چیف جسٹس کے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں ریمارکس:’عدلیہ کی سب سے بڑی طاقت لوگوں کا انصاف کے نظام پر اعتماد ہے‘

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدالت عظمی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے گزشتہ روز جو بیان دیا گیا ہے اس کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مکمل نہیں ہے اور ہر ایک میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نے پیر کے روز تقریر کے دوران پاکستان کے موجودہ اور آنے والے چیف جسٹس صاحبان سے کہا تھا کہ وہ اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کریں کہ طاقتور کے لیے ایک جبکہ کمزور کے لیے دوسرا قانون ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

’جج کی جاسوسی، ذاتی زندگی میں مداخلت بھی توہین ہے‘

فائز عیسیٰ کیس: ’مسٹر یہ کیک نہیں یہ کیس ہے‘

’سب کو معلوم ہے جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے‘

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی سب سے بڑی طاقت لوگوں کا انصاف کے نظام پر اعتماد ہے۔

درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل بابر ستار نے کہا کہ ہمارا عدالتی نظام ایسا ہے کہ اگر کسی کے خلاف فیصلہ آ جائے تو وہ تنقید کرنا شروع کردیتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ان دنوں جس ذہنی کفیت سے گزر رہے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کوٹ کے10 رکنی بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل بابر ستار کو کہا کہ عدالتی روسٹم کو سیاست کے لیے استعمال نہ کریں ۔

اُنھوں نے کہا کہ اپنے دلائل کے دوران وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کا نام مت لیں جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف جو صدارتی ریفرنس دائر ہوا ہے اس میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کی اہلیہ کا ذکر ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ ان کے موکل پر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مفروضوں کو غلط قرار دیا جائے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے نام پر جو جائیداد ہے اس کے پیسے جسٹس قاضی فائز عیسی نے دیے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت اس جائیداد کے خریدنے کے ذرائع معلوم کرنا چاہ رہی ہے۔

بینچ کے رکن جسٹس فیصل عرب نے سوال اٹھایا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے موکل کا کوئی اور اکاؤنٹ ہو جس کے ذریعے سے رقم منتقل کی گئی ہو تاکہ جائیداد خریدی جاسکے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے کہا کہ اگر کسی جج کی اہلیہ کوئی منافع بخش کاروبار کرتی ہو تو محض اس کے خلاف تحقیقات اس بات شروع نہیں ہوسکتیں کہ وہ جج کی بیوی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کے مقدمے میں اس وقت کے چیف جسٹس کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے پاناما کیس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مریم نواز سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے زیر کفالت نہیں تھیں۔

بابر ستار کا کہنا تھا کہ جج اپنے رویے کا ذمہ دار ہوتا ہے نہ کہ اپنے بچوں کا جو کہ زیر کفالت نہ ہوں۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ اس جائیداد کے ذرائع آمدن معلوم ہو جائیں اور اگر ایسا ہو تو یہ معاملہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

بابر ستار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے کہ میاں اپنی بیوی کے یا بیوی اپنے شوہر کے اثاثے ظاہر کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔

اُنھوں نے کہا کہ صرف عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کسی بھی امیدوار کو اپنے اور اپنی بیوی اور بچوں کے اثاثے ظاہر کرنا ہوتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کا موکل ججوں کے خلاف کارروائی سے متعلق آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کوئی تحفظ یا رعایت نہیں مانگ رہا بلکہ فیئر ٹرائیل کا حق مانگ رہا ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت جو تحفظ جج کو حاصل ہوتا ہے وہ عام آدمی کو حاصل نہیں ہوتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر کسی جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے تو وپ اس کے بارے میں جواب دہ ہے نہ کہ اس کی بیوی اور بچے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی جج کے خلاف کارروائی کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے لیکن اس سے پہلے یہ تو طے کرلیں کہ آیا وہ جج ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا بھی ہے یا نہیں۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اُنھیں معلوم ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کتنی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کوئی ربڑ سٹیمپ نہیں ہے کہ کوئی بھی ریفرنس یا شکایت آئی تو اس پر آنکھیں بند کرکے کوئی فیصلہ کر دیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اچھی نیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک ماتحت عدالت کے جج کی حرکتوں کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔

جسٹس قاض فائز عیسی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ چھان بین کیے بغیر کسی جج یا اس کے خاندان کے دیگر افراد کا ٹرائیل شروع کردے۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر کے پاس اگر جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بارے میں کوئی سمری آتی ہے توصدر اس پر اپنا ذہن استعمال کرنا چاہیے نہ کہ ایگزیکٹیو کی طرف سے بھجوائی گئی سمری کو آنکھیں بند کرکے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کو یہ بھی چاہیے کہ اگر جج کے خلاف کوئی شکایت آئی ہے تو جہاں سے معلومات مل رہی ہیں اس کے مستند ہونے کے بارے میں بھی چھان بین کرلی جائے۔ ان درخواستوں کی سماعت 27نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11111 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp