اور اب آگرہ بھی بھارتی انتہاپسندی کی زد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یہ بالکل ہو جانے والی بات ہے۔ یہ نہ سمجھیے گا کہ جو ہسپانیہ میں ہوا تھا اور جو بوسنیا میں ہو رہا ہے وہ یہاں (بھارت) میں نہیں ہو سکتا اس لئے کہ بھارت کے ہندو کا یہ Declared Objectiveہے کہ اس سرزمین کو پاک کرنا ہے۔ یہ نجس ہیں۔ یہ ملیچھ ہے مسلمان۔ اور ان کو یہاں سے ختم کر کے دم لینا ہے۔ آر ایس ایس کا ابھی ایک سرکولر شائع ہو چکا ہے۔ تمام ہندوسیاسی سماجی تنظیموں کو اس نے یہ لیٹر بھیجا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کمر کس لیں کہ بھارت کی پاک سرزمین کو مسلمانوں کی نجاست سے ہمیں پاک کرنا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کچھ تھوڑا سا ردعمل پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہو گا باقی پوری مسلم ورلڈ میں کوئی ردعمل نہیں ہو گا۔

میں گارنٹی دیتا ہوں I Stand guaranteeکہیں سے کوئی ردعمل نہیں ہو گا۔ اس لئے ایودھیا کی مسجد میں انہوں نے دیکھ لیا۔ بنگلہ دیش اور پاکستان میں ردعمل ہوا۔ وہ کوئی صحیح ردعمل تو نہیں تھا۔ ہم نے مندر گرا دیے۔ دینی اعتبار سے بھی غلط، دینوی اعتبار سے بھی غلط، باقی پوری دنیا میں کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ یہ مسجد دوبارہ بن جانی چاہیے، ورنہ ہم تجارتی تعلقات ختم کر دیں گے۔ سفارتی تو بہت دور کی بات ہے۔ کوئی الٹی میٹم آف وار تو بہت دور کی بات ہے۔

تجارتی تعلقات ختم کرنے کی بھی کسی ایک مسلمان ملک نے دھمکی نہیں دی۔ انہوں نے (بھارت نے ) نبض دیکھ لی ہے کہ حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے۔ اور اگر بھارت میں یہ کچھ ہو گیا تو آپ یہ جان لیجیے بھارت کے جو عزائم ہیں وہ صرف بھارت تک نہیں ہیں۔ جس بھارت کے احیا کا وہ خواب دیکھ رہے ہیں اس میں افغانستان سے انڈونیشیا تک ان کا علاقائی کلیم ہے۔ ”یہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی ایک تقریر کا حصہ ہے جو انہوں نے بھارت ہی میں مسلمانوں کے ایک اجتماع میں کی تھی۔

اس وقت تک بی جے پی برسراقتدار نہیں ہوئی تھی۔ ایو دھیا مسجد کے انہدام پر جو شرم ناک بے حسی عالم اسلام نے دکھائی تھی، اس کا مظاہرہ ایک بار پھر دنیا نے حال ہی میں دیکھا ہے۔ جب بھارتی آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کے دستوری جسم کا مثلہ کیا گیا تو پوری دنیا میں سے ہلکی سی صدائے احتجاج تک بلند نہ ہوئی۔ صرف پاکستان تھا جس کی حکومت نے، عوام نے اور سیاسی جماعتوں نے مذمت کی اور پاکستان بھی اس لئے کہ اس کا چھٹکارا نہیں!

مگر سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ پاکستان خود ابھی تک بھارتی عزائم سے مکمل طور پر آگاہ نہیں! اور اگر آگاہ ہے تو اس پر بھی باقی عالم اسلام کی طرح بے حسی کی دبیز چادر تنی ہوئی ہے۔ اس میں کسی کو اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ آر ایس ایس کے عزائم میں مسلمانوں کا استیصال سرفہرست ہے۔ کالم کی مختصر جگہ، آر ایس ایس کی تشکیل اور تاریخ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مگر یہ تاریخ کتابوں سے لے کر انٹرنیٹ تک ہر جگہ موجود ہے اور بآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ مشہور کشمیری سفارت کار اور دانشور ڈی پی دھر کو ہسپانیہ بھیجا گیا تھا کہ وہاں مطالعہ کرے کہ مسلمانوں کا صفایا کس طرح کیا گیا تھا۔ یہ وہی ڈی پی دھر ہے جو 1971 ء کی جنگ میں بھارتی مداخلت کا معمار تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ماسکو میں بھارتی سفیر بھی رہا مشرقی پاکستان کے سانحہ کے حوالے سے روس نے بھارت کی جو پشت پناہی کی تھی، اس میں اس کی کوشش مسلمہ ہے! ہسپانیہ میں مسلمانوں کے خاتمے کا مطالعہ اب پرانی بات ہوچکی ہے۔

اب بھارت کا آئیڈیل اسرائیل ہے۔ جس طرح اسرائیل یہودی بستیاں بسا کر فلسطینی مسلمانوں کو کیمپوں کی طرف ہانک رہا ہے۔ وہی بھارت بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کا آغاز آسام میں ہو چکا ہے۔ لاکھوں مسلمانوں کو جو صدیوں سے آسام کے باشندے ہیں۔ راتوں رات شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ وسیع قید خانوں کی تعمیر وہاں جاری ہے۔ جنہیں کیمپ کہا جائے گا اور جہاں مسلمانوں کو تلف ہونے کے لئے بے یارو مددگار بند کر دیا جائے گا۔

حد یہ ہے کہ ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کو بھی شہریت سے محروم کیا جا رہا ہے صرف اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں! جب کہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ہندوؤں کو جو اصل میں غیر ملکی ہیں، کچھ نہیں کہا جا رہا ہے! اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ صرف آسام میں ہو رہا ہے کیوں کہ وہاں بنگلہ دیشی گھس آئے تھے تو وہ ناواقف ہے یا احمق! بھارت یہ کھیل اس کے بعد یوپی، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور بہار میں کھیلے گا۔ پنجاب اور کیرالہ شاید بچ جائیں، یا ان کی باری آخر میں آئے۔

ایم ایس گوالکار نے جو آر ایس ایس کا گرو جی کہلاتا ہے، صاف صاف لکھا ہے کہ ”ہندوستان کے غیر ہندوؤں کو ہندو کلچر ہر حال میں اپنانا ہو گا، زبان سیکھنا ہو گی۔ ہندو مذہب کی تعظیم کرنا ہو گی۔ ہندو نسل اورہندو کلچر کی برتری کے علاوہ وہ کسی اور زعم میں نہیں پڑیں گے۔ اگر اسے ایک لفظ میں سمونا ہے تو وہ یہ کہ وہ“ غیر ملکی ”نہیں رہیں گے اور اگر یہاں رہنا چاہیں تو ہندو قوم کے ماتحت ہو کر رہیں گے۔ ان کا کسی شے پر کلیم نہیں ہو گا۔ انہیں کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ کسی ترجیحی سلوک کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہاں تک کہ شہری حقوق سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا“

گوالکار کا یہ اعلان، مشہور بھارتی مورخ رام چندر گوہا نے بھی اپنی معروف تصنیف (بھارت گاندھی کے بعد) میں نقل کیا ہے! گوالکار جیسے آر ایس ایس کے معماروں کے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ادتیا ناتھ یوگی جیسے بدبودار، متعصب اور انتہائی تنگ نظر، کٹر ہندو پنڈت اب حکمران بن چکے ہیں۔

مسلمانوں کا یہ بدترین دشمن آج یوپی کا چیف منسٹر ہے۔ یو پی کی اہمیت اور مسلم ثقافت اور تاریخ کے اعتبار سے وہی ہے جو وسط ایشیا میں ازبکستان کی ہے۔ بخارا سمر قند، خیوا، ترمذ، نمنگان سب ازبکستان میں واقع ہیں۔ اسی طرح مسلم کلچر ثقافت اور تاریخ کے اعتبار سے مشہور تاریخی شہر اور قصبے یو پی میں واقع ہیں۔ لکھنو، غازی آباد، آگرہ، میرٹھ، الہ آباد، بریلی، علی گڑھ، مراد آباد، سہارنپور، فیروز آباد، مظفر نگر، بدایوں، شاہجہان پور، فتح گڑھ، بلند شہر، امروہہ، رائے بریلی، غازی پور، اعظم گڑھ، بجنور، شکوہ آباد اور لاتعداد مسلم ناموں والے دیگر قصبے یوپی میں واقع ہیں۔

یو پی کا چیف منسٹر ادتیا ناتھ، ایک سانپ کی طرح پھنکار رہا ہے۔ الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج رکھ چکا ہے۔ مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر دیال اوپادھائے نگر رکھا جا چکا ہے۔ اب یہ زہریلا سانپ آگرہ کو ڈسنے کا اعلان کر چکا ہے۔ آگرہ کو اگروان کا نام دیا جا رہا ہے۔ ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کی خاطر آگرہ کی امبید کار یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کو اس ضمن میں ”تحقیق“ کا حکم دیا گیا ہے۔ آگرہ اور تاج محل کے نام لازم و ملزوم ہیں۔ اگر مسلم دنیا اسی طرح بے حس، اور حمیت سے عاری رہی تو کل تاج محل کا نام بھی بدل دیا جائے گا!
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •