افغانستان کی پل چرخی جیل کے بلاک چھ کے طالبان قیدی

اولیا اطرافی - بی بی سی افغان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Taliban prisoners in Pul-e-Charkhi prison

BBC

انتباہ: اس مضمون کے بعض حصے ایسے ہیں جو کچھ قارئین کے لیے باعثِ تکلیف ہو سکتے ہیں۔

کابل شہر سے باہر واقع پِل چرخی کی جیل کے اردگرد سرمئی رنگ کے پتھر سے بنی ہوئی اونچی اور مضبوط فصیل ہے۔ پوری فصیل پر خاردار تاریں لگی ہوئی ہیں اور اس پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بے شمار مچانیں بنی ہوئی ہیں جہاں ہر وقت مسلح پہریدار کھڑے نظر آتے ہیں۔

اس جیل کے دس ہزار قیدیوں میں سے تقریباً 20 فیصد طالبان ہیں۔ ان میں سے ایک جنگجو، مولوی فضلِ باری کے بقول وہ جنگجو پیدا نہیں ہوئے تھے، لیکن پانچ سال قید رہنے کے وہ جس قدر مرنے کے لیے تیار اب ہیں پہلے کبھی نہیں تھے۔

’میں اب اتنا مایوس ہو چکا ہوں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنے جسم کے ساتھ خودکش بم باندھ سکتا ہوں، لیکن خدا کی قسم اب میں ایسا کر کے رہوں گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

افغان جیلوں میں طالبان کی عدالتیں

ہلمند کے محاذ پر جنگجو اور سبز چائے

ڈونلڈ ٹرمپ: ’افغان امن مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو چکے‘

’مجھے اپنے کام سے محبت ہے اور اسے کھونا نہیں چاہتی‘

افغانستان کا دیرینہ مقصد افغانستان میں اسلامی امارت کی بحالی ہے، یعنی اس نظام حکومت کی بحالی جو انھوں نے 1996 تا 2001 کے اس عرصے میں نافذ کیا تھا جب وہ اقتدار میں تھے۔ اس نظام کے تحت ملک میں جو شریعت یا اسلامی قوانین متعارف کرائے تھے ان میں گھر کی چاردیواری سے باہر خواتین کے کسی قسم کے کردار پر مکمل پابندی تھی اور سنگساری اور ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں بھی لاگو کی گئی تھیں۔

جب سے سنہ 2001 میں امریکی فوجوں نے طالبان حکومت کا تختہ الٹا ہے، ملک میں لاکھوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ہزار ہا عام شہری بھی شامل ہیں۔

جتنی دیر میں جیل میں رُکا، اس دوران طالبان نے مجھ سے اپنے عزائم اور شکایات کے بارے میں کھل کے بات کی، لیکن وہ اپنے کسی خاص معرکے یا واقعے کے بارے میں بات کرنے سے کترا رہے تھے۔ تاہم ہمیں اتنا صرور معلوم ہو گیا کہ مولوی فضل باری طالبان میں 15 برس پہلے شامل ہوئے تھے اور پھر وہ صوبہ ہلمند میں ان طالبان کے کمانڈر بن گئے جو افغان اور بین الاقوامی افواج سے لڑ رہے تھے۔

Mawlawi Fazel Bari (right) with another Taliban prisoner

BBC
مولوی فضل باری (دائیں) نماز میں اپنے ساتھی قیدیوں کی امامت کرتے ہیں

جیل کے جس چھوٹے سے کمرے میں فضل باری کو رکھا جا رہا ہے وہاں بہت سے دوسرے قیدی بھی موجود ہیں، جو سب کے سب طالبان تھے۔ کمرے کے باہر راہداری میں مردوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں، جن میں سے کچھ نیچے دروزے کی جانب جھانک رہے تھے جبکہ کچھ دوسرے مرد تین منزلہ بستروں پر لیٹے نیچے دیکھ رہے تھے۔ ایک عمر رسیدہ قیدی فرش پر بیٹھا دل ہی دل میں ایک لمبی تسبیح پر کوئی ورد کر رہا تھا۔

فرش پر ایک بہت بڑا سرخ قالین بچھا تھا جس پر درجنوں گاؤ تکیے پڑے ہوئے تھے اور اردگرد دیواروں پر رنگارنگ پوسٹر لگے ہوئے ہیں، جن میں مکّہ، مدینہ کے مقدس مقامات کے علاوہ، خوبصورت قدرتی مناظر، پھول، آبشاریں، حتیٰ کہ کون آئسکریم کے پوسٹر بھی شامل تھے۔

ان تصاویر کے ذریعے ان کمروں کے قیدیوں نے جنت کے منظر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے ان کے اس بنیادی عقیدے کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اگر وہ مارے گئے تو سیدھے جنت میں جائیں گے۔

دیوار کے ساتھ لکڑی کے پرانے تختوں کی مدد سے بنائے ہوئے شیلف لگے ہوئے ہیں جن پر قرآن کے نسخوں اور دیگر اسلامی کتب کے انبار ہیں۔

Posters in Bari's cell, Pul-e-Charkhi prison

BBC
پل چرخی جیل کے قید خانے میں دیوار پر چسپاں مسجدِ نبوی کا پوسٹر

ہم وہاں پر موجود تھے جب فضل باری نے درس دینا شروع کر دیا اور تمام لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ ماضی میں دینی علوم کے استاد رہ چکے ہیں، اس لیے تمام قیدی ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔

درس کے بعد مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے فضل باری بولے ’میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ جب افغانستان میں ایک بھی غیر ملکی فوجی موجود ہے، امن نہیں ہے۔‘

افغانستان میں طالبان پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو اپنے ہاں پناہ اور ٹھکانہ انھوں نے فراہم کیا تھا اور انھوں نے ستمبر 2001 میں امریکہ میں کیے جانے والے دہشتگرد حملوں میں بھی معاونت کی تھی۔

طالبان اور امریکی فوج کے درمیان جاری جنگ کے 19 برس بعد، اب افغان جنگ امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ بن چکی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ستمبر تک طالبان کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دے دیں گے، لیکن جب طالبان نے کابل میں ہونے والے ایک بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تو صدر ٹرمپ نے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ کہتا ہے کہ افغانستان میں اب بھی اس کے کم از کم 13 ہزار فوجی موجود ہیں اور وہ امن معاہدے کے پانچ ماہ کے اندر یہ تعداد کم کر کے 8600 تک لے آئے گا۔ یہ بات طالبان کے امن معاہدے کے مسودے میں بھی شامل تھی جو اب تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے 2016 میں اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی جنگ کو ختم کر دیں گے لیکن بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو مذاکرات میں شامل کیے بغیر امریکی فوجوں کے انخلا سے افغانستان افراتفری اور بدنظمی کا شکار ہو سکتا ہے۔

پلِ چرخی کے جیل کے ’بلاک سِکس‘ کہلانے والے اس حصے میں داخل ہوتے ہی آپ طالبان کے اپنے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ پوری راہدری طالبان قیدیوں سے بھری ہوئی ہے جہاں وہ آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں۔ کوئی داڑھی بنا رہا ہے، کوئی نہا رہا ہے اور کوئی کھانا پکا رہا ہے۔

فضل باری کے کمرے میں قید باقی افراد کا تعلق زندگی کے مخلف شعبوں سے ہے۔ ان میں اساتذہ، کسان، تاجر اور ڈرائیور بھی شامل ہیں جنھیں طالبان سے تعلق کے ساتھ ساتھ لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے، طالبان کی ایما پر مختلف آبادیوں میں گشت کرنے یا بم نصب کرنے کے الزامات کا مرتکب پایا گیا تھا۔

Talib prisoner in Pul-e-Charkhi prison

BBC
پلِ چرخی کے جیل کے ‘بلاک سِکس’ کہلانے والے اس حصے میں داخل ہوتے ہی آپ جیسے طالبان کے اپنے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں

فضل باری جیسے بڑے قیدی جیل کے روزانہ کے معمولات چلانے میں انتظامیہ کے ساتھ رابطہ رکھنے کے علاوہ گھنٹوں کی عبادات اور اسلامی تعلیمات وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔

روزانہ پانچ وقت کی نماز باجماعت ہوتی ہے اور نمازوں کے دوران قیدی اسلامی کتب پڑھنے کے علاوہ قرآن حفظ کرتے رہتے ہیں۔ کھانے کے دوران اور جب قیدیوں کو روزانہ باہر میدان میں چہل قدمی کے لیے نکال جاتا ہے تو ان کی گفتگو کا بڑا موضوع سیاست ہی ہوتا ہے۔

زیادہ تر قیدی کہتے ہیں کہ ان کی طالبان میں شمولیت کا محرک انتقام کا جذبہ تھا جس کی بڑی وجہ فضائی حملے تھے۔

فضل باری کے بقول ’ (پندرہ سال پہلے) جب امریکی فوج نے ہمارے گاؤں پر بمباری کی تو میرا پڑوسی اور اس کی دو بیویاں ماری گئیں، تاہم اس کا بیٹا بچ گیا جس کا نام رحمت اللہ تھا۔‘

میں نے اس لڑکے کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اسے پڑھائی مکمل کرنے میں مدد دی۔ لیکن وہ جب بھی ہیلی کاپٹر کی آواز سنتا، چیختا ہوا دوڑ کے میرے پاس آ جاتا اور کہتا ’وہ مجھے مارنے آ گئے ہیں۔‘

خود اپنے بارے میں فضل باری کا کہنا تھا کہ انھوں نے جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انھوں نے دیکھا کہ ’بہت سی مساجد کو تباہ کیا جا رہا ہے اور عورتیں اور بچوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔‘

جیل میں قید ایک اور سینیئر طالبان، ملّا سلطان کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ ان ’مظالم‘ کے خلاف کھڑا ہونا چاہتے تھے جو انھوں نے دیکھے تھے۔

’ایک افغان کی حیثیت سے میں سمجھتا تھا کہ مجھے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور کہنا چاہیے کہ میں ان (غیر ملکی) حملہ آوروں کو نہیں تسلیم کرتا۔‘

Elderly Talib prisoner in Pul-e-Charkhi prison, Afghanistan

BBC

گذشتہ ایک عشرے کے دوران امریکی قیادت میں لڑنے والے غیر ملکی فوجیوں کا افغانستان سے آہستہ آہستہ انخلا ہوتا رہا ہے، لیکن سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس دوران فضائی حملوں میں اضافہ ہوا اور اکثر حملوں میں غلط مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے بہت سے عام شہری ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سنہ 2019 کے پہلے چھ ماہ میں طالبان کے حملوں کے مقابلے میں غیر ملکی اور افغان فوج کی بمباری سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

تاہم اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ عشرے کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی اکثریت طالبان اور دوسرے گروہوں کے حملوں میں ہلاک ہوئی۔

اگر طالبان قیدیوں کی یہ بات تسلیم کی جائے کہ نوجوانوں کی طالبان میں شمولیت کی وجہ میدان جنگ کی صورت حال ہے، تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قید میں ہوتے ہوئے بھی یہ طالبان باہر بیٹھے نوجوانوں کے غصے کو ہوا دے رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جیل میں قید فضل باری جیسے رہنماؤں کو طالبان کے سربراہ شیخ حبات اللہ اخونزادہ سمیت اپنے دیگر سینیئر رہنماؤں سے خطبے موصول ہوتے ہیں، اور پھر فضل باری جیسے افراد یہ تعلیمات براہ راست دیگر قیدیوں تک پہنچاتے ہیں۔

امن مذاکرات کی خبریں، یہ مذاکرات کب ہوں گے، اس قسم کی تفصیلات فوراً قیدیوں تک پہنچائی گئیں۔ ملّا سلطان کے بقول ’ہم جانتے ہیں کہ غیر ملکی اب تھک چکے ہیں۔‘

’ہمیں یقین ہے کہ اب وہ اپنے گھٹنوں پر گر چکے ہیں اور جلد ہی اپنی راہ پکڑیں گے اور پھر ہم تمام افغان شریعت اور اسلامی نظام کے تلے مل کر رہیں گے۔‘

لگتا ہے کہ جیل میں دوسرے قیدیوں کی نسبت طالبان کو زیادہ سہولتیں دستیاب ہیں مثلاً طالبان کا نظامِ اوقات اپنا ہے، جیل کے مدرسے کا نظم و نسق بھی ان کے ہاتھ میں ہے اور صحت اور قانونی مدد تک بھی ان کی رسائی بہتر ہے۔

Mullah Sultan (left)

BBC
ملا سلطان چاہتے ہیں کہ افغانستان کے نظامِ حکومت میں شریعت کو شامل کیا جائے

اس کے علاوہ لگتا ہے کہ ان کے باہمی اتحاد اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کی بدولت جیل کے اندر طالبان کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض اوقات وہ جیل کے تمام قیدیوں کے لیے بہتر سہولیات حاصل کرنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ بات چیت میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

جیل کے اہلکار بھی جانتے ہیں کہ طالبان قیدی تمام جیل کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ سینیئر طالبان قیدی مولوی معمور بھی یہی کہتے ہیں کہ ’ہم ایک دوسرے کے حقوق کے لیے جان دے دیں گے۔‘

جیل کے محافظوں کا کہنا ہے کہ طالبان قیدیوں اور اُن کے درمیان تعاون کا رشتہ پایا جاتا ہے۔

28 سالہ محافظ، رحم الدین کہتے ہیں کہ ’طالبان کے بڑے قدیدیوں اور ہمارے درمیان تعاون بہت مضبوط ہے۔ جیل میں ہر وقت تقریباً دو ہزار طالبان قیدی موجود ہوتے ہیں، اسی لیے ہمیں ان کے مسائل حل کرنے کے لیے اُن کا تعاون درکار ہوتا ہے۔‘

تاہم پلِ چرخی میں طالبان قیدیوں کی جانب سے آئے روز ہڑتال کا سلسلہ بھی عام ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے تعلقات ہمیشہ اچھے نہیں رہتے۔

قیدیوں نے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے ہونٹوں کو دھاگے سے سی کر یا گالوں میں سائیکل کے پہیے کی تاریں (سپوکس) چبھو کر بھوک ہڑتال کرتے ہیں۔ ان کے بقول بھوک ہڑتال کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جیل میں انھیں صحت کی مناسب سہولتیں نہیں دی جاتیں، قانونی مدد میں سست روی دکھائی جاتی ہے اور اہلکاروں کا رویہ بھی بُرا ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان قیدی اہلکاروں پر حملے بھی کرتے رہتے ہیں اور بعض اوقات تو جیل کے ایک حصے پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ بی بی سی نے ان خبروں کی تصدیق کے لیے ملک کی وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا لیکن ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ لیکن ہر کچھ عرصے بعد بی بی سی کو ایسی تصاویر ملتی رہتی ہیں جن میں جیل میں ہڑتال کے مناظر ہوتے ہیں اور قیدیوں کی طرف سے مدد کی درخواست کی گئی ہوتی ہے۔

Afghan police officer in Pul-e-Charkhi prison

BBC
جیل کے محافظوں کا کہنا ہے کہ طالبان قیدیوں اور اُن کے درمیان تعاون کا رشتہ پایا جاتا ہے

اِس برس کے شروع میں قیدیوں اور اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن کے نتیجے میں چار قیدی ہلاک جبکہ 20 پولیس اہلکاروں سمیت 33 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق لڑائی کی وجہ یہ تھی کہ قیدی صحت کی سہولتیں کم ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے لیکن اُس وقت وزارت داخلہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب قیدیوں میں منشیات کے استعمال کے ٹیسٹ کیے جا رہے تھے اور جیل میں موجود منشیات فروشوں نے قیدیوں کو اکسا کر لڑائی کرا دی۔

اس قسم کی بے چینی کی فضا میں رہنے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان قیدیوں کی رویے سخت ہوتے جاتے ہیں۔

اب تک طالبان قیدیوں کی اتنی بڑی تعداد کو رہا کیا جا چکا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کو جلد ہی رہائی ملنے والی ہے۔ صدر اشرف غنی نے جون میں اعلان کیا تھا کہ پلِ چرخی اور دیگر جیلوں میں قید تقریباً 887 طالبان کو رہا کر دیا جائے گا۔

اگرچہ افغانستان میں ہر سال عید کے موقع پر صدر کی جانب سے قیدیوں کو رہا کیے جانے کی روایت پائی جاتی ہے، لیکن صدر اشرف غنی کا یہ اعلان غیرمعمولی تھا۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی حکومت کی طرف سے طاقت کا اظہار تھا جسے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات سے باہر رکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ طالبان نے افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ اسے جائز حکومت تسلیم نہیں کرتے۔

اگرچہ فضل باری بضد ہیں کہ رہائی کے بعد وہ جہاد جاری رکھیں گے، تاہم ان کی موجودہ سزا دو سال ختم ہو جائے گی۔ ’مجھے یہاں سے جب بھی رہا کیا جائے گا میں اپنے ساتھیوں میں شامل ہو جاؤں گا۔ اب سے پہلے طالبان کے ساتھ میری ہمدردیاں 20 فیصد تھیں، لیکن اب میں سو فیصد پکا ہو گیا ہوں کہ جہاد جاری رکھوں گا اور اپنے ملک کا دفاع کرتا رہوں گا۔‘

Qari Sayed Muhammed with his daughters

BBC
قاری سید محمد اپنی بیٹیوں کے ہمراہ

صدارتی حکم کے تحت جن طالبان کو رہا کیا گیا ان میں فضل باری کے دوست قاری سید محمد بھی شامل ہیں جو اب طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں اپنے گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔

طالبان کا علاقہ

پلِ چرخی کی جیل میں چھ سال قید رہنے کے بعد اب 31 سالہ قاری سید محمد شمالی افغانستان کے صوبے بلخ میں رہائش پذیر ہیں۔

جب وہ قید میں تھے تو ان کے والد اور دو بھائی ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد اب وہ اپنے خاندان کے بچ جانے والے واحد مرد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فی الحال کھیتی باڑی کے لیے ان کا گھر پر رہنا ضروری ہے۔

سید محمد کا خیال ہے کہ حال ہی میں رہا کیے جانے والے قیدیوں میں سے ان کا شمار ان چند افراد میں ہوتا ہے جو ابھی تک زندہ ہیں۔

اپنی رہائی کے محض 20 دن بعد انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ جن قیدیوں کو حال ہی میں رہا کیا گیا تھا ان میں سے 95 فیصد دوبارہ طالبان میں شامل ہو گئے تھے اور اکثر اب تک مارے جا چکے ہیں۔‘

ان کے جیل کے دنوں کے ساتھی، فضل باری کی طالبان میں شمولیت کی وجہ تو انتقام کا جذبہ تھا، لیکن سید محمد کہتے ہیں کہ وہ جب صرف 18 سال کے تھے تو اپنے 15 دوستوں کے ساتھ طالبان میں شامل ہو گئے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پولیس کی طرف سے ہراساں کیے جانے سے بچنا چاہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہراساں کیا جانا، دیہات کی زندگی کا حصہ ہے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کوئی پولیس کو ہمارے متعلق کوئی جھوٹی بات بتا دیتا، تو پولیس آ کر ہم تنگ کرنا شروع کر دیتی۔ اسی لیے ہم نے سوچا کہ پولیس تو ویسے ہی ہمیں گرفتار کر لے گی، کیوں نہ ہم لوگ اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے لیں۔‘

Taliban prisoners in Pul-e-Charkhi prison

BBC

انسانی حقوق کی بہت سی تنظیمیں تسلیم کرتی ہیں کہ افغان پولیس کی صفوں میں تشدد اور بدعنوانی کا عنصر بہت زیادہ ہے اور ملک بھر کی پولیس اس مسئلے کی شکار ہے۔

تاہم، ایک نوجوان افغان طالبان میں شمولیت کیوں اختیار کرتا ہے، اس کی بہت سی اور وجوہات بھی ہیں۔ یہ اندھادھند بمباری کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے، بیروزگاری بھی ہو سکتی ہے اور جنگ کے مال غنیمت کی خواہش بھی ہو سکتی ہے۔ لڑائی کے دوران ہتھیار، گاڑیاں اور بارود نوجوانوں کے ہاتھ آ سکتا ہے جنھیں وہ فروحت کر کے پیسے بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوان اپنے دوستوں کے دباؤ میں آ کر بھی طالبان سے مل سکتے ہیں۔

سید محمد نے طالبان کے لیے شروع شروع میں جو کام کیے ان میں لوگوں سے وہ ٹیکس جمع کرنا بھی شامل تھا، جو طالبان نے لازمی قرار دے دیا تھا۔ پانچ چھ دوستوں کے ساتھ سید محمد موٹر سائیکلوں پر پر مختلف علاقوں میں جاتے اور وہاں سے افیون کی کاشت کرنے والے کسانوں سے ٹیکس کا مطالبہ کرتے۔ یاد رہے کہ طالبان نے افیون کی کاشت کو قانونی قرار دیا تھا اور ان کے زیر کنٹرول چار اضلاع میں بہت سے کسان افیون پیدا کر رہے تھے۔

گاؤں گاؤں جانے والے ایک اہلکار کی حیثیت میں سید محمد ضلعی گورنر کے احکامات کے پابند تھے اور یہ احکامات گورنر کے عسکری کمانڈر، کمانڈر کے نائب اور اس کے کئی نائیبین کے ہوتے ہوئے سیمد محمد تک پہنچتے تھے۔ سید محمد بتاتے ہیں کہ ان کی ان خدمات کی کوئی سرکاری تنخواہ نہیں ملتی تھی، لیکن گولہ بارود سے لے کر پیٹرول اور موبائل فون کے اخراجات ان کے کمانڈر کے ذمے ہوتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان میں شمولیت کے تقریباً تین سال بعد جب ملک بھر میں جنگ میں شدت آ رہی تھی تو ان کے جذبے میں تبدیلی آ گئی اور وہ تمام غیر ملکی فوجیوں کے خلاف جہاد کرنے کے لیے بالکل تیار ہو گئے۔

’جب میں نے اپنے کاندھے پر بندوق لٹکائی تو میں 21 سال کا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ اب مسلمانوں کا دفاع کرنے کے لیے کفّار کے خلاف جنگ کرنے جا رہا ہوں۔ تب سے یہ سوچ میرے اندر موجود ہے اور یہ آخر تک رہے گی۔‘

قاری سید محمد کہتے ہیں کہ ایک جہادی کے نظریے کی پیروی میں جب بھی انھیں موت کا ڈر محسوس ہوتا تھا اور وہ سوچتے کہ میرنے کے بعد ان کے خاندان کا کیا ہوگا، تو وہ اس خیال کو یہ سوچ کر جھٹک دیتے کہ اگر وہ مارے جاتے ہیں تو وہ اپنا مذہبی فریضہ ادا کرتے ہوئے مارے جائیں گے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب ان کی ترجیح ان کا خاندان ہے۔

انھوں نے مجھے ایک قصہ بھی سنایا جب ان کی یونٹ پر اچانک پیچھے سے حملہ ہو گیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان پر روسی ساخت کی مشین گن کے ذریعے گولیاں برسائی جا رہی تھیں۔

’یہ اسی قسم کا وقت ہوتا ہے جب آپ کا دماغ بہت تیزی سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آپ سوچنے لگتے ہیں کہ میرے گھرانے کا کیا ہو گا؟ میرے بچے؟ میری بیوی؟ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب شیطان آپ کو اپنی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور آپ کو ترغیب دیتا ہے کہ آپ اپنے گھر والوں کے بارے میں سوچیں۔ لیکن میری کوشش یہی تھی کہ میں اپنی پوری توجہ اس بات پر دوں کہ میں یہ کام (جہاد) اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں۔‘

سید محمد کو سنہ 2013 میں افغان خفیہ ادارے نے گرفتار کر کے پلِ چرخی کی جیل میں بھیج دیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ جن 15 لڑکوں نے ان کے ساتھ طالبان میں شمولیت اختیار کی تھی، ان میں اب صرف دو زندہ بچے ہیں۔

حکومت کے زیر اختیار علاقہ

کئی عشروں کی جنگ کے بعد افغانستان کنٹرول کے لحاظ سے چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے۔ ملک کا صرف 20 سے 30 فیصد علاقہ حکومت کے کنٹرول میں ہے، جبکہ 2001 کے بعد سے ملک کا ایک بڑا حصہ طالبان کے کنٹرل میں آ چکا ہے یا وہاں حکومت اور طالبان کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے۔

جنگ سے تباہ حال افغانستان میں جوان مردوں کے لیے مواقع بہت کم ہیں، اور اسی وجہ سے بہت سے نوجوان سمجھتے ہیں کہ جنگ میں شامل ہو جانا ہی بہتر ہے۔ لیکن یہ نوجوان لڑے گا کس کے خلاف، اکثر اوقات اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ وہ پیدا کہاں ہوا تھا۔

جب نعمت اللہ 24 برس کے تھے اور وہ مشرقی افغانستان میں صوبہ ننگرہار میں رہتے تھے تو انھوں نے اپنی زندگی افغان نیشنل آرمی کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

نعمت اللہ کی آپ بیتی بتاتی ہے کہ جب کوئی قوم افراتفری کا شکار ہوتی ہے تو سرکاری اداروں میں شدید بد نظمی پیدا ہونے کے خدشات کتنے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

افغانستان بھر میں مختلف مقامات پر تین سال تک حکومت مخلف گروہوں سے لڑنے کے بعد، نعمت اللہ اور ان کے یونٹ کو دور دراز چوکیوں کی حفاظت کے لیے صوبۂ اروزگان میں چنارتو کے پہاڑی علاقے میں بھیج دیا گیا۔

اس علاقے میں طالبان کے چھوٹے چھوٹے گروہ آئے روز مختلف چوکیوں پر حملے کرتے، چنانچہ جلد ہی نعمت اللہ اور ان کے ساتھی فائرنگ کے تبادلے کے عادی ہو گئے جس میں وہ تھوڑی دیر گولیاں چلاتے تو ان کے دشمن پیچھے ہٹ جاتے تھے۔

لیکن ایک رات طالبان کی ایک بڑی تعداد نے حملہ کر دیا اور نعمت اللہ کی یونٹ پر غلبہ پا لیا۔

نعمت بتاتے ہیں ’بہت دیر تک لڑائی ہوتی رہی اور جب صبح ہوئی تو ہمارے پاس گولہ بارود ختم ہو گیا۔ انھوں نے ہمیں ہتھکڑیاں پہنا دیں اور ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بندوقوں سے ہمیں مارا۔ وہ ہمیں کافر اور غیر مسلموں کے غلام کہہ رہے تھے۔

’جب وہ وہاں سے لے جا رہے تھے تو میں موت کی جانب اپنا ایک ایک قدم گِن رہا تھا۔‘

کئی دنوں کے بعد افغان وزارت دفاع نے نعمت اللہ کے گھر والوں سے یہ بتانے کے لیے رابطہ کیا کہ ان کا بیٹا ہلاک ہو چکا ہے اور مردہ خانے آ کر اس کی لاش لے جائیں۔‘

لکڑی کا تابوت وصول کرنے کے چند گھنٹے کے اندر اندر خاندان والوں نے اپنے گمشدہ بیٹے کا جنازہ پڑھ دیا۔ انھیں بتایا گیا کہ چونکہ میت ناقابل شناخت ہو چکی ہے اس لیے تابوت کو چاروں طرف سے سِیل کر دیا گیا ہے۔

اگلے 18 ماہ تک نعمت اللہ کے گھر والے اور ان کی منگیتر روزانہ قبرستان جاتے، تازہ پھول لاتے اور ان کی قبر پر دعا کرتے۔

لیکن ادھر اروزگان میں نعمت اللہ کو دور دراز پہاڑوں میں لے جایا جا چکا تھا جہاں غاروں کا ایک پرپیچ اور طویل سلسلہ تھا۔ پکڑے جانے والے دیگر 54 افراد کی طرح نعمت اللہ کو بھی مجبور کیا گیا کہ وہ پتھریلی چٹانوں کو کھود کر اپنا قید خانہ تیار کرے۔

Nematullah at the unnamed soldier's grave

BBC
نعمت اللہ روزانہ اب قبرستان میں اس فوجی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں جسے ان کے والدین نے اپنا بیٹا سمجھ کر دفنا دیا تھا

ڈیڑھ برس تک وہ اپنے اس تیار کردہ قید خانے میں ایسے دیگر 11 افراد کے ہمراہ قیام پذیر رہے جن کا تعلق افغان فوج یا پولیس سے تھا۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں دن کے تقریباً 24 گھنٹے زنجیروں سے بندھے رہتے تھے۔

نعمت اللہ کو یاد ہے کہ طالبان انھیں کھانے کو بہت کم خوراک دیتے تھے۔ ان کے لیے قید کی یکسانیت بھوک کی تکلیف جتنی ہی بری تھی۔ اور پھر ایک رات، ان کی آنکھ اپنے اردگرد ہونے والے دھماکوں کی سمع خراش آوازوں سے کھلی۔

وہ فضائی حملے کی زد پر تھے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے نتیجے میں انھیں آزادی مل گئی۔

نعمت اللہ نے جو پہلا کام کیا وہ اپنے والد کو فون کرنا تھا۔ وہ بتاتے ہیں ’میں نے کہا، یہ میں ہوں نعمت۔ اس پر میرے باپ نے جواب دیا، کون نعمت؟، میں بولا آپ کا بیٹا لیکن انھیں پھر بھی یقین نہیں آیا۔‘

چند سیلفیاں دیکھنے کے بعد ہی نعمت کے والد کو یقین ہوا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔

یکم رمضان کو نعمت کی جلال آباد واپسی سے قبل ہی ان کی بازیابی کی خبر پھیل چکی تھی۔ جشن کی تیاریاں کی جا رہی تھیں لیکن خاندان والوں سے ملاقات سے قبل نعمت کو ایک اہم مقام پر جانا تھا۔ انھوں نے اس قبر کا رخ کیا جس میں وہ لاش دفن تھی جسے ان کی لاش سمجھا گیا تھا۔

واپسی کے بعد سے نعمت اللہ اور ان کی نوبیاتا اہلیہ روزانہ اس نامعلوم فوجی کی قبر پر حاضری دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کے بھائی جیسا ہے اور ان کی ذمہ داری بھی۔

Illustration of government soldier

BBC

شناخت کی غلطی کے ایسے واقعات انوکھے نہیں۔ بی بی سی کو ایسے کئی واقعات کے بارے میں معلوم ہوا ہے جہاں مغوی افغان فوجیوں کو بازیابی کے بعد علم ہوا کہ ان کے خاندان نے حکومت کی جانب سے مہربند تابوت میں ملنے والی لاش کو ان کی سمجھ کر دفنا دیا تھا۔

بارہا اس معاملے پر ردعمل دینے کی درخواستوں کے باوجود افغان حکومت نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اغوا کاروں کی قید میں رہنے کی اذیت کے باوجود نعمت کا کہنا ہے کہ وہ واپس میدانِ جنگ کا رخ کرنا چاہتا ہے اور اپنے ملک کی خدمت کرتے رہنا چاہتا ہے۔

امن کی قیمت

کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد بہت سے عام شہری بےبس محسوس کرتے ہیں اور سب سے زیادہ عدم تحفظ اور سماجی اعتبار سے کمزور ترین عورتیں اور بچے ہوتے ہیں۔

جو خواتین حکومتی کنٹرول میں بڑے شہروں میں رہ رہی ہیں ان کی زندگی تو طالبان دور کے مقابلے میں بہت مختلف ہوگئی ہے۔

ایک منتخب حکومت کی تشکیل کے ساتھ ساتھ افغان اور اتحادی فورسز کے ہاتھوں قدرے محفوظ تر ماحول کی وجہ سے اب زیادہ لڑکیاں سکول جا رہی ہیں اور زیادہ خواتین دفتروں میں کام کر رہی ہیں۔

طالبان کے دور میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی تقریباً صفر تھی۔ اب تقریباً 37 فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں اگرچہ ابھی بھی یہ دنیا میں یہ سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔

Nargis (R) and Sola (C)

BBC
نرگس (دائیں) اپنی بیٹی سولا اور بہن کے ہمراہ

تاہم طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے تعلیم تک رسائی اور ملازمت کرنے کے مواقع انتہائی محدود ہیں اور بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان کا اثر و رسوخ بڑھا تو خواتین کی آزادی میں مزید کمی آئے گی۔

کابل کے شمال میں رہنے والی ایک استاد اور چھ بچوں کی ماں، 30 سالہ نرگس کہتی ہیں ‘ظاہر ہے خواتین کو نقصان ہوگا۔ ہمیں نہ پڑھنے دیا جائے گا اور نہ ہی کام کرنے دیا جائے گا۔ ہمیں سب سے زیادہ نقصان ہو گا۔’

طالبان کہہ چکے ہیں کہ اب وہ خواتین کو حقوق کی فراہمی کے بارے میں سنجیدہ ہیں تاہم ناقدین اس بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں کہ طالبان نے خود کو تبدیل کر لیا ہے اور نرگس کی رائے بھی یہی ہے۔

‘میرا نہیں خیال کہ طالبان تبدیل ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ایک طرف امن مذاکرات چل رہے ہیں اور دوسری طرف دھماکے جاری ہیں جو ہمارے مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ کیسی تبدیلی ہے؟’

نرگس کہتی ہیں کہ طالبان کے اقتدار میں آنے اور اس کے نتیجے میں ملک میں ہونے والی جنگوں کی وجہ سے وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکیں۔

‘میں چوتھی جماعت میں تھی جب طالبان اقتدار میں آئے۔ جنگ شروع ہوئی اور سکول بند ہوگئے۔ لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں نو یا دس سال کی تھی جب مجھے حجاب پہننا پڑا اور گھر بٹھا دیا گیا۔ ہم خوف کے مارے باہر نہیں نکلتے تھے۔ پھر ہم پاکستان منتقل ہوگئے اور سکول پیچھے رہ گیا۔ گھر لوٹنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے کتنا کچھ کھو دیا۔’

Graffiti of guns and hearts in Afghanistan

BBC
افغانستان میں دہائیوں سے جاری تنازعے میں لاکھوں افراد مارے جا چکے ہیں

اب وہ بضد ہیں کہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی، آٹھ سالہ سولا جو اب سکول جاتی ہیں، اس کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہو گا مگر سولا پہلے ہی جنگ کی صورتحال کا تجربہ حاصل کر چکی ہیں، حال ہی میں انھوں نے طالبان کا ایک خودکش حملہ دیکھا۔

وہ کہتی ہیں ‘میں نے ایک بم دھماکہ دیکھا۔ میں نے نوجوانوں کو مرتے دیکھا۔ میں بہت ڈری ہوئی تھی اور میں رو رہی تھی۔ میری ماں نے مجھے پکڑا ہوا تھا، انھوں نے مجھے ایک ٹیکسی میں بٹھایا اور گھر لے گئیں۔’

افغانستان میں روزمرہ کے تشدد کے تناظر میں تو یہی لگتا ہے کہ امن مذاکرات اس ملک میں بہتری کی واحد امید ہیں مگر پہلے امریکہ اور طالبان کو ایک میز پر لانا اور اس کے بعد افغان حکومت کو اس میں شامل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے صرف اس صورت میں بات کریں گے اگر ایک ماہ کے لیے تمام فریق جنگ بندی پر راضی ہوجائیں۔ جواب میں طالبان کہتے ہیں کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ صرف تب بات کریں گے جب ملک سے تمام بیرونی افواج کا انخلا ہو جائے گا۔

اسی لیے شاید نرگس جیسے عام شہری ملک میں دیرپا امن کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ہیں۔

وہ کہتی ہیں ‘میرا نہیں خیال امن آئے گا۔ افغانستان ایک ایسا کپڑا ہے جسے ہر کوئی مختلف سمت میں کھینچ رہا ہے۔ آپ کو نہیں پتا آپ کا دوست کون ہے اور دشمن کون۔

’چاہے امریکی اقتدار سنبھالیں، طالبان یا حکومت۔۔۔ہمارا مطالبہ بس امن کا ہے۔’

اس مضمون میں کچھ نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10731 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp