ٹائیفائیڈ: نئی ویکسین سے سندھ کے 90 لاکھ بچے مستفید ہوں گے

جیمز گیلیگر - ہیلتھ اینڈ سائنس رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویکسین

Getty Images

پاکستان میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ٹائیفائیڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے متعارف کروائی جانے والی نئی ویکسین ’بہت اچھی طرح کام کر رہی ہے‘ اور ایک تقریباً لاعلاج انفیکشن کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق نئی ویکسین کے ٹیسٹ کے دوران بیکٹیریا کے ذریعے سے پھیلنے والی بیماری کے کیسز میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے۔

پاکستان میں اینٹی بائیوٹک یعنی بیکٹیریا کُش ادویات کا ٹائیفائیڈ پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے صوبہ سندھ میں اس وقت 90 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس ویکسین نے ٹائیفائیڈ کے خلاف جنگ کی کایا پلٹ دی ہے اور اس کے استعمال سے ٹائیفائیڈ سے ہونے والی اموات میں قدرے کمی کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں بچوں کےلیے نئی ٹائیفائیڈ ویکسین متعارف

پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی نئی قسم پر مدافعتی ادویات بے اثر

ویکسینیشن: سات غلط فہمیاں جنھیں دور کرنا ضروری ہے

ٹائیفائیڈ بخار کیا ہے؟

ٹائیفائئڈ بخار سیلمونیلا ٹائفی نامی انتہائی متعدی بیکٹیریا کی ایک قسم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا آلودہ کھانے اور پانی کے ذریعے پھیلتا ہے۔

یہ بیماری پسماندہ ممالک میں عام ہے جہاں صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اور صاف پانی دستیاب نہیں ہوتا۔

اس کی علامات مندرجہ ذیل ہیں:

  • طویل عرصے تک رہنے والا بخار
  • سر درد ہونا
  • متلی آنا
  • بھوک نہ لگنا
  • قبض

ٹائیفائئڈ اندورنی خون بہنے جیسی مہلک پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ایسا 100 میں سے ایک فرد کے ساتھ ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 11 سے 21 ملین افراد اس کی لپیٹ میں آتے ہیں اور 128000 سے 161000 افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ویکسین کے تجربے کے دوران کیا ہوا؟

نیپال کی کٹھمنڈو وادی میں نو ماہ سے لے کر 16 سال کے 20 ہزار سے زائد بچوں نے اس تجربے میں حصہ لیا۔

نیپال کے اس علاقے میں ٹائیفائیڈ صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

پہلے سال میں دیکھا گیا کہ جن بچوں کو ویکسین دی گئی، ان میں ٹائیفائئڈ کیسیز کی تعداد 81 فیصد تک کم ہو گئی۔

تجربے میں حصہ رہنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بی بی سی کو بتایا ’دنیا کے سب سے زیادہ غیرمحفوظ بچوں کو اس بیماری سے بچانے کے لیے یہ (ویکسین) کافی اچھی طرح کام کر رہی ہے۔‘

’ٹائیفائیڈ کا بوجھ بہت زیادہ ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ بچوں کو علاج کروانے کے لیے ہسپتال لے کر جاتے ہیں اور اینٹی بائیوٹک سے علاج اور مرض کی جانچ پر آنے والے خرچے میں ڈوب کر غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

’اس مرض پر قابو پانے کے لیے اس ویکسین کی آمد ایک بڑا لمحہ ہے۔‘

اب یہ معلوم کیا جائے گا کہ تجربے میں شامل نیپال، مالاوی اور بنگلہ دیش کے بچوں کو ویکسین کتنے عرصے کے لیے بیماری سے محفوظ رکھے گی۔

ٹائیفائیڈ ویکسین ایکسلیریشن کنسورٹیئم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کیتھلین نیوزل کہتی ہیں کہ ویکسین بیماری کو ’کم کر سکتی ہے اور اُن علاقوں میں زندگیاں بچا سکتی ہے جہاں صفائی اور صاف پانی کی قلت ہے۔‘

ویکسین

AFP

ویکسین کی ضرورت کیوں ہے؟

عالمی ادارۂ صحت نے تنبیہ کی ہے کہ ٹائیفائیڈ نے اینٹی بائیوٹک کے خلاف ’بہت بڑی حد تک‘ مدافعت پیدا کر لی ہے اور دنیا میں دستیاب علاج اپنی حد تک پہنچ چکا ہے۔

ترقی پزیر ممالک میں تیزی سے شہروں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے صاف پانی اور ٹوائلٹ جیسی بنیادی سہولیات کئی ممالک کے لیے مہیا کرنا ناممکن ہے۔

اگرچہ ٹائیفائیڈ کے لیے دو ویکسینز دستیاب ہیں، ان دونوں میں سے ایک بھی دو سال سے کم عمر کے بچوں کو نہیں دی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آبادی کے سب سے کمزور بچے غیر محفوظ ہیں۔

پاکستان میں صورتحال کتنی بری ہے؟

پاکستان میں بڑے پیمانے پر ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والے ’ایکسٹینسِولی ڈرگ رِزسٹنٹ (ایکس ڈی آر) ٹائیفائئڈ بخار کی وبا عام ہے۔

پسماندہ ممالک میں بچوں کو ویکسین کی فراہمی کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے گیوی کے چیف ایگزیکیٹو ڈاکٹر سیتھ برکِلے نے بی بی سی کو بتایا ’اس وقت پاکستان میں ٹائیفائئڈ کی ایک قسم نے ایک اینٹی بائیوٹک کے علاوہ، جس کے ذریعے ہم بیماری کا علاج کرتے ہیں، باقی تمام اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مدافعت پیدا کر لی ہے۔ یہ ہمیں اس وقت کی طرف دھکیل رہا ہے جب ٹائیفائیڈ کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد کا پانچواں حصہ موت کا شکار ہو جایا کرتا تھا۔‘

ٹائیفائیڈ کی وبا کا آغاز نومبر 2016 میں صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں ہوا اور 10 ہزار سے زیادہ افراد اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

گیوی سندھ میں 90 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کا خرچہ اٹھا رہا ہے۔ اب صوبہ سندھ دنیا کا وہ پہلا علاقہ بن جائے گا جہاں یہ ویکسین بچپن میں معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا حصہ بن جائے گی۔

ڈاکٹر برکِلے کا کہنا ہے ’ٹائیفائیڈ کے خلاف جنگ میں اس ویکسین نے کایا پلٹ دی ہے اور اس کے دریافت ہونے کا اس سے بہتر کوئی وقت نہیں ہو سکتا تھا۔‘

پروفیسر پولارڈ کہتے ہیں کہ اتنے کم وقت میں ایک ایسی ویکسین کا آنا بہت خوشی کا باعث ہے جو نہ صرف بیماری کو روک سکے بلکہ جراثیم کی ادویات کے خلاف مدافعت کو ختم کرنے میں مدد کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11828 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp