آزادی مارچ، شہباز شریف کے لیے ’’گھر کی گواہی‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حافظ حسین احمد ہمیشہ میڈیا کے ”محبوب‘‘ رہے ہیں (مولوی صاحب کے لیے ”ڈارلنگ‘‘ کا لفظ شاید مناسب نہ ہو) قدرت نے انہیں فقرہ اٹھانے اور پھبتی کسنے کی صلاحیت خاصی وافر مقدار میں عطا کی ہے۔ تہذیب اور شائستگی میں گندھی ان کی بذلہ سنجی کا اپنا انداز ہے‘ بحث مباحثے میں فریق مخالف بھی جس سے لطف اٹھائے بغیر نہیں رہتا۔ وہ جمعیت کے ٹکٹ پر مختلف اوقات میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور قومی اسمبلی) کے ممبر رہے۔ ایوان میں مختلف مسائل پر اپنی عالمانہ گفتگو کو موقع محل کی مناسبت سے ”فقرے بازی‘‘ کے ذریعے بوجھل نہیں ہونے دیتے۔
1988 کی پارلیمنٹ میں وہ سینیٹ کے رکن تھے۔ مولانا عبدالستار نیازی‘ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال اور جسٹس ذکی الدین پال جیسی بھاری بھرکم شخصیتوں کی وجہ سے یہ واقعی پارلیمنٹ کا ”ایوانِ بالا‘‘ لگتا تھا۔ (بیرسٹر وسیم سجاد چیئرمین تھے) نوجوان حافظ حسین احمد کی پارلیمنٹ میں یہ پہلی انٹری تھی۔ بزرگوں کے احترام کے ساتھ‘ وہ ان سے بے تکلفی‘ مزاح اور استہزا کا کوئی پہلو بھی نکال لیتے۔ بزرگ بھی ان سے شفقت فرماتے۔ ایک دفعہ لاہور کے ایک اخبار نے یکم اپریل کو ”اپریل فول‘‘ کے طور پر شوبز آرٹسٹ روبی نیازی کے ساتھ مولانا نیازی کے رشتۂ ازدواج میں بندھ جانے کی خبر چھاپ دی۔ (مولانا نیازی ساری عمر غیر شادی شدہ رہے) اس پر سینیٹ میں ”تحریک استحقاق‘‘ آ گئی‘ جس پر حافظ صاحب نے نکتہ اٹھایا‘ کہ استحقاق کس کا مجروح ہوا‘ مولانا کا یا روبی نیازی کا؟ اور ایوان بالا کشتِ زعفران بن گیا۔
اکتوبر 2002 کے انتخابات کے بعد 17ویں ترمیم پر ایم ایم اے کے ساتھ مذاکرات جاری تھے۔ چودھری شجاعت حسین صاحب کی زیر صدارت قاف لیگ‘ جنرل مشرف کی ترجمانی کر رہی تھی۔ صدر کے اختیارات پر اتفاق رائے کے بعد‘ ان کی وردی پر بات شروع ہوئی‘ تو چودھری صاحب نے اپنا روایتی فقرہ دہرایا‘ ”مٹی پائو‘‘… جس پر حافظ صاحب سے نہ رہا گیا‘ پوچھا: کیا بندے سمیت؟ (مشرف نے 17ویں ترمیم کے آمرانہ صدارتی اختیارات کے عوض دسمبر 2004 میں وردی اتارنے کا وعدہ کیا تھا‘ بعد میں موصوف اس وعدے سے منحرف ہو گئے تھے) 2007 کی جسٹس موومنٹ کے بنیادی مطالبات میں‘ وردی اتارنے کا مطالبہ بھی تھا جس پر موصوف کا جواب تھا‘ وردی تو میری ”سیکنڈ سکن‘‘ ہے‘ میں اسے کیسے اتار سکتا ہوں؟ آخر 29 نومبر 2007 کو وہ وردی اتارنے پر مجبور ہو گئے۔ جنرل کیانی پاک فوج کے نئے سربراہ تھے۔
پھر ایک وقت آیا جب حافظ صاحب مولانا کی ”گڈ بکس‘‘ میں نہ رہے۔ دیگر جماعتوں کی طرف سے پُر کشش پیش کش کے باوجود‘ وہ وفاداری بشرطِ استواری پر قائم رہے۔ اس دوران انہیں گردوں کے عارضے نے بھی آ لیا اور وہ سیاست کی بھولی بسری داستان ہو گئے؛ البتہ مہینوں بعد کسی ٹاک شو میں نظر آ جاتے۔ مولانا کے آزادی مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا کردار بھی میڈیا میں بحث کا اہم موضوع ہے۔ ایک ٹاک شو میں حافظ صاحب بھی تھے‘ شہباز صاحب کے لیے ان کا ”مشورہ‘‘ تھا کہ ”برادرِ یوسف‘‘ نہ بنیں اور یاد دلایا کہ دو کشتیوں کا سوار کبھی منزل پر نہیں پہنچتا۔
ایک ٹاک شو میں‘ جمعیت ہی کے ایک اور رہنما مفتی عبدالشکور سے حافظ صاحب کے ان ریمارکس پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو ان کا جواب تھا‘ حافظ صاحب بیماری کے باعث ایک عرصے سے عملی سیاست سے لا تعلق ہیں؛ چنانچہ اس آزادی مارچ میں بھی سرگرم نہیں۔ آزادی مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے کردار اور شہباز صاحب کے رویے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں۔ آزادی مارچ پوری اپوزیشن کا مارچ ہے‘ تمام اہم فیصلے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کرتی ہے۔ تمام اہم امور پر اپوزیشن متحد و متفق ہے۔
لاڑکانہ کے مولانا راشد محمود جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے امیر ہیں۔ آزادی مارچ میں وہ مولانا کے دستِ راست ہیں۔ کنٹینر پر مولانا کے ”پالیسی خطاب‘‘ سے پہلے سٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی وہی انجام دیتے ہیں۔ ایک ٹاک شو میں آزادی مارچ میں شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا: یہ تاثر درست نہیں کہ اپوزیشن‘ مولانا کو چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ یہ تاثر تو پہلے ہی دن زائل ہو گیا تھا جب آزادی مارچ نے سندھ سے آغاز کیا۔ کراچی سے ادباڑو تک‘ پیپلز پارٹی کے وزراء‘ اس کے ایم این ایز‘ ایم پی ایز اور کارکنوں نے ہر جگہ آزادی مارچ کا خیر مقدم کیا۔
ہم پنجاب میں داخل ہوئے تو لاہور تک‘ اور پھر لاہور سے اسلام آباد تک‘ نون لیگ کی پوری لیڈر شپ‘ اس کے ایم این ایز‘ ایم پی ایز اور اس کے کارکن‘ مولانا کے ویلکم کے لیے موجود تھے۔ میاں نواز شریف بیمار ہیں‘ لاہور پہنچے تو مولانا ان کی مزاج پرسی کے لیے جانا چاہتے تھے لیکن ڈاکٹروں کا جواب تھا کہ ان کی حالت ایسی نہیں کہ آپ ان سے مل سکیں۔ میاں شہباز شریف اپنے بھائی کی عیادت کے لیے ہسپتال میں تھے؛ چنانچہ اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں کہ وہ لاہور میں مولانا کے ساتھ سٹیج پر کیوں نہ آئے؟ (شہباز شریف نے فون پر مولانا سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے شہر میں خوش آمدید کہا) آزادی مارچ کی لاہور آمد پر‘ ٹھوکر نیاز بیگ سے مینار پاکستان (گریٹر اقبال پارک) تک مسلم لیگی ارکان اسمبلی اپنے اپنے علاقے میں‘ خصوصی کیمپوں میں‘ مارچ کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
مولانا راشد محمود کا کہنا تھا‘ یہاں (پشاور موڑ پر) آزادی مارچ کے جلسے میں شہباز صاحب‘ مولانا کے ساتھ موجود تھے۔ بلاول صاحب بھی تشریف لائے (وہ گزشتہ شب خطاب کر گئے تھے۔ یہ ان کی دوسری آمد تھی) مولانا راشد محمود کا اصرار تھا کہ اپوزیشن پوری طرح متحد ہے۔ کل مولانا کے گھر پر جو اجلاس ہوا‘ وہاں بھی سب موجود تھے۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں بھی سبھی شریک ہوتے ہیں۔
لاہور میں آزادی مارچ کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ کا بیان بھی ہو جائے۔ ایک مسلم لیگی ایم پی اے بتا رہے تھے کہ ان کے علاقے کے دینی مدرسے کی طرف سے انہیں سات‘ آٹھ سو مہمانوں کے ناشتے کے لیے کہا گیا۔ انہوں نے اسے اپنے لیے اعزاز اور سعادت سمجھا۔ ان کے ذہن میں ”لاہوری ناشتے‘‘ کا خیال آیا‘ ہریسہ‘ نہاری‘ سری پائے‘ حلوہ پوری‘ لسی اور چائے وغیرہ۔ انہوں نے آدابِ میزبانی کا خیال کرتے ہوئے ”منتظمین‘‘ سے مینو پر مشورہ مناسب سمجھا۔ انہیں اپنے کانوں پر یقین ہی نہ آیا۔ دوسری طرف سے کہا جا رہا تھا‘ کسی تکلف کی ضرورت نہیں‘ فی کس 2 سادا نان اور اس کے ساتھ سادہ چنے۔ پانی کی بوتلوں کی بھی ضرورت نہیں۔ پینے کے صاف پانی کی ایک ٹینکی بھجوا دیجئے۔
ہم نے ایم پی اے کی زبانی یہ کہانی سنی‘ تو اندازہ ہوا‘ آزادی مارچ کی اصل طاقت کیا ہے؟  وہ جو اقبال نے بھی کہا تھا ؎
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی
آزادی مارچ کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی بھی شامل ہیں‘ لیکن گجرات کے چودھری برادران اپنے طور پر بھی ”مفاہمت‘‘ کے لیے سرگرم ہیں‘ بڑے چودھری صاحب اس وقت ملک کے بزرگ ترین سیاستدان ہیں۔
مولانا کے ساتھ ان کے دیرینہ خاندانی تعلقات ہیں‘ یہ تعلقات دونوں کے بزرگوں (مولانا مفتی محمود اور چودھری ظہور الٰہی) کے دور سے چلے آرہے ہیں۔
اب حکومت اور آزادی مارچ والوں کے درمیان مفاہمت کے لیے ان کی سعی و کاوش قابلِ قدر ہے۔ وہ طبیعت کی نا سازی کے باوجود خصوصی طیارے پر اسلام آباد گئے (یا بلائے گئے) مولانا کو بھی رات گئے ان کے ہاں جانے میں کوئی تکلف نہ تھا؛ تاہم بعض ستم ظریفوں کا کہنا ہے کہ چودھری صاحب نے جنرل مشرف کے دور میں سردار اکبر بگٹی اور لال مسجد والوں سے بھی ”کامیاب مذاکرات‘‘ کئے تھے۔ اللہ تعالیٰ موجودہ مذاکرات کا انجام بخیر کرے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •