خواجہ آصف سے مراد سعید تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کا محاذ دو ہفتے گرم رہنے کے بعد سرد ہونا شروع ہوگیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے عمران خان حکومت کے ہاتھ پائوں اس طرح پھول گئے تھے جیسے کبھی عمران خان کے لانگ مارچ اور دھرنے سے نواز شریف حکومت کے۔ نواز شریف حکومت کے وزرا تو اتنے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ اس وقت کچھ وزرا کے بارے میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ وہ منسٹر انکلیو میں اپنے سرکاری گھروں میں رہنے کی بجائے دوستوں کے گھروں میں رہنا شروع ہوگئے ہیں کہ کہیں دھرنے کے شرکا ٹی وی کے بعد وزیروں کے گھروں کا رخ نہ کر لیں ۔
عمران خان کے دھرنے کا دبائو تھا کہ نواز شریف کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے کہنا پڑ گیا کہ وہ معاملات طے کرائیں۔ اس پر عمران خان اور طاہر القادری دونوں کو رات گئے جی ایچ کیو بلایا گیا ‘ جہاں یہ پیشکش کی گئی کہ وہ چھ میں سے پانچ شرائط منوا لیں ‘لیکن نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ نہ کریں‘ تاہم عمران خان نہ مانے اور یوں یہ مذاکرات ناکام ہوگئے ۔مگر اب حالات مختلف ہیں کیونکہ اس دفعہ فوجی قیادت پہلے دن سے اس دھرنے کے خلاف تھی اور یہ بات مولانا فضل الرحمن کو بلا کر سمجھائی بھی گئی‘ البتہ مولانا ضد پر قائم رہے جس کے بعد یہ شک کیا جانے لگا کہ اس دھرنے کے پیچھے کون ہے؟ اس پر مختلف سازشی تھیوریز پر بھی کام ہوتا رہا ۔ اگرچہ مولانا کی پہلی تقریر نے سب کے ہوش اڑا دیے تھے ‘جب انہوں نے یہ کہا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں اپنے ہجوم کے ساتھ گھس کر عمران خان کو گرفتار کر لیں گے۔
یہ سب اعصاب کا کھیل تھا یا جیسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ پہلے آنکھ کون جھپکتا ہے۔ اس اعصاب شکن کھیل میں اب پہلے آنکھ یقینا مولانا نے ہی جھپکی ہے‘ لہٰذا عمران خان اس محاذ پر بھی دیکھا جائے تو کامیاب رہے ہیں۔ تمام تر دبائو کے باوجود وہ اپنی جگہ ڈٹے رہے ‘اگرچہ انہیں بھی مولانا کے کنٹینر سے اتنا ہی برا بھلا کہا جاتا رہا جتنا عمران خان نواز شریف کو کہتے تھے‘ لہٰذا یہ ایک طرح سے کرما تھا کہ جو کام عمران خان دوسروں کے خلاف کرتے تھے وہی ان پر ہی آن گرے ۔ ہم جیسے لوگوں کو مولانا کے دھرنے پر اعتراض ہو سکتا ہے‘ لیکن پھر بھی یہ کہنا پڑے گا جمہوریت کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو وہ پھر بھی یہ دبائو برداشت کرجاتی ہے۔
عمران خان کے دھرنے کا ایک سو چھبیس دن تک یہ کمزور جمہوریت دبائو برداشت کرتی رہی‘ حالانکہ روز لگتا تھا کہ اب جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے گی‘ تاہم پھر بھی کام چلتا رہا‘ کیونکہ پارلیمنٹ چل رہی تھی۔ نواز شریف صاحب نے سمجھداری دکھائی اور پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر وہاں تقریریں شروع کرا دیں ۔ اب بھی دیکھیں تو پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے ‘جہاں حکومت اور اپوزیشن کے لوگ تقریریں کررہے ہیں ۔ جہاں اپوزیشن حکومت کو ڈرانے کے کام پر لگی ہوئی ہے‘ وہیں حکومت بھی ذرا پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں‘ تاہم ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی جو تقریریں غور سے سنی گئی ہیں وہ خواجہ آصف اور مراد سعید کی ہیں۔
اگرچہ پیپلز پارٹی بھی درمیان میں شامل باجہ ہونے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے ایم این ایز بھی درمیان میں وہی سلوک آصف زرداری کے ساتھ چاہتے ہیں جو نواز شریف کو مل رہا ہے‘ تاہم لگتا ہے نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی سننے کو تیار نہیں‘ لہٰذا زرداری صاحب کی بات پارٹی کے لوگ کرتے بھی ہیں تو انہیں باہر عوام میں پذیرائی نہیں ملتی ۔ اس کے مقابلے میں نواز شریف کیمپ بہت آرگنائزڈ ہے اور وہ نہ صرف ٹی وی شوز بلکہ سوشل میڈیا کا بھی استعمال بہت اچھے طریقے سے کرتے ہیں ۔ یوں حکومت پر جس طرح کا دبائو نواز لیگ ڈال سکتی ہے اور اپنی مرضی کے نتائج لے لیتی ہے وہ پیپلز پارٹی نہیں لے سکتی ۔
دوسری طرف عمران خان حکومت کو پارلیمنٹ میں یہ فائدہ ہورہا ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سینیٹ چیئر مین کے الیکشن کے موقع پر جو اعتماد کا بحران پیدا ہوا تھا ‘ اس کے اثرات سب کو نظر آتے ہیں۔ نواز لیگ کو لگتا ہے کہ زرداری نے سینیٹ میں دھوکا کیا اور اپنی ڈیل کر کے رعایتیں لے لیں۔ زرداری کیمپ یہ سمجھتا ہے کہ سیاست میں وہی کامیاب کہلاتا ہے جو دوسروں کو اپنی مرضی اور اپنے وقت پر استعمال کر لے۔ ماضی میں شریف خاندان پیپلز پارٹی کو استعمال کر کے فوجی حکمرانوں سے ڈیل لے چکا ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں جب مشکل میں ہوں تو ایک دوسرے کو استعمال کر کے اپنا اپنا کام چلاتی رہتی ہیں‘دونوں کو علم ہوتا ہے کہ دوسرا انہیں استعمال کر کے اپنے فوائد لے رہا ہے‘ لیکن یہ اسے کرنے دیتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ اگلی دفعہ وہ اپنا سکور سیٹل کر لیں گے۔
اس لیے جب خواجہ آصف قومی اسمبلی میں وہی پرانی تقریر نئی کر کے کر رہے تھے تو مجھے ان کی کسی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ کبھی میں خواجہ آصف کا بڑا مداح تھا‘ لیکن جب ان کی پارٹی کو اقتدار ملا تو سب ایکسپوز ہوتے چلے گئے۔ جن باتوں پر خواجہ صاحب کو ہم مہان سمجھنے لگ گئے تھے‘ پتہ چلا کہ وہ سب اپوزیشن کے دنوں کی لفاظی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ وہی دعوے کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں اور آئندہ نہیں کریں گے‘ مگرہر دفعہ اقتدار ملتے ہی سب کچھ وہی پرانا کرنے کے بعد پھر اپوزیشن میں وہی نعرے کہ ہم نے سبق سیکھ لیا ہے‘ اب نہیں ہوگا۔ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ آج پھر نواز لیگ کو اقتدار مل جائے تو یہ سب کام وہیں سے شروع کریں گے جہاں یہ چھوڑ کر گئے تھے ۔ نواز شریف کو چوتھی دفعہ بھی وزیراعظم بنا دیا جائے تو یہ تین سال بعد پھر جیل میں بیٹھے ہوں گے۔ اگر آپ کو یقین نہیں تو کوشش کر کے دیکھ لیں۔
خواجہ آصف کی باتوں میں اب اس لیے اثر نہیں رہا کہ انہیں خود بھی پتہ ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر نہ انہوں نے ماضی میں عمل کیا اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔ انہیں پتہ ہے کہ لوگوں اور میڈیا کو کیسے جذباتی کر کے ہمدردیاں سمیٹنی ہیں۔خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ ان پر اعتبار کیا جائے نواز شریف بغیر گارٹنی کے وطن لوٹ آئیں گے‘ پر عمران خان اعتبار نہیں کریں گے‘ بلکہ خواجہ آصف کو اس حالت میں نواز شریف کے لیے منتیں کرتے دیکھ کر عمران خان کو زیادہ سکون ملا ہوگا۔ نواز لیگ سمجھتی ہے کہ نواز شریف نے اپنے اقتدار میں عمران خان کی بیوی اور ساس پر ٹائلوں کی چوری کے مقدمے بنائے تھے اس لیے آج جب عمران خان پوزیشن میں ہیں تو وہ بھی ہمدردی دکھانے کے موڈ میں نہیں‘ چاہے لاکھ خواجہ آصف کہتے رہیں کہ موجودہ حکومت وہی غلطیاں کررہی ہے جو وہ کرتے رہے ہیں ۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے پاس پارلیمنٹ میں خواجہ آصف جیسے زوردار مقرر کا جواب دینے کے لیے ایک ہی وزیر ہے جس کا نام مراد سعید ہے۔ مراد سعید شاید اکیلا وزیر ہوگا جو پوری تیاری کے ساتھ ہاؤس میں جاتا ہے اور ہر دفعہ خواجہ آصف کی تقریر کا توڑ کرتا اور اس کا اثر زائل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ مجھے بھی پارلیمنٹ میں اتنی دلچسپی رہ گئی ہے کہ کب خواجہ آصف اور مراد سعید کا تقریری مقابلہ سننے کو ملے۔ ویسے خواجہ آصف اور مراد سعید میں کچھ باتیں مشترک ہیں ۔دونوں جذباتی اور اچھی تقریر کر لیتے ہیں ۔ دونوں بہادر‘ اپنی قیادت سے قریب اور سب سے بڑھ کر دونوں کا سٹار ایک ہے یعنی برج اسد( LEO )لہٰذا دونوں کے اندر جارحانہ پن اور آگ ہے جو اس برج کا خاصہ ہے۔
یہ بات اب پرانی ہوچکی ہے کہ اسمبلی اپنی اہمیت کھو رہی ہے۔نواز شریف کے پاس اچھا موقع تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرتے‘ لیکن وہ ایک سال سینیٹ نہ گئے اور آٹھ ماہ قومی اسمبلی کا منہ نہ دیکھا ۔ دنیا بھر کے دورے کرتے رہے‘ مگر جس پارلیمنٹ کو وزیراعظم اہمیت نہیں دے گا تو پھر کوئی نہیں دے گا۔ عمران خان بھی وہی دُہرا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک پارلیمنٹ بیکار ادارہ ہے‘ جہاں بیٹھنا وقت کا ضیاع ہے۔ عمران خان بھی کسی کے زوال سے سبق سیکھنے پر یقین نہیں رکھتے ‘جیسے نواز شریف نہیں رکھتے تھے‘ لیکن عمران خان کو نواز شریف کے زوال سے سبق سیکھنا چاہیے ۔
سیانے کہہ گئے ہیں وقت ایک جیسا نہیں رہتا…اچھے برے دونوں وقت گزر جاتے ہیں ۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •