پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: ٹیسٹ میچوں میں شکست کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ

Getty Images
پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے دورے میں ایک بھی انٹرنیشنل میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا میں بدترین کارکردگی کے بعد اگر بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کے بیانات کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ سیاستدانوں سے بیانات دینے کا فن سیکھ رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے دورے میں ایک بھی انٹرنیشنل میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور ٹی 20 اور ٹیسٹ دونوں سیریز میں اسے دو صفر سے شکست ہوئی۔

اس تمام تر صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام ہوں یا ٹیم منیجمنٹ آسٹریلیا میں شکست کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور لفظوں کی بازی گری کے ساتھ یا تو کسی دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے یا پھر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پتہ نہیں وقار یونس کہاں کھوئے ہیں!‘

‘ہم سب اسد شفیق ہیں’

آسٹریلیا کو ٹیسٹ میچ ہرانے کے لیے پاکستان کیا کرے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان کا جو بیان میڈیا کی زینت بنا ہے اس میں انھوں نے کہا ہے کہ اس دورے کے نتائج کا مطلب دنیا ختم ہونا نہیں ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف کہتے ہیں کہ ’اینڈ آف دی ورلڈ‘ انگریزی کا مشہور فقرہ ہے جو 1992 کا ورلڈ کپ ہارنے کے بعد انگلینڈ کے کپتان گراہم گوچ نے ادا کیا تھا۔

’2003 کے عالمی کپ کے بعد ناصر حسین نے بھی یہی بات کہی تھی لیکن ان کے اور ہمارے کلچر میں بہت فرق ہے۔ وسیم خان کو یہ سوچنا چاہیے تھا۔‘

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں ایشیائی ٹیموں کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔ انڈین ٹیم بھی پہلے وہاں نہیں جیتا کرتی تھی لیکن پھر اس نے بھی وہاں کامیابی حاصل کی۔ سری لنکا کی ٹیم جنوبی افریقہ جاکر جیتی، ایسے میں آپ کو بھی امید ہوجاتی ہے کہ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اصل چیز ہوم ورک اور صحیح حکمت عملی ترتیب دینا ہے‘۔

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز تو ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کرتے آئے ہیں لیکن اس بار آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے بھی پاکستانی ٹیم کی حکمت عملی خصوصاً فاسٹ بولنگ سلیکشن پر تنقید کی ہے کیونکہ یہ نظر آرہا تھا کہ پاکستانی ٹیم انتہائی ناتجربہ کار فاسٹ بولرز کے ساتھ آسٹریلیا گئی تھی‘۔

کرکٹ

Getty Images
افتخار احمد ٹیسٹ میچوں میں نہ تو مکمل بیٹسمین ثابت ہوسکے اور نہ ہی آف سپنر

سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کہتے ہیں کہ ’فاسٹ بولرز کے لیے آسٹریلیا کی کنڈیشنز بہت مشکل ہوتی ہیں وہ اس لیے کہ بولرز کو مستقل زور لگا کر بولنگ کرنی پڑتی ہے۔‘

بازید خان کو سب سے زیادہ مایوسی کپتان اظہر علی کی بیٹنگ اور یاسر شاہ کی بولنگ سے ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اظہر علی کی کپتانی کو صرف ایک سیریز کی کارکردگی سے پرکھنا مناسب نہیں ہے تاہم پچھلے کچھ عرصے سے ان کی بیٹنگ کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے‘۔

بازید خان کا کہنا ہے کہ یاسر شاہ آسٹریلیا کے پچھلے دورے میں ناکام رہے تھے لہذا ’اس بار ان سے اچھی کارکردگی کی توقع تھی لیکن وہ اس بار بھی کامیاب نہ ہو سکے۔‘

بازید خان اس بات پر سخت خفا ہیں کہ ہر بار ٹیم کی ری بلڈنگ یعنی تشکیل نو کی بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی ری بلڈنگ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل ہے کیونکہ جو آج ہے وہی مستقبل ہے‘۔

یہاں شائقین اور مبصرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو پتہ نہیں تھا کہ آسٹریلیا میں تجربہ کار فاسٹ بولرز کی ضرورت ہوگی تو وہاب ریاض اور محمد عامر کو اس بات پر آمادہ کیوں نہیں کیا گیا کہ وہ اس اہم دورے میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں کے لیے خود کو دستیاب رکھیں۔

کرکٹ

Getty Images
موسیٰ خان بھی اس دورے میں ایک ٹیسٹ کھیلے مگر ان کی کارکردگی متاثرکن نہیں تھی

کرکٹ کے حلقوں نے بولنگ کوچ وقار یونس کے اس بیان پر بھی سخت حیرانی ظاہر کی ہے جس میں انھوں نے نسیم شاہ سے برسبین ٹیسٹ میں دن بھر صرف چار اوورز کرانے کو ورک لوڈ سے تعبیر کیا تھا۔

آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ ’جب آپ ٹیسٹ میچ کھیلتے ہیں تو پھر اس میں آپ کو مکمل بولنگ کرنی پڑتی ہے اور آپ کو چالیس پچاس اوورز کرنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اس میں ورک لوڈ نہیں دیکھا جاتا۔‘

غور طلب بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کے دورے سے قبل فاسٹ بولر عمران خان نے پانچ فرسٹ کلاس میچوں میں صرف آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن اس کے باوجود دو سال کے وقفے کے بعد ان کو واپس لایا گیا اور اس کے برعکس چھ فرسٹ کلاس میچوں میں چودہ وکٹیں لینے کے باوجود راحت علی پر کسی کی نظر نہیں پڑی۔

افتخار احمد کو فواد عالم پر ترجیح دینے کا یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ آسٹریلیا کے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے بازوں کے خلاف ان کی آف سپن کام آئے گی لیکن دونوں ٹیسٹ میچوں میں وہ نہ تو مکمل بیٹسمین ثابت ہوسکے اور نہ ہی آف سپنر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15512 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp