انڈیا: حیدرآباد کی ایک بچی کی وائرل ہونے والی تصویر کی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک پانچ سالہ بچی کی ایک تصویر کی اشاعت کے بعد اسے سکول میں داخلہ دے دیا گیا۔ تصویر میں بچی بظاہر حسرت و یاس کا پیکر بنے ایک سکول کے کمرے میں جھانک رہی ہے جہاں بیٹھے دوسرے بچے پڑھ رہے ہیں۔ بی بی سی تلیگو سروس کی دِپتی بتھینی بتاتی ہیں کہ تصویر میں دکھائی جانے والی کہانی ادھوری کیوں ہے۔

دیویا حیدر آباد کی جس کچی بستی میں رہتی ہے، اب وہاں وہ اتنی مشہور ہو گئی ہے جیسے وہ کوئی سیلیبرٹی ہو۔ اور اس کی وجہ اس شرمیلی لڑکی کی وہ تصویر ہے جو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔ تصویر میں وہ ایک پرات نما برتن پکڑے ایک مقامی سکول کے کلاس روم کے دروازے سے لگی کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پاورٹی پورن’ کے عنوان سے تصاویر پر شدید ردعمل

انڈیا: مزدور عورتیں اپنی بچے دانیاں کیوں نکلوا رہی ہیں؟

انڈیا پاکستان اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے

یہ دلخراش تصویر تلیگو زبان کے ایک اخبار میں 7 نومبر کو شائع ہوئی اور اس کے نیچے لکھا تھا ’ بھوک، اپنی نطریں گاڑھے ہوئے‘۔

اخبار میں شائع ہوتے ہی حیدرآباد میں ہر کوئی اس تصویر کے بارے میں بات کرنے لگا اور انسانی حقوق کے ایک کارکن نے اسے فیس بُک پر شیئر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک اور بچی کو خوراک اور تعلیم کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد اس تصویر کا اثر اس قدر زیادہ ہوا کہ اس سکول نے اگلے ہی دن دیویا کو اپنے ہاں داخلہ دے دیا۔

لیکن دیویا کے والد ایم لکشمن کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی کی تصویر پر لوگوں نے رحمدلی کے جن جذبات کا اظہار کیا، اس پر وہ اور ان کی بیوی خوش نہیں ہیں۔ لکشمن کی بیوی، یشودھا خاکروب کا کام کرتی ہیں۔

دیویا

BBC
اب دیویا نے باقاعدہ سکول جانا شروع کر دیا ہے

وہ کہتے ہیں ’میں نے جب تصویر دیکھی تو مجھے دُکھ ہوا۔ دیویا کے ماں باپ موجود ہیں اور ہم اسے ایک اچھا مستقبل دینے کے لیے سخت محبت کر رہے ہیں، لیکن تصویر میں اسے ایک بھوکی یتیم بچی کے طور پر دکھایا گیا۔‘

مسٹر لکشمن کہتے ہیں کہ وہ اور ان کی اہلیہ دیویا کے چھ سال کی عمر تک پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے جس کے بعد وہ دیویا کو اِسی سرکاری سکول میں داخل کراتے جہاں ان کی دوسری بیٹیاں جاتی ہیں۔ لکشمن اور یشودھا کا ایک بیٹا بھی ہے جو سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نہ صرف آج کل کالج میں داخلے کے لیے درخواستیں بھیج رہا ہے بلکہ اپنے والد کا ہاتھ بھی بٹا رہا ہے۔ لکشمن ردّی پلاسٹک اور دیگر کوڑ کباڑ جمع کرنے کا کام کرتے ہیں۔

غربت کا گھن چکر

دیویا اور اس کے والدین حیدرآباد شہر کے مرکز میں واقع ایک کچی بستی میں ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ یہ بستی اس سکول سے صرف تقریباً ایک سو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں دیویا کی تصویر لی گئی تھی۔ بستی میں رہنے والے اکثر خاندانوں کا گزر بسر مزدوری پر ہے اور ان کے بچے قریب اِسی سکول جاتے ہیں۔

دیویا کا گھر سازو سامان سے عاری ہے، جھونپڑی کے باہر ناکارہ پلاسٹک اور شیشے کے انبار لگے ہیں جو لکشمن نے ریسائیکلنگ یا ناکارہ چیزوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے والی کمپنیوں کے ٹھیکیداروں کو فروخت کے لیے تیار کیے ہوئے ہیں۔

لکشمن بتاتے ہیں کہ وہ دونوں میاں بیوی مل کر ماہانہ تقریباً دس ہزار روپے کما لیتے ہیں جو گھر کے کھانے پینے اور کپڑوں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ چونکہ ان کے تمام بچے سرکاری سکول جاتے ہیں اس لیے تعلیم پر ان کو کوئی پیسے خرچ نہیں کرنا پڑتے۔

لکشمن بخوبی جانتے ہیں کہ جدو جہد کرنا کسے کہتے ہیں۔ وہ خود والدین کے بغیر پلے بڑھے اور باعزت روزی کمانا ان کے لیے کبھی بھی آسان نہیں رہا ہے۔

’میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ میرے بچوں کی زندگی ایسی ہو جیسی میری رہی ہے۔ اسی لیے میں نے یہ یقینی بنایا کہ میرے تمام بچے سکول ضرور جائیں۔‘

لکشمن کہتے ہیں کہ تصویر دیکھ کر انھیں خاص طور اس لیے دُکھ ہوا کہ وہ نا صرف اپنے بچوں کو پال رہے ہیں بلکہ اپنے بھائی کے پانچ بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں۔

دیویا کے والد مسٹر لکشمن

BBC
لکشمن کہتے ہیں کہ تصویر پر اتنا شور وغوغا ان کے ساتھ ’ناانصافی‘ تھی

’میرا بھائی اور بھابھی کچھ عرصہ پہلے انتقال کر گئے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کے پانچ بچے یتیم بڑے ہوں۔ چنانچہ میں نے ان پانچوں کو سکول میں داخل کرایا اور ان کو بھی پال پوس رہا ہوں۔‘

جب میں نے پوچھا کہ دیویا برتن پکڑے سرکاری سکول کیوں گئی تھی تو مسٹر لکشمن نے بتایا کہ بستی کے بہت سے بچے کھانے کے وقت سکول پہنچ جاتے ہیں تاکہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں جس کے تحت حکومت دس لاکھ سے زیادہ سکولوں میں مفت کھانا دیتی ہے۔ لکشمن کا کہنا تھا کہ انھیں یہ بات معلوم ہے کیونکہ دیویا کے بڑے بھائی بہن اِسی سکول جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دیویا روزانہ وہاں نہیں جاتی، لیکن اتفاقاً وہ اس دن سکول گئی جہاں کسی نے اس کی تصویر اتار لی۔‘

مسٹر لکشمن کی اس بات کی تصدیق سکول کی ٹیچرز نے بھی کی اور انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ بچے کھانا گھر سے بھی لے آتے ہیں، اس لیے ٹیچرز بچا ہوا کھانا ان بچوں کو دے دیتی ہیں جو ابھی تک سکول میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

ایک ٹیچر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’بچے تو بچے ہوتے ہیں۔ اور یہاں پر دن کے وقت بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی مرکز (ڈے کیئر) نہیں ہے، اسی لیے بہت سے بچے سکول کے ارد گرد گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔‘

دیویا

BBC
دیویا کہتی ہیں سکول شروع کرنے پر انھیں بہت خوشی ہو رہی ہے

مسٹر لکشمن اور ان کے پڑوسیوں نے اس شکایت کا اظہار کیا کہ ان کی بستی کے قریب کوئی سرکاری ’آنگن وادی‘ یا ڈے کئیر نہیں ہے جس کی وجہ سے والدین کو بہت مشکل ہو رہی ہے کیونکہ جب وہ کام پر جاتے ہیں تو بچوں کو چھوڑنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

علاقے کے سکول انسپکٹر، ایس یو شِو رام پرساد کے بقول انھیں امید ہے کہ دیویا کی تصویر کی وجہ سے اس بستی کو جو توجہ ملی ہے اس کے نتیجے میں یہاں ڈے کئیر سینٹر بنانے کی کوششوں میں تیزی آئے گی۔

’اس سے والدین کو مدد ملے گی اور بچوں کو بھی غذائیت والی خوراک مل سکتی ہے۔‘

سکول انسپکٹر کے علاوہ سکول کے عملے کو بھی امید ہے کہ میڈیا میں آنے کے بعد یہاں پر سہولیات میں بہتری آئے گی۔ عملے کا کہنا تھا کہ سکول میں اساتذہ اور تعلیمی مواد کی شدید کمی ہے۔ یہاں تک کہ سکول کے گرد کوئی باقاعدہ دیوار بھی نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ٹیچرز کو آدھی چھٹی کے وقت بچوں پر مسلسل نظر رکھنا پڑتی ہے۔

جہاں تک دیویا کا تعلق ہے تو وہ بہت خوش ہے کہ اس نے سکول جانا شروع کر دیا ہے۔ وہ اپنا سکول بیگ پا کر اتنی خوش ہے کہ کھیل کے وقت بھی بیگ اٹھائے رکھنا چاہتی ہے۔ ہم نے جب دیویا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اپنا نام بتانے کے علاوہ اس نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

لکشمن نے جب کہا کہ دیویا بہت خاموش طبع بچی ہے تو بیٹی نے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اس پر بوسہ دیا۔

لکشمن کہتے ہیں جو کچھ بھی ہوا، دیویا کی تصویر کے نتیجے میں کچھ اچھی چیزیں بھی ہوئیں۔

’اب دیویا کی عمر کے دوسرے بچوں نے بھی سکول میں داخلہ لینا شروع کر دیا ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے۔‘


Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18439 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp