افغانستان: حکومت آسٹریلوی، امریکی مغوی شہریوں کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرنے پر رضامند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان، طالبان، حقانی نیٹ ورک

BBC
امریکی شہری کیوِن کِنگ (دائیں) اور آسٹریلوی شہری ٹموتھی وِیکس (بائیں) 2017 میں جاری کی گئی اس ویڈیو میں پریشان حال نظر آ رہے ہیں

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت تین اعلیٰ سطحی طالبان قیدیوں کو طالبان کی قید میں موجود دو مغوی غیر ملکیوں کے بدلے میں رہا کرے گی۔

دونوں مغوی افراد کابل کی امریکن یونیورسٹی آف افغانستان میں لیکچرار تھے جب انھیں 2016 میں اغوا کیا گیا۔ ان میں سے ایک امریکی جبکہ دوسرا شخص آسٹریلوی شہری ہے۔

اس معاہدے کے تحت حقانی نیٹ ورک کی صفِ اول کی شخصیات میں سے ایک، انس حقانی اور دو دیگر سینیئر کمانڈر رہا ہوں گے۔

مانا جا رہا ہے کہ قیدیوں کے اس تبادلے سے قومی امن مذاکرات میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پل چرخی کے طالبان قیدی کیا سوچ رہے ہیں؟

’امریکی طالبان‘ کہے جانے والے جان واکر کون ہیں؟

جہاں قیدی شہر میں کاروبار چلاتے ہیں

اس سے قبل اکتوبر میں بھی طالبان کے کئی سرکردہ کمانڈروں کی رہائی کے بدلے میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے تین انجینیئروں کو رہا کیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے طالبان میں حقانی گروپ کے ایک رکن کے علاوہ مزید 10 اہم کمانڈر شامل تھے۔

دوسری جانب بازیاب ہونے والے انڈیا کے تین انجینیئر شمالی افغانستان میں گذشتہ سال اپنے ڈرائیور سمیت اغوا ہونے والے سات انجینیئروں میں شامل تھے۔

صدر غنی نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے حکومت نے دو یونیورسٹی پروفیسرز کے بدلے میں تین طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

مغویوں میں امریکی شہری کیوِن کِنگ اور آسٹریلوی شہری ٹموتھی وِیکس شامل ہیں۔

دونوں پروفیسرز کو اگست 2016 میں اسلحے کے زور پر اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ اپنی یونیورسٹی سے نکل رہے تھے۔

اس کے بعد جنوری 2017 میں ان دونوں کی ویڈیو جاری کی گئی جس میں انھوں نے اس وقت کے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے معاہدہ کریں۔

دونوں اساتذہ کی موجودہ صورتحال غیر واضح ہے مگر اپنی تقریر میں اشرف غنی نے کہا کہ ’ان کی صحت دہشتگردوں کی قید میں رہنے کے دوران بگڑی ہے۔‘

اپنی تقریر میں اپنے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے غنی نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ ’بہت مشکل اور ضروری تھا۔‘

طالبان، افغانستان، حقانی نیٹ ورک

Reuters
افغان صدر اشرف غنی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ قیدیوں کو بگرام جیل سے رہا کیا جائے گا

افغان حکومت کو رواں سال کے آغاز میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات سے باہر کر دیا گیا تھا۔

مگر صدر ٹرمپ نے ستمبر میں اس کوشش کو ‘مردہ’ قرار دیتے ہوئے امریکہ میں کیمپ ڈیوڈ میں طالبان وفد سے ملاقات کے خفیہ منصوبے کو منسوخ کر دیا تھا۔

افغان فورسز نے 2014 سے انس حقانی کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ ان کے بڑے بھائی سراج الدین فی الوقت حقانی نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں اور طالبان کے ڈپٹی سربراہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11189 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp