ٹیل سوان لوگوں کو اپنی موت کے تصور کی ترغیب دینے والی خاتون ہیں یا پھر ایک روحانی استاد؟

لیبو ڈیسیکو اور جواین وہالی - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیل سوان

BBC
ٹیل سوان کہتی ہیں کہ ان کا مقصد مشکلات میں گھرے لوگوں کی مدد کرنا ہے اور کئی لوگوں نے ان کی وجہ سے خودکشی کا ارادہ ترک کیا ہے

انتباہ: اس مضمون میں کچھ ایسی تفصیلات ہیں جو چند قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں۔

Short presentational grey line

BBC

ایک لمبے بالوں والی، جاذب نظر عورت کی پنسل ڈرائنگ کچھ عرصے سے ان کے گھر میں تھی۔ لیکن سارہ نے اس کے بارے میں کچھ نہیں سوچا۔

ان کی بیٹی کیسی ایک باصلاحیت آرٹسٹ تھی اور وہ گھنٹوں اپنے آرٹ کے کام میں محو رہتی تھی۔

لیکن اس کے کچھ عرصے بعد سارہ نے اس کی اہمیت کے بارے میں تعجب کرنا شروع کیا اور اس کے متعلق کھوج لگانا ضروری سمجھا۔

انھیں جلد ہی پتہ چلا کہ کیسی نے اسے آن لائن پوسٹ کیا تھا۔ اس کے ساتھ یہ تحریر لکھی تھی: ’یہ خوبصورت عورت ٹِیل سوان ہے، جو ایک محبوب اور شاندار روحانی گرو ہے۔‘

کیسی نے صرف چند ماہ قبل ہی خود کشی کی تھی۔ اپنی اکلوتی بیٹی کی وفات کے دکھ سے ٹوٹ جانے والی سارہ اپنی بیٹی کی زندگی کے آخری ہفتوں کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرنا چاہتی تھی۔

یہ خاتون کون تھیں جو ایک 18 سالہ لڑکی کی زندگی کے لیے انتہائی مسحورکن تھیں؟

ٹِیل سوان ایک خود ساختہ روحانی استاد ہیں جو خود کو ’ذاتی تبدیلی کی انقلابی‘ اور ’روحانی طور پر متحرک‘ کرنے والی کہتی ہیں۔

امریکہ کی ریاست یوٹاہ میں میری ٹِیل بوسورتھ کے نام سے پیدا ہونے والی یہ خاتون امریکہ اور وسطی امریکہ میں کئی مراکز چلا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کے ہزاروں فالوورز ہیں۔ ان کے یوٹیوب چینل کو سات کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ افراد نے دیکھا ہے۔

ان کی برانڈ کی توجہ لوگوں کو ذہنی صحت کے مشورے دینے پر مرکوز ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو ڈپریشن کے شکار یا خودکشی کی جانب مائل ہوں۔

دوبارہ جنم لینے اور کرسٹلز کے ذریعے علاج پر یقین رکھنے والی سوان کہتی ہیں کہ خودکشی کی کئی کوششوں سے بچ جانے والی خاتون کے طور پر انھیں اس بارے میں وہ مخصوص فہم حاصل ہے جو ان کے مطابق ذہنی صحت کے ماہرین میں نہیں پایا جاتا۔

ٹیل سوان کی تصویر تیاری کے مرحلے میں

BBC
ٹیل سوان کی تصویر تیاری کے مرحلے میں

سوان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد مشکلات میں گھرے لوگوں کی مدد کرنا ہے اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ خودکشی کی جانب مائل تھے، تو ان کی تعلیمات نے ان کی مدد کی ہے۔

لیکن سوان کے ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ موت کو دلکش بنا کر پیش کر رہی ہیں۔ جبکہ جن ذہنی صحت کے ماہرین سے میں نے بات کی، وہ ان کے کچھ طریقوں کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ اور ’خطرناک‘ قرار دیتے ہیں۔

سارہ شمال مغربی امریکہ میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہیں۔ پس منظر میں مسیحی موسیقی آہستہ سے بج رہی ہے جبکہ کھڑکیوں سے سورج کی روشنی چھن کر آ رہی ہے۔

وہ اور ان کے شوہر مجھے اُس فون کال کے بارے میں بتاتے ہیں جس نے ان کی دنیا کو بکھیر کر رکھ دیا تھا۔ وہ جس میں انھیں اطلاع ملی تھی کہ ان کی بیٹی نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

افغان خواتین خودکشی کیوں کر رہی ہیں؟

’میں نے بیٹے کی موت کے بارے میں سچ بولنا شروع کیا‘

سارہ جانتی تھیں کہ کیسی حال ہی میں ختم ہونے والے ایک تعلق کے دکھ سے نمٹ رہی تھیں، لیکن انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کتنا برا محسوس کر رہی تھیں یا وہ کیا کرنے پر غور کر رہی تھیں۔

سارہ نے سراغ لگانے کے لیے اپنی بیٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پڑتال کرنی شروع کر دی۔

انھیں علم ہوا کہ کیسی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اس عورت کی پنسل سے بنی تصویر کو ٹِیل سوان کے نام سے شیئر کیا تھا۔

اور جلد ہی انھیں یہ بھی علم ہوا کہ ان کی بیٹی نے ‘ٹیل ٹرائب’ نامی ایک خفیہ فیس بک گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی جس میں ہونے والی کوئی بھی سرگرمی کو صرف اس کے ممبر ہی دیکھ سکتے ہیں۔

سارہ اس گروپ میں شامل ہوگئیں اور انھوں نے جو دیکھا اس سے وہ خوفزدہ ہو کر رہ گئیں۔

انھوں نے اپنی بیٹی کی ایک پوسٹ پڑھی جس میں انھوں نے یہ لکھا تھا کہ انھوں نے اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔

اس پوسٹ کے ساتھ پوسٹ کی گئی تصویر ایک سٹاک فوٹو تھی جس میں ایک عورت نے بندوق کی طرح اپنے سر پر دو انگلیاں بنا رکھی تھیں۔

اس پوسٹ کے جواب میں، دو افراد بشمول اس گروپ میں مواد کو ماڈریٹ کرنے والے ایک رضاکار نے کمنٹس میں سوان کی ویڈیو پوسٹ کی جس کا عنوان تھا ’میں خود کو مارنا چاہتا ہوں (اگر آپ خودکشی کرنے کا سوچ رہے ہیں تو کیا کیا جائے’)۔

اس ویڈیو میں سوان نے خودکشی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ طبی مدد حاصل کریں، لیکن آگے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے تجربے کے مطابق کچھ لوگوں کو طویل مدتی لحاظ سے اس سے فائدہ نہیں ہوتا۔

اس کے بجائے انھوں نے کہا تھا کہ خود کشی کو ’ہمارے حفاظتی جال یا ہمارے ری سیٹ والے بٹن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو ہمیشہ ہمارے پاس دستیاب ہوتا ہے۔‘

اس ویڈیو میں سوان نے زور دیا تھا کہ اس طرح سوچنے سے لوگ خودکشی کے خیال کو ترک کر سکتے ہیں، اور وہ اس کے بجائے اپنے موجودہ حال میں خود کو بہتر محسوس کر سکتے ہیں۔

انھوں نے ایک ایسی مشق کا بھی مشورہ دیا جس میں ناظرین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ فرش پر لیٹ جائیں اور اپنی موت کا تصور ’خوفناک تفصیل‘ میں کریں۔

سوان نے ویڈیو میں زور دیا کہ ایسا کرنے سے ناظرین کو اندازہ ہو جائے گا کہ ’زندگی کے علاوہ اور کہیں نہیں جا سکتے … تو اسے کیوں چھوڑیں؟‘

انھوں نے ویڈیو میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اپنے آپ کو مارنا آپ کے پیاروں کے لیے ’تباہ کن لہریں پیدا کردے گا‘ اور ’اس سے فرق پڑتا ہے کہ آپ یہاں ہیں یا نہیں … آپ مرنا نہیں چاہتے۔ آپ جو چاہتے ہیں وہ آپ کے درد کا خاتمہ ہے۔‘

جب نومبر کے اوائل میں ہم نے اس ویڈیو کو دیکھا تو خودکشی سے متعلق ویڈیوز کی فہرست میں یہ گوگل سرچ پر ٹاپ نتائج میں سے تھی۔

کیسی کی والدہ سارہ کو فون کال موصول ہونے کا خاکہ

Katherine Lam
خاکہ: کیسی کی والدہ سارہ کو فون کال موصول ہوتی ہے

ہم نہیں جانتے کہ کیا کیسی نے یہ ویڈیو دیکھی تھی، اور اگر انھوں نے ایسا کیا بھی تو ہم نہیں جان سکتے کہ کیا یہ ویڈیو ان کے حتمی جان لیوا فیصلے پر اثر انداز ہوئی، اور اگر ہوئی تو کیسے۔

لیکن ان کے مرنے سے کچھ عرصہ قبل کی اس کی پوسٹس میں کچھ ایسی زبان نظر آتی ہے جو خود سوان استعمال کرتی ہیں، جن میں دوسرے جنم کی باتیں شامل ہیں۔

ان کی والدہ سارہ اس بات پر غصہ ہیں کہ اس ٹِیل ٹرائب نامی خفیہ فیس بک گروپ نے کیسی کی پوسٹ کے جواب میں صرف ویڈیو پوسٹ کر دی، اور یہ کہ کسی نے بھی پولیس کو فون نہیں کیا، یا اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

کیسی نے خود کشی کی اپنی ابتدائی کوشش کے بارے میں پوسٹ کرنے کے صرف دو ہفتوں بعد گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔

سارہ کہتی ہیں کہ ’کتنی سنگین غلطی ہوئی اور کتنا بڑا موقع گنوا دیا گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اگرچہ میں سمجھتی ہوں کہ ہماری بیٹی کی زندگی میں ایک سے زیادہ مسائل تھے لیکن آپ کو مجھے قائل کرنا ہوگا کہ جب ہماری بیٹی نے خود کشی کی، تو اس وقت ٹیل کی تعلیمات نے ہماری بیٹی کے فیصلے میں اہم کردار ادا نہیں کیا۔

سارہ نے ویڈیو میں دیے گئے مشورے کے بارے میں کہا کہ ’یہ تقریبًا ایک ریہرسل کی طرح ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

خودکشی کو شکست دینے والی کراچی کی طالبہ

پونے نو لاکھ روپے بجلی کے بل پر ’خودکشی‘

ہر 40 سیکنڈ میں ایک مرد خودکشی کرتا ہے۔۔۔

مزید جاننے کے لیے میں نے 27،000 سے زیادہ ممبران والے ٹِیل ٹرائب فیس بک گروپ میں شمولیت اختیار کی اور بہت ساری ایسی پوسٹس دیکھیں جو مجھے پریشان کن لگیں۔

گروپ میں خودکشی کے بارے میں بار بار گفتگو ہوئی تھی اور متعدد لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور گروپ ممبر مشورے دے رہے تھے۔

بعض اوقات پوسٹس کے جواب میں خودکشی کی روک تھام کی ہیلپ لائنز پوسٹ کی گئیں تھیں۔ لیکن کئی بار صرف سوان کی وہ ویڈیو کہ اگر آپ خودکشی کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں تو کیا کرنا چاہیے پوسٹ کی گئی تھی جبکہ دوسرے ممبروں کے مشورے پوسٹ کیے گئے تھے۔

جن ہفتوں کے دوران میں اس گروپ کو کھنگال رہی تھی ان دنوں مجھے معلوم ہوا کہ فورم کے ایک اور نوجوان رکن نے بھی خود کشی کے واقعے کے بارے میں پوسٹ کرنے کے چند دن میں ہی اپنی جان لے لی تھی۔

ذاتی طور پر تعلیم دینا

آن لائن پڑھانے کے ساتھ ساتھ سوان امریکہ اور یورپ میں ذاتی طور پر تربیتی ورکشاپس کی میزبانی کرتی ہیں۔ ان کی ورکشاپوں کی ٹکٹ کی قیمت 200 ڈالرز تک ہے۔ میں شکاگو میں ہونے والی ایک ورکشاپ میں گئی اور ان کے مداحوں سے ملاقات کی جو واضح طور پر ان کے ساتھ گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں۔

ایک شخص نے مجھے بتایا کہ سوان ’دنیا بدل رہی ہیں۔‘ ایک اور شخص نے انھیں ’انسانی تعلقات اور بصیرت کا گرو‘ کہا۔

یہ تقریب تقریباً چھے گھنٹے تک جاری رہی، جس میں سامعین کو سٹیج پر بلایا جاتا اور جہاں سوان انھیں مشورے دیتی۔

وہ ان سے اپنے انتہائی ذاتی اور نجی نوعیت کے معاملات کے متعلق بات کر رہے تھے جس میں استحصال سے لے کر خود کشی کرنے کے جذبات تک شامل تھے۔ ایک شخص نے بتایا کہ وہ ہر رات پانچ گھنٹے ان کی ویڈیوز دیکھتا ہے۔

ورکشاپ کے بعد میں نے سوان سے ملاقات کی اور پوچھا کہ وہ ان لوگوں کو کیا جواب دیں گی جو ان پر خودکشی کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

پہلے تو وہ اس خیال پر ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ ’یہ بہت مضحکہ خیز ہے۔ یہ واقعی میرے لیے مضحکہ خیز ہے۔‘

لیکن پھر انھوں نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

وہ کہنے لگیں کہ انھیں خودکشی کا حامی قرار دینا ’مضحکہ خیز‘ ہے اور یہ کہ جو لوگ بھی ایسا کہتے ہیں انھوں نے ان کی ویڈیوز نہیں دیکھی ہیں۔

جب میں نے انھیں بتایا کہ ان کے گروپ کے دو نوجوان ممبران نے اپنی جانیں لی ہیں تو ماحول میں تناؤ پیدا ہوگیا۔

’میں ان سے واقف نہیں ہوں‘ انھوں نے جواب دیا۔

اور پھر وہ کافی ناراض ہو گئیں اور کہا کہ ان کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد نے خودکشی کرنے کا خیال جھٹک دیا ہے۔

’اگر آپ میری قسم کے مواد میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے بارے میں غور کریں تو آپ جانیں گی کہ یہ غیر متوازن لوگ ہیں۔‘

’(یہ کہنا کہ میں) ان لوگوں کی خودکشیوں کی ذمہ دار ہوں جو میرے پاس خودکشی کے رجحان کے ساتھ آتے ہیں، بہت ہی پاگل پن ہے۔‘

شیلف پر رکھی ٹیل سوان کی وہ تصویر جو کیسی نے بنائی تھی

BBC
شیلف پر رکھی ٹیل سوان کی وہ تصویر جو کیسی نے بنائی تھی

جب بات ان کے فیس بک گروپ کے متعلق آئی تو سوان نے اعتراف کیا کہ وہ اس بارے میں بہت پریشانی محسوس کرتی ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’یہ میرے کیریئر کا بدترین حصہ ہے۔‘

‘آپ ایک فیس بک گروپ اس امید پر شروع کرتے ہیں کہ یہ ان تمام افراد کے لیے (سکون کی) جگہ بن جائے گا۔ پھر مثال کے طور پر اس بڑے گروہ میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو مارنے کا فیصلہ کرتا ہے جو آپ کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی تکلیف میں مبتلا ہیں۔‘

‘میں ایسے ماڈریٹرز کی تلاش میں ہوں جو مختلف ٹائم زون میں ہوں، لیکن مثال کے طور پر ہم میں سے ایک شخص اس [خودکشی کی پوسٹ] کو نہیں دیکھتا۔ اور اب کوئی کہتا ہے کہ آپ کو اسے دیکھنا چاہیے تھا۔ اب یہ آپ کی غلطی ہے کہ انھوں نے خودکشی کی۔‘

’ہم ہر وقت اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آپ کے سامنے ایسے افراد ہیں جو کمزور ہیں۔ جب آپ ان سب کی مدد نہیں کر سکتے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‘

لیکن انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ان کا فیس بک پیج چلانے میں مدد کرنے والے رضاکاروں کو اگر ایسی پوسٹس نظر آئیں جس میں کسی نے خودکشی کی خواہش کا اظہار کیا ہو تو کیا کرنا چاہیے، اس حوالے سے کوئی تربیت نہیں ملتی، بس کچھ ہدایات ملتی ہیں۔

’بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا نفسیاتی وارڈ ہے، اور کوئی بھی اس عمارت کی نگہداشت نہیں کرتا، اور آپ انھیں اس نگہداشت کے لیے پیسے دینے کی سکت نہیں رکھتے۔ اور ویسے بھی اس قسم کی نوکری کون کرنا چاہے گا؟‘

میں نے ان سے کہا کہ شاید اس طرح کے حساس مباحثوں کے لیے سوشل میڈیا صحیح فورم نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ہی دراصل میرا سوال ہے کہ میں اپنے آپ سے بہت کچھ پوچھتی ہوں (اور) میں اپنے بارے میں ویسے سوچتی ہوں جب میں 15 سال کی تھی۔‘

’میں یہ سوچ رہی ہوں کہ رات کے تین بجے جب میرے گھر کے تمام فرد سو رہے تھے تو میں کیا چاہتی تھی۔’

’اگر اس وقت کوئی یوٹیوب ویڈیو پر ہوتا جو مجھے یہ بتاتا کے کیسے مختلف محسوس کرنا ہے تو میں ضرور وہ چاہتی۔‘

ہم یہ کبھی بھی نہیں جان پائیں گے کہ جس کسی نے بھی خود کشی کی، کیا وہ سوان کی تعلیمات سے متاثر ہوئے۔ سوان کا واقعتاً مؤقف یہ ہے کہ لوگ ہر وقت انھیں بتاتے ہیں کہ انھوں نے ان کی مدد کی ہے۔

سوان نے اپنے ایک بیان میں ہمیں بتایا کہ ’خودکشی کبھی (مشکلات کا) جواب نہیں ہوتا۔ میری تعلیمات لوگوں کو زندگی کے انتخاب میں مدد دینے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ کوئی بھی خودکشی ایک المیہ ہے، اور ہم اس نوجوان خاتون کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بہت سے ذہنی صحت کے ماہرین میری تعلیمات کی حمایت کرتے ہیں۔‘

ہمارے انٹرویو کے بعد سوان نے ایک اور ویڈیو جاری کی ہے، جس میں انھوں نے ’واضح طور‘ پر کہا کہ وہ خودکشی کے خلاف ہیں اور ان کا ارادہ لوگوں کی مدد کرنا ہے، اور یقینًا خودکشی کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ خودکشی سے متعلق مباحثوں کو اس بدنامی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اور میری تحقیقات کے دوران بات کرنے والے ہر ذہنی صحت کے ماہر نے اس مسئلے کو بدنامی سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

کیسی کا ٹیل سوان کی تصویر اپنے کمپیوٹر پر دیکھنے کا خاکہ

Katherine Lam
خاکہ: کیسی اپنے کمپیوٹر پر ٹیل سوان کی تصویر دیکھ رہی ہیں

ماہرین کے خدشات

لیکن ان سب ماہرین نے سوان کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

ان ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر جوناتھن سنگر بھی ہیں، جو خودکشی پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کی تنظیم امریکن ایسوسی ایشن آف سوسائیڈولوجی کے صدر ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ’جب میں نے ٹیل کو یہ کہتے سنا کہ خودکشی ایک ’دوبارہ آغاز کا بٹن‘ ہوسکتا ہے تو میں پریشان ہوگیا تھا۔‘

’اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ خود کو مار لیں تو چیزیں دوبارہ شروع ہوجائیں گی اور بہتر ہوں گی مگر یہ سچ نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ٹیل سمجھتی ہیں کہ ان کے ذہن میں جو خیالات ہیں وہ لوگوں کے لیے صرف مدد گار ہیں۔ لیکن یہ خیالات دوسروں کے لیے واقعی خطرناک ہوسکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر سنگر کا کہنا ہے کہ کسی کو اپنے آپ کو قتل کرنے کا تصور کرنے کے لیے کہنا درحقیقت انھیں اپنے قتل کی مشق کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کی تصویری مشق ’کچھ کرنے کی آپ کی اصل صلاحیت کو بہتر بنانے کا ایک بہت ہی مؤثر طریقہ ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر یہ وہ چیز ہے جس کو اولمپک سطح پر کھیلنے والے کھلاڑی تک استعمال کرتے ہیں۔

’اور اس لیے کسی کو یہ کہنا کہ وہ یہ سوچیں کہ وہ خود کو کس طرح قتل کریں گے، یہ محفوظ نہیں ہے۔‘

میں نے برطانیہ کے خودکشی کی روک تھام کرنے والے فلاحی ادارے پپائرس کے سی ای او گیڈ فلین سے بھی بات کی اور انھیں سوان کی ویڈیو دکھائی جس میں دیکھنے والوں کو ان کی موت کا تصور کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ایسا شخص جو خودکشی کی جانب مائل ہو، اسے اپنے مردہ ہونے کا تصور کرنے کا کہنا اور اس عمل کو عظیم بنا کر پیش کرنا مددگار نہیں ہے۔‘

’یہ مشق صرف نقصان اور یہاں تک کہ موت کے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس طرح کی مشقیں غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ وہ خودکشی کو عظیم سمجھنے کا خطرہ بڑھا رہی ہیں۔‘

سوان کی دلیل یہ ہے کہ یہ تکنیک خودکشی کے لاشعوری خیالات کو جاننے اور شعوری طور پر ان کے ساتھ کسی مختلف عمل کا انتخاب کرنے کے بارے میں ہے، جس کے زیادہ مثبت نتائج نکلتے ہیں۔

ڈاکٹر سنگر کو بھی اس بارے میں تشویش ہے کہ سوان کے مواد کو کہاں اور کیسے شیئر کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کے حالات میں لوگوں کے لیے ایک دوسرے کو مدد فراہم کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے، لیکن فیس بک جیسے فورم ’ایکو چیمبر کی طرح‘ بن سکتے ہیں۔

’اگر آپ خودکشی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور آپ ایک ایسے فورم پر جاتے ہیں جہاں ہر شخص خود کشی کے متعلق پوسٹ کرتا ہے تو پھر یہ خود کشی کی سوچ کو عام بنا دیتا ہے۔‘

ڈاکٹر سنگر کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو مواد کو کنٹرول کرنے اور لوگوں کو ان لوگوں تک پہنچانے میں مدد کرنے کی ضرورت ہے جو خود کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

ان کی دلیل ہے کہ اب تک ان کی ٹیکنالوجی اس حد تک ترقی یافتہ ہونی چاہیے کہ وہ کارروائی کرنے کے قابل بن سکیں۔

’مجھے لگتا ہے کہ جب لوگ خودکشی کرنے کے متعلق سوچ رہے ہوں تو ان کمپنیوں کو بالکل مداخلت کرنی چاہیے۔‘

ہماری تحقیقات کے ردِ عمل میں فیس بک نے ٹیل ٹرائب نامی گروپ کو بند کر دیا ہے اور ہمیں اس بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ’خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے سے بچاؤ کے ماہرین سے مشاورت کے تحت، ہماری پالیسیاں کچھ ایسے مواد کی اجازت دیتی ہیں جس میں خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کی نیت کا اظہار کیا گیا ہو، تاکہ ممکنہ طور پر مدد کی اس پکار کا جواب دینا ممکن ہو سکے۔ تاہم ہم ایسے کسی مواد کی اجازت نہیں دیتے جو خود کشی یا خود کو نقصان پہنچانے کو براہ راست فروغ دیتا ہو۔‘

تاہم ٹیل ٹرائب میں شامل کچھ ممبروں نے ’فینکس ٹرائب‘ کے نام سے ایک نیا فیس بک گروپ قائم کیا ہے۔ اگرچہ اس کی منتظم ٹیل سوان نہیں ہیں لیکن ان کی انتظامی ٹیم کا کم سے کم ایک سینئر فرد اس گروپ کا رکن ہے۔

میں نے یہاں بھی لوگوں کو خودکشی کے جذبات کے بارے میں بات کرتے دیکھا ہے جبکہ دیگر گروپ اراکین کی طرف سے کوئی ہیلپ لائنز یا دیگر مدد کی جانب رہنمائی نہیں کی جاتی۔

یوٹیوب نے ہمیں بتایا کہ وہ ’خطرناک اقدامات کو فروغ دینے والی ویڈیوز پر پابندی اور اپنے خیالات اور تجربات کے بارے میں کھلے دل اور ایمانداری سے بات کرسکنے کے لیے پلیٹ فارم کی فراہمی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ جس ویڈیو میں سوان ناظرین کو اپنی موت کا تصور کرنے کے لیے کہتی ہیں، اسے ان کی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر ہٹا دیا گیا ہے۔ لیکن یہ ابھی بھی کم از کم ایک دوسرے شخص کے یوٹیوب چینل پرموجود ہے اور اسے نئے فیس بک گروپ میں شیئر کیا گیا ہے۔

کیسی کے والدین کا ایک دوسرے کو تسلی دینے کا خاکہ

Katherine Lam
خاکہ: کیسی کے والدین کا ایک دوسرے کو تسلی دے رہے ہیں

شمال مغربی امریکہ کے شہری مضافات میں قائم اپنے پُرسکون گھر میں ایک ماں اور ایک باپ اپنی بیٹی کی موت کو قبول کرنے کے لیے ابھی بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔

سارہ اور ان کے شوہر کے ساتھ میری طویل گفتگو دوپہر سے شام تک جاری رہی اور انھوں نے بتایا کہ کیسے اب ان کا خاندان ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔

اب ان کے پاس گھر میں ٹیلی فون نہیں ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بہت تلخ یادیں جڑی ہیں جب اس پر آنے والی ایک ہولناک کال نے ان کی زندگی بدل دی تھی۔

سارہ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وہ اپنی کہانی بیان کر کے کسی اور کی مدد کرسکیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’زندگی قیمتی ہے۔ زندگی ایک تحفہ ہے۔ زندگی ری سیٹ والے بٹن کے ساتھ نہیں آتی۔ اور اگر آپ خود کو کمزور محسوس کر رہے ہیں تو کوئی بھی ویڈیو اس نوعیت کے موضوع پر گرفت نہیں رکھتی۔‘

’آپ جائیں اپنے پادری سے یا کسی ایسے سے جو آپ سے پیار کرتا ہے، آپ کی پرواہ کرتا ہے، اس سے بات کریں، وہ اس نوعیت کے موضوع پر گرفت رکھتا ہے۔‘

اس مضمون میں کچھ نام تبدیل کردیے گئے ہیں

Short presentational grey line

BBC

مدد کیسے حاصل کی جائے؟

امریکہ اور کینیڈا

  • اگر آپ ایمرجنسی میں ہیں تو 911 ڈائل کریں
  • خودکشی کی روک تھام کے لیے امریکہ کی نیشنل ہیلپ لائن: 8255-273-800-1 یا پھر کرائسس ٹیسٹ لائن کے نمبر 741741 پر HOME لکھ کر میسج کریں
  • امریکہ میں کم سن افراد اس نمبر پر ڈائل کر سکتے ہیں: 6868-668-800-1

برطانیہ

خودکشی کی روک تھام کے ادارے سماریٹنز کو 116123 پر کال کریں

جذباتی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے مدد اور مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15448 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp