ریاست کا بیڈ روم میں جھانکنے کا شوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر گھر میں مہمانوں کو بٹھانے کیلئے خوب سجے سنورے ڈرائنگ روم ہوتے ہیں، باقی گھر کی حالت کیسی بھی ہو، اس ایک کمرے میں بہترین پردے، شو پیس اور فرنیچر ہوتا ہے، پھر بھی کچھ بے تکلف رشتے دار آپ کا نہایت ذاتی بیڈ روم دیکھنے کے متمنی ہوتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی حال ہماری ذات کا بھی ہے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے ہم سب نے حقیقی چہروں پر خوبصورت ماسک لگایا ہوتا ہے، جو کہ درست بھی ہے، آدمی اپنے غم کیوں عیاں کرے۔ مگر پھر بھی بنی نوع انسان کی فطرت میں تجسس کا عنصر موجود ہے جو اسکو پوشیدہ راز جاننے اور پھر غیبت سے لے کر لگائی بجھائی تک چسکہ فروشی کرنے پر اکساتا ہے، بلاشبہ یہ بریچ آف پرائیویسی ہے اور یہ رویے، شہریوں کے حق میں جب ریاست اپنا لے تو نتائج اور بھی سنگین ہو جاتے ہیں۔

ذاتی نوعیت کی ویڈیوز کا لیک ہونا اور عوام و خواص کا ان کو دیکھنے کیلئے ٹوٹ پڑنا قبیح فعل ہے۔ جو لوگ مذہب اور اخلاقیات پر درس دیتے نہیں تھکتے، وہی ایسے سکینڈل جاننے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایسے ہی لوگوں کی شکایت پر ایک بینک کار کے گھر پر چھاپا مارا گیا۔ پولیس نے معمر بینک کار کو گھر میں موجود خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑا اور فوراً مقدمہ بنا کر پابند سلاسل کر دیا۔ مزید برآں، “ملزم” کا فون قبضے میں لے کر بے حد ذاتی نوعیت کی عریاں ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک کر کے، عوام کی ٹھرک کا سامان مہیا کیا۔

قطع نظر، اس آدمی کا کردار کیسا ہے، اُسکے فون میں خواتین کے ساتھ ویڈیوز کیوں موجود تھیں، پہلا سوال ریاستی اداروں سے یہ ہے کہ وہ کس قانون کے تحت کسی کے گھر میں گھس کر سیدھا بیڈروم پہنچ سکتے ہیں؟

کون سی اخلاقیات کے تحت الزام ثابت کئے بغیر خود ساختہ مجرم کے فون کو قبضے میں لے کر ڈیٹا لیک کر سکتے ہیں؟ کیا ہم سب کی ذاتی زندگیاں اتنی ہی رنگین نہیں؟ کیا اپنی خواہشات کی تکمیل اپنے گھر میں رہتے ہوئے کرنا جرم ہے؟ موصوف پر الزام لگایا گیا کہ وہ ہراساں کر کے خواتین کی ویڈیوز بناتے تھے۔ یہ می ٹو کا دور ہے۔ کیا کسی خاتون نے ان کے خلاف کوئی شکایت درج کروائی؟ ویڈیوز سے عیاں ہے کہ باہمی رضامندی سے بنائی گئی ہیں اور کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی۔

ایک طرف سڑکوں پر واضع نیم پلیٹ لگی فورٹنر گاڑی دندناتی ہے اور کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا، ایک ملٹی نیشنل ریسٹورانٹ کے باہر امرا کی اولاد رقص نیم برہنہ میں غرق دیکھی جاتی ہے اور ادارے خاموش رہتے ہیں۔ کیا ایسا محسوس نہیں ہو رہا کہ ریاست آپ کے ڈرائنگ روم سے سیدھا بیڈروم میں در آئی ہے؟

تمام اسلامی قوانین کا اطلاق آپ کے بیڈ رومز پر ہوتا ہے؟

کہیں یہ ذاتی معاملات کا چورن بیچ کر قومی امور سے توجہ ہٹانے کا حربہ تو نہیں؟

روز روز کی بیڈروم اسٹوریز تو اب بیسٹ سیلر اور سستی تفریح ہیں۔ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں، الا یہ کہ ذاتی خلوت اور سماجی دائرہ کار کی حدود ملک کے دانشور اور قانون بنانے والے ادارے میز پر بیٹھ کر متعین کر لیں۔

بن بلایا مہمان تو ویسے ہی وبال جان ہوتا ہے اور اس پر وہ سیدھا آپ کے بیڈروم میں آنے پر بضد ہو، نہ صاحب ایسا نہیں چلے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •