" /> فیض صاحب۔ کارپوریٹ برانڈ یا جمہور کی آواز؟ - ہم سب

فیض صاحب۔ کارپوریٹ برانڈ یا جمہور کی آواز؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منیزہ آپا سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں نے پی ٹی وی پر صبح کی نشریات شروع کیں۔ ایک تو خادم روایتی میڈیا کا خوش شکل شاہ زادہ نہیں تھا بلکہ دور دور تک نہیں تھا دوسرا یہ کہ حریفان خرام کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا تجربہ ہم سے زیادہ رکھتے تھے اس لیے منیزہ ہاشمی کو مجھ سے کوئی خاص توقعات نہیں تھیں اور اس کا اظہار انہوں نے ایک دو دفعہ بغیر لحاظ رکھے میرے منہ پر بھی کر دیا۔ خیر صاحب، وہ پی ٹی وی پر راج کرتی تھیں اور میڈیا کی حد تک، ہم نے ابھی گھٹنوں کے بل بھی چلنا نہیں سیکھا تھا۔ منیزہ آپا کے خدشات خندہ پیشانی سے سنے کیونکہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

پروگرام کا پہلا دن آیا، میرے ساتھ ایک نسبتا زیادہ تجربہ کار اور کہیں زیادہ سکرین بیوٹی رکھنے والی خاتون میزبان تھیں۔ پندرہ منٹ ہی گزرے کہ منیزہ آپا کا ہمارے پروڈیوسر قیصر نقی امام کو فون آ گیا۔ ارشاد ہوا ”لڑکے سے کہو زیادہ بولے، وہ زیادہ اچھا کنڈکٹ کر رہا ہے“۔ قیصر نے حکم آگے پہنچا دیا۔ ہمارا کوئی رہا سہا پنجابی ولا ”جھاکا“ تھا تو جاتا رہا۔ اگلے دن منیزہ آپا سے ملاقات ہوئی تو جس بدلحاظی سے انہوں نے تنقید کی تھی اس سے زیادہ خوش لحاظی سے انہوں نے تعریف کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیا۔

اسی پی ٹی وی پر پہلا لائیو انٹرویو سلیمہ ہاشمی اور شعیب ہاشمی کا کیا۔ ساتھ میں پھر ایک خاتون میزبان تھیں جن کو بولنے کا ازحد شوق تھا۔ انٹرویو شروع ہوا تو میرے ہر سوال کے بیچ میں انہوں نے ایک سے ایک بے تکا لقمہ دینا شروع کر دیا۔ دراصل ان کی خواہش تھی کہ اس بہانے کیمرہ زیادہ سے زیادہ ان پر رہے۔ لائیو انٹرویو تھا اس لیے کیا کہتا بس انہیں گھور کر رہ جاتا۔ شعیب ہاشمی سب نوٹ کر رہے تھے۔ وقفہ ہوا تو شعیب صاحب نے کہا، ایک لطیفہ سنیے۔

ایک قبیلے کے سردار کی شادی ہوئی۔ قبیلے کی رسم کے مطابق شادی کے بعد سردار نے دلہن کو گھوڑی پر بٹھایا اور لے چلا اپنے گھر کی جانب۔ راستہ کچھ دشوار گزار تھا۔ گھوڑی نے ایک ٹھوکر کھائی۔ سردار نے پھسلتی لگام سنبھالی اور زور سے کہا ”ایک“۔ دلہن کو کچھ سمجھ نہ آیا پر ابھی کیا پوچھتی۔ کچھ آگے گھوڑی نے پھر ٹھوکر کھائی۔ سردار نے اور زور سے کہا ”دو“۔ دلہن مزید متعجب ہوئی پر چونکہ ابھی بے تکلفی نہ تھی اس لیے چپ رہی۔

چند منٹ گزرے کہ گھوڑی نے تیسری ٹھوکر کھائی۔ سردار نے لگام کھینچی۔ پہلے خود اترا، پھر دلہن کو نیچے اتارا۔ کاٹھی میں لگی بندوق نکالی اور گھوڑی کی کنپٹی پر رکھ، گولی چلا دی۔ گھوڑی وہیں ڈھیر ہوگئی۔ اب تو دلہن سے رہا نہ گیا۔ چیخ کر بولی ”یہ آپ نے کیا کیا؟ “۔ سردار نے دلہن کی طرف دیکھا، پھر آسمان کی طرف نظر کی، سر دائیں سے بائیں تاسف میں ہلایا اور زور سے بولا ”ایک“

لطیفہ ختم ہوا تو سلیمہ ہاشمی کھکھلا کر ہنس دیں۔ شعیب صاحب نے میری طرف جھک کر کہا۔ اگلی دفعہ گھورنے کے بجائے کہیے گا ”ایک“۔

اب ہنسنے کی باری میری تھی۔ میری ساتھی میزبان کو کچھ سمجھ آیا، کچھ نہیں آیا پر باقی انٹرویو میں ان کے لقمے کم ہی رہے۔ انٹرویو کیا تھا ایک ایسی دل نشین گفتگو تھی کہ دل تھا کبھی ختم نہ ہو۔ فیض صاحب کے خاندان سے یہ میرے اولین تعارف کا دیباچہ تھا۔ البتہ اس دیباچے سے بھی بہت پہلے گورنمنٹ کالج کے یونین انتخابات میں راوین فرنٹ کی طرف سے کھڑے ہونے والے فیض صاحب کے نواسے اور شعیب اور سلیمہ کے صاحب زادے یاسر ہاشمی کو ہم نے اپنا ووٹ بھی ڈالا تھا، سو نامہ اعمال میں اس کو بھی گن لیا جائے۔

پی ٹی وی سے منیزہ آپا ہم ٹی وی چلی گئیں۔ کچھ عرصے بعد میں نے بھی پی ٹی وی چھوڑ دیا۔ گاہے بگاہے ان سے بات چیت ہوتی رہی پھر طویل وقفے اور پھر بہت طویل وقفوں کے بعد دو الگ دنیاؤں کے مسافروں کی بات چیت تھم سی گئی۔ شعیب صاحب اور سلیمہ ہاشمی سے ان گزرے برسوں میں ایک آدھ ملاقات جو شاید ان کو یاد بھی نہ ہو اور بس۔ ان ملاقاتوں کے رنگ میرے اندر کہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

فیض صاحب کے خانوادے میں کسی نہ کسی شکل میں کہیں نہ کہیں فیض صاحب کی شخصیت کا کوئی نہ کوئی انگ آواز دیتا ہے۔ بچپن اور نوجوانی میں والدین کے طفیل، کہ وہ لاہور کے ادبی حلقوں کے مستقل خوشہ چیں تھے، کچھ ایسی محافل بھی خوش قسمتی سے زندگی کا حصہ بنیں جہاں فیض صاحب بھی موجود تھے۔ بہت پرانی بات ہے پر نقش گہرا ہے اور اب بھی خوشبو دیتا ہے۔

گزرے کچھ سالوں میں فیض صاحب سے جڑے میلوں، فیسٹیولز اور سیمینارز کا ایک تانتا بندھ گیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک خوش آئند سلسلہ ہے۔ فیض صاحب کی شاعری اور فکر جمہور کی اصل آواز ہے۔ اگر یہ آواز واقعی اپنے درست تناظر میں اٹھتی رہے تو کیا عجب ہے کہ وہ دن کبھی طلوع ہو ہی جائے جس کو دیکھنے کی تمنا لیے فیض صاحب دنیا سے چلے گئے پر اقبال بانو کی کھرج دار آواز میں تمنا کا دوسرا قدم ہمارے لیے چھوڑ گئے۔ ان میلوں سے فیض صاحب کا خاندان کسی نہ کسی حوالے سے جڑا رہتا ہے اور یہ خاندان ایسا ہے کہ اس کی عوام سے جڑے رہنے کی ہر صورت معاشرے کے لیے ایک امرت دھارا ہے۔ اسی بہانے نوجوان خون گرماتے ہیں، مزاحمت کے کچھ نئے نغمے اور کچھ نئے استعارے تشکیل پاتے ہیں۔ سوچ کے کچھ نئے در وا ہوتے ہیں، فکر کے کچھ نئے راستے کھلتے ہیں۔ سو یہ سلسلہ خوب ہے۔ اس گھٹن زدہ معاشرے میں یہی کچھ کھڑکیاں ہیں جہاں سے تازہ ہوا آنے کی امید قائم رہتی ہے۔

پر داستان کے کچھ اور زاویے بھی ہیں۔ ایک سرمایہ دارانہ معاشرے میں کارپوریٹ سرپرستی سے اشتراکیت یا سوشلزم کی کوئی کونپل پھوٹے، یہ خواہش سادہ دلی ہی کہلائے گی۔ سو دو سو پر جوش نوجوانوں کے ڈھول کی تھاپ پر لگائے گئے نعرے دل جو اور دل کش تو ہیں اور اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان میں حقیقی مسائل کی طرف اشارہ بھی موجود ہے لیکن کیا یہ نعرے واقعی کسی تحریک کا پیش خیمہ ہیں یا محض بورژوا طبقے کے لیے اس فیشن کی طرح ہیں جو میلے کی دیوار کے باہر موجود ہی نہیں ہے۔ یہ سوال ابھی حل طلب ہیں۔

ایشیا کسی زمانے میں سرخ ہونے کی بات کرتا تھا، اب وہ سرخی معدوم ہوئے مدت گزر گئی ہے۔ ایسے نعرے لگانے والے نوجوانوں کو حقائق کی دنیا سے اپنا ربط استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ تبدیلی کا بیج لمزاور آئی بی اے جیسے اداروں میں نہیں بلکہ یونیورسٹی آف جامشورو، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور یا تربت یونیورسٹی بلوچستان جیسے اداروں میں بونے کی ضرورت ہے جہاں اس معاشرے کا حقیقی نوجوان نمائندہ پڑھتا ہے۔ کیا ہماری جامعات کا ماحول جواہر لال یونیورسٹی جیسا ہے۔ کیا ہم بھی کوئی کنہیا کمار دیکھ سکیں گے۔ اس وقت تو ایسے آثار دور دور تک نہیں ہیں۔ جامعات سوچ کی ترویج کے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہماری جامعات محض کارپوریٹ روبوٹ یا ٹیکنیشن پیدا کرنے کی فیکٹریاں ہیں۔

فیض صاحب ایک کارپوریٹ برانڈ بنے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے۔ بہت سے لوگ فیض صاحب کی شاعری یا ان کی فکر سے محض فیشن کے لیے تعلق رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں بھی شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فیض صاحب کے نام پر گلوکاری سے لے کر ٹی وی شوز تک بہت کچھ بیچا گیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن ایک سرمایہ دار معاشرے میں یہی ہوتا ہے۔

فیض صاحب سے وابستہ اس برانڈ مینجمنٹ کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس بہانے جہاں بہت سے لوگوں کو دکان چمکانے کا موقع ملتا ہے وہاں ایک اچھی خاصی تعداد کی کسی نہ کسی حوالے سے فکری تربیت بھی ہوتی ہے۔ مکالمے کی کوئی نہ کوئی راہ کھلتی ہے۔ نوجوانوں کو چلیں، نعرے لگانے کے لیے ہی سہی، ایک پلیٹ فارم ملتا ہے۔ اس کے مقابلے میں صوفی ازم کا کارپوریٹ برانڈ بھی بہت چلا ہے لیکن اس سے موسیقی کے علاوہ کچھ برآمد نہیں ہو سکا اور اس موسیقی یا گلوکاری کا بے لاگ تجزیہ نہ ہی کیا جائے تو اچھا ہے۔

سوال اٹھائیے، تنقید بھی کیجیے۔ آواز بلند کیجیے۔ جو غلط لگتا ہے، اس کی نشان دہی کیجیے۔ کارپوریٹ ہائی جیکنگ پر اعتراض ہے تو متبادل راستے تجویز کیجیے۔ طریقہ کار غلط لگتا ہے تو اٹھیے، بتائیے کیا طریقہ اپنایا جائے۔ سچ کے بہت سے روپ ہیں۔ میرے سچ سے کسی کا جھوٹ ثابت نہیں ہوتا اور میری نیت نیک ہونے سے کسی اور کی نیت داغدار نہیں ہوتی۔ اپنا سچ سنائیے۔ دوسروں کا سچ سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ پر یاد رکھیے کہ فیض صاحب مزاحمت کا ایک بڑا استعارہ ہیں، ان کے نام کا پرچم کسی بہانے سہی، لہراتا رہنا چاہیے۔ ان میلوں کو نشان منزل مت جانیے پر سفر کا پہلا قدم سمجھنے میں کیا مضائقہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 147 posts and counting.See all posts by hashir-irshad