مریم نواز کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے اپنا نام نکلوانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا موقف سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس باقر نجفی نے یہ حکم مریم نواز کی جانب سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے بعد پیر کو دیا ہے۔

صحافی عباد الحق کے مطابق عدالت نے یہ معاملہ وفاقی حکومت کے متعلقہ فورم یعنی وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والی ای سی ایل کی ریویو کمیٹی کو بھجواتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ سات دن کے اندر مریم نواز کا موقف سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں جسے بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2018 میں معطل کر دیا تھا تاہم ان کا نام اگست 2018 سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں موجود ہے جس کی وجہ سے وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکتیں۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ کے ذریعے سینچر کو دائر کی گئی اپنی درخواست میں مریم نواز نے وزارت داخلہ، ایف آئی اے، چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب کو فریق بنایا تھا۔

درخواست میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے باوجود بیرون ملک سے والد کے ساتھ واپس آئیں اور اس کے بعد باقاعدگی سے عدالتوں میں پیش ہوتی رہی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ

Reuters

یہ بھی پڑھیے

ای سی ایل کیا ہے، اس سے نام نکالنے کا عمل کیا ہے؟

شریف برادران ملک سے باہر تو ن لیگ کی کمان کس کے پاس؟

مریم نواز کے ساتھ سیلفیاں اور ’نو ایکسٹینشن‘ کے نعرے

مریم نواز کی پیشی اور آدھا گلاس پانی کی طلب

انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم غیر قانونی قرار دیا جائے۔

مریم نواز کے والد نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے طبی بنیادوں پر دی گئی ضمانت پر چھ ہفتے کے لیے ملک سے باہر ہیں۔

وہ 19 نومبر کو پاکستان سے لندن روانہ ہوئے تھے مگر مریم نواز نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ نہیں جا سکی تھیں۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے پیر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو امریکہ میں علاج کروانے کی تجویز دی ہے۔

ان کے مطابق ‎موجودہ صورتحال میں نواز شریف کی امریکہ منتقلی ڈاکٹرز کے لیے ایک چیلنج ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے ان کے اندورنی اعضا کی بایوپسی کرنے پر ڈاکٹرز کی مشاورت ہوئی ہے۔

nawaz

BBC

مریم نواز کی سزائیں

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز سات سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اب پاکستان کے قانون کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے کے لیے دس سال تک نااہل ہوچکی ہیں۔ یہ نااہلی اس کیس میں بریت کی صورت میں ختم ہو سکتی ہے۔

مریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے میں غلط بیانی پر شیڈول 2 کے تحت ایک برس قید کی سزا بھی سنائی گئی جبکہ ان پر 20 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے سزا کی معطلی کے بعد انھیں اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

اکتوبر 2018 میں نیب نے ان کی سزا کی معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم برقرار رکھا تھا۔

انھیں اگست 2019 میں نیب نے چوہدری شوگر ملز میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن نومبر 2019 میں انھیں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

ای سی ایل کیا ہے؟

وزارت داخلہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا ای سی ایل میں ان افراد کے نام شامل کرتی ہے جن کے بارے میں کسی عدالت نے کوئی حکم نامہ جاری کیا ہو یا پھر نیب اور خفیہ اداروں کی طرف سے اس شخص کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہوں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا اختیار ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس ہوتا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ اختیار وزیر داخلہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

پاسپورٹ کنٹرول

APP
ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل افراد کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی

نام ای سی ایل سے کیسے نکالا جاتا ہے؟

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں ای سی ایل سے نام نکالنے سے متعلق ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی سربراہی سیکرٹری داِخلہ کرتے تھے۔

اس کمیٹی کا اجلاس ایک مہینے میں دو بار ضرور ہوتا تھا جس میں ای سی ایل میں شامل افراد کے ناموں اور جن وجوہات کی بنا پر ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہے اس کے بارے میں غور کیا جاتا تھا۔

سابق حکومت کے دور میں اگر کسی شخص کا نام تین سال سے ای سی ایل میں شامل ہے اور اس کے بارے میں کوئی عدالتی حکم بھی سامنے نہیں آیا تو ایسے شخص کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جاتا تھا۔

ای سی ایل میں ایسے افراد کے نام بھی شامل تھے جن کے خلاف نہ تو نیب نے اور نہ ہی کسی عدالت نے احکامات جاری کیے ہوتے تھے۔

موجودہ دور میں ای سی ایل کا استعمال؟

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں ایک شخص کا نام بھی ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا اور عدالتی حکم پر محض دو افراد کے نام بلیک لسٹ سے نکالے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق ای سی ایل سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس بھی باقاعدگی سے نہیں ہو رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14681 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp