چھوٹی دھرنی سے بڑے دھرنے تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھرنا گردی کی اصطلاح غالباً اس سے پہلے ہمارے ہاں استعمال نہیں ہوئی۔ مگر آثار بتاتے ہیں کہ یہ اصطلاح اب استعمال ہو گی، اور کثرت سے ہو گی کہ آج کل حکومت سے باہر ہر چھوٹا بڑا گروہ بات بات پر دھرنے دینے کی بات کر رہا ہے۔ سیاست میں دھرنا کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ احتجاج اورعوامی طاقت کے اظہار کا ایک قدیم اور مسلمہ طریقہ ہے۔ دھرنے جیسے عمل یا مظاہرے کے لیے اردومیں کئی کئی انبوہ گردی کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔

انبوہ گردی ایک مشکل لفظ ہے، جس کے کئی ترجمے کیے جا سکتے ہیں۔ ایک آسان اورعام فہم ترجمہ ہجوم کی حکمرانی بھی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا شاید مشہورترین دھرنا سال دو ہزارچودہ کا دھرنا تھا، جسے مولانا فضل الرحمان نے دھرنی کا نام دیا تھا۔ اب وہ خود بڑی تعداد میں مخلوق خدا کو لے کر اسلام آباد بیٹھے ہیں۔ تعداد کو نہ بھی دیکھا جائے تو صنف نازک سے پاک اس خالص مردانہ محفل کو اگر کوئی دھرنی کہنا بھی چاہے تو نہیں کہہ سکتا۔ ہجوم کی حکمرانی یا انبوہ گردی کی عملی شکلوں پر جانے سے پہلے اس اصطلاح کا تھوڑا سا تاریخی پس منظردیکھنا ضروری ہے، تاکہ اس پچیدہ اصطلاح کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

قدیم لاطینی زبان میں اس تصور یعنی احتجاج یا طاقت کے اظہار کے لیے لوگوں کے ایک ہجوم کو کسی ایک جگہ جمع کر لینے کے عمل کو واضح کرنے کے لیے جواصطلاح استعمال ہوئی ہے، وہ اوکلاکریسی ہے۔ قدیم رومن اور یونان کی ریاستوں میں یہ اصطلاح کسی نہ کسی شکل میں مستعمل رہی ہے۔ سال سولہ سو اسی کے لگ بگ یہ اصطلاح انگریزی زبان میں مابوکریسی کے نام سے متعارف ہوئی۔ چنانچہ ہمارے زمانے میں اس سیاسی صورت حال کو ماب رول (Mob Rule) یا مابوکریسی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ماہر لسانیات کا خیال ہے کہ یہ اصطلاح پہلی بارمشہور تاریخ دان پولائی بیوس نے استعمال کی۔ پولائی کا شمار ابتدائی تاریخ نویسوں میں ہوتا ہے، جس نے سلطنت روم کے عروج کی تاریخ لکھی۔ یہ تاریخ چالیس جلدوں پر مشتمل تھی۔ یہ تاریخ ان پچاس برسوں پر محیط تھی، جن کے دوران قدیم روم کی سلطنت دنیا کی سپر طاقت بنی۔ اس تاریخ میں اس نے رومن آئین، کونسل، سینٹ اور عوام کا تفصیلی احوال اور تجزیہ پیش کیا۔ اس طویل تاریخی تجزیے اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رومن سلطنت کی کامیابی کا راز اس ملے جلے آئین میں تھا، جو جمہوریت، آرسٹوکریسی اور بادشاہت کا ملغوبہ تھا۔

اس کے خیال میں سلطنت کی مضبوطی کا راز اس کا مضبوط آئین تھا۔ اس نے رومن سلطنت کے آئین کا اس کی متضاد شکلوں سے تقابلی جائزہ بھی لیا۔ اس کے خیال میں اوکلوکریسی، استبدادی اور طبقہ امراکی حکومت اس کی متضاد شکلیں تھیں۔ اس کے خیال میں اس طرح کی سطنتین بادشاہت سے شروع ہوتی ہیں اور انبوہ گردی پر ختم ہوتی ہیں۔ اور رومن سلطنت نے اس خطرے کا تدارک اپنی ملی جلی ریپبلک کے ذریعے کیا۔ ملی جلی ریپبلک سے اس کی مراد یہ تھی کہ سلسطنت نے ایک ایسا آئین تشکیل دیا جس میں عوام، اشرافیہ اور بادشاہت تینوں کے لیے کوئی نہ کوئی جگہ رکھی گئی تھی۔

رومن دور میں روم شہر میں انبوہ گردی یا ہجوم کی حکمرانی کا خطرہ ہمیشہ ہی رہتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ اپنے وقت کا بہت بڑا شہر تھا، جس میں دو سے تین لاکھ کے قریب لوگ رہتے تھے۔ چنانچہ شہریوں کے مقابلے میں اشرافیہ اور فوج کی تعداد بہت کم تھی۔ کئی دفعہ سرکاری طاقت اوراختیا رکے خلاف عوام کا ہجوم جمع ہوتا اور اس اختیار کو چلنج کرتا۔ ہمارے دور میں تو سیاست دان عوام کا ہجوم لے کر حکمرانوں سے استعفی مانگتے ہیں، مگر رومن سلطنت میں ایسے بھی ہوا جب لوگوں کا یجوم جمع ہوکر حکمرانوں کا سرمانگتا تھا۔

مشہور تاریخ دان ایڈورڈ گیبن اپنی کتاب رومن سلطنت کے زوال میں اس واقعے کی تفصیل میں لکھتا ہے کہ مارکوس کیلینڈر نے لوگوں کے ایک ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا حکم دیا، جس سے کئی لوگ مارے گئے، اور کئی شہر کی طرف بھاگے۔ ان بھاگنے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے جب گھڑ سوار سپاہی گلیوں میں داخل ہوئے تو گھروں کی چھتوں اور کھڑکیون سے ان پر پھتروں کی بارش شروع ہو گئی۔ پیدل سپاہ جو گھڑ سواروں کو پہلے ہی نا پسند کرتے تھے انہوں نے بھی عوام کا ساتھ دینا شروع کیا۔

نتیجے کے طور پر لوگوں کا ہجوم گیٹ توڑ کراندر آگیا اور انہوں نے کیلینڈر کوعوام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، جوحکام کوبلاخرماننا پڑا۔ اس سے پہلے انگلستان میں بھی ا ایسے واقعات رونما ہو چکے تھے، جس میں ہجوم حکمرانوں کے مقابل فتح یاب ہوا تھا۔ سن سولہ سو نوے میں نو آبادیاتی دور میں امریکی ریاست میسی چیوسٹ میں سالم وچ ٹرائل کا سلسلہ بھی انبوہ گردی کا شاخسانہ تھا، جس میں عوام کے یجوم کے سامنے قانون کی منطق بے بس ہوگئی تھی۔

سن سولہ سو باسٹھ کے موسم بہار میں ان بد نام زمانہ ٹرائلز کا آغاز ہوا۔ اس مقدمے میں میسی چیوسٹ کے ایک گاؤں سالم میں کچھ لڑکیوں کو بد روحوں کے زیر اثر قرار دیا گیا اور کچھ عورتوں پر چڑیل ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ ان واقعات سے پورے میسی چیوسٹ میں ایک طرح کی ہسٹیریا کی کفیت پیدا ہو گئی، چنانچہ سالم میں ان مقدامات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہو ئی۔ کئی عورتوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ ایک سو پچاس سے زائد مردوں، عورتوں اوربچوں پر الزامات لگائے گئے۔

ایک سال بعد ہسٹیریاکچھ کم ہوا تو عدالتوں نے کچھ مقدمات کا دوبارہ جائزہ لیا اور سزائیں ختم کیں۔ سن اٹھارہ سو سنتیس میں ابراہیم لنکن نے امریکہ میں ہونے والی بڑے پیمانے پر ”ماس لنچنگ“ کے تناظر میں اس مئسلے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ ملک میں قانون کی خلاف ورزی ایک عام معمول بن گیا ہے۔ عدالتوں کے سنجیدہ فیصلوں کے خلاف وحشی اورمشتعلجذبات غالب آ رہے ہیں، اورعوام کا انبوہ اپنے طور پرانصاف فراہم کرنے پر تلا ہے۔

جدید تاریخ میں دھرنا دے کر اپنے مطالبات منوانے کا طریقہ دائیں بازوں کے سایسی کارکنوں اور مزدورں کی انجمنوں نے بڑے پیمانے پر کیا۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں انٹرنیشنل ورکرزآف دی ورلڈ نے امریکہ اوردیگرمغربی ممالک میں مزدوریکجہتی کے لیے مشہور دھرنوں کا آغاز کیا۔ تیس کی دھائی تک یہ مزدور طبقے کے ہاتھ میں ایک مضبوط ہتھیار رہا ہے۔ مزدوروں سے ہوتا ہوا یہ رحجان پچاس اور ساٹھ کی دھائی میں سول راۃٹس والوں تک پہنچا، جسے مارٹن لوتھر کنگ اور روزا پارک جیسے لوگوں نے استعمال کیا۔

پاکستان میں دھرنا دے کر طویل مدتی احتجاج کوئی نئی یا مقامی ایجاد نہیں ہے کہ اس کا ذمہ دارکسی ایک لیڈر یا پارٹی کو قرار دیا جا سکے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دو ہزار چودہ کے دھرنے سے پاکستان میں دو سیاسی رحجانات کو بہت تقویت ملی۔ پہلا رحجان خود دھرنا ہے، جو حکمران طبقات کو ڈرانے کے لیے ایک طاقت ور ہتھیار بن گیا ہے۔ دوسرا رحجان پاپولزم ہے۔ پاپولزم سے مراد وہ سیاسی موقف ہے، جو عوام کو طاقت ور حکمرانوں اوراشرافیہ کے خلاف کھڑا کرنے کی بات کرتا ہے۔

پاپولزم ایک ایسا نظریہ ہے جو عوام کو اخلاقی طور پر ایک اچھی طاقت کے طور پر اور اشرافیہ کو بری، بدنام اور بد عنوان قوت کے طور پیش کرتا ہے۔ پاپولسٹ سیاسی پارٹیوں یا سماجی تحریکوں کی رہنمائی اور سربراہی عموما کرشماتی شخصیات کرتی ہیں، جو اپنے آپ کو عوام کی سچی آواز یا ان کا نجات دہندہ قرار دیتے ہیں۔ سال انیس سو چودہ کے دھرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے غریب عوام کو تاریخ کے بد عنوان ترین حکمرانوں سے نجات دلوانے آئے ہیں۔ اور آج کے دھرنے والے کہتے ہیں کہ وہ عوام کو ان حمکرانوں سے بچانا چاہتے ہیں، جو خرافات میں مبتلا ہیں۔ مگر دونوں صورتوں میں رہنما عوام کی نمائندگی کے دعوے دار ہیں، اور عوامی طاقت کے زور پر حکمرانوں سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •