اسیری و رہائی کا روز نامچہ اور آزادی مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوموار کی سہ پہر لاہور ہائی کورٹ سے مریم نواز کی ضمانت کا فیصلہ اہم ترین خبر بن گیا تھا۔ اپنے علیل والد کی تیمار داری کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر‘ اگر چہ یہ عبوری ضمانت ہے اور اس پر صحافتی و سیاسی حلقوں میں تبصرے و تجزیے ”فطری‘‘ہیں۔ ایک سنجیدہ اور ذمہ دار تجزیہ نگار کی شہرت رکھنے والے میڈیا پرسن نے تو گزشتہ شام ہی ٹوئٹ کر دیا تھا: ”ن لیگ کی طرف سے مریم نواز کی ضمانت کے بعد نواز شریف کو باہر بھیجنے کی تیاریاں۔ شہباز شریف بھی جائیں گے۔ خاقان عباسی اور حمزہ شہباز کے علاوہ دیگر اہم معاملات پر اہم اتفاق رائے…‘‘۔ ٹویٹ کے آخر میں بنیادی سوال: ــ” مگر کیا نواز شریف ‘مولانا کے مارچ کے بیچ ”ڈیل‘‘کی تہمت سر لیے یہ سب قبول کر لیں گے؟‘‘۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم جس نواز شریف کو (تھوڑا بہت ) جانتے ہیں‘ وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔دسمبر 2000ء میں جلاوطنی کی کہانی الگ ہے۔ یہ انیشی ایٹو میاں صاحب کے سعودی دوستوں کی طرف سے تھا۔ اٹک قلعے میں طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر کیس کے دومقدمات میں عمر قید کی سزائیں بھگتنے والے میاں صاحب کے لیے اسے قبول کرنے کا فیصلہ آسان نہ تھا‘ وہ اس پر کیسے اور کیوں آمادہ ہوئے؟ یہ کہانی پھر سہی۔ شہباز شریف لانڈھی جیل کراچی میں تھے ۔وہ بھی جلا وطنی کا ”ریلیف ‘‘لینے سے انکاری تھے‘ لیکن ڈکٹیٹر کا اصرار تھا کہ خواتین اور بچوں سمیت ساری شریف فیملی جلا وطن ہو گی۔ صرف حمزہ شہباز ”یرغمال‘‘ کے طور پریہاں رہے گا۔
مریم نواز ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس کی 7سالہ قید میں سے 7 ہفتے اڈیالہ جیل میں گزار چکی ‘ 10سال قید کے سزا یافتہ میاں نواز شریف بھی وہیں تھے۔زندگی اور موت کی کشمکش سے دو چار بیگم کلثوم نواز کی تیمارداری کے لیے باپ بیٹی لندن میں تھے ‘ جب نیب کورٹ نے (6جولائی 2018ء کو) فیصلہ سنایا۔اگلے ہفتے (13جو لائی) باپ بیٹی‘ اپنی عزیز ترین ہستی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جیل جانے کے لیے لاہور پہنچ گئے۔ 11ستمبر کو بیگم صاحبہ کی وفات پر نواز شریف نے پیرول پر رہائی کی درخواست دینے سے انکار کر دیا۔
شہباز شریف کی درخواست پر مرحومہ کی تدفین اور دیگر رسومات کے لیے باپ بیٹی کو پیرول پر رہائی مل گئی‘جس کے بعد وہ دوبارہ اڈیالہ جیل میں تھے۔ 19ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت پر (دونوں کی)رہائی کا حکم جاری کر دیا ۔24ستمبر کو ”العزیزیہ‘‘ میں7سال کی سزا پر نواز شریف دوبارہ جیل چلے گئے۔ اس بار اڈیالہ کی بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل ٹھکانہ بنی۔طبی وجوہات کی بنا پر سپریم کورٹ سے 6ہفتے کی عبوری ضمانت کے بعد وہ 7 مئی کی شب دوبارہ حوالۂ زنداں ہو گئے۔ اس دوران چودھری شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کی انویسٹی گیشن بھی شروع ہو گئی۔
اس میں مریم( اور عباس شریف مرحوم کے صاحبزادے یوسف) بھی ملزم تھے۔8اگست کو مریم کی نیب میں پیشی تھی۔ یہی دن جیل میں میاں صاحب سے ہفتہ وار ملاقات کا تھا۔ مریم کی طرف سے پیشی کے لیے کوئی اگلی تاریخ دینے کی درخواست مسترد ہو گئی۔ احتساب ادارے نے پیشی کے لیے2 بجے کا وقت دیا تھا کہ متعلقہ افسران و اہل کاران اس سے پہلے ہی وارنٹ گرفتاری لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئے (جہاں مریم اپنے والد سے ملاقات کے لیے موجود تھیں)۔ اسے ”حسنِ اتفاق‘‘ کہہ لیں کہ اسی وقت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے خلاف مودی کے 5 اگست کے جارحانہ اقدام کی مذمت میں قرارداد تیا رکی جارہی تھی۔
مریم نے مودی کے خلاف 9اگست (جمعہ) کو مظفر آباد میں ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کا اعلان کیا تھا۔ وہ گزشتہ شب سرگودھا میں ایک بڑے جلسے سے بھی خطاب کر چکی تھی۔ منڈی بہاؤالدین اور پاک پتن میں اس کے جلسے بھی ریکارڈتوڑرہے تھے۔ چودھری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس کی انویسٹی گیشن کے لیے میاں صاحب کو دوبارہ احتساب ادارے نے اپنی تحویل میں لے لیا؛ حالانکہ وہ پہلے ہی کوٹ لکھپت جیل میں تھے۔
10ویں روزطبیعت کی سخت خرابی پر انہیں سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اگلے روز نیب عدالت میں پیشی پر مریم کی درخواست تھی کہ اسے راستے میں اپنے والد کی عیادت کی اجازت دے دی جائے‘ لیکن جج صاحب کا کہنا تھا کہ وہ اس کا اختیار نہیں رکھتے۔ اسی شب مریم کی اپنی طبیعت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال لایا گیا‘ یہیں باپ بیٹی کی ملاقات بھی ہو گئی اور اسی شب پَو پھٹنے سے پہلے وہ دوبار ہ جیل میں تھی۔ ہاہا کار مچی تو جناب وزیر اعظم کی خصوصی اجازت سے مریم کو اگلی شب اپنے والد کی تیمارداری کے لیے (تاحکم ثانی) ہسپتال میں رہنے کی اجازت مل گئی اور سوموار کی سہ پہر لاہور ہائی کورٹ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مریم کی عبوری ضمانت منظور کر لی ۔
کیا یہ ضمانت کسی ڈیل (یا ڈھیل) کا نتیجہ ہے؟ ہمارے خیال میں یہ ایک سازش تھیوری ہے۔ احتساب ادارے کا وکیل تو آخر وقت تک ضمانت کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا۔کیا میاںصاحب علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر رضامند ہو جائیں گے؟ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے‘ ہم جس میاں نواز شریف کو جانتے ہیں وہ یہ ” تہمت ‘‘قبول کرنے پر کسی صورت آمادہ نہ ہو گا۔
صحت کی صورتحال بھی انہیں طویل سفر کی اجازت نہیں دیتی۔ ڈاکٹروں کی سرکاری ٹیم کے سربراہ کے مطابق بھی مریض کی صحت کے معاملات خاصے پیچیدہ ہیں ‘ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی میاں صاحب کے ”ڈینجرزون‘‘ میں ہونے کی خبر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ میاں صاحب ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر بھی ہیں (یہ الگ بات کہ خود وفاقی وزیر داخلہ اس سے بے خبر نکلے۔ ایک ٹاک شو میں ان کا دعویٰ تھا کہ میاں صاحب ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نہیں‘ جبکہ چند ہی لمحوں بعد رپورٹر وزارتِ داخلہ کے ذرائع سے میاں صاحب کے ایگزٹ کنٹرول پر ہونے کی تصدیق لے آیا)۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی مریم کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کا پاسپورٹ تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا ہے۔
ادھر جناب وزیر اعظم نے مولانا کے آزادی مارچ کے حوالے سے گزشتہ روز وہی پرانا آموختہ دہرایا ہے کہ یہ این آراو چاہتے ہیں‘ میں انہیں کسی صورت این آراو نہیں دوں گا۔ مزید فرمایا؛ این آر او دینا غداری ہو گا ۔اس پر اپوزیشن کا وہی جواب کہ این آر او مانگ کون رہا ہے؟ اور آپ این آر او دے کب سکتے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ یہ آزادی مارچ تو مولانا کا ہے‘ این آر او ان کا مسئلہ ہی نہیں کہ ان کے (اور ان کے سیاسی رفقا کے) خلاف اب تک نیب کوئی کیس نہیں بنا سکی ۔ این آر او جن کا مسئلہ ہو سکتا ہے ( مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی) تو ان کے بارے میں تو خود سرکاری ترجمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مولانا کی اس مہم جوئی میں ان کے ساتھ نہیں۔
کیا اتوار کی شب ‘دھرنا مارچ سے اپنے خطاب میں مولانا نے ڈی چوک نہ جانے کا فیصلہ سنا دیا ہے؟ عمران خان (اورطاہر القادری ) کے دھرنا 2014ء کے دوران ڈی چوک ”مزاحمت‘‘ (بلکہ بغاوت) کا استعارہ بن گیا تھا۔ مولانا نے بھی جمعہ کی شام پشاور موڑ پر اپنے خطاب میں ڈی چوک میں دھرنے کو مارچ کے لاکھوں شرکا کی خواہشات کا تقاضا قرار دیا تھا۔ اتوارکی شب اس حوالے سے عملی دشواری کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا‘ ڈی چوک تنگ ہے۔ یہ (پشارو موڑ) اس سے کہیں بڑا ہے ‘اس کے باوجود تنگ پڑ رہا ہے‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہاں سے چلیں گے تو آگے کی طرف۔ یہ پیش رفت ہو گی۔پسپائی کا کوئی تصور ان کے ہاں نہیں۔ آزادی مارچ کو اپنے پلان کا Aحصہ قرار دیتے ہوئے وہ اس کے بعد Bاور پھر Cپلان کی بات کر رہے تھے۔ مولانا کے پہلے روز والے خطاب پر تبصرے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مولانا کو جن ریاستی اداروں سے شکایت ہے ان کا نام لیں‘ ان سے بات کریں۔
تو کیا ایک بار پھر تاریخ خود کو دہرائے گی؟ عمران خان اور طاہر القادری کے ‘اُس دور کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے مذکرات‘ پھرمولانا خادم رضوی کے فیض آباد دھرنے (نومبر2017ء)کے خاتمے کے لیے حساس ادارے کا ”مصالحانہ‘‘ کردار‘ معاہدے پر بطور ضامن ان کے دستخط بھی تھے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •