گذشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے واقعات نے پاکستانی فنکاروں کو کس طرح متاثر کیا؟

موسیٰ یاوری - بی بی سی اردو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات نے پاکستانی فنکاروں کو کس طرح متاثر کیا؟ اس سوال کے جواب میں احسان اللہ نے مجھے یہ نثری نظم سنائی جب میں ان سے لاہور میں ملا۔

’جنگ۔۔۔

جو ہار گیا، وہ مر گیا

جو زندہ رہا، اس کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں

دوست بتاؤ، کس کی جیت ہوئی‘

احسان اللہ ایک شاعر اور افسانہ نگار ہیں اور ان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے جہاں وہ گذشتہ ایک دہائی میں دہشت گردی اور مختلف آپریشنز کے دوران ہی جوان ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہزارہ کہاں جائیں؟

’بچے کی چیخوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔۔۔‘

’کوئٹہ میں اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے‘

دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان بھر میں لوگوں کو کسی نہ کسی طرح متاثر کیا ہے۔ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سجاد باتور ایک اینیمیٹر اور فوٹوگرافر ہیں۔

کوئٹہ کے ہزارہ قبرستان میں انھوں نے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی قبریں دکھاتے ہوئے بتایا کہ ایک فوٹوگرافر کی حیثیت سے ان کا کام بڑا مشکل ہے۔ ایک واقعے کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں اس طرح کے واقعات ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔

’2013 کے دھماکے میں میرا ایک جگری دوست دہشت گردی کا شکار ہوا لیکن ہمیں اس کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ملا جس سے ہم لوگ اسے پہچان سکیں۔ لیکن بعد میں ان کے والد نے انھیں ایک ہاتھ کی انگلی کی انگوٹھی سے پہچانا۔ وہ وقت میرے لیے بہت مشکل تھا کہ میرا وہ دوست جو کچھ لمحہ پہلے زندہ تھا اب ان کے والد ان کے جسم کے ٹکڑے جمع کر رہے تھے۔ میرے لیے بہت مشکل تھا کہ میں کس طرح اس واقعے کو تاریخ کے صفحوں میں محفوظ کر سکوں۔‘

دہشت گردی نے پاکستان میں رہنے والے فنکاروں کو کس طرح متاثر کیا؟

احسان اللہ سے بات کرنے کے دوران ایک بات کی یقین دہانی تو ہو گئی کہ کوئی بھی انسان جو خواہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں بھی رہتا ہو، وہ کسی نہ کسی طرح سے دہشت گردی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ہے۔

احسان کہتے ہیں ’جنگ اور مختلف آپریشنز کی وجہ سے وزیرستان کی روایات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ وہاں شادیوں میں مرد اور خواتین ایک ساتھ رقص کرتے تھے۔ جس کو ’اتن‘ کہا جاتا تھا۔ اور عورتوں پر اتنی پابندیاں نہیں تھیں۔ لیکن جس طرح سے جنگ کے دوران اسلام کو پیش کیا گیا اس سے ایک عام وزیرستانی کی زندگی بہت متاثر ہوئی ہے۔‘

سجاد باتور کی تصاویر کی نمائش پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہو چکی ہیں اور ان کی تصاویر قومی و بین الاقوامی جریدوں میں چھپ چکی ہیں۔ انھوں نے ہزارہ کمیونٹی پر سنہ 2012 کے بعد ہونے والے تمام واقعات کی فوٹوگرافی کی ہے۔

سال 2012 کے دوران سجاد عمان میں بطور اینیمیٹر کام کرتے تھے اور اپنے شوق کے لیے وہاں فوٹوگرافی بھی کرتے تھے۔ تاہم ان کا شوق سٹریٹ فوٹوگرافی کی حد تک ہی تھا جس میں شہری زندگی میں ہونے والے مختلف اور دلچسپ واقعات کی عکاسی کرنا تھا۔

سال 2012 میں ہی جب وہ عمان سے کوئٹہ واپس آئے تو اپنے اسی شوق کو آگے لے کر بڑھ رہے تھے۔ لیکن ان کی زندگی میں ایک دم کیسے تبدیلی آئی؟

اس کے جواب میں وہ سنہ 2013 میں ہونے والے ایک دھماکے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ’2013 میں ہمارے محلے میں ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا تھا جس میں ’سی فور‘ دھماکہ خیز مواد اور ایک خاص قسم کا کیمیل استعمال ہوا اور اس میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ میرے کام میں اس دن سے تبدیلی آئی کیونکہ میں جس محلے میں بچوں کی اور اپنے پیاروں کی تصویریں لیتا تھا اب اس کے برعکس میں نے دہشت گردی سے متاثر ہونے والے واقعات کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنا شروع کر دیا تھا۔‘

احسان کہتے ہیں کہ وزیرستان میں حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ ہی ان کی شاعری بھی بدلتی گئی۔ ان کی شاعری کے دو مراحل ہیں۔ ’میری شاعری کا تقریباً ستر فیصد حصہ دہشت گردی، جنگ، اور بم دھماکوں کے گرد گھومتا ہے جس میں غم، دکھ، درد، ڈرون اور صرف دھماکے ہیں۔ جبکہ صرف تیس فیصد حصہ شاعری رومانوی اور مثبت چیزوں کے بارے میں ہے۔‘

اور وہ اس کی صرف ایک وجہ بتاتے ہیں کہ جس طرح سے ان کی زندگی گزری ہے، اسی طرح سے ان کی شاعری ان سے متاثر ہوئی۔

احسان اب تک ستر کے قریب افسانے اور 40 کے قریب نثری نظم لکھ چکے ہیں اور انھوں نے انھی افسانوں میں سے انتخاب کر کے ’آزاد چوہے‘ کے نام سے ایک مسودہ تیار کیا ہے جبکہ ’اردو کی بالغ نظمیں‘ ان کی شاعری کا مجموعہ ہے۔

دہشت گردی، آرٹسٹ اور ان کا مستقبل

سجاد کہتے ہیں کہ پچھلے دس پندرہ سالوں میں ان کی زندگی میں بہت تبدیلیاں آئیں۔ انھوں نے اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ میں ایک ایسا بھی دور تھا جب وہ گھر سے نکلتے تھے تو ان کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ رات کو گھر واپس آ بھی سکیں گے یا نہیں۔

’ان حالات کو مدِ نظر رکھ کر اگر میں کہوں کہ میری زندگی متاثر نہیں ہوئی تو یہ بالکل غلط ہوگا۔ اور میں ہمیشہ اپنی فیملی اور دوستوں کے بارے میں سوچتا ہوں، اپنے بارے میں سوچتا ہوں۔ اسی لیے میں نے اپنے شعبے کے مطابق ہی اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرنا شروع کیا۔`

سجاد نے کوئٹہ میں اپنا روزگار چلانے کے لیے ایک فوٹو سٹوڈیو بھی کھولا ہوا ہے جس میں وہ شادی کی تقریبات کی کوریج کرتے ہیں۔ لیکن اپنی آزادانہ نقل و حرکت کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’یہاں اب ہم بہت محدود ہو گئے ہیں اور اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہی کام کرتے ہیں۔ مجھے اگر اپنے علاقے سے ہٹ کر کوئی کام ملتا ہے تو میں وہاں کھلم کھلا نہیں جا سکتا۔‘

احسان بھی یہی کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی بہت متاثر ہوئی ہے۔

’کبھی کبھی جب آپ کو لگتا ہو کہ جہاں سے آپ کا تعلق ہے، وہاں سے ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو یہ بہت تکلیف دہ بات ہوتی ہے۔ وزیرستان سے ہونے کی وجہ سے جب لوگ آپ کو نوکری دیتے ہوئے اور آپ سے ملتے ہوئے گھبرائیں تو تکلیف تو ہوتی ہے۔‘

’ستاروں کی جب موت ہوتی ہے تو وہ ایک نئی صبح کا پیغام لے کر آتی ہے

دہشت گردی کے مختلف واقعات نے جہاں لوگوں کو جانی اور مالی نقصانات سے دوچار کیا وہی بہت سارے لوگ ہجرت کرنے پر بھی مجبور ہوئے۔

سجاد کہتے ہیں یہ کسی مسئلے کا حل نہیں کہ آپ اس سے دور بھاگیں۔ کیونکہ پاکستان سے بیرونی ممالک کی طرف ہجرت کے دوران بہت سے لوگ مختلف حادثات کا شکار بھی ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’اب بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس شہر میں رہ رہے ہیں۔ اور جو لوگ یہاں سے کہیں اور بھی گئے تو کسی نہ کسی اور طرح سے وہ بھی متاثر ہوئے۔ ہم اسی شہر میں پلے بڑے ہیں، اسی شہر میں پیدا ہوئے، ہم کسی صورت میں اس شہر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ کیونکہ ہمارا پورا خاندان اور پوری قوم یہی ہیں۔‘

’اگر ہم بھاگیں گے بھی تو کہاں تک بھاگیں گے۔ ہم اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ اس شہر میں دوبارہ سے امن ہو اور لوگ پھر سے اسی طرح گھل مل جائیں جس طرح دس پندرہ سال پہلے تھے۔‘

احسان چاہتے ہیں کہ وہ رومانوی شاعری کریں ’لیکن جنگ سے ہونے والی بے گناہ لوگوں کی اموات اور جنگ کے متاثرین، بم دھماکے اور اس کے اثرات ابھی تک میری رومانوی شاعری پر غالب ہیں۔‘

لیکن ان تمام چیزوں کے بر عکس وہ وزیرستان کا مستقبل روشن دیکھتے ہیں۔ انھوں نے میری طرف مسکراتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کچھ یوں کیا۔

’ستاروں کی جب موت ہوتی ہے تو وہ ایک نئی صبح کا پیغام لے کر آتی ہے۔ اور میرے نزدیک جب بھی ستاروں کی موت ہوتی ہے تو ایک نئی صبح جنم لیتی ہے۔ اس لیے مجھے ہمارا مستقبل خوبصورت دکھائی دے رہا ہیں کیونکہ بہت ساری چیزیں بہتر ہو رہی ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11758 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp