شاہ محمود یہ بات وزیراعظم کو کیوں نہیں بتاتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزارتِ داخلہ کے 13 نومبر 2019 کے میمورنڈم بعنوان ”بیرون ملک سفرکے لیے ایک بار کی اجازت‘‘ کے مطابق ”وفاقی حکومت نے مسٹر محمد نوازشریف ولد میاں محمد شریف (قومی شناختی کارڈ نمبر 35201-5369836-7) ساکن محلہ ایچ، مکان نمبر180-181 ماڈل ٹائون لاہور، تحصیل لاہور چھائونی، ضلع لاہور کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک بار کی یہ اجازت چار ہفتوں کے لیے ہو گی، جس کا آغاز عرصۂ ضمانت کے دوران روانگی کی تاریخ سے ہو گا۔ یہ اجازت درج ذیل انڈیمنٹی بانڈ سے مشروط ہو گی:
(الف) 8 ملین برطانوی پونڈ (یا اس کے مساوی پاکستانی روپے)
(ب) 25 ملین امریکی ڈالر (یا اس کے مساوی پاکستانی روپے)
(ج) ڈیڑھ بلین پاکستانی روپے
یہ بانڈ مسٹر محمد نوازشریف ولد میاں محمد شریف (شناختی کارڈ نمبر35201-5369836-7) یا میاں شہبازشریف ولد میاں محمد شریف (شناختی کارڈ نمبر 35200-3085629-7) کو جمع کرانا ہوں گے‘‘۔
13نومبر کو (جب یہ میمورنڈم جاری ہوا) نواز شریف کی 8 ہفتے کی ضمانت کا 8واں دن تھا۔جمعہ (8 نومبر)کو وزیر اعظم صاحب کی طرف سے میاں نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت کی خبر آ چکی تھی، جس کے بعد محض رسمی سرکاری کارروائی درکار تھی؛ چنانچہ اتوار اور سوموار کو دستیاب پروازوں پر، نواز شریف، شہباز شریف اور ڈاکٹر عدنان کے ٹکٹ خرید لئے گئے۔ پھر احتساب ادارے اور وزارتِ داخلہ کے درمیان ”پنگ پانگ‘‘ کا کھیل شروع ہوا۔ وفاقی کابینہ کے بعض ارکان کی طرف سے مخالفانہ بیان بازی اس کے علاوہ تھی۔ سب سے زیادہ دل آزار بیان، وزیر اعظم سے خاص قربت کی شہرت رکھنے والوں کے تھے۔ ایک صاحب اس حد تک چلے گئے کہ اگر ”وہ نواز شریف کی جگہ ہوتے تو یہیں پاکستان میں مرنا پسند کرتے‘‘۔
12 نومبر کو وفاقی وزیر قانون کی زیر صدارت ذیلی کمیٹی کی تین مسلسل میٹنگز میں (ساڑھے دس بجے سے ڈیڑھ بجے تک، سہ پہر اڑھائی سے ساڑھے چار بجے تک اور شب ساڑھے نو سے گیارہ بجے تک) سیکرٹری صحت پنجاب آغا مومن، شہباز شریف کے نمائندے عطااللہ تارڑ اور میاں صاحب کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی شریک تھے۔ ذیلی کمیٹی نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کو اربوں روپے کی ضمانت سے مشروط کر رہی تھی۔ شہباز شریف، میاں صاحب سے ملاقات (مشاورت) کیلئے جاتی امرا پہنچ گئے تھے۔ یہاں مریم نواز بھی موجود تھیں۔
عطااللہ تارڑ اور ڈاکٹر عدنان ان سے مسلسل رابطے میں تھے۔ میاں صاحب نے ذیلی کمیٹی کی شرائط/ مطالبات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی تقاضوں کے مطابق ضمانت کے مچلکے پہلے ہی عدالت میں داخل کرائے جا چکے۔ شہباز شریف اور مریم نواز بھی ان سے متفق تھے۔ عطااللہ تارڑ اور ڈاکٹر عدنان نے ذیلی کمیٹی کے روبرو میٹنگ میں یہی موقف بیان کیا اور اٹھ آئے۔ بدھ کو وفاقی کابینہ نے میاں صاحب کی بیرون ملک روانگی کو ذیلی کمیٹی کی ”سفارشات‘‘ سے مشروط کر دیا تھا۔ ادھر مسلم لیگ (ن) ماضی کی کئی مثالوں کا حوالہ دے رہی تھی، جب لوگوں کے نام کسی شرط کے بغیر ECL سے ہٹا دیئے گئے، مثلاً وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاحت ذوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری)، مبین صولت (سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کیس میں وعدہ معاف گواہ)، گوہر اللہ (ایک بزنس مین )، زاہد مظفر (سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مشیر)۔
بدھ کی سہ پہر وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو پریس کانفرنس میں دلچسپ صورتحال کا سامنا تھا۔ فروغ نسیم کا موقف تھا کہ 7 ارب روپے کے ان بانڈز کو ”ضمانت کے بانڈ‘‘ (Bail Bond) تصور نہ کیا جائے، وہ انہیں انڈیمنٹی بانڈ کا نام دے رہے تھے۔ ایک اخبار نویس کے سوال پر شہزاد اکبر کا موقف تھا کہ سزا یافتہ (Convicted) نواز شریف کا معاملہ انڈر ٹرائل افراد سے مختلف ہے، جبکہ وزیر قانون فروغ نسیم نے ریکارڈ کی درستی ضروری سمجھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سزا یافتگان (Convicted) کے نام ای سی ایل سے ہٹانے کی مثالیں موجود ہیں، انہوں نے 2007ء کی ایک ”رپورٹڈ ججمنٹ‘‘ کا حوالہ بھی دیا۔
ادھر سینئر قانون دانوں کی اکثریت انڈیمنٹی بانڈ کی شرط کو غیر ضروری قرار دے رہی تھی جس کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔ ان میں علی ظفر بھی تھے۔ ممتاز قانون دان جناب ایس ایم ظفر کے صاحبزادے، وزیر اعظم جسٹس ناصرالملک کی نگران حکومت (2018) میں وزیر قانون تھے۔ اب تحریکِ انصاف میں ہیں (جناب ایس ایم ظفر ان ممتاز قانون دانوں میں تھے، جنہوں نے نوازشریف کی نااہلی کو”کمزور دلیل پر مبنی فیصلہ‘‘ قرار دیا تھا) علی ظفر کے بقول، انہوں نے اس حوالے سے قوانین کا جتنا بھی مطالعہ کیا، کہیں اس کی گنجائش نظر نہیں آئی۔
بیرسٹر سیف پی ٹی آئی کی کولیشن پارٹنر ایم کیو ایم کے نمایاں رہنمائوں (اور قانون دانوں) میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”عدالت سے ضمانت کے بعد، حکومت کی طرف سے اس طرح کے انڈیمنٹی بانڈ کی کوئی مثال اس سے پہلے موجود نہیں۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور العزیزیہ ریفرنس کی سزا معطل ہے۔ نوازشریف ضمانت پر رہا ہیں، اس کے لیے ضروری مچلکے عدالتوں میں موجود ہیں جس کے بعد اب حکومت کی طرف سے انڈیمنٹی بانڈ کا مطالبہ قانون میں ایک Innovation یعنی ایک اختراع ہے‘‘۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد حسن منٹو اسے ایک سیاسی شعبدہ بازی قرار دے رہے تھے۔ ان کے بقول یہ کوئی قانونی معاملہ نہیں، مقصد محض اپنے سیاسی حریف کو تنگ کرنا ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے خیال میں انڈیمنٹی بانڈکے لیے گنجائش نکالی جا سکتی ہے، لیکن یہاں معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی نظر آتا ہے۔ انڈیمنٹی بانڈ درکار تھا تو اس کی رقم معقول ہونی چاہیے تھی۔ العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے میں سات ارب روپے جرمانے کی سزا معطل ہے، اب سات ارب کے انڈیمنٹی بانڈ کا مطلب نواز شریف سے اقبالِ جرم کرانا ہے، وہی پرانی بات کہ پیسے دو اور چلے جائو۔ ادھر ”پاسباں مل گئے…‘‘ والا منظر ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور شریف فیملی سے کہیں زیادہ وزیروں، مشیروں اور پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو نواز شریف کی صحت کی فکر لاحق ہے کہ بیرونِ ملک علاج میں تاخیر، میاں صاحب کی زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ ان کا ہمدردانہ مشورہ ہے کہ شریف فیملی (اور مسلم لیگ ن) 70 ارب کے انڈیمنٹی بانڈ دے تاکہ میاں صاحب علاج کے لیے بلا تاخیر بیرونِ ملک جا سکیں۔
ایک دلچسپ صورتِ حال ایک ٹاک شو میں شاہ محمود قریشی کو درپیش آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب، ان کی فیملی اور مسلم لیگ (ن)کو انڈیمنٹی بانڈ کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ انہیں اس اعتراف میں بھی کوئی عار نہ تھی کہ میاں صاحب کی جان کو خطرے میں ڈالنا، خود تحریک انصاف کے مفاد میں بھی نہیں۔
یہاں این آر او کے حوالے سے گفتگو نے دلچسپ رخ اختیار کر لیا۔ وزیر اعظم صاحب کا یہ دعویٰ بچے بچے کو زبانی یاد ہو چکا کہ یہ مجھ سے صرف تین لفظ سننا چاہتے ہیں، این آر او… لیکن میں این آر او نہیں دوں گا‘ جس پر اپوزیشن کا جواب بھی، سب کو یاد ہو چکا کہ آپ سے این آر او مانگ کون رہا ہے اور یہ کہ آپ این آر او دے کب سکتے ہیں؟
جناب شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کسی کو این آر او کا اختیار ہی نہیں کہ آئین اور قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، خود سپریم کورٹ این آر او کو خلافِ آئین قرار دے چکی ہے۔ اینکر کا سوال تھا کہ آپ یہ بات اپنے پرائم منسٹر کو کیوں نہیں بتاتے کہ انہیں این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں، تو وہ ایسی باتیں کرتے کیوں ہیں؟ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) انڈیمنٹی بانڈ کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ اس توقع کا اظہار کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر عدالت اس معاملے کو طول نہیں دے گی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہباز شریف کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ قائم کر دیا تھا۔ ادھر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی غیر مشروط اجازت دینے کی رولنگ دی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •