نیا ٹرینڈ، کورین ڈرامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی محبت، بچپن کی دوستی اور رومانس، کورین اسکرپٹ میں جان ہے بھئی۔ اداکار، بڑی خوبی اور مہارت سے ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر، پولیس افسر، صحافی اور شیف بنے نظر آتے ہیں۔

رومانس اور اور کوریا کے دل لبھاتے موسم سے قطع نظر، یہ ڈرامے یقینا ملک میں اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیت فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہوں گے۔

فیمینزم پر مبنی ایک فلم نے کوریا میں بحث چھیڑ دی، کورین معاشرہ میں بھی خواتین اپنے حقوق کے لئے برسر پیکار ہیں۔ ایک فلم نے بڑی خوبی سے اس پہلو کو اجاگر کیا کہ معاشی اور سائنسی ترقی ایک طرف لیکن کوریا میں پدرشاہی معاشرتی نظام کا حصہ خواتین، صنفی امتیاز سے محفوظ نہیں

بچپن میں پی ٹی وی پر جیکی چن اور وان ڈیم کی فلمیں دکھائی جاتیں تو ہم سب بچے قطار بنا کر ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے، فلم دیکھنے کا یہ موقع صرف تب ہی آتا تھا جب قومی ٹیلی ویژن پر کوئی فلم نشر کی جاتی، اردو ڈبنگ میں ایڈٹ کی گئی اس فلم کو دیکھتے ہوئے، کبھی ہنستے، کبھی قہقہہ مارتے اور کبھی ہیرو کی بہادری پر خوب تالیاں بجاتے، جیکی چن اور وان ڈیم اس زمانے میں میرے پسندیدہ تھے، پھر وقت بدلا اور دنیا بھر میں تیار ہونے والی فلمیں اور ڈرامے ہمارے موبائل فون میں آگئے۔

یہ تبدیلی اپنی جگہ حیران کن بھی ہے اور سہل بھی۔ یہ خوش نصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ آج ہم، فلم اور ڈرامہ سے محظوظ ہونے کے لیے ٹی وی سیٹ کے محتاج نہیں رہے۔ لاتعداد چینلز، یوٹیوب، وڈیو ایپ، کانٹینٹ ڈسٹری بیوشن سائٹس وغیرہ نے آسانیاں پیدا کر کے ناظرین کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے تو دوسری جانب دنیا بھر کے ڈرامے اور فلمیں بھی دسترس میں ہیں۔ بس گہرے سمندر میں انٹرنیٹ کی تاریں محفوظ ہوں، بارش سے سستی انٹرنیٹ کیبل کا تیا پانچا نہ ہو اور آپ نے انٹرنیٹ کا بل بھی ادا کیا ہو تو بس کوئی بھی ڈیوائس کنیکٹ کیجئے اور لامحدود فلم اور ڈرامے دیکھنے کا لطف اٹھائیے۔

اب ذرا بات ہوجائے کہ دیکھیں کیا، جناب اپنی مادری زبان میں فلم اور ٹی وی تو سب ہی دیکھتے ہیں، لیکن اجنبی زبان میں کسی انجان ثقافت کے رنگ اپنی ہتھیلی پر سجانا ایک بے حد دلچسپ تجربہ ہے۔ گیم آف تھرونز، فرینڈز، بگ بینگ تھیوری، اورنج از دی نیو بلیک، ہاؤس آف کارڈز، بریکنگ بیڈ اور ایوری بڈی لو ریمنڈ، ڈاؤنٹن ایبی، باڈی گارڈ، پیکی بلائنڈرز وغیرہ عالمی سطح پر مقبول نئے اور پرانے ڈرامے ہیں، جنہوں نے نہ صرف امریکا اور برطانیہ میں مقبولیت حاصل کی بلکہ دنیا بھر کے ناظرین کو اپنا مداح اور پرستار بنایا، پاکستان میں بھی ایک بڑی تعداد انگریزی ڈراموں کی مداح ہے، لیکن جب دل ان سے بھی اوب جائے تو کیا کریں، آسان طریقہ ہے، برٹش اور امریکی ڈراموں کے علاوہ دیگر زبان اور ممالک کے ڈرامے دیکھنے کا تجربہ حاصل کیجئے۔

اسپینش، پولش، کورین، چینی اور جاپانی، آپ کو نہ صرف ان کی ثقافت سے متعارف ہونے کا موقع ملے گا بلکہ یہ بھی معلوم ہوگا کہ ان کی معاشرت کیسی ہے اور ان کے یہاں کس قسم کے ملبوسات پہنے اور کون سے کھانے پسند کیے جاتے ہیں اور پھر اعلیٰ اداکاری سے جو لطف حاصل ہوگا وہ الگ ہی بات ہوگی۔ خیال رہے مختلف زبانوں میں مختلف فلمیں دیکھنے کا لطف وہی سمجھ سکتا ہے جسے یہ موقع ملا ہو اور یہ بھی یاد رہے کہ کسی غیر ملکی زبان میں ڈرامہ یا فلم دیکھنے کا مزہ تب ہی آتا ہے جب زبان کا لطف برقرار رہے۔ اس لیے میں اکثر ڈرامے اصلی زبان میں سب ٹائٹل کی مدد کے ساتھ دیکھتی ہوں۔ یوں مختلف ممالک کی زبان سننے اور سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں شعبہ فنون لطیفہ میں کس انداز سے کام کیا جارہا ہے۔

پچھلے کچھ ماہ کے دوران کئی بار سنا کہ کورین ڈرامے بڑے اچھے ہیں، خاص طور پر لڑکیوں کی بڑی تعداد ان سے بے حد متاثر نظر آئی، ابھی 2016 ءکی مقبول ترین کورین کتاب اور اس پر اٹھنے والا فیمینزم کا غلغلہ کہیں دماغ کے کونے میں محفوظ تھا، سوچا ایسا بھی کیا ہے کورین ڈرامہ میں جو ان لڑکیوں کو بھا گیا ہے، کیوں پاکستانی لڑکیاں، کورین ہیروئنز میں اپنی جھلک دیکھ رہی ہیں، کیا واقعی ہمارامعاشرہ اور ان کے مسائل ایک جیسے ہیں؟

یکسانیت کس پہلو میں پوشیدہ ہے اور وہ کون سا عنصر ہے جو اپنائیت دکھاتا ہے۔ کہتے ہیں اپنائیت کی جانب دل کھنچتا ہے اور اجنبیت کی کشش بھی لاجواب ہوتی ہے، یوں کورین ڈرامے دیکھنے کا فیصلہ کیا اور یہ کہنا درست ہوگا کہ ترکی ڈراموں کے بعد کورین ڈرامہ میں پاکستانی ڈرامہ شوقین عوام کا دل جیتنے کی ہر خوبی ہے۔ یہ ڈرامے خوشگوار پس منظر، رومانس، کامیڈی اور اخلاقی تہذیب و شائستگی کا دلچسپ امتزاج ہیں۔ اداکار ی کا شعبہ قابل تعریف ہے تو دوسری جانب کہانی لکھنے کے فن پر بھی کورین مصنفین کو کمال حاصل ہے جسے باصلاحیت ہدایتکار بڑی خوبی سے اسکرین پر پیش کرتے ہیں۔

دلچسپ مکالمے بے اختیار مسکرانے پر مجبور کرتے ہیں تو بچپن کی محبت اور بچھڑے ہوئے پیار کا یوں کسی باغ میں مل جانا بڑا ہی لبھاتا ہے۔ بہت سے کورین ڈرامے رومانس اور کامیڈی پر مبنی ہیں اور جنوبی کوریا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ماحول، انداز اور روایات کا احاطہ بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔ بیوٹی فل گونگ شم، ڈسٹورٹڈ، کِل می ہِیل میں، سیکرٹ، گڈ ڈاکٹر، ڈاکٹرز، اوہ مائی گھوسٹ، این ادر مس اوہ، گڈ منیجر، ٹنل، ورلڈ اپارٹ، سسپیشس پارٹنر وغیرہ مختلف انداز کی کہانیوں اور مختلف کرداروں کو بڑی خوبی سے پیش کرتے ہیں۔

ویب ٹون، سائنس فکشن، پراسرار اور پرتجسس، کورین تاریخ، ٹائم ٹریول، ہر قسم کے موضوعات کورین ڈراموں کا حصہ ہیں اور شاید یہی خوبی اس کی دلچسپی اور مقبولیت کا سبب بھی ہیں۔ ان ڈراموں میں اخلاقیات، تمیز و آداب کا جو انداز پیش کیا جاتا ہے، وہ بھی انجانا نہیں، پاکستانی معاشرہ میں رہنے والے افراد اس کو بخوبی پہچان سکتے ہیں کہ بڑوں کے سامنے ادب و احترام، والدین اور بچوں، پڑوسی اور رشتہ داروں کے ساتھ سلوک میں بھی مشرقی جھلک خوبی سے پہچانی جاسکتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کورین ڈراموں میں بچپن کا پیار بڑا ہی عام موضوع ہے، مجھے تو یہ موضوع سادہ اور رومینٹک محسوس ہوا، یہ کم از کم پاکستانی ڈرامہ ٹرینڈ سے بہتر ہے، جہاں کم و بیش ہر ڈرامہ میں ایک خوفناک ساس اور عشق میں عقل و شعور سے بیگانی کزن کو ہر دم مشکل میں گرفتار ہیروئن کا دشمن دکھایا جاتا ہے اور خواتین کی شخصیت کی دھجیاں سی اڑ جاتی ہیں۔

ایک اہم خوبی کورین ڈراموں کی یہ بھی محسوس کی کہ ڈرامہ آرٹ کے ذریعہ وہ معاشرے میں تعلیم اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ڈراموں کا مقصد یقینا دلچسپ تفریح ہو لیکن ڈرامہ شعور اجاگر کرنے کا سبب بن جائیں تو کیا قابل تعریف بات نہیں؟ جب آپ کورین ڈرامہ دیکھتے ہیں تو آپ کو ہر ڈرامے میں مرکزی کردار کسی خاص شعبہ سے منسلک نظر آتا ہے۔ اگر مرکزی کردار ڈاکٹر ہے تو پھر اس شعبہ کو بہترین اور حقیقی انداز میں پیش کرکے وہ ناظرین کی متوجہ کرلیتے ہیں۔

صحافی کا کردار بھی بڑا خوبی سے نبھتا نظر آتا ہے اور شیف کے روپ میں اداکار کی اداکاری قابل یقین نظر آتی ہے۔ مگر یہ نہ سمجھئے گا کہ کورین ڈرامے بس ڈرامائی کردار ہی حقیقی انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حقیقت سے قریب اداکاری کے ساتھ ساتھ اصل زندگی کے حقائق پیش کرنے کی بھی کورین ڈرامہ اور فلم میں بھرپور گنجائش موجود ہے اور اس کی مثال پچھلے دنوں ریلیز ہونے والی ایک کورین فلم سے ملی۔ یہ فلم بیسٹ سیلر ناول ”کم جی ینگ بورن 1982“ پر مبنی ہے جو پوری دنیا میں موضوع بحث بنی۔

کیا یہ کورین ڈرامہ اور فلم کی کامیابی نہیں کہ ایک فلم نے بڑی خوبی سے اس پہلو کو اجاگر کیا کہ معاشی اور سائنسی ترقی ایک طرف لیکن کوریا میں پدرشاہی معاشرتی نظام کا حصہ خواتین، صنفی امتیاز سے محفوظ نہیں۔ ایک کتاب اور اس پر بننے والی فلم نے کوریا میں خواتین کے محدود اختیارات کو واضح کیا، صنفی نا انصافی اور جنس کی بنیاد پر معاشرتی دباؤ کا شکار رہنے والی خواتین کے مسائل کو پیش کیا، یہ فلم دراصل کورین معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑی خوبی سے عیاں کرتی ہے۔

پہلے کتاب اور بعد میں فلم نے کورین معاشرے میں خواتین کے حقوق اور اختیارات پر بحث کا آغاز کیا اور اس جانب توجہ دلائی کہ اب بھی بہت سا کام باقی ہے اور یہ ایسا مسئلہ نہیں جسے پروجیکٹڈ ٹی وی امیج کے ذریعہ چھپایا جاسکے۔ البتہ جو بات قابل تعریف ہے وہ یہ ہے کہ کورین آرٹ (فلم، ڈرامہ اور کتاب) محض تفریح اور دلچسپ مناظر تک محدود نہیں، بلکہ اس میں معاشرے کے حقائق واضح کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، جہاں ایک طرف کورین ڈرامہ میں خوبصورتی اور دلچسپی ہے، ویسے ہی معاشرے کے حقائق اجاگر کرنے کے حوالے سے بھی اس میں بڑی جان ہے۔

(یہ مضمون نئے ٹرینڈ کو مد نظر رکھ کر لکھا گیا ہے، کورین ڈرامے بڑی تیزی سے پاکستان میں مقبول ہورہے ہیں، عوامی رائے کے پیش نظر یہ مضمون، تحقیق کے بعد لکھا گیا۔ مناسب تصاویر ای میل کے ساتھ اٹیچ کی گئی ہیں، جو مقبول کورین ڈراموں کے مناظر پر مشتمل ہے۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نزہت نثار کی دیگر تحریریں
نزہت نثار کی دیگر تحریریں