جا اؤے رن مریدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دوست نے دوسرے دوست سے پوچھا:

”سنا ہے کہ تم کچن میں اپنی بیگم کے ساتھ برتن مانجھتے ہو؟ “

دوسرا دوست: ”جی ہاں“

پہلا دوست: ”جا اؤے رن مریدا“

دوسرا دوست: ”کیوں بھئی؟ وہ بھی تو کپڑے دھونے میں میری مدد کرتی ہے“

”رن مرید“ کی اصطلاح کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ہمارے سماج میں اسے ایک طعنے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اکثر مرد حضرات اپنے دوستوں کو ”رن مرید“ کا طعنہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حیرت تو تب ہوتی ہے جب بعض عورتیں اپنے خاندان کے کئی مردوں کو ”رن مریدی“ کا طعنہ دے رہی ہوتی ہیں۔ گویا اصطلاح ”رن مرید“ ہر خاندان، رنگ و نسل اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات میں یکساں مقبول ہے۔

برسبیل تذکرہ ایک بہت دلچسپ لطیفہ یاد آ رہا ہے۔ شادی کے بعد ”افسانہ نگار“ اور ”وکیل صاحب“ کی ملاقات ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے کی شادی شدہ زندگی کا احوال پوچھنے لگے۔

”سناؤ یار! زندگی کیسی گزر رہی ہے؟ “ وکیل صاحب نے پوچھا۔

افسانہ نگار کا جواب ”الحمد للہ سب ٹھیک ہے۔ آپس میں بہت انڈرسٹینڈنگ ہے۔ صبح ہم دونوں مل کر ناشتہ بناتے ہیں“ پھر باتوں باتوں میں برتن دھو لیتے ہیں پھر پیار پیار سے مل بانٹ کر کپڑے دھو لیتے ہیں۔ کبھی وہ ڪسی خاص ڈِش کی فرمائش کر دیتی ہے اور کبھی میں اپنی مرضی سے کچھ پکا لیتا ہوں ”ماشا اللہ میری بیوی بہت صفائی پسند ہے بس اسی وجہ سے گھر کی صفائی ستھرائی میری ذمہ داری ہے“

افسانہ نگار نے پوچھا ”تم سناؤ وکیل صاحب، تمہاری کیسی گزر رہی ہے؟ “

وکیل نے جواب دیا: ”یار ذلالت تو میری بھی اتنی ہی ہو رہی ہے جتنی تمہاری۔ لیکن مجھے اتنے شیریں انداز میں بیان کرنا نہیں آتا۔ “

من حیث القوم ہمارا مجموعی رویہ یہی ہے۔ لیکن مغربی معاشرے میں اس اصطلاح کا یوں بے دریغ استعمال نظر نہیں آتا۔ مزاح کے بعد ہم اس موضوع پر ذرا سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔ یہاں میں اس شخصیت کے کردار کے صرف ایک پہلو سے معمولی سا پردہ ہٹانے کی جسارت کروں گا جو مسلمان ہونے کے ناتے ہمارے لئے تو عملی نمونہ ہیں ہی لیکن معروف عیسائی مصنف مائیکل ہارٹ نے بھی اپنی شہرہ آفاق کتاب ”سو عظیم آدمی“ میں درجہ بندی کے حوالے سے انھیں پہلے نمبر پر رکھا تھا۔

اس نے دنیا کی تمام مشہور شخصیات کے کردار و گفتار اور پوری دنیا پر اثر انگیزی کے حوالے سے ان کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا۔ جی ہاں اس معروف عیسائی مفکر نے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو سب سے پہلے نمبر پر رکھا اور اقرار کیا کہ آپ نے پوری بنی نوع انسان پر وہ انمٹ نقوش چھوڑے جو کسی دیگر شخصیت کے بس کی بات نہیں تھی۔ مائیکل ہارٹ نے کسی مذہب اور رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر یہ درجہ بندی کی۔

جب میں نے پیغمبر اسلام کی شخصیت کے ایک پہلو کا جائزہ لیا تو چند حقائق منکشف ہوے۔ مجھے احادیث سے معلوم ہوا کہ بیشتر کاروباری امور میں تو میرے آقا علیہ السلام اپنی ذوجہ مطہرہ حضرت حدیجہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ کیا کرتے تھے، ان کے ساتھ بے انتہا پیار کیا کرتے تھے۔ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو کسی دوست سے مشورہ کرنے سے قبل سب سے پہلے اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کو اس بابت بتایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی وفات کے بعد جب بھی کوئی چیز تقسیم کرتے تو حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے گھر بطورِ خاص بھیجتے۔

تمام اذواج مطہرات کے ساتھ بے انتہا پیار کرتے تھے۔ گھر کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ ایک دفعہ ایک ذوجہ مطہرہ کے ساتھ باہر جا رہے تھے۔ انھوں نے ایک جگہ پر مداری کا تماشا دیکھنے کی فرمائش کی۔ آپ نے اپنی چادر میں ان کو چھپا کر تماشا دکھایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بہت لاڈ اٹھایا کرتے تھے، ان کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آقا علیہ السلام کے ساتھ ریس لگانے کی فرمائش کی اور آپ سے آگے نکل گئیں۔

پھر کافی عرصہ گزرنے کے بعد ایک بار آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے دوڑ کی فرمائش کی تو آقا علیہ السلام آگے نکل گئے اور مسکراتے ہوئے فرمایا ”عائشہ یہ گزشتہ دوڑ کا بدلہ ہے“۔ جب وصال کا وقت قریب آیا تو آقا علیہ السلام کی طبیعت کافی خراب تھی۔ آقا علیہ السلام کی خواہش تھی کہ آنے والے چند ایام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے حجرہ میں گزاریں۔ چنانچہ تمام امہات المؤمنین کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے حجرہ میں بلایا گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے گویا ان سے اجازت چاہی تو انھوں نے بخوشی اجازت دے دی۔ قصہ مختصر احادیث کی کتب میں اس طرح کی کثیر مثالیں موجود ہیں کہ نبی علیہ السلام کس طرح اپنی بیویوں کے ساتھ دل لگی کیا کرتے تھے اور بہت سے معاملات میں ان کے ساتھ مشاورت کیا کرتے تھے۔ اگر میں وہ احادیث پڑھوں تو لگتا ہے جیسے یہ سنتِ رسول اور بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ حقوق العباد کے زمرے میں بھی آتے ہیں کہ جن کی معافی شاید ممکن نہیں۔

میرے بیشتر احباب الحمد و للہ ان احادیث پر من و عن عمل بھی کرتے ہیں اور میں اس کا چشم دید گواہ بھی ہوں لیکن معاشرے میں اپنا شملہ اونچا رکھنے کے لیے ہمیشہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ”ہم نے تو بیوی کو نیچے لگا کر رکھا ہوا ہے“۔ گویا یہ بڑے فخر کی بات ہے۔ اب بہت سے دوست مجھ ناچیز پر بھی رن مرید ہونے کا فتویٰ دیں گے۔ ان کے فتاویٰ، تنقید اور القابات سر آنکھوں پر، لیکن یہ سوچ کر فتویٰ یا القابات دیجئے گا کہ آپ کی بہن، بیٹی بھی شاید کسی کی بیوی ہو یا مستقبل میں بننے جا رہی ہو۔

یا پھر آپ ان احادیث کو نعوذبا اللہ مکمل طور پر جھٹلا دیں جن میں ہمارے پیغمبر گھر کے کاموں میں اپنی ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے، بیویوں کے ساتھ بہت سے معاملات میں نرم رویہ رکھتے تھے، بیویوں کے ساتھ دھیمے لہجے میں بات کرتے تھے۔ گھر کے اندر اپنے کئی کام خود انجام دیتے تھے یا گھریلو امور میں امہات المؤمنین کی مدد کر دیا کرتے تھے۔ اپنی بیگمات کی قدر کیجئے، انھیں پیار دیجئے، عزت دیجئے اور عزت لیجیے۔ عزت اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے۔ احقر کا یہ ماننا ہے کہ جس شخص کی گھر میں عزت ہوتی ہے، دنیا بھی اسی کی عزت کرتی ہے۔ اس پر تھوڑا نہیں، بہت سوچئے۔ شاید آپ کی زندگی کے بہت سے مسائل اسی غور و فکر سے ہی کم ہو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •