چائلڈ پورنوگرافی: بچوں سے زیادتی کر کے ویڈیوز بیچنے والا ملزم راولپنڈی سے گرفتار

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے شہر راولپنڈی کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے بچوں سے جنسی زیادتی کر کے ان کی ویڈیوز بنا کر بیچنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

سی پی او راولپنڈی فیصل رانا کے مطابق گرفتار ہونے والا شخص سہیل ایاز عرف علی بچوں سے جنسی زیادتی کر کے اُن کی ویڈیوز ایک بین الاقوامی ڈارک ویب پر فروخت کرتا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ دورانِ تفتیش ملزم نے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔

سی پی او کے بقول جنسی تشدد کا شکار ہونے والے بچوں کی عمریں ایک سال سے لے کر 17 سال کے درمیان تھیں۔

ان کے مطابق ملزم سہیل ایاز چارٹرڈ اکاؤٹنٹ ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سول سیکرٹریٹ میں ملازم ہے۔

سہیل اس سے پہلے برطانیہ کی ایک عدالت سے 14 سالہ بچے کے ریپ کے کیس میں چار سال قید کی سزا پا چکے ہیں۔

https://twitter.com/RwpPolice/status/1194160517574737920

یہ بھی پڑھیے

فیصل آباد: بچوں سے جنسی زیادتی کے پانچ ملزمان گرفتار

زینب قتل کا ایک سال: ’قصور کے بچے آج بھی محفوظ نہیں‘

برطانیہ سے بھاگا ہوا جنسی مجرم پاکستان سے گرفتار

گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟

حکام کے مطابق اسلام آباد کے علاقے کھنہ کی رہائشی زبیدہ بی بی نے تھانہ روات میں درخواست دی کہ ان کا بیٹا حمزہ جس کی عمر13 سال ہے، وہ رات کے وقت راولپنڈی میں واقع بحریہ ٹاؤن کے فیز 7 میں قہوہ بیچتا تھا۔

ملزم کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل ملزم سہیل ایاز نے ان کے بیٹے حمزہ کو اپنی گاڑی میں بیٹھایا اور اپنے ساتھ لے گیا، جہاں وہ اسے نشہ آور چیزیں کھلا کر اسے چار روز تک جنسی تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔

شکایت کے مطابق چار روز کے بعد ملزم سہیل ایاز نے جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچے کو دھمکی دی کہ اگر اُس نے اِس بارے میں کسی کو بتایا تو اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی جائے گی۔

سی پی او راولپنڈی کے مطابق ملزم سہیل ایاز کے بارے میں پولیس کو پہلے سے شک تھا تاہم اس ضمن میں کوئی بھی پولیس کو درخواست دینے کو تیار نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم کو جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچے کی نشاندہی پر ہی گرفتار کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم گذشتہ چار سال سے بچوں کو اپنے گھر میں ہی لا کر اُنھیں نشہ آور اشیا کِھلا کر اُنھیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

بین الاقوامی گروہ سے تعلقات

سہیل ایاز کو 2009 میں ایک برطانوی عدالت نے ایک 14 سالہ بچے کے ریپ کے اعتراف کے بعد چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سہیل نے عدالت میں اس بچے کی تصاویر تقسیم کرنے اور 397 دیگر غیر اخلاقی تصاویر اپنے پاس موجود ہونے کا بھی اعتراف کیا تھا۔

وہ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے سابق ملازم ہیں۔

سہیل کے تعلقات رومانیہ کے ایک بچوں سے زیادتی میں ملوث گینگ سے پائے گئے۔

سنہ 2008 میں برطانیہ میں ورک ویزا کے ذریعے داخل ہونے والے سہیل ایاز کو فروری 2009 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اٹلی کے شہر روم کی پولیس نے ایک بچوں سے زیادتی کرنے والے ایک اطالوی شخص کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔

انھیں معلوم ہوا کہ سہیل نے اطالوی ملزم کو 15 رومانیئن بچوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔

سہیل مبینہ طور پر بچوں سے زیادتی کرنے والے ایک سوئیڈش شخص کے مڈل مین تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ زیادتی کرنے کے لیے رومانیئن بچے فراہم کر سکتے ہیں۔

اطالوی پولیس نے برطانوی پولیس کو خبردار کیا جس کے بعد ان کے خلاف برطانیہ میں تحقیقات شروع ہوئیں۔

سہیل کے فلیٹ میں 2000 سے زائد غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز پائی گئیں جن میں نہایت کم عمر بچوں اور زیادتی کا نشانہ بنائے گئے بچوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

سہیل ایاز

BBC
سہیل ایاز کی ایک پرانی تصویر

پولیس حکام کے مطابق برطانوی حکومت نے سہیل ایاز کو جولائی سنہ2009 میں اٹلی کی حکومت کے حوالے کیا تھا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اٹلی میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات میں مقدمات بھگت چکا ہے اور اٹلی سے بھی ملزم کو اسی جرم کے بعد ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

سی پی او راولپنڈی کے مطابق ملزم کے کمپیوٹر سے جو ڈیٹا ملا ہے اس سے ملنے والی معلومات کو برطانوی حکام کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا تاکہ تفتیش میں مدد مل سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پولیس کو تفتیش کے لیے ایف آئی اے کی بھی مدد درکار ہوئی تو اس بارے میں وفاقی حکومت کو لکھا جائے گا۔

تھانہ روات کے ایس ایچ او کاشف محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ وہ اب تک پاکستان میں 30 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا چکا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ملزم کے ساتھ دیگر افراد بھی کام کر رہے تھے اور اس گینگ میں شامل دیگر افراد کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ تفتیش کے دوران ہونے والی پیش رفت کے بعد کیا جائے گا۔

ایس ایچ او تھانہ روات کے مطابق ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے 13 نومبر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11189 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp