ایران جوہری معاہدے کی ایک اور شق سے دستبردار، جوہری مواد کی افزودگی کا عمل شروع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران

AFP

ایران سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کی پاسداری ختم کرتے ہوئے آج (بدھ) سے ایندھن کی افزودگی کرنے والے پلانٹ کے سینٹری فیوجز میں یورینیم ہیکسافلورائیڈ (یو ایف 6) گیس کی فراہمی شروع کر رہا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اس بات کا اعلان منگل کو کیا تھا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کام اقوام متحدہ کے عالمی جوہری ادارے (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران کے مقدس شہر قم میں واقع فورڈو پلانٹ میں تمامجوہری مواد کی افزودگی کی معطلی اس کی جوہری سرگرمیوں پر ایک اہم روکاوٹ تھی جسے ایران نے بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے قبول کیا تھا۔

لیکن واشنگٹن کی جانب سے گذشتہ سال مئی میں معاہدے سے دستبرداری اور پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران کو اپنے وعدوں کی ایک مرحلہ وار معطلی کا آغاز کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

’امریکی دباؤ کو ہمسایوں میں دوریوں کا باعث نہ بننے دیں‘

امریکہ ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا: ایران

ایران کی جوہری توانائی تنظیم (اے ای آئی او) کے ڈائریکٹر علی اکبر صالحی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ تہران نے فورڈو میں یورینیم کو پانچ فیصد تک افزودہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ’فوری طور پر نہیں‘ تاہم ’مستحکم آسوٹوپس‘ کی افزدوگی آج ہی سے شروع ہونے کی امید ہے۔

ایران آج سے فورڈو میں جوہری مواد کی منتقلی شروع کرے گا جس پر ایران کے جوہری معاہدے کے تحت پابندی عائد کر دی گئی تھی تاہم اس معاہدے میں ایران کو سنہ 2031 تک اس جگہ پر یورینیم کی افزودگی سے بھی روک دیا گیا تھا۔

حسن روحانی

EPA

ایرانی صدر حسن روحانی کا مزید کہنا تھا ’پردے کے پیچھے‘ بات چیت جاری ہے اور انھیں امید ہے کہ اگلے دو مہینوں میں اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

واضح رہے کہ مئی سنہ 2018 میں ایران کے جوہری معاہدے کی منسوخی کے بعد ایران اس معاملے کو یورپ کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہا ہے اور تہران نے آہستہ آہستہ رواں سال مئی میں جے سی پی او اے کے ساتھ اپنے عہدے کی پابندی کرنا شروع کردی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ تازہ ترین رول بیک امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی ’خلاف ورزیوں‘ کا ’علاج‘ ہے۔

ایران نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی کہ وہ اس تناظر میں سنہ 2026 تک سب سے پرانی اور سب سے کم موثر سینٹری فیوجز لگائے گا جن کی تعداد 5060 سے زیادہ نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ انھوں نے فورڈو کے مقام پر کسی قسم کی افزودگی نہ کرنے کی بھی حامی بھر لی تھی اور وہاں موجود 1044 سینٹری فیوجز یورینیئم ہیگزافورائڈ گیس کے بغیر چلنا تھا۔

ایرانی صدر نے منگل کو ریاستی ٹی وی پر ایک تقریر میں کہا کہ ‘کل سے ہم فورڈو پر گیس کا استعمال شروع کر دیں گے۔’

انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اقدام جو کہ آئی اے ای اے کی نگرانی میں اٹھایا جائے گا، انرچڈ یورینیئم پیدا کرے گا یا نہیں۔

تاہم ایران کے آئی اے ای اے میں مندوب کاظم غریبابادی نے بعد میں تنظیم کو مطلع کیا کہ سینٹری فیوجز میں یورینیئم ہیگزافورائیڈ گیس استعمال کی جائے گی۔

صدر روحانی نے کہا کہ انھیں فورڈو کے حوالے سے دیگر پارٹیوں کی حساسیت کے بارے میں علم ہے۔ یہ ری ایکٹر تہران سے جنوب میں ایک پہاڑ تلے 90 میٹر زیرِ زمین بنایا گیا ہے تاکہ اسے فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکا۔

‘جو وہ اپنے وعدے پورے کریں گے تو گیس روک دی جائے گی۔۔ یہ ایک قابلِ واپسی اقدام ہے۔’

پیر کو ایران کی جوہری تونائی کی تنظیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے نتانز پر جدید سینٹریگیوجز کی تعداد دوگنی کر دی ہے۔

علی اکبر صالحی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہاں اب 60 آئی آر۔6 سینٹریگیوجز ہیں جو کہ 20 فیصد تک یورنیئم افزودگی چار منٹ میں حاصل کر سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا کرنے میں چار دن لگتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10770 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp