ایاز امیر صاحب کا دکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایاز امیر صاحب میرے پسندیدہ ترین اخبار نویس ہیں۔ کھرے آدمی ہیں اور کھری باتیں کرتے ہیں۔ ایاز صاحب کا دکھ معاشرے میں ہر سو پھیلی دو نمبری اور منافقت ہے۔ سامانِ راحت کے لین دین کے عمل میں وقوع پزیر ہونے والی دو نمبری ان کا ایک بڑا دکھ ہے۔ یہ دکھ اکیلے ان کا نہیں بلکہ ہر اس بندے کاہے جو دو نمبریوں سے دھوکا کھاتا ہے۔ ایاز صاحب رکھ رکھاؤ والے بندے ہیں ورنہ دو نمبری والا زمانہ تو کب کا لد چکا۔ اب تو یہ شمار کرنا بھی مشکل ہے کہ یہاں کتنے نمبری چل رہی ہے۔

روحانی مشروبات کی دونمبری کا رونا ہی کیا یہاں تو ادویات سے لے کر سگریٹوں تک ہر چیز کم از کم سات آٹھ نمبر تک پہنچی ہوئی ہے۔ دودھ میں پانی اورکیمکل ملانا، مرچوں میں سرخ اینٹوں کا برادہ ملانا، نمک کی جگہ پتھر پیس پیس لوگوں کو کھلانا جس کے نتیجے میں گردوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں، تیزاب سے ادرک اور لہسن چھیل کر بیچنا غرض کیا کیا دو نمبری یہاں نہیں ہوتی۔

دو نمبری ایک اصطلاح ہے سو ہم یہی استعمال کرتے ہیں ورنہ قصہ تو اس پرانے لطیفے جیسا ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں پرانے وقتوں میں کسی گاؤں گراوں میں صرف وہاں کا مولوی ہی پڑھا بندہ لکھا ہوا کرتا تھا اور چھوٹے موٹے حساب کتاب اور تاریخ وغیرہ پوچھنے کے لیے لوگوں کو اسی کے پاس جانا پڑتا تھا۔ ایک دن ایک عورت ایک مولوی صاحب کے پاس چاند کی تاریخ پوچھنے گئی مولوی صاحب نے اس کو باہر انتظار کرنے کا کہا کہ وہ اندر جا کر جنتری سے دیکھ کر بتا سکیں۔

جنتری ان کی کیا تھی مٹی کا ایک برتن تھا جس میں وہ روزانہ کھجور کی ایک گٹھلی ڈال دیا کرتے تھے اور وقت پڑنے پر گن کر تاریخ بتا دیا کرتے۔ اس دفعہ وہ برتن کسی بچے نے گھٹلیوں سے بھر دیا تھا۔ مولوی صاحب جب گھٹلیاں گنتے گنتے جب 80 تک پہنچے تو خیال آیا کہ عورت باہر انتظار کر رہی ہے فورا باہر کو لپک کر کہنے لگے بی بی آج چاند کی 80 ہو گئی ہے۔ عورت حیران ہو کر کہتی ہے مولوی صاحب خدا کا خوف کریں کبھی چاند کی بھی 80 ہوئی ہے؟ اس پر مولوی صاحب نے وہ جملہ کہا کہ جو اب ہماری صورتِ حال پر صادق آتا ہے۔ فرمانے لگے بی بی خدا کے خوف سے ہی تو 80 بتا رہا ہوں ورنہ چاند تو 100 سے بھی آگے گزر گیا ہے۔

دکھ کی بات ہے کہ یہ دو نمبر رویے ہمارے اندر اس قدر رچ بس گئے ہیں کہ ہم دو نمبری کر کے فخر سے بتاتے پھرتے ہیں۔ میں کچھ عرصے سے دیارِ غیر میں ہوں اور دیکھتا ہوں کہ دنیا ہم سے کتنی مختلف ہے۔ انسانوں کے باہمی رشتے یا تو بالکل کاروباری ہیں جس میں جذبات کو کوئی عمل دخل نہیں ہے یا پھر محبت اور اخلاص سے بھر پور۔ ایسا نہیں کہ باقی دنیا میں سب اچھا ہوتا ہے لیکن القلیل کالمعدوم۔ دوسری دنیا میں اگر کہیں کوئی دو نمبری پکڑی جاتی ہے تو مجرموں کو مثال بنا دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں دو نمبر لوگ معتبر ہیں۔

ہمارے ایک جاننے والے صاحب کچھ دو نمبر سا کام کرتے تھے اور اسی سے بھاری مال کما کر آج کل کینڈا جا بسے ہیں، وہ دو نمبر کی کمائی اور خالص کمائی کے پیسے کو علیحدہ علیحدہ رکھا کرتے تھے۔ کہا کرتے تھے گھر کے راشن کے لیے خالص کمائی کے پیسے استعمال کرتا ہوں۔ مزے کی بات یہ کہ وہ شاید اپنی دو نمبری کی وجہ سے ان کے دل میں کافی خوفِ خدا پیدا ہو گیا تھا نتیجے کے طور پر پانچ وقت کے نمازی ہو گئے۔ آئے روز قریب کی مسجد کے لیے نئے قالین خریدا کرتے اور مسجد میں ایئر کنڈیشنر لگوانے کا اہتمام بھی کیا۔ وہاں کہ مولوی صاحب نے جب بھانپا کہ بندہ ہاتھوں میں کیا جا سکتا ہے تو وہ ان حضرت کے ایسا درپے ہوئے کہ ان کو سیپارہ پڑھانے ان کے دفتر پہنچ جایا کرتے، قصہ مختصر وہ مولوی صاحب اور مسجد کا خرچہ اٹھانے لگے اور مولوی صاحب پند و نصائع سے ان کے ضمیر کا بوجھ ہلکا کیا کرتے۔ یہ تو ہے ہمارا المیہ۔

ہم وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں ہم خود سے بھی دو نمبریاں کرتے ہیں۔ اس سے بڑی دو نمبری اور کیا ہو گی کہ ہم اپنے کام کاج سے بھی مخلص نہیں اور ہر معاملے میں بس ڈنگ ٹپاؤ پروگرام جاری و ساری کر رکھا ہے۔ وقت سارا ہم فضول کاموں اور بے کیف باتوں کی نزر کرتے ہیں اور پھربھی یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ نہیں تو زندگی میں دو، چار تیر تو چلا ہی لیں گے۔ پنجابی شاعر نے نام جن کا حافظے سے محو ہو گیا ہے کہا تھا

سادھو، سنت، فقیر کرپٹ ہو گئے

قاضی، ملا تے میر کرپٹ ہو گئے

گم ہو گیا عدل عدالتوں چوں

جیلاں وچ اسیر کرپٹ ہو گئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •