مکان کی تبدیلی کے دوران دانشوروں کی پیمائش کےلیےاستعمال ہونے والے فارمولوں میں بھی تبدیلی آتی رہی۔ پرانے زمانے میں نائی کی دکان پر کوئی ایک شخص ایسا ہوتا تھا جو اخبار سے خبر پڑھ کر سناتا تھا اور باقی سب لوگ جو اخبار پڑھنے پر قدرت نہیں رکھتے تھے اس خبر پر اپنا اپنا تجزیہ دیتے تھے۔ اس زمانے میں دانشوری ماپنے کا فارمولا یہ ہوتا تھا کہ جو کوئی خبر سے انتہائی دور کا مفروضہ تخلیق کرکے حاضرین کو سناتا تھا وہ سب سے مشہور دانشور کہلاتا تھا۔ جب اخبار سے بات نکل کر نجی ٹی وی چینلز پر آگئی تو اسی حمام فارمولے سے ٹاک شوزکرنے والے دانشوروں کی درجہ بندی کی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہی حمام کے حاضرین ریٹنگ کا فیصلہ کرنے والے بن گئے۔ نتیجے میں وہ سارے اینکرز، تجزیہ نگار اور صحافی سب سے زیادہ ریٹ کیے جانے لگے جو حقیقت سے بہت دور کا مفروضہ “گھڑنے” میں ماہر تھے۔ اور یوں ڈاکٹر شاہد مسعود اور نجم سیٹھی وغیرہ بڑے دانشور بن گئےکیونکہ یہ لوگ اندر کی وہ باتیں (مفروضے)  بتاتےتھے جو خبروں میں کبھی نہیں آتی تھی۔

 دانشوری کا شوق لےکر جب نیم خواندہ لوگوں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا تو ان کےذہن میں بھی ریٹنگ اور دانشوری کا پیمانہ وہی تھا کہ سب سے بڑا دانشور وہی سمجھاجائے گا جو جتنی حقیقت سے دور کی بات کرےگا۔ یہ فارمولا ایک عرصے تک تو چلتا رہا مگر دانشوروں کی اتنی بہتات ہوگئی کہ ایک نیا فارمولا ایجاد کرنا پڑا۔ وہ فارمولا یہ تھا کہ جو بات سب لوگ کر رہے ہوں اس کے برعکس بات کی جائے۔ گمنام سوشل میڈیائی دانشوروں کے علاوہ اس فارمولے پر عمل کرنے والوں کی ایک معروف مثال طلعت حسین صاحب ہیں۔ اب یہ فارمولا بھی فیل ہو چکا اور ثبوت کے طور پر طلعت صاحب کا یوٹیوب چینل ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

 دانشوروں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ آج کل ایک اور تیر بہدف اور مجرب نسخہ دانشوری ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہ نسخہ ساشے پیک اور ملٹی پل فلیورز میں بھی دستیاب ہے۔ اس نسخے کے تین اجزا: مذہب، ملک اور آرمی ہیں۔ ترکیب استعمال یہ ہے کہ ان تین عناصر میں سے جس کے ساتھ بھی آپ کی روزی روٹی منسلک نہیں اس کو ٹھوک کر گالی دے دیں اور لمحوں میں دانشور بن جائیں۔ آج کل عمران خان کی برکت سے سب گالی دینے والے مل کر مولانا فضل الرحمان کے جھنڈے تلے آرمی کو گالی دے رہے ہیں اس لیے میں صرف اس جز کے حوالے سے کچھ حقیقتیں رکھنا چاہتا ہوں۔

 اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ باقی اداروں کی طرح ہوسکتا ہے آرمی کے کچھ اقدامات کا نتیجہ اس ملک کے حق میں نہیں نکلا مگر تاریخی حقائق پر غور کیا جائے تویہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سویلین بھی ان اقدامات میں برابر کے شریک تھے۔ میں اس نئے فارمولے کی پیداوار نام نہاد دانشوروں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس میٹر پر بھی پرکھا جائے ، پاکستان کی آرمی ہماری تمام مین سٹریم سیاسی جماعتوں (شاید سوائے جماعت اسلامی کے) سے زیادہ جمہوری ہے۔ آرمی میں ضیاالحق کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا آرمی چیف نہیں بنا۔ دوسری طرف وفاق کی علامت سمجھی جانے والی پیپلزپارٹی کے سربراہ کے بعد اس کی بیٹی  ہی پارٹی سربراہ بنی اور ابھی تک یہ سلسلہ آب و تاب سے جاری ہے۔ آرمی میں چاہے جوجتنا مرضی طاقت ور ہو جائے وہ مسلم لیگ نون کے تا حیات قائد نواز شریف کی طرح تاحیات آرمی چیف نہیں بن سکتا۔ آرمی میں یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی ریٹائرڈ ڈی جی آئی ایس پی آر ذاتی رنجش کی وجہ سے موجودہ آرمی چیف کے خلاف راولپنڈی میں بندے لے کر پہنچ جائے اور آرمی چیف کو ہٹنے کےلیے دو دن کا مہلت دے دے۔ یہ بھی نہیں ہوتا کہ کوئی آرمی چیف اپنے کورکمانڈرز سے مشورہ کیے بغیر اپنی من مانی سے کوئی انتہائی اہم فیصلہ کرلے۔ یہ من مانیاں اور ون مین شوز صرف جمہوری سیاسی جاعتوں میں ہوتے ہیں۔

 قدرتی طور پر اس بات کے چانسز بھی زیادہ ہیں کہ آرمی کے اہم آفیشلز ہمارےسیاست دانوں سے زیادہ ایماندار ہوں۔

اس کی وجوہات یہ ہیں کہ سیاست میں شاذ و نادر ہی کوئی شخص ملک کی خدمت کے لیے آئے، کیونکہ زیادہ تر لوگ بس کرپشن کرنے یا کرپشن چھپانے کےلیے آتے ہیں جبکہ اس کے برعکس آرمی میں کرپشن کرنے کی نیت سے شاذ و نادر ہی کوئی نوجوان آئے۔ آرمی میں بہت سے کامیاب طالب علم صرف ملک کی خدمت کی نیت سے آتے ہیں جبکہ سیاست میں شاذ و نادر ہی کوئی کامیاب پروفیشنل محض ملک کی خدمت کی غرض سے آئے ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاست میں آنے والے کامیاب پروفیشنلز پر ان کے کٹر سے کٹر دشمنوں نےبھی بداعنوانی کا الزام نہیں لگایا، اسد عمر اور عمران خان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ حب الوطنی کے حوالے سے اگر آرمی چیف کو سویلینز کا خیال نہ بھی ہو تو لاکھوں سپاہی جو اس کی تنظیم کا حصہ ہیں ان کےلیے وہ اپنے بچوں کی طرح ہوتےہیں اور جانتا ہے کہ ملک کو کوئی نقصان سب سے پہلے ان کو نقصان پہنچائے گا۔ اس کےبرعکس مولانا فضل الرحمان صاحب اپنی تنظیم کے کارکنوں کو اس امید پر اسلام آباد لائے کہ خدا نخواستہ دس پندرہ ہلاکتیں ہوں اور اس کے مخالف عمران خان کےلیے مشکلات پیدا ہوں۔

 مذکورہ بالا باتوں سے میں نہ تو یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری آرمی میں فرشتےہیں، اور نہ یہ جسٹیفائی کرنا چاہتا ہوں کہ جمہوری پراسس میں ان کا کوئی رول ہونا چاہیے؛ مگر مقصد یہ باور کرانا ہے کہ یہ آرمی کوئی اسرائیل کی آرمی ہے اور نہ اس ادارے میں کام کرنے والے لوگ اچھوت ہیں۔ چونکہ آرمی ایک ماتحت ادارہ ہے اس لیے ان کا حکومت کے ساتھ ہونا ملک سے غداری نہیں بلکہ آئین کی پاسداری ہے۔ جن ممالک کی آرمی کمزور ہوتی ہے ان کے انجام کی مثالیں مصر، شام اور لیبیا کی صورت میں ہمارےسامنے موجود ہیں۔ اور ہاں  یہ بھی بتانا مقصود ہے کہ دانشوری کا یہ ساشے پیک نسخہ بھی در اصل ایک محدود مدت کےلیے ہے اورجس طرح تھوک کے حساب سے اس فارمولے کے ساتھ دانشور بن رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ اس نسخے کی مدت باقی فارمولوں کی مدت سے بھی کم ہو۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
پرویز کریم کی دیگر تحریریں
پرویز کریم کی دیگر تحریریں