نمرتا قتل کیس کے ڈی این اے اور عبوری رپورٹس سے معاملہ ہی بدل گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈان نیوز نے 27 اکتوبر کو ایک رپورٹ لیک کیا جو نمرتا چندانی کے لیاقت یونیورسٹی جامشورو سے جاری ہوا۔ اس ڈی این اے (DNA) رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ نمرتا کے دو سیمپل ایک لیے گئے تھے، ایک ہائی ویجائنل سواب (HVS) اور کپڑوں کا سیمپل، دونوں میں ایک ہی مرد کے سیمن ملے ہیں، سیمن سے مراد وہ مائع مواد جو مرد سے سیکس کے دوران نکلتا ہے، اس سے یے بات نکلتی ہے کہ نمرتا کے ساتھ سیکس ہوا ہے لیکن انہی کپڑوں پر وہ سیمن ملنا یہ بتاتا ہے کہ یے چیز جائے وقوعہ پے ہوا ہے۔

جائے وقوعہ کے بارے میں بتاتا چلوں کہ انہی ہاسٹلوں میں ہم نے اپنی زندگی کے دس سال گزارے ہیں بعد میں وہ لڑکیوں کو دیے گئے، ہمارے ادارے میں لڑکیوں کے کمرے تک کسی کا آنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

یے ڈی این اے رپورٹ لیاقت یونیورسٹی جامشورو نے 10 آکتوبر کو شایع کی جو منظر عام پر 27 آکتوبر کو آئی یعنی پورے 17 دن بعد، ڈان نے مزید لکھا ہے کہ اسی دوران قید میں لیے گئے نمرتا کے دوست اور کلاس فیلوز مہران ابڑو اور علی شان کے ڈی این اے سیمپل بھی بھیجے گئے جو اس سیمن سے میچ نہیں ہوئے یعنی قاتل کوئی تیسرا بندہ ہے، تو یہ بات ہمیں آج تک شک میں ڈال رہی ہے کہ آخر پولیس اتنی دیر تک خاموش کیوں رہی؟

اس رپورٹ کو بڑھاتے ہوے نمرتا کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر امرتا نے آج عارضی (Provisional) رپورٹ شایع کی جس میں دو اہم نکات کو بیان کیا گیا

پہلا یے کہ نمرتا کی موت واضح طور پر گلا دبانے /دبنے سے ہوا ہے، وہ خودکشی ہے یا قتل اس کا تعین کرائیم ڈیپارٹمنٹ واردات کے سارے شواہد اکٹھا کرکے اپنا رپورٹ دے گی کہ یہ کیا قتل ہے یا خودکشی۔

دوسرہ پوائنٹ جو اہم ہے، اس میں ڈاکٹر امرتا نے بیان کیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ نمرتا کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔

اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نمرتا کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے کیوں کہ اس کے کپڑوں اور ویجائنل سواب سے ایک ہی مرد کے سیمن ملے ہیں جو یہ بات واضح کرتے ہیں جو کچھ ہوا ہے جائے وقوعہ پہ ہوا ہے اگر یہ چیز ایک دو دن پہلے ہوئی ہوتی تو نمرتا لازمی کپڑے تبدیل کرتی۔ وہی کپڑے ایک دو دن تک نہیں پہن کے گھومتی، دوسری بات یے کہ وہ کون ہے جس کی ہاسٹل تک رسائی ہے جو یہ سب کچھ کر کے بھی ابھی تک غائب ہے، کیوں پولیس 10 اکتوبر کو رپورٹ دیکھ کے بھی خاموش رہی اور کچھ نہیں بتایا، کیوں انتظامیہ پہلے دن سے ہی اس کو خودکشی کہہ رہی ہے اور اب جب ڈی این اے رپورٹ آچکی ہے تو خاموش کیوں ہے اور منظر عام سے غائب ہے۔

آج پورے پاکستان کے عوام یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ تفتیش کا دائرہ بڑھا کے ہر اس شخص کا سیمپل لیا جائے جس کی ہاسٹل تک رسائی ہے، ہاسٹل میس سے لے کر ہاسٹل اسٹاف اور انتظامیہ تک سب کے سیمپل لیے جائیں، جو آج نظروں سے اوجھل ہیں۔

دوسری بات یہ کہ کیا شک کی بنیاد پر نمرتا کے کلاس فیلوز کو دو مہینے تک قید کرنا جائز ہے، اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں اور ڈی این اے رپورٹ میں بھی ان کے خلاف کچھ نہیں آیا تو مستقبل کے ڈاکٹرز کو زنداں میں رکھنے سے کیا حاصل؟

پہلے دن سے انتظامیہ اور پولیس بس نمرتا کے عشق اور خودکشی کے پیچھے پڑی تھی، لیکن اس رپورٹ نے انھیں غلط ثابت کیا، کیوں انھوں نے اپنے تفتیش کا دائرہ نہیں بڑھایا، کیوں وہ نمرتا کی نجی زندگی اور کالج کی زندگی کے پیچھے تھے اس سے بڑی نا اہلی کیا ہوگی کہ سارے رپورٹس کو سائیڈ پر رکھ کر بس یہ دیکھا جائے کہ نمرتا کا قتل ہوا ہے یا اس نے خودکشی کی لیکن آج تک اس کی واضح بات نہیں کی گئی، ہمیں ایک صاف شفاف انکوائری چاہیے اور نمرتا کے قتل کے تفتیش میں انتظامیہ کو بھی شامل کرکے ایک مکمل طور پر غیرجانبدار تفتیش کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •