مولانا فضل الرحمن: پشتونخوا میپ کے جلسے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست ممکنات کا نام ہے۔ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے نہ دشمن۔ نظریات و افکار کا اختلاف جماعتوں کے درمیان ہمیشہ رہتا ہے۔ ان اختلافات کے باوجود خوشگوار تعلقات رکھنا اعلی اقدار کہلاتا ہے۔ ملنا ملانا، گفت و شنید کرنا، اہم قومی مسائل پر ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنا اور قوم کو مل کر کسی بحران سے نکالنا سیاسی جماعتوں کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔ نظریہ کے اختلاف کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ اپنے مخالف کا سماجی بائیکاٹ کر دیا جائے۔ بلکہ اپنے موقف و نظریہ پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو برداشت کرنا اور مشترکہ مفادات کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا مثبت سیاسی طرز عمل کہلاتا یے۔

ایم آر ڈی کے قیام سے سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے اکٹھی ہوتی رہتی ہیں۔ اس وقت بھی ملک میں جاری سول مارشل لاء کے خلاف سیاسی جماعتوں میں اتحاد دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نو سیاسی جماعتیں اس وقت ایک ہی مطالبہ کر رہی ہیں کہ یہ حکومت جعلی ہے، الیکشن چوری کیا گیا ہے۔ ملکی مسائل کا واحد حل نئے الیکشن ہیں۔ اسی تناظر میں مولانا کا آزادی مارچ ہوا۔ آزادی مارچ کے سٹیج پر سیکولر جماعتوں کے قائدین بھی نظر آئے۔ قوم پرست لیڈرز بھی شریک ہوئے۔ یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ مختلف خیالات رکھنے والے ایک بڑے مقصد کے لیے مل کر سٹرگل کر رہے ہیں۔ اسی سے قومی وحدت پیدا ہوتی یے۔

دو دسمبر کو کوئٹہ میں پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام عبدالصمد خان شہید کی برسی کے موقع پر جلسہ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جس میں مولانا فضل الرحمن صاحب کو مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے سیاسی ڈائنمکس کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ جمعیت علماء اسلام اور قوم پرست جماعتیں ہی اس صوبے میں اصل قوتیں ہیں۔ یہاں ہمیشہ مذہبی سیاست اور نیشنلسٹ جماعتوں کا ٹکراؤ ہوا ہے۔ خاص کر پشتونخوا میپ اور جمعیت پشتون علاقوں میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔

تاریخ میں کبھی ان کا انتخابی اتحاد نہیں ہوا۔ مولانا فضل الرحمنتاریخ میں پہلی مرتبہ پشتونخوا کے کسی جلسے میں شرکت فرما رہے ہیں۔ یہ انتہائی نیک شگون ہے۔ اعلی اقدار کے حامل قائدین اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ احترام کا رشتہ برقرار رکھتے ہیں۔ ملک میں موجودہ سیاسی حالات ایسے ہیں کہ تمام جماعتوں کا اتحاد ناگزیر یے۔

بلوچستان کی بڑی بدنصیبی ہے کہ اس وقت یہاں حکومت نہ قوم پرستوں کے پاس ہے اور نہ مذہب پرستوں کے۔ جو صوبے کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز ہیں۔ یہاں جو حکومت یے وہ کنگ پارٹی یے۔ صوبے کے مفادات کا انہیں کوئی لحاظ نہیں۔ گائے پارٹی سوائے گائے کے گوبر کے باقی کسی چیز کی ڈیمانڈ نہیں کر سکتی۔ جمعیت اور پشتونخوا و دیگر قوم پرست جماعتیں مل کے یہ عہد کریں کہ آئیندہ الیکشن میں اتحاد کر کے یہاں قوم پرستوں اور مذہب پسندوں کی مشترکہ حکومت قائم کی جائے گی تاکہ صوبے کے حقوق کا تحفظ یقنی بنایا جا سکے۔ اپنے وسائل پر اپنے اختیار کا مطالبہ کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •