کُہر میں محصورباورچی خانہ سندھی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تخلیق: ڈاکٹر رسول میمن ترجمہ۔ : شاہد حنائی (کویت)

اُن دنوں وہاں اتنی کُہر ہوا کرتی تھی کہ جیسے دھرتی پر دُھند کے سوا کسی شے کا وجود ہی نہ ہو۔ کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ آنکھوں کے چوطرف کُہرسے شکلیں بنتی اور مٹتی رہتیں۔ اس کُہرمیں گھرے گھر میں چھے افراد رہتے تھے۔ ایک وہ خود، اس کی بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔

کُہر اس قدر گہری ہوتی تھی کہ نگاہ گھر کے بیرونی دروازے تک ہی پہنچ پاتی تھی۔ دروازے کے ُاوپر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ڈنڈے یوں ترتیب میں رکھے گئے تھے جیسے، کوئی اندر جھانکتے ہوئے ہنس رہا ہو۔ گھر کے اندر ایک باورچی خانہ تھا  جس میں ماں کھانا پکانے میں مصروف رہتی۔ باورچی خانے کے سامنے لکڑی کی ایک پرانی میز رکھی رہتی جس کے گردا گرد چھے کرسیاں یوں پڑی رہتیں جیسے سوکھی ٹانگوں والے بھوکے کھانے کا انتظار کرتے ہوں۔ یہ لکڑی کی میز اور کرسیاں ایک پھیری لگاتے کباڑی سے خریدی گئی تھیں۔ کباڑی کُہرکے دنوں میں عجیب و غریب اشیا اُونٹوں پر رکھ کر یہاں سے گزر رہاتھا۔ کباڑی نے اس کے دروازے کے باہر ہانک لگائی تھی۔ اس نے دروازہ کھول کر سب سے پہلے کباڑی کو کھانا کھلایا تھا۔ کباڑی نے کھانے کی خوب تعریف کی تھی:

” کھانے کے ذائقے سے خاندان کی خوش حالی کا اشارہ ملتاہے۔ “ اس نے مزید کہا تھا، ”کیا خوب ذائقہ ہے۔ “

اس کباڑی کے پاس ہاتھی دانت کے چار چھوٹے بت تھے  جو اُونٹ کے گلے میں بندھی رسّی سے یوں جھول رہے تھے جیسے اُونٹ کا گلا گھونٹ کر اسے بے سانس کرنا چاہ رہے ہوں۔ وہیں ایک ٹوٹایک تارا تھا۔ پرانے صندل کی لکڑی کی کنگھیاں تھیں۔ تین جوڑے چمڑے کے جوتے تھے۔ تانبے کے فیروزی خط کھنچے برتن، ایک پرندوں کاگنبد نما پنجرہ، جستی چادر کابے ڈھبا ٹرنک اور نسواری رنگ کی چند ٹوپیاں تھیں جن پر سامنے کے رُخ چاند ستارا بنا ہوا تھا۔ ایک اُونٹ کی پیٹھ پر لکڑی کی پُرانی میزاور چھے کُرسیاں اس طرح بندھی ہوئی تھیں جیسے یہ کسی فاتح کی منتظر ہوں۔ اس نے کباڑی سے میز اورکرسیوں کی بابت بات کی۔ کباڑی نے اُونٹ کو نیچے بٹھا کر میز کرسیاں اس کے سامنے زمین پر رکھ دیں۔

”یہ میز کُرسیاں ایک ایسے گھرانے سے حاصل کی گئی ہیں جس نے کبھی بھوک نہ دیکھی۔ “ کباڑی نے انکشاف کیا، ”یقین کرو اس میز پر رکھا جانے والا کھاناہمیشہ ذائقے دار رہے گا اور اس سے ہر وقت بھاپ اُٹھتی رہے گی۔ “

پھر کباڑی کسی ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہو کر قہقہے لگانے لگا۔ اس نے دیکھا کہ کباڑی کے منہ میں دانت نہ تھے  اس کا منہ کسی تاریک کنویں کی طرح تھا۔ اس نے کباڑی سے یہ میز کُرسیاں خرید لیں۔ کباڑی قہقہے اُچھالتا ہوا اوراُونٹوں کوہانکتا ہوا دُھند میں گم ہو گیا۔

گھر کے اندر کبھی اندھیرا نہیں ہوتا تھا۔ وہاں باورچی خانے کے باہر لکڑی کی میز سے ذرا پرے دیوار کے ساتھ بنے آتش دان میں سوکھی لکڑیاں تڑخ تڑخ جلتی رہتی تھیں۔ لکڑیوں سے نکلنے والا دُھواں بَل کھاتے ہوئے زبان باہر نکال کر بار بار اِدھر اُدھردیکھتا رہتا۔ گھر کی بائیں جانب تازہ پانی کی ندی بہتی تھی  جس کا پانی چھونے سے گرم محسوس ہوتا تھا۔ ندی سے ہر وقت بھاپ اُٹھتی رہتی تھی۔ یہ تازہ پانی کی ندی کچھ آگے جا کرکھیتوں کا رُخ کر لیتی تھی۔ کھیتوں میں سُرخ ٹماٹر یوں دکھائی دیتے تھے گویاگلابی رُخساروں والی اپسرائیں کُہرمیں کسی کی راہ تک رہی ہوں۔

ایک دفعہ جب وہ رات کو دیر تک جاگ رہا تھا تو اس نے صبحِ صادق سے پہلے تازہ پانی کی بھاپ چھوڑتی ندی کے کنارے جنّات اُترتے دیکھے۔ جنّات اپنے بچوں کے ساتھ اس ندی میں نہانے آئے تھے۔ سورج کی کرنیں جنّات پر پڑنے کے بعد بھاپ میں بدل کر کُہرکا حصہ بن جاتی تھیں۔

گھر کی بائیں جانب بہنے والی ندی کا گرم پانی جب کھیتوں کو سیراب کرتا توان سے ٹھنڈی تاثیر والی سبزیاں اُگتیں۔ توری کی بیل دھرتی پر رینگتے کسی کیڑے کی طرح ہر شے سے لپٹ لپٹ پیلے نقش بناتی آگے کو بڑھتی رہتی۔ بھنڈی کے پودوں میں آسمان کی طرف اشارہ کرتی اُنگلیاں اللہ کی موجودگی کا احساس دلاتی تھیں۔ کریلوں کی چھال پربہتے آنسوؤں جیسی قطاریں ہوتی تھیں۔ وہاں سارے پنچھی سمجھ میں آنے والی بولیاں بولتے تھے، مگر ایک پرندہ ایسا تھا جس کی بولی خطرے کی سیٹی سے مشابہ ہوتی تھی۔

موسمِ سرما کی ایک رات لکڑی کی میز کے قریب آتش دان میں خشک لکڑیاں تڑخ تڑخ جل رہی تھیں اور آگ کی زعفرانی لاٹ گھر کی ہر شے میں جھول رہی تھی۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھا کھانے کا انتظار کر رہا تھا۔ ماں نے تازہ کھانا میز پر رکھا تو اس میں سے بھاپ سفید ململ کے دوپٹے کی طرح کھل کر طویل ہوتی گئی اور پھر یہ دائیں طرف کی کھڑکی باہر نکل کر ہر سمت پھیلنے لگی۔ دُھندیوں گہری ہوگئی جیسے دُنیا پیلاہٹ میں دفن ہو گئی ہو۔ ماں نے کھانا پروسا اور افرادِ خانہ کھانا یوں چبانے لگے جیسے ان کو زندگی کا احساس ہو رہا ہو۔ یہ زندہ ہیں اور زندگی کو محسوس بھی کر رہے ہیں۔ ذائقے، جن میں زندگی کا ذائقہ ہے، دُکھ سُکھ کا ذائقہ ہے۔

” ذائقہ کھانے میں نہیں ہوتا۔ “ باپ نے نوالہ چپاتے ہوئے کہا، ”ذائقہ ہماری اُنگلیوں میں ہوتا ہے۔ ہم جب نوالہ لیتے ہیں تو ذائقہ اُنگلیوں سے کھانے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ “

باپ کی بات سن کر ماں نے آنچل سے سر ڈھکا اور رَبّ سے دُعا کی:

” اے مولا! ہماری اُنگلیاں سلامت رکھنا۔ “

اس نے گردن جھکا کر کہا:

” بے شک کھانے کا ذائقہ اُنگلیوں میں اور تمھارا ذائقہ زبان میں ہے۔ “

چاروں بچے سر جھکائے یوں کھانا کھا رہے تھے جیسے اُن کے ماتھے زمین پر ٹکے ہوئے ہوں۔

کھانا کھانے کے بعد باپ نے دُعا کی :

۔ ”اے رَبّ! اشکوں کا نمک سلامت رکھنا۔ ایسے آنسوؤں سے محفوظ رکھناجن میں نمک نہ ہو۔ “

باپ اس رات دیر تک جاگتا رہاتھا۔ صبحِ صادق سے پہلے اس نے گھر کی بائیں جانب بہتی ندی کے گرم پانی میں اُچھل کود کی آوازیں سنیں۔ وہ یہ سوچ کر مسکراتا رہا کہ یقیناً وہی جنّ ہوں گے، جو اپنے بچوں کے ساتھ وہاں اُترے ہوں گے اور سورج کی پہلی کرن کے ساتھ بھاپ بن کر کہر میں تحلیل ہو جائیں گے۔

پھر اس گھر میں لکڑی کی میز پر اُبلا کھاناپلیٹوں میں منتقل ہوتا رہا اور اس کھانے کی بھاپ سفید ململی کپڑے کی طرح دراز ہوتی ہوئی ایک لکیر میں گھر کی دائیں جانب کی کھڑکی سے باہر نکل کر کہر کی صورت دھار کر ہر شے پر حاوی ہوتی چلی گئی۔ چولھے میں تڑخ تڑخ جلتی خشک لکڑیوں کی آگ کے اُوپر ہر چیزسُرخ شعلے کا عکس بن کر ہوا کی طرح ڈولتی رہی۔

ایک رات جب مینہ برس رہا تھا تو باپ نے باہر آنگن میں جا کر آسمان کی طرف نگاہ کی اور پھر سوچا کہ یہاں کبھی چاند نہیں نکلا۔ کُہر اور جھڑی میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ یہاں دُھواں ہے اور بجلی کی کڑک ہے۔ اس نے گھن گرج سنی پھربجلی کہر اور برسات کی بوندوں کو چمکاتی دُور جا گری۔ گھر کا آنگن گیلا تھا اور پانی چھت سے نیچے بَہ کر جوہڑکی شکل اختیار کر رہا تھا۔ وہ اندر آیا اور چولھے پر ہاتھ سینک کر لکڑی کی میز کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ کر کسی خیال میں کھو گیا۔ باورچی خانے میں ماں گرم پانی میں ٹھنڈی سبزیاں اُبال رہی تھی۔ پکتے چاولوں کی مہک اور برستی بارش کی وجہ سے مٹی کی مہک آپس میں گھل مل کر ایک نئی خوش بو جنم لے رہی تھی۔ کھانا پک کر تیار ہونے کو تھا تو اچانک بیرونی دروازے پر دستک ہوئی اور کسی نے صدا لگائی:

۔ ”بابا! اللہ کی راہ میں۔ “ وہاں ایک سے زیادہ صدائیں تھیں۔ جو بازگشت کی صورت گونج رہی تھیں۔ ”دے اللہ کی راہ میں اپنے بچوں کا صدقہ۔ “

برستی بارش میں کئی انسان بیک وقت وہی صدائیں دُہرا رہے تھے۔ اس کے لیے یہ حیرت کی بات تھی۔ یہاں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہ اُٹھ کر دروازے کی طرف بھاگا۔ ماں، دو بیٹے اور دو بیٹیاں خوف زدہ ہو کر آپس میں چمٹ گئیں۔ باپ نے دروازہ کھول کرباہر دیکھا۔ وہاں پُراسرار انسانوں کاجتھا کھڑا تھا۔ اس نے پہچاننے کی کوشش کی۔ آنے والوں کی پچھلی صف میں کھڑے چند چہرے شناسا لگے۔ جب اس نے ذہن پر زور دیا تو اسے سفید دستار باندھے لاٹھی کے سہارے کھڑے باریش، دُبلے پتلے فرد کی شکل اپنے دادا سے مشابہ معلوم ہوئی۔

وہ آنکھیں بند کیے کھڑا تھا اور بارش کی بوچھاڑ اس کے چہرے پر پڑنے کے بعد دھار بن کر بَہ رہی تھی۔ وہیں ایک پست قامت بوڑھی عورت تھی، جس نے سفید کھدرکی اوڑھنی اوڑھ رکھی تھی۔ وہ موسلا دھار بارش کی وجہ سے اسے نیم وا آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی صورت ا س عورت کی سی تھی جس نے اِس کے باپ کے یتیم ہوجانے پر اُس کی پرورش کی تھی۔ جملہ وفد کے سامنے سفید چادریں لپیٹے کھڑے نورانی چہروں والے دو بزرگوں کے ہاتھوں میں کشکول تھے۔

” بابا! اللہ کی راہ میں دو۔ “ ان میں سے ایک نے کہا، ”خدا کرے تیرا صدقہ قبول ہو۔ تیرے گھر کی دائیں کھڑکی سے چند قدم آگے ہمارا آستانہ ہے۔ گرو کوتیرے گھر کی خوش بوپسند آئی ہے۔ اس نے پابندکیا ہے کہ تم سے کچھ حاصل کر کے اس کے سامنے رکھیں۔ “

ان کی بات سن کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ جھانکنے لگی۔

” ہاں کیوں نہیں۔ “ اس نے کہا، ”چند گھڑیاں رُکیں۔ “

پھر وہ پلٹا اور باورچی خانے میں ماں نے اسے ایک بڑے طشت میں تازہ اُبلاہوا کھانانکال کر دیا۔ وہ کھانا لے کربیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔ اس نے جوں ہی کھانا دروازے پر کھڑے رمتے کے کاسے میں اُنڈیلا تو کھانا جیسے ہوا کے دوش پہ لہراتا ہوا نیچے جا گرا۔ دُور دُھند میں بیٹھا ایک کتا نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے گرا ہوا کھانا کھانے لگا۔

” تو نے بات نہیں سمجھی۔ تو نے بات نہیں سمجھی۔ “ رمتے نے کہا اور اس کے چہرے پرخفگی کے آثارنقش ہو گئے۔ وہ سارے وفد کو ساتھ لے کر موسلا دھار بارش کے دوران دُھند میں دُھند ہو گیا۔

اس ساری رات برسات جاری رہی۔ اسے کھانے کی میز کے قریب پڑے جلتے چولھے کے زعفرانی شعلوں کے پاس ہی نیند آگئی۔ اس رات اسے خواب دکھائی دیا، باورچی خانے میں خالی ہنڈیا جمائیاں لے رہی ہے اور اس سے بھاپ، جنگ میں شکست خوردہ گھوڑوں کی طرح نکل رہی ہے۔ اس بھاپ میں کُہرنے ہر طرف سیاہ چادر تان دی ہے اور باورچی خانہ اس میں دفن ہو گیا ہے۔ جب باہر برستی بارش کی بوندیں زمین پر گرتی ہیں تووہاں ایسی سسکیاں پیداہونے لگتی ہیں جیسے تپتے توے پر ٹھنڈا پانی گرنے سے ہوتی ہیں۔

وہ کھانے کی میزپر اپنے گھروالوں کے ساتھ بیٹھا چاول کھا رہا ہے۔ اس کے عقب میں ایک باریش شخص چادر اوڑھے کھڑا ہے۔ اس شخص کے ہاتھ میں لال رنگ کی وحی ہے۔ اس وحی میں اس کے گھرانے کے اہلِ خانہ کی فہرست ہے۔ وہ چاول کا دانہ دانہ اس فہرست میں شمار کرتا جاتا ہے۔ دفعتاً آسمان تک بڑھ چکی کہرمیں تیز روشنی پھیل گئی۔ کہیں بجلی گرنے کادھماکا ہوا۔ وہ ہڑبڑا کر جاگ گیا۔ چولھے میں لکڑیاں تڑخ تڑخ جل رہی تھیں اور ان سے لاٹیں نکل رہی تھیں۔ اس نے پہلی بار دُور سے بھونکتے کتے کی آواز سنی اور گیدڑ چنگھاڑنے لگے۔ دائیں کھڑکی کے راستے ہوا کا ایک تیز جھونکا کمرے میں داخل ہوا اور اس کے تن کو مَس کرتا ہوا بائیں کھڑکی سے باہر نکل گیا۔ یسا ہو تے ہی اسے اپنے جسم پر کسی جنگلی جان ور کے بالوں کا لمس محسوس ہوا۔

اس روز کے بعد سے اسے احساس ہونے لگا کہ جیسے چھے اہلِ خانہ کے سوا کوئی اور وجود بھی وہاں موجود ہے جو ہوا کا بہروپ اوڑھ کر ان کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے۔

اِک رات کہر ایسے تھی جیسے اس کا گھر کسی ناگہانی آفت کے نتیجے میں کھنڈر ہو کردُھول میں دَب چکا ہو۔ وہ اُٹھ کر صحن میں چلا آیا۔ یہاں اسے گریہ زاری کی آوازیں سنائی دیں اور پھر جیسے کوئی قہقہے لگا کر ہنسنے لگا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور اللہ سے رحم کا طالب ہوا:

” اے مولا! اُنگلیاں سلامت رکھنا۔ “ اس نے فریاد کی اور پھر اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھنے لگا۔ گہری کہر میں اسے اپنے ہاتھ دکھائی نہ دے رہے تھے۔ اس نے باورچی خانے میں جاکر ہنڈیا کا ڈھکنا اُٹھاکر دیکھا تو اس کے اندر کھولتے ہوئے پانی میں بھنڈیوں کی بجائے اُنگلیاں اُبل رہی تھیں۔ پھر جب کھانا تیار ہو کر میز پر پہنچا تو ہنڈیا سے بھاپ یوں نکلی جیسے اُنگلیوں کے ناخن بڑھ کر اُوپر کو اُبھرتے ہوں اور دائیں طرف کی کھڑکی سے باہر جا رہے ہوں۔

اس رات پھر بیرونی دروازہ کھٹکھٹا اور صدا لگی:

” بابا! دے۔ رَبّ تیری خیرکرے۔ “ دہلیز کے اُس پاربہ یک وقت کئی آوازوں کی بازگشت گونج رہی تھی، ”راہِ خدا میں صدقہ دے۔ “

وہ سمجھ گیا کہ یہ وہی منگتے ہیں۔ موسلا دھار بارش میں کھڑے بھاپ صورت لوگوں کے چہرے اس کے تصور میں آن کھڑے ہوئے، جو جسم پر سفید ململ اوڑھے، ہاتھوں میں کشکول اُٹھائے دروازے کے باہر اس کے منتظر تھے۔ خوف کے مارے ماں نے اپنے چاروں جگر گوشوں کو اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔ وہ اُٹھا اور کھانے سے بھرا طشت اُٹھا کر دروازے کی طرف چل دیا۔ اس نے دروازہ کھول کر باہر دیکھا۔ وہی لوگ تھے، جن کے وجود دُھند میں دُھندلے دُھندلے دکھائی دے رہے تھے۔ جب اس نے کھانا سوالی کے کشکول میں ڈالا تو اس بار بھی جیسے ہوا نے اُچک کر زمین پر ڈھیر کر دیا ہو۔ کُہر میں دُور کہیں سے وہی کتا نمودار ہوا اور زمین پر گرا کھانا چٹ کرگیا۔

” تو نے بات نہیں سمجھی۔ تو نے بات نہیں سمجھی۔ “ ایک منگتے نے ناراضی کا اظہار کیا اور پھر سارا قافلہ کہر میں لاپتا ہو گیا۔

جب وہ گھر کے اندرواپس آیا تو اس نے جلتے آتش دان کی نارنجی روشنی میں دیکھا کہ اس کا بڑابیٹا فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ شدید بیمار تھا۔ لڑکے کے چہرے پر زخم تھے، جن سے خون رس رہا تھا۔ ماں اس کے زخموں کی صفائی کے لیے باورچی خانے میں پانی گرم کر رہی تھی۔ ایک بہن پاس بیٹھ کر روتی جاتی تھی اور بھائی کو دلاسے بھی دیتی جاتی تھی۔ دُوسری اپنی دونوں آنکھیں بند کر کے اللہ سے اپنے بھائی کی زندگی مانگ رہی تھی۔ چھوٹا بھائی قینچی سے صاف کپڑے کی کترنیں کاٹ کاٹ کر پٹیاں بنا رہا تھا۔

اس دن کے بعد اس گھر کے اندر، آس پاس اور آسمان سے قرآن پاک کی تلاوت کی آوازیں آیا کرتیں۔ یہاں کُہر میں اشکوں کی بارشیں ہوتیں اور خوف کی بجلیاں لپکتیں۔

اِک روز کھانے کی میز کے پاس رکھے ہمہ وقت جلتے رہنے والے آتش دان کی آگ بجھ گئی۔ خشک لکڑیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔ زرد آگ تنہائی کی موت مر گئی۔ پھرکبھی اُبالے ہوئے کھانے کی بھاپ لکیر بن کرگھر کی دائیں جانب والی کھڑکی سے نہ نکلی۔ کُہر ختم ہو گئی۔ ہرشے صاف اور واضح دکھائی دینے لگی۔

گھر کے پڑوس میں بہتی ندی پر سے دُھند چھٹ گئی۔ جنّات نے پھر کبھی نہانے کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ اِدھر کارُخ نہ کیا۔ اس نے جب ندی کے پانی میں ہاتھ ڈالا تو اس کی سسکاری نکل گئی۔ پانی بالکل یخ تھا۔ اس نے ہاتھ باہر کھینچا تو اس کی اُنگلیاں نیلی پڑ چکی تھیں۔

جب ماں نے باورچی خانے میں کھانا پکا کر پلیٹوں میں ڈالا تو نوالہ چباتے ہوئے اسے ذائقہ محسوس نہ ہوا۔ اس کی اُنگلیاں جل چکی تھیں۔

باورچی خانے میں کھڑی ماں کی آنکھوں کا نمک ختم ہو چکا تھا۔ تین بچے گردنیں جھکائے کھانا کھا رہے تھے۔

ایک کُرسی خالی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •