بابری مسجد، رام مندر تنازع: فیصلہ کل، پورے ملک میں سکیورٹی الرٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابری مسجد انہدام سے قبل

Getty Images
سنہ 1992 میں انہدام سے قبل بابری مسجد

انڈیا کی سپریم کورٹ ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے طویل تنازع کا حتمی فیصلہ سنیچر 9 نومبر کو سنانے جا رہی ہے۔

فیصلہ آنے سے سے قبل ایودھیا اور پورے ملک میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ایودھیا میں متنازع مقام سمیت اہم عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کئی مقامات پر انسداد دہشت گردی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ایودھیا میں دفعہ 144 کے تحت حکم امتناعی نافذ کر دیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات سے دور رہیں۔

سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت 16 اکتوبر 2019 کو مکمل کر لی تھی۔

چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک پانچ رکنی بنچ سنیچر کو انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے مندر مسجد کے اس طویل تنازعے کا فیصلہ سنائے گا۔ جسٹس گوگئی نے جمعے کو اتر پردیش کے چیف سکریٹری اور اعلیٰ پولیس اہکاروں سے ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر ملاقات کی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے مثبت پیغامات دینے کے لیے مذہبی رہنماؤں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کسی کی جیت اور کسی کی ہار کی شکل میں نہ دیکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد، رام مندر تنازع: فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا ’مشکل ترین مقدمہ‘

بابری مسجد کیس: ’اسلام میں عبادت کے لیے مسجد لازمی نہیں‘

بابری مسجد

Getty Images
دسمبر 1949 کی ایک رات بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے نیچے مبینہ مندر کے مقام پر بگھوان رام کی مورتی رکھ دی گئی

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو اسے قبول کریں اور ہر قیمت پر ریاست میں امن بر قرار رکھیں۔ انھوں نے اپنی اپیل میں کہا کہ ’امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری اجتماعی طور پر سبھی کی ہے‘۔

ریاست میں احتیاطی طور پر سنیچر سے پیر تک سبھی سکول اور کالجز اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ یو پی پولیس نے کئی شہروں میں فلیگ مارچ کیا ہے۔ ریاستی پولیس کے سربراہ اوم پرکاش سنگھ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ریاستی پولیس عدالت کا فیصلہ آنے سے قبل گزشتہ کئی روز سے مختلف برادریوں سے کمیونٹی میٹنگ کر رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس کے ماہرین سوشل میڈیا پر خاص طور پر نظر رکھ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگئی سترہ نومبر کو رٹائر ہو رہے ہیں۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ مندر مسجد تنازع کا فیصلہ آئندہ ہفتے جمعرات یا جمعے کو سنائے گا۔

حکومت نے گذشتہ دنوں مسلم اور ہندو مذہبی رہنماؤں کی ایک میٹنگ طلب کی تھی جس میں ان سے درخواست کی گئی کہ وہ ملک میں امن وامان برقرا ر رکھنے کی اپیل کریں۔ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی حال میں مسلم رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

ہندو تنظیموں نے بھی اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وہ کوئی جشن نہ منائیں اور نہ ایسا کوئی بیان دیں جس سے کسی دوسرے فرقے کو تکلیف پہنچے اور اگر فیصلہ مندر کے حق میں نہیں آتا تو وہ حکومت پر بھروسہ رکھیں۔

بابری مسجد

Getty Images
چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں جمع ہونے والے ہزاروں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا

تاریخی حیثیت

مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر کے نام سے منسوب بابری مسجد ایودھیا میں سنہ 1528 میں ایک مقامی فوج کے کمانڈر نے بنوائی تھی۔

بہت سے ہندوؤں اور ہندو مذہبی رہنما‌‍‌‌ؤں کا دعویٰ ہے کہ کہ بابر نے یہ مسجد ایودھیا میں ان کے بھگوان رام کے پہلے سے قائم ایک مندر کو توڑ کر اس کی جگہ تعمیر کروائی تھی۔

ان کا ماننا ہے کہ بابری مسجد کے مقام پر ہی بھگوان رام کی پیدائش ہوئی تھی اور اس لیے مسجد کی زمین کی ملکیت مندر کی ہے۔

یہ تنازع 19ویں صدی میں انگریزوں کے دورِ حکمرانی میں سامنے آیا تھا لیکن پہلی بار یہ کیس سنہ 1885 میں فیض آباد کے کمشنر کی عدالت میں پیش ہوا۔

اس وقت کمشنر نے مسجد اور اس کے احاطے پر ہندوؤں کے ملکیت کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

آزادی کے بعد دسمبر 1949 کی ایک رات بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے نیچے مبینہ مندر کے مقام پر بگھوان رام کی مورتی رکھ دی گئی۔

کشیدگی کے ماحول میں اس مسجد پر تالا لگا دیا گیا اور وہاں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مقامی مسلمانوں نے مسجد میں مورتی رکھے حانے کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور وہاں سے مورتی ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد ہندوؤں نے بھی مسجد کی زمین پر ملکیت کا مقدمہ دائر کیا۔

سنہ 1980 کے عشرے کے اواخر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں آر ایس ایس سے وابستہ وشوا ہندو پریشد کے توسط سے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع ہوئی۔

چھ دسمبر 1992 کو اسی تحریک کے تحت ایودھیا میں جمع ہونے والے ہزاروں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا اور اس منہدم مسجد کے منبر کے مقام پر دوبارہ مورتیاں نصب کر دیں گئیں اور وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا۔

اس وقت سپریم کورٹ نے اس متنازع مقام کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کیا تاکہ حالات مزید کشیدہ ہونے کے بجائے جوں گے توں رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10842 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp