عدالتی فیصلہ: ابراہیم اور انجلی اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں

آلوک پرکاش پوتول - بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین ریاست چھتیسگڑھ میں ’لو جہاد‘ کے نام سے مشہور ہونے والے ابراہیم اور انجلی کی محبت کی شادی کے معاملے میں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انجلی جین اپنی پسند کے شخص کے ساتھ اپنی مرضی کی جگہ رہ سکتی ہیں۔

انجلی جین نے بی بی سی سے کہا کہ وہ ’سکھی‘ نامی سرکاری رہائش گاہ کے سینٹر سے آزاد ہونے کے بعد اپنے شوہر ابراہیم صدیقی کے ساتھ رہیں گی۔

مقامی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ کی کارروائی تک الجھی اس کہانی کی کردار انجلی جین گزشتہ آٹھ ماہ سے سُکھی سینٹر نامی ایک سرکاری رہائش گاہ میں رہ رہی تھیں، جہاں گزشتہ ماہ ان کے ساتھ مارپیٹ کے واقعے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ابراہیم اور انجلی کی وکیل پرینکا شکلا نے کہا کہ ’ہائی کورٹ نے پولیس کے سامنے انجلی کو سُکھی سینٹر سے آزاد کرائے جانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس دوران سُکھی سینٹر کے اعلیٰ اہلکاروں کی موجودگی کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔‘

اس معاملے میں انجلی کی چھوٹی بہن کے خط کی بنیاد پر چھتیسگڑھ ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا۔ اس کے علاوہ انجلی کے رشتہ داروں کی جانب سے بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ انجلی نے خود بھی ہائی کورٹ کو ایک خط لکھا تھا۔

تمام فریقین کو سننے کے بعد گزشتہ جمعہ کو چھتیسگڑھ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد انجلی جین نے بی بی سی سے کہا کہ ’عدالت پر میرا یقین اور مضبوط ہوا ہے۔ میں گزشتہ آٹھ ماہ میں جس تکلیف سے گزری ہوں اسے کوئی واپس نہیں کر سکتا۔ لیکن دیر سے ہی صحیح، میرے ساتھ انصاف تو ہوا۔‘

انجلی جین نے کہا کہ وہ سُکھی سینٹر سے آزاد ہونے کے بعد اپنے شوہر محمد ابراہیم صدیقی عرف آرین آریا کے ساتھ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مذہبی رنگ دے کر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن عدالت کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ ’لو جہاد‘ نہیں صرف ’لو‘ کا معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’آپ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے‘

‘مودی’ لو جہاد کے چکر میں

ہادیہ کا اسلام ’لو جہاد‘ کی مثال؟

پورا معاملہ کیا ہے

چھتیسگڑھ کے دھمتری علاقے میں رہنے والے 33 سالہ محمد ابراہیم صدیقی اور 23 سالہ انجلی جین نے دو برس کی جان پہچان کے بعد 25 فروری 2018 کو رائپور کے آریا مندر میں شادی کر لی تھی۔

ابراہیم کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شادی سے قبل ہندو مذہب اپنا لیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا نام آرین آریا رکھا تھا۔

محمد ابراہیم عرف آرین آریا نے بتایا کہ ’جیسے ہی میری اہلیہ انجلی کے رشتہ داروں کو ہماری شادی کی خبر ملی، انہوں نے میری اہلیہ کو گھر میں قید کر لیا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میری انجلی سے ملاقات ہو سکے، لیکن یہ ممکن نہیں ہو سکا۔‘

اس کے بعد ابراہیم نے چھتیسگڑھ ہائی کورٹ میں میں اپنی اہلیہ کہ رہائی کے لیے اپیل کی۔

لیکن چھتیسگڑھ ہائی کورٹ نے انجلی جین کو سوچنے کے لیے وقت دیتے ہوئے ایک ہاسٹل میں یا اپنے والدین کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کو مسترد کر دیا۔

انجلی جین نے والدین کے ساتھ رہنے کے بجائے ہاسٹل میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد ابراہیم نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

گزشتہ برس اگست میں انجلی کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں انجلی نے اپنے والدین کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

لیکن فروری میں اس معاملے میں ایک اور نیا موڑ آیا۔

تشدد کے الزامات

انجلی کا دعویٰ ہے کہ گھر لوٹنے کے بعد انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد نے انہیں ادویات کھلانی شروع کر دیں، جس سے وہ بیمار رہنے لگیں۔

انجلی کے مطابق انہوں نے ریاست کے ڈی جی پولیس کا نمبر حاصل کیا اور انہیں فون کر کے والد کی جانب سے ہونے والے تشدد سے رہا کروانے کی فریاد کی۔

اس کے بعد پولیس نے انہیں گھر سے آزاد کرایا اور انہیں رائپور میں خواتین کے لیے سرکارئی رہائشگاہ سکھی سینٹر میں رکھا گیا۔ انجلی گزشتہ آٹھ ماہ سے اس سینٹر میں رہ رہی تھیں۔

انجلی نے الزام عائد کیا تھا کہ اس درمیان سکھی سینٹر میں خاندان والوں، ہندو تنظیموں اور پولیس اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیے

’پاسپورٹ چاہیے تو ہندو مذہب اختیار کر لو‘

ہندو مسلمان جوڑوں کی ’ہٹ لسٹ‘ فیس بک سے خارج

کیا ترقی ہوئی؟

معاملہ عدالت میں پہنچا

اس بارے میں انہوں نے چھتیسگڑھ ہائی کورٹ کو ایک تفصیلی خط لکھا تھا۔

دوسری جانب معاملہ سپریم کورٹ میں بھی پہنچا۔ اس دوران چھتیسگڑھ میں انجلی اور ابراہیم کے تعلق کے بارے میں کئی مظاہرے بھی ہوئے۔

انجلی جین کے والد اور ہندو تنظیموں نے مل ہر ہڑتال بھی کی۔

رائپور سے لیکر دلی تک انجلی کے والد نے اس معاملے کو ’لو جہاد‘ کا نام دیتے ہوئے مذہبی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی تھی۔ لیکن معاملہ الجھتا چلا گیا۔

گزشتہ ماہ انجلی جین سے سُکھی سینٹر میں ملاقات کے دوران ان کی وکیل پرینکا شکلا پر بھی ایک سماجی کارکن نے مبینہ طور پر حملہ کیا تھا۔

اس حملے کے بعد سٹیٹ بار کونسل نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور حملہ آور کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12247 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp