کوکین کا نشہ: ’میں بیڈروم میں کوکین استعمال کرتی اور میرا بیٹا دوسرے کمرے میں سو رہا ہوتا تھا‘

لوئس لی رے - وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوکین

BBC
برطانیہ میں نشے کا علاج فراہم کرنے والے مشہور نجی ادارے نے کوکین کے نشے کے عادی افراد کی تعداد میں 128 فیصد اضافہ دیکھا ہے

برطانیہ اور ویلز میں 10 سال میں سب سے زیادہ کوکین استعمال ہو رہی ہے اور منشیات کے کاروبار کو فروغ دینے کا الزام متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر لگایا جاتا ہے۔ وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام کا حصہ بننے والی دو ماؤں نے ہمیں بتایا کہ نشے کی عادت نے ان کی زندگیوں کو کیسے متاثر کیا۔

سوزی ایک کاروباری خاتون ہیں اور وہ کہتی ہیں ‘میں ایسی سہیلیوں کے گھر جایا کرتی تھی جو اپنے بچے اکیلے پال رہی تھیں۔ میرا بچہ زمین پر موجود جھولے میں ہوتا تھا اور میں کوکین استعمال کرنے کے لیے بیت الخلا چلی جاتی تھی یا ہم باورچی خانے میں کوکین کر لیتے۔’

یونیورسٹی میں سوزی کوکین کا نشہ کیا کرتی تھیں لیکن بچے کی پیدائش کے بعد اکیلی ماں کے طور پر تنہائی ان کے مسئلے میں اضافے کا باعث بنی۔

یہ بھی پڑھیے!

‘ادویات کا نشہ وبا کی طرح پھیل رہا ہے’

’سستا نشہ‘ جو پوری قوم کو کھائے جا رہا ہے

’مردوں کو نشہ دیا، پھر لُوٹا، میری مجبوری تھی‘

بطور نشے کی عادی وہ اپنی خفیہ زندگی سے تنگ آ گئیں اور انھوں نے دوبارہ ماں بننے کا فیصلہ کیا کہ شاید حاملہ ہونے کے بعد وہ نشہ کرنے سے رک جائیں مگر ایسا نہ ہو سکا۔ انھوں نے بتایا ’20 ہفتے کے بعد ہونے والے سکین سے پہلے میں اپنی سہیلی سے ملی جو اپنے اس وقت منشیات کے ڈیلر دوست کے ہمراہ تھی۔ اس آدمی نے میرے ہاتھ پکڑا اور اس پر کوکین کا ایک ٹکڑا رکھ دیا اور میں اسے استعمال کرنے پر مجبور ہو گئی۔’

سوزی مزید کہتی ہیں کہ اگلے دن سکین کرواتے ہوئے ان کے پیٹ میں بچہ بالکل بے قابو ہو گیا تھا اور وہ سوچ رہی تھیں ‘تہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار میں ہوں’۔

کوکین

BBC
شروعات میں جین ہفتے میں دو بار سہیلیوں کے ساتھ کوکین استعمال کرتی تھیں

خوبصورت گاڑی، گھر اور بچے

برطانیہ میں نشے کا علاج فراہم کرنے والے مشہور نجی ادارے کا کہنا ہے کہ 2015 سے اب تک ادارے نے کوکین کے نشے کے عادی افراد کی تعداد میں 128 فیصد اضافہ دیکھا ہے۔

گزشتہ سال یو کے ایڈیکشن ٹریٹمنٹ یا یوکیٹ نے پاؤڈر کوکین کے عادی 504 افراد کا علاج کیا اور یہ تعداد چار سال پہلے 283 تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ این ایچ ایس میں نفسیانی صحت کے سلسلے میں داخل کیے جانے والے کوکین کے عادی افراد کی تعداد گزشتہ دس سالوں میں تین گنا بڑھ گئی ہے۔

ماں بننے کے بعد کوکین کے نشے کی عادی ہونے والی جین کہتی ہیں ‘ہمارے پاس خوبصورت گاڑی اور گھر تھا، قرضہ لیا ہوا تھا اور تین بہت اچھی تربیت کے حامل بچے تھے۔’

جین اور سکول میں چند بچوں کے والدین ہفتے میں دو بار بچوں کو ساتھ کھیلانے کا انتظام کرتے جس کے دوران والدین کوکین استعمال کرتے۔

جب ان کی اپنے شوہر کے ساتھ علیحدگی ہوئی تو جین کے پاس کافی رقم آ گئی اور ان کے ہاتھوں منشیات کا استعمال شدت اختیار کر گیا۔ وہ کہتی ہیں ‘میں کچھ ہی عرصے میں مردوں کو گھر لانے لگی۔ میں بیڈ روم میں کوکین استعمال کرتی اور میرا بیٹا دوسرے کمرے میں سو رہا ہوتا۔ پھر صبح کے چھ بج جاتے اور میں خود سے کہتی کہ میرے خدایا! میں نے پھر وہی کیا۔۔۔ اور بیٹے کو سکول چھوڑنے کے لیے الارم بجنے لگتا۔’

‘بہت بار وہ سکول نہ جا پاتا’

سوزی کے لیے زندگی میں پست ترین مقام آ چکا تھا۔

ان کا کہنا ہے ‘میں نے خالص کوکین کے کئی گرام اور شراب کی چند بوتلیں خریدیں۔ میں گھر آئی اور خود کو بیڈروم میں بند کر کے پوری شام نشہ کرنے میں گزار دی۔’

اگلی صبح انھیں دورہ پڑا۔ ‘میرے کمرے میں طبعی معاون موجود تھے اور مجھے یاد ہے میں یہ کہتے ہوئے زاروقطار رو رہی تھی کہ میں مرنا چاہتی ہوں۔ برائے مہربانی مجھے مرنے دیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے متعدد بار نشہ چھوڑنے کی کوشش کی اور بلآخر ایک نجی بحالی کے مرکز میں جانا شروع کر دیا۔ ’میں نے خود کو بہتری کی طرف دھکیلا اور آہستہ آہستہ میں بہتر ہوتی گئی۔’

‘میں ان تمام سالوں میں اپنے خاندان کے لیے ایک بوجھ تھی۔ بلآخر میں اس قرض کا کچھ حصہ چُکانے کی کوشش کے قابل ہو گئی تھی۔’

کوکین

BBC
جین کہتی ہیں اگر وہ نہ رکتیں تو ان کے بچے ان سے لے لیے جاتے یا وہ مر جاتیں

‘میں مر سکتی تھی’

نشے سے چھٹکارا پانے والے حمایتی گروپ کی مدد سے جین نے دوسروں پر نشے سے پاک ہونے کے اثرات دیکھے اور وہ نشہ چھوڑنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے ’ان سب کے روشن مسکراتے ہوئے چہرے تھے۔ وہاں پر مائیں بتا رہی تھیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے حاضر ہیں اور میں نے سوچا کہ مجھے بھی ایسا بننا ہے۔’

یہ عین وقت پر ہوا اور جین کو احساس ہوا کہ وہ اپنے بچوں یا گھر کا صحیح طرح سے خیال نہیں رکھ رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں ‘میرا خیال ہے کہ اگر میں نہ رکتی تو میرے بچے مجھ سے لے لیے جاتے یا میں مر جاتی۔’

یوکیٹ کے چیف ایگزیکیٹیو ایٹن ایلیگزینڈر کے مطابق کوکین کو اچھے وقت کے ساتھ منسوب کیا جاتا تھا مگر حقیقت میں اس کا اثر متضاد ہے۔ ان کا کہنا ہے ‘یہ زندگیاں تباہ کرتا ہے، خاندانوں اور دوستوں کو الگ کر دیتا ہے اور کچھ لوگوں کے لیے یہ اور بھی طاقتور منشیات جیسے کہ کریک یا افیون استعمال کرنے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔‘

ایٹن کے خیال میں کوکین کے بارے میں تصورات جلد بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو کوکین کے نشے کی عادت کے بحران سے روکا جا سکے۔

کوکین

BBC

‘مجھے بالکل فرق نہیں پڑتا تھا’

جین کو شبہ ہے کہ ایسی تنبیہ شاید ہی انھیں نشہ کرنے سے روک پاتی۔

وہ کہتی ہیں ‘میرے کچھ دوست کوکین کو بہت محتاط ہو کر استعمال کرتے تھے اور انھیں ندامت محسوس ہوتی تھی لیکن میں نے احتیاط کرنا بالکل چھوڑ دیا اور مجھے بالکل فرق نہیں پڑتا تھا۔’

سوزی متفق ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ اپنے کوکین کے استعمال کے اثرات سے ‘بخوبی واقف’ تھیں مگر نشے کی لت اتنی زیادہ تھی کہ ان کا ارادہ نہیں بدلا جا سکتا تھا۔ تاہم وہ امید کرتی ہیں کہ کبھی کبھار استعمال کرنے والوں تک پیغام پہنچے۔

ان کا کہنا ہے ‘یہ چیزیں جہاں سے آتی ہیں اس کے بارے میں ذرا سی تعلیم ان لوگوں کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دے گی۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10810 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp