EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

لال لال ”لہروانے“ والے ”سفید“ ہاتھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیر زادہ کا شمار اس ناچیز کے پسندیدہ کالم نگاروں میں ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کالم کا مستقل عنوان ”ذرا ہٹ کے“ پسند کیا ہے تو اس عنوان کا پاس کرتے ہوئے وہ ہمیشہ لکھتے بھی ذرا ہٹ کے ہیں، ورنہ یہاں تو حالت یہ ہے کہ لوگ اپنے کالم کا لوگو ”چوراہا“ لکھتے ہیں جبکہ عملا چرواہا بنتے ہوئے پوری قوم کو بھیڑ بکریوں کی ریوڑ سمجھ کر ہانکنے کے خبط میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جناب یاسر پیر زادہ ابن عطا الحق قاسمی نے حالیہ دنوں پاکستانی طالب علموں کی ٹرینڈ بننے والی ”جب لال لال لہرائے گا“ کو اپنے کالم میں موضوعِ سخن بنایا ہے۔

یہ تحریر کسی بھی دوسرے انقلابی مفکر کی قلم سے ”سرزد“ ہوجاتی تو حیرت نہ ہوتیو، یاسر جیسے علمیت اور عملیت پر یقین رکھنے والے صاحبِ قلم سے یہ انقلابی رشحات کچھ عجیب سے لگے۔

یاسر پیر زادہ نے ایک کہانی پیش کی ہے جس کا خلاصہ مختصراً کچھ یوں ہے کہ نکولائی چاوشسکو رومانیہ کا ایک سوشلسٹ انقلابی نوجوان تھا، انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑ جاتاہے، جیل میں اس کی ملاقات ”گیورگیودیج“ سے ہوجاتی ہے، چاوشسکو جیل سے فرار ہوجاتاہے، رومانیہ میں انقلاب کامیاب ہوجاتاہے اور گیورگیودیج پہلا انقلابی لیڈر بنتاہے، انقلابی حکومت میں چاوشسکو کلیدی عہدوں پر فائز ہوجاتاہے، گیورگیودیج انتقال کرجاتاہے، ان کے جگہ چاوشسکو رومانیہ کا حاکمِ مطلق بن جاتاہے، وہ اپنے خلاف ہرقسم کی مزاحمت کو کچلتا، مخالفین کو ہراساں کرتا اور ان کے اوپر عقوبت خانوں کے دروازے کھول دیتا ہے، چاوشسکو کے خلاف عوام کی شورش میں شدت آجاتی ہے۔

یہاں تک کہ وہ بخارسٹ میں اپنے انقلابی طرز کا خطاب شروع کرتا ہے تو غیر متوقع طور پر مجمع سے ہوٹنگ اور نعرہ بازی شروع ہوجاتی ہے۔ عوام اس کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی دفتر کا گھیراؤ کردیتے ہیں، چاؤشسکو اپنی اہلیہ سمیت دفتر کی چھت سے ہیلی کاپٹر میں فرار ہوجاتاہے، بعد میں اسے بیوی سمیت گرفتار کرکے ایک چھوٹے سے کمرے میں عدالت لگا کر مختصر سماعت کے بعد بیوی سمیت سزاے موت سنادی جاتی ہے اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دیاجاتا ہے۔

اس ساری داستان میں کالم نگار نے اس شخص کو ہیرو بنا کر اس کی ”سرفروشی کی تمنا“ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جس نے بخارسٹ میں چاؤشسکو کی خطاب کے وقت سب سے پہلے نعرہ بازی شروع کی تھی۔

Nicolae Ceausescu and his wife Elena recieve applause at the last convention of communists party, Nov. 1989. (AP-Photo)

سوال مگر یہ ہے کہ چاؤ شسکو بھی تو ایک زمانے میں انقلاب کے لئے سرفروشی کی تمنا کھوپڑی میں لئے ہوئے تھے، اس کی انقلاب کی تمنا سرفروشی کے بغیر ہی پوری ہوگئی مگر اس انقلاب کی بطن سے پھر عقوبت خانے، استبداد، تعزیرات نے کیوں جنم لیا، یہاں تک کہ ”سرفروشی کی تمنا“ سے شروع ہونے والی مبارک سفر کے خاتمہ بالخیر کے لئے ایک اور سرفروشی کی تمنا لئے ہوئے نوجوان کی ضرورت پڑگئی۔

یہ انجام صرف لال لال لہرانے والے انقلاب کا نہیں، سبز سبز اور سفید سفید لہرانے والے انقلابات کی عاقبت بھی اس سے مختلف نہیں ہوتی، انقلاب انقلاب ہوتا ہے، اس کی اپنی ایک ماہیت اور اپنی ایک طبیعت ہوتی ہے، لال، سبز اور سفید رنگ چڑھانے سے انقلاب کا اپنا ذاتی مزاج تبدیل نہیں ہوتا۔

یاسر پیر زادہ اگر انقلاب کے انجام کے بجائے اس کے آغاز پر توجہ کرتے تو اس کا سامنا کچھ مختلف نتائج سے ہو جاتا۔

اور آخری بات یہ کہ یاسر پیر زادہ ماشاء اللہ سی ایس ایس پاس اور اعلیٰ گریڈ کے سرکاری افسر ہیں، ان کے والد بزرگوار اردو کے بڑے ادیب ہیں، نواز شریف کی اقتدار کے آواخر میں ان کو عدالت کے ذریعے تھوڑا سے ”ٹایٹ“ کیا گیا تو انہوں نے اس پیرانہ سالی میں بھی سرفروشی کی تمنا پالنے کے بجاے آنکھیں کھولنے والی ”سرمہ فروشی“ کے جانب باگ موڑ لیے۔ یاسر پیر زادہ کے بیٹے بھی ہوں گے، جو یقینا پرسوں منعقد ہونے والے سرفروشی کی تمنا کے مظاہرے میں شریک نہیں رہے ہوں گے اور یقینا وہ سی ایس ایس سے کچھ آگے کا ہی سوچ رہے ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ ان ”مفکرین“ کو سرفروشی کی تمنا دوسروں کے بچوں کے سروں پر ہی سوار اچھی کیوں لگتی ہے، عرض یہ ہے کہ سرفروشی کی تمنا کے دو ہی نتائج ہوسکتے ہیں، کامیابی یا ناکامی، کامیابی کا ماڈل نکولائی چاؤشسکو تھے اور ناکامی کی بھگت سنگھ، پتا نہیں ان میں سے کون سی ماڈل ایسی ہے جسے گلیمرائز کیا جاسکتاہے۔ چاؤشسکو کا انجام تو خود ہمارے ممدوح کالم نگار نے رقم کر دیا ہے، رہے بھگت سنگھ تو یہ تمنا تو خود بھگت سنگھ کے بھی کام نہیں آئی، بھگت سنگھ ”حقیقی ہیرو“ تھے، لیکن سرفروشی کی تمنا سے وہ خود اتنا کچھ نہ کما سکے جتنا کہ ان کے اوپر بننے والی بالی ووڈ کے فلم میں بھگت سنگھ کا کردار آدا کرنے والے ”فلمی ہیرو“ نے کمایا ہو گا۔

اور ہاں!

بھارت میں ان کے اوپر بننے والی دونوں فلموں ”دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ“ اور ”شہیدِ اعظم“ کے خلاف بھگت سنگھ کا بھتیجا پروفیسر جگموہن سنگھ عدالت گئے تھے، ان کا اعتراض یہ تھا کہ ان فلموں میں ”بھگت سنگھ کو بندوقوں سے کھیلنے والے ایک جوشیلے نوجوان کے طور پر کیوں پیش کیا گیا ہے“۔

Nicolae Ceaușescu execution
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •