بہاری مسلمان مصور شیخ ذین الدین جن پر برطانوی سامراج فدا تھا

یہ اس دور کی کہانی ہے جب مغلیہ تخت پر شاہ عالم دوئم کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ اس دور میں سات سمندر پار سے تجارت کرنے ہندوستان آنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی نے آہستہ آہستہ انڈیا پر اپنا شکنجہ کسنا شروع کر دیا تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے صرف تجارت یا زمین پر قبضہ نہیں کیا بلکہ اس میں کام کرنے والے اعلیٰ افسران نے مغلیہ فن اور فنکاروں کو بھی برطانوی راج میں شامل کرنا شروع کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حضرت عیسیٰ کی 500 سال پرانی پینٹنگ ابو ظہبی میں

ڈا ونچی کی ’پہلی‘ مونا لیزا کا معمہ

مصنوعی ذہانت نے مونا لیزا میں جان ڈال دی

پٹنہ کے مغلیہ مصور ذین الدین

پٹنہ سے تعلق رکھنے والے شیخ ذین الدین کی شناخت برطانوی راج کے چنیدہ مصوروں میں ہوا کرتی تھی۔ وہ مغلیہ انداز کی مصوری میں ماہر تھے اور انھیں نوابوں جیسا رتبہ حاصل تھا۔

ذین الدین کے فن پاروں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں مغلیہ اور مغربی خیال کا امتزاج پایا جاتا تھا۔

مغربی دنیا میں ان کے مشہور ہونے کی کہانی انڈیا کے شہر کولکتہ سے جڑی ہوئی ہے۔

اس دور میں ہگلی ندی کے کنارے آباد اس شہر کو ایشیا کے سب سے تیزی سے بدلنے والے شہر کے طور سے دیکھا جاتا تھا اور اسے محلوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ 1732 میں کولکتہ کی ،جو اس وقت کلکتہ ہوا کرتا تھا، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سر ایلیجا ایمپے انڈین فن و ثقافت میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔

سر ایلیجا ایمپے

Getty Images
کلکتہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سر ایلیجا ایمپے انڈین فن وثقافت میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے

انڈیا آنے سے پہلے انھوں نے بنگالی اور اردو زبان سیکھ لی تھی اور کلکتہ پہنچ کر فارسی زبان بھی سیکھی۔ کچھ دن بعد انھوں نے کلاسیکل پینٹنگز جمع کرنا شروع کیں۔

ذین الدین کا کلکتہ پہنچنا بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ پٹنہ میں رہنے والے ذین الدین مغلیہ انداز کی پینٹنگز بنایا کرتے تھے۔ جب سر ایلیجا ایمپے اور ان کی بیگم لیڈی میری کو انڈیا کے معدوم ہوتے جنگلی جانوروں میں دلچسپی پیدا ہوئی تو انھوں نے یہ جانور اپنے گھر میں پالنے شروع کیے۔

اس کے بعد لیڈی میری نے پٹنہ جا کر وہاں کے مقامی فنکاروں کو اپنے ساتھ کلکتہ لانے کا فیصلہ کیا جن میں ذین الدین بھی شامل تھے۔

اس کے بعد ذین الدین نے ان کے گھر پر جانوروں کی تصاویر بنانا شروع کیں۔ ذین الدین نے اس سے پہلے کبھی بھی انگریزی کاغذ پر ہینٹنگ نہیں بنائی تھی لیکن جلدی ہی انھوں نے انگلش واٹر پیپر پر برش کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔

1773 میں سکاٹ لینڈ کے جیمز کیر انڈین فنکاروں کی علم حیاتیات پر بنائی ہوئی پیٹنگز ایڈنبرا لیکر گئے لیکن ایمپے نیچرل ہسٹری ایلبم کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔

آج کے دور میں ایمپے کی ایلبم کے نمونے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ہیں اور آج بھی جب ان پینٹنگز کو نیلامی کے لیے رکھا جاتا ہے تو ایک پینٹنگ کی قیمت تقریباً ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ تک پہنچ جاتی ہے۔

ایمپے کی ایلبم کی 197ویں پینٹنگ مصوری کا بہترین نمونہ تصور کی جاتی ہے۔

ذین الدین نے ایمپے فیملی کے لیے ایک شہباز کی خوبصورت تصویر بنائی تھی۔ پہلی ہی نظر میں یہ پینٹنگ کسی یورپی فنکار کی بنائی ہوئی لگتی ہے لیکن اگر غور سے دیکھیں تو یہ مغلیہ اور مغربی خیال کا امتزاج نظر آتی ہے۔ یہ پینٹنگ اپنے رنگوں کے انتخاب اور ان کے گہرے استعمال کے سبب چمکدار لگتی ہے۔

اس تصویر میں پیڑ کا تنا گول بنایا گیا ہے اور اس کے تنے پر بیٹھا ہوا ٹڈا ایسا لگتا ہے جیسے کتاب میں عرصے سے دبا کر رکھا گیا کوئی پھول ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words