اگر جی پی ایس رک گیا تو دنیا کیا کرے گی؟

ٹم ہارفرڈ - پریزینٹر، ففٹی تھنگز دیٹ میک دی ماڈرن اکانومی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سٹیلائٹ سسٹم

Getty Images
یہ تمام سروسز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں

کیا ہو اگر گلوبل پوزیشنِگ سسٹم یعنی جی پی ایس کام کرنا بند کر دے؟

سب سے پہلے تو ہمیں پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سوچنا پڑے گا، اپنی توجہ مرکوز کرنی پڑے گی۔ ارد گرد کی دنیا پر نظر ڈالنی ہوگی اور شاید یہ ایک اچھی چیز ہو کیونکہ آنکھیں بند کر کے جی پی ایس کا استعمال کرتے وقت جو ہم پہاڑوں اور دریائوں میں گاڑیاں اتار دیتے ہیں، شاید اس کا امکان کم ہو جائے۔

مثال کے طور پر سویڈن کے ایک جوڑے نے اٹلی کے کیپری جزیرے کے نام کے سپیلنگ جی پی ایس میں غلط ٹائپ کیے اور وہ سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد اٹلی کے ہی ایک دوسرے قصبے کارپی پہنچ گئے اور وہاں جا کر لوگوں سے پوچھنے لگے کے بھائی سمندر کہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈرونز کا ڈیڑھ سو سال پرانی ٹیکنالوجی سے کیا تعلق ہے؟

’گوگل لینز‘ کتنے کمال کی چیز ہے؟

انڈیا ہلکی ترین سیٹلائٹ مدار میں بھیج رہا ہے

بندرگاہ

Getty Images
بندرگاہوں پر بھی افراتری مچ جائے گی کیونکہ کنٹینروں کو جہاز سے اتارنے کے لیے کرینز کو جی پی ایس کی ضرورت ہوتی ہے

لیکن ایسا کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔

کیونکہ جن آلات میں ہم جی پی ایس کا استعمال کرتے ہیں وہ ہمیں کھونے سے بچاتے ہیں۔

اگر جی پی ایس ناکام ہو جائے تو سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگا، لوگ راستہ بتانے والے بورڈز کو پڑھنے کے لیے گاڑیوں کی رفتار دھیمی کریں گے، راستہ دکھانے والے نقشے پڑھنے پڑیں گے اور اگر کہیں آپ ریل سے سفر کر رہے ہیں تو اگلی ٹرین کب آئے گی یہ بتانے والے بورڈ بھی نہیں ہونگے۔

جی پی ایس

Getty Images
ایسا لگتا ہے کہ جیسے جی پی ایس سمارٹ فونز کے لیے بنایا گیا ہو

ٹیکسی کے لیے فون کریں گے تو آپ کی بات ایک پریشان حال آپریٹر سے ہوگی جو ڈرائیوروں کا پتہ لگانے کے لیے فون سے ان کے ساتھ رابطے میں ہوگی۔ جبکہ جی پی ایس کے ساتھ آپ صرف اپنے موبائل پر اوبر ایپ کھولیں اور ٹیکسی کہاں ہے اس کی تصویر آپ کے سامنے ہوگی۔

جی پی ایس کے بغیر ایمرجنسی سروسز بے حد متاثر ہوں گی۔ آپریٹرز فون کے سگنلز سے فون کرنے والوں کا پتہ نہیں لگا پائیں گے اور ساتھ ہی پولیس کی کاروں اور ایمبیولینسس کی لوکیشن بھی نہیں جان پائیں گے۔

جدید معیشت کی تصویر

BBC
صرف پانچ دن تک جی پی ایس کے بند ہونے پر کاشتکاری، تعمیرات اورماہی گیر سمیت مختلف شعبوں میں ہر روز ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوگا

بندرگاہوں پر بھی افراتری مچ جائے گی کیونکہ کنٹینروں کو جہاز سے اتارنے کے لیے کرینز کو جی پی ایس کی ضرورت ہوتی ہے۔

حکومتِ برطانیہ کی رپورٹ کے مطابق صرف پانچ دن تک جی پی ایس کے بند ہونے پر کاشتکاری، تعمیرات اور ماہی گیر سمیت مختلف شعبوں میں ہر روز ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔ اور اگر یہ اس سے زیادہ وقت تک بند رہا تو دوسرے سسٹم کے بارے میں بھی فکر شروع ہو جائے گی۔

اگر جی پی ایس صرف راستہ بتانے والا نظام ہوتا تو شاید ایسا نہ ہوّا ہوتا۔

جی پی ایس ایسی چوبیس سیٹ لائٹس پر مشتمل ہے جن میں انتہائی درستی کے ساتھ ملائی گئی گھڑیاں نصب ہیں۔

ولادیمیر پیوتن

Getty Images
روس کا اپنی جی پی ایس سسٹم ہے

جب آپ کا سمارٹ فون نقشے پر آپ کا پتہ لگانے کے لیے جی پی ایس کا استعمال کرتا ہے تو یہ ان میں سے کچھ سیٹ لائٹس سے سگنل پکڑتا ہے اور اس کے بعد وقت اور سگنل کی بنیاد پر حساب لگاتا ہے کہ اس وقت سگنل یا سیٹلائٹ کہاں تھا۔

اگر ان سیٹلائٹس پر نصب گھڑی منٹ کے ہزارویں سیکنڈ کو بھی مِس کر دیں تو آپ جہاں ہیں خود کو وہاں سے دو سے تین سو کلو میٹر دور پائیں گے۔ اس لیے اگر آپ وقت کے بارے میں بلکل صحیح معلومات چاہتے ہیں تو اس کا جواب جی پی ایس ہےگ

اپنے فون کے بارے میں سوچیں۔ آپ کی کالز دوسری کالز کے ساتھ مواصلاتی وسائل شیئر کرتی ہیں اور اس تکنیک کو ملٹی پلیکسِنگ کہا جاتا ہے۔

کویت جنگ

Getty Images
خلیجی جنگ کے دوران کویت میں جی پی ایس تکنالوجی اتحادی افواج کے لیے بہت مدد گار ثابت ہوئی تھی

منٹ کے ہزارویں سیکنڈ کی غلطی سے بے شمار مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ مثلا بینکوں کی ادائیگیاں، حصص بازار، بجلی گھر، ڈجیٹل ٹیلی وژن، کمپیوٹِنگ یہ سب الگ الگ لوکیشن لیکن ایک ہی وقت پر متفق ہوتے ہیں۔

اگر کہیں جی پی ایس کام کرنا بند کردے تو بیک ہم لوگ یعنی متبادل انسانی نظام کب تک اور کہاں تک ان تمام چیزوں کو بیک وقت اور کامیابی سے چلا پائے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

اب جی پی ایس کی قیمت لگانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ مصنف گریگ مِلنر کا کہنا ہے کہ جی پی ایس کس طرح ہماری دنیا بدل رہا ہے آپ یہ پوچھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسانوں کے سانس لینے کے لیے آکسیجن کتنی اہم ہے۔

پہلا جی پی ایس سیٹلائٹ 1978 میں لانچ کیا گیا تھا لیکن یہ ٹیکنالوجی خلیجی جنگ میں کویت میں اتحادی افواج کے لیے مددگار ثابت ہوئی جب اتحادی افواج کا آپریشن ڈیزرٹ سٹورم حقیقی معنوں میں طوفان کی نظر ہونے لگا اور ریت کے طوفان سے پانچ میٹر دور کی چیزیں دکھائی دینی بند ہو گئیں تو جی پی ایس کی مدد سے امریکی فوجیوں کو بارودی سرنگوں کی لوکیشن کا پتہ لگانے میں مدد ملی۔

25 اگست کو لانچ ہونے والا چین کا سیٹلائٹ

Getty Images
چین کا نیویگیشن سسٹم تیزی سے ترقی کر رہا ہے گزشتہ سال ہی اس کے لیے دس سے زائد سیٹلائٹ لانچ کیے گئے۔

دراصل جی پی ایس دنیا کا واحد سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم نہیں ہے۔ روس کے سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم کا نام گلوناس ہے جو بہت اچھا نہیں ہے جبکہ چین اور یورپ کا اپنا اپنا نظام ہے جن کے نام بالترتیب بائیڈو اور گلیلیو ہیں۔ ادھر جاپان اور انڈیا بھی اپنا نیوی گیشن سسٹم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ متبادل سیٹلائٹ جی پی ایس سے متعلق ہمارے سمائل کو حل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی مستقبل کی جنگوں میں یہ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

سیٹلائٹ نیوی گیشن کے زمینی متبادل بھی موجود ہیں ان میں سب سے اہم کا نام ایلورن ہے لیکن یہ پوری دنیا کا احاطہ نہیں کرتا۔ کچھ ممالک اپنے خود کے قومی نیوی گیشن نظام کو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایلورن کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے سگنل بہت طاقتور ہیں کیونکہ جی پی ایس کے سگنل بارہ ہزار میل کا سفر طے کر کے زمین تک پہنچتے پہنچتے کمزور پڑ جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14281 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp