مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب: ‎’نواز شریف کو طبی طور پر تیار کرنے کے لیے ڈاکٹروں کو 48 گھنٹے کا وقت چاہیے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم اورنگزیب

BBC

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے لیے تیاریاں ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دی گئی ہیں۔

مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں ‎عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‎سابق وزیر اعظم نواز شریف کو طبی طور پر تیار کرنے کے لیے ڈاکٹروں کو 48 گھنٹے کا وقت چاہیے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق ‎بیرون ملک فضائی سفر کے دوران نوازشریف کے پلیٹ لیٹس برقرار رکھنے اور دل کی کسی ممکنہ تکلیف سے بچاو کے لیے ڈاکٹر طبی تیاری میں مصروف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر دوران سفر کسی ممکنہ پیچیدگی کے سدِباب کے لیے تمام احتیاطی تدابیر بروئے کار لائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ: بانڈز کی شرط ختم، ای سی ایل سے نواز شریف کا نام ہٹانے کا حکم

ای سی ایل کیا ہے، اس سے نام نکالنے کا عمل کیا ہے؟

کیا نواز شریف علاج کے لیے ہارلے سٹریٹ جائیں گے؟

نواز شریف کا علاج: ایئر ایمبولینس اتنی مہنگی کیوں؟

مریم رہائی کے بعد نواز شریف کے ہمراہ جاتی امرا میں

مریم اورنگزیب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سابق وزیراعظم کے بخیریت سفر اور صحت کے لیے دعا کریں۔

انھوں نے ‎میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے بقول ان کے مشکل حالات کے باوجود نواز شریف کی صحت اور علاج کے بارے میں قوم کو پل پل باخبر رکھا۔

پاکستان مسلم لیگ کی ترجمان نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے گذشہ 20 دنوں میں نواز شریف کے بیرون ملک علاج سفر میں بلاجواز ‘روڑے’ اٹکائے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سنیچر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی مشروط حکومتی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

فردوس عاشق اعوان

Getty Images

خیر سگالی کے جذبے پر شک کیا گیا

دوسری جانب وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے خیر سگالی کے اظہار پر شک کیا گیا اور اس کا مذاق اڑایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے حکومتی ارکان کو نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے بیان بازی سے منع کر دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانتی بانڈز کے بغیر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کے حکم کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا بیرون ملک جانے کا معاملہ انسانی اور قانونی ہے لیکن اسے سیاسی بنا دیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ‘کابینہ نے نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ شریف فیملی کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ضمانتی بانڈز کی شرط رکھی تھی کیونکہ یہ پہلے بھی معاہدہ کر کے باہر گئے تھے لیکن انھوں نے اسے توڑنے کی کوشش کی۔’

ان کے بقول وزیراعظم کی طرف سے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرنے پر مسلم لیگ نون نے وزیر اعظم کی کردار کشی کی جو افسوناک بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11177 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp