اورنج لائن ٹرین اورمسلم لیگ (ن)کی ’’شرارت‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کے شہریوں کو سستی‘ آرام دہ اور باوقار سفری سہولت بہم پہچانے والی لاہورٹرانسپورٹ کمپنی کے آخری دوروٹ بھی گزشتہ روز بند کر دئیے گئے‘ یوں 30 روٹوں پر 650بسوں کا پہیہ مکمل طور پر رک گیا۔ ”دنیا‘‘ کے ہونہار رپورٹر شبیر حیدر ظفر کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی اس سفری سہولت سے روزانہ15سے20لاکھ مسافر مستفید ہوتے تھے۔ ان میں60262سینئر سٹیزن اور8136معذور تھے‘ جنہیں یہ سفری سہولت مفت حاصل تھی۔88155طلبہ طالبات تھے جو رعایتی کرایے پر سفر کرتے۔ اب صرف200سپیڈو بسیں ہیں جوصرف20روپے میں مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچاتی ہیں‘ یا میٹرو بس‘ جس کا کرایہ10روپے اضافے کے ساتھ تیس روپے کردیا گیا ہے اور اس سے روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ استفادہ کرتے ہیں۔

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی650بسوں کی بندش سے سڑکوں پر رسوا ہونے والے پندرہ ‘ بیس لاکھ شہریوں کو شہبازشریف پھر یاد آرہاہے۔ 1997ء سے1999ء تک ملک کے سب سے بڑے صوبے میں‘یہ شہبازشریف کی پہلی وزارتِ اعلیٰ تھی۔ شہباز صاحب کے بقول ‘وہ سڑک پر سفر کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر عوام کے ہجوم دیکھتے۔ خواتین اور مرد‘ بوڑھے اور بچے ‘ دفتروں میں کام کرنے والے ملازم اور دیہاڑی پر روزگار کے متلاشی محنت کش۔ اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے جنہیں ٹرانسپورٹ کا انتظار ہوتا‘اور ادھر ”اشرافیہ‘‘ کی چمکتی ‘ دمکتی پرُ آسائش ایئر کنڈیشنڈ گاڑیاںفراٹے بھرتے اور غریب کا منہ چڑاتے گزر جاتیں۔ کبھی لاہور میں عوام کے لیے آرام دہ او منی بس سروس ہوتی تھی۔ اس کی پابندیٔ وقت بھی اپنی مثال آپ تھی۔ اب یہ سب کچھ برباد ہوچکا تھا۔ سڑکوں پر کھڑے ہجوم کو کھٹارا بسوں اور خستہ حال ویگنوں کا انتظار ہوتا‘ جن میں یہ بھیڑ بکریوں کی طرح دھکے کھاتے اور گرتے پڑتے سفر کرتے۔

شہباز صاحب کاکہنا ہے کہ عام آدمی کو درپیش صبح وشام کی یہ اذیت ان کے لیے باعثِ اضطراب تھی‘ انہوں نے لوکل ٹرانسپورٹ کے لیے ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلانے کا فیصلہ کیا اور ڈائیوو کے ساتھ700ایئر کنڈیشنڈ بسوں کی فراہمی کا معاہدہ کرلیا۔ تب بعض احباب کے خیال میں ایئر کنڈیشنڈ بسوں کی بجائے عام (اور آرام دہ) بسوں سے بھی کام چلایا جاسکتا تھا‘ لیکن شہباز صاحب کی رائے مختلف تھی کہ گرمی سردی کے خراب موسموں میں عام آدمی پرُ سکون سفر کیوں نہ کرے۔

700ایئر کنڈیشنڈ بسوں میں سے50بسوں کی پہلی کھیپ کراچی بندگاہ کے لیے روانہ ہوچکی تھی کہ 12اکتوبر ہوگیا۔ اس شام شہبازصاحب ایک ضروری کام کے سلسلے میں پرائم منسٹر ہائوس میں تھے۔ جب رات کو کورکمانڈر جنرل محمود آئے اور دونوں بھائیوں کو گرفتار کر کے اپنی سیاہ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ اس کے بعد راولپنڈی کے آرمی میس کے الگ الگ کمروں میں قیدِتنہائی اور کچھ دنوں بعد مری کے گورنر ہائوس کی انیکسی میں ”قیام‘‘ کی کہانی الگ ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی بجائے‘ ہم اپنے اصل موضوع تک محدود رہتے ہیں۔

شہباز صاحب کے بقول‘ ایک شب‘ ایک میجر صاحب عشا کی نماز کے بعد آئے اور ایک کرنل صاحب سے ”گپ شپ‘‘ کاکہہ کرانہیں ساتھ لے گئے۔ کمرہ روشنیوں سے چکا چوند تھا اور یہاں کیمرے بھی نصب تھے۔ انہوں نے ”انٹیروگیشن ‘‘ کے اس طریقے پر احتجاج کرتے ہوئے انکار کردیا‘ جس پر خاصی گرما گرمی ہوگئی۔ میجر صاحب نے ماحول کو ٹھنڈا کیا اور چائے منگوالی۔ گفتگو کا رخ بھی بدل گیا تھا۔ کرنل صاحب نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا ‘اڑھائی تین سال کی حکومت میں کوئی دو‘ تین کام جو آپ کے خیال میں بہت اہم ہوں؟

شہباز صاحب نے عوام کے لیے ایئر کنڈیشنڈ بسوں کے منصوبے کو سرفہرست بتایا اور پوچھا‘ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ 50بسوں کی اس کھیپ کا کیا ہوا؟ کرنل صاحب نے کہا‘ کہ وہ پوچھ کربتائیں گے ‘ وہ حیران تھے کہ ان مشکل حالات میں بھی اسے اپنے اہلِ خانہ سے زیادہ ان بسوں کی فکر ہے۔ اگلے دن شہباز صاحب کو بتایا گیا کہ 50ایئر کنڈیشنڈ بسوں کی وہ کھیپ پاکستان پہنچ چکی ہے۔ بدترین ابتلا وآزمائش کے ماحول میں یہ خبر ان کے لیے قلبی اطمینان اور ذہنی سکون کا باعث تھی۔

لاہور میٹرو بس ‘ لاہور کے شہریوں کے لیے آرام دہ‘ سستے اور باوقار سفر کے خواب اور خواہش کا دوسرا حصہ تھا۔ گجومتہ سے شاہدرہ تک 27کلومیٹر کے اس منصوبے کی صرف گیارہ ماہ میں تکمیل ‘ خود‘ تُرک ماہرین کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔ان کے بقول‘ یہ انسانوں کا نہیں‘ جنوں کا کام تھا۔11فروری2013ء کو میٹرو کے افتتاحی سفر پر ‘ شہر میں جشن کا سماں تھا۔ وزیر اعظم نوازشریف کے ساتھ ترکی کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور استنبول کے میئر قادر توپباس اور بعض ملکوں کے سفیر بھی شریکِ سفر تھے ۔

اپنے تیسرے دور (2013تا2018ء)میں شہریانِ لاہور‘ کے لیے اورنج لائن ٹرین خادم پنجاب کا ایک اور بڑا منصوبہ تھا۔ مئی2004ء میں حکومتِ پاکستان اور چین کے مابین مفاہمت کی یاد داشت (MOU)پرسائن ہوئے ۔ دسمبر میں چین کے ایگزم بینک نے اس کے لیے1.55بلین ڈالر کے ”سافٹ لون‘‘ کی منظوری دے دی۔ کہا جاتا ہے کہ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کی طرف سے اس کے انڈر گرائونڈ سسٹم کے لیے نسبتاً سستے قرض کی پیش کش موجود تھی‘ لیکن ”جلد باز‘‘ شہبازشریف کے لیے اصل چیز ”وقت‘‘ تھا۔

ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے انڈر گرائونڈ منصوبے پر ایک تو وقت بہت زیادہ لگ جاتا تھا اور دوسرے‘ مجموعی طور پر لاگت بھی زیادہ ہوجاتی تھی۔ علی ٹائون سے ڈیرہ گجراں تک27.1کلو میٹر کے اس منصوبے پر کام کا آغاز ہوگیا۔ اس میں 1.72کلو میٹر انڈر گرائونڈ اور 25.4کلو میٹر ”ایلیویٹڈ‘‘ تھا۔ ادھر کام شروع ہوا ‘ادھر سول سوسائٹی اور بعض این جی اوز کو اس روٹ پر ثقافتی ورثے کی فکر نے آلیا۔ (مغلوں کے دور کی چوبرجی اور شالیمار باغ بھی اس میں شامل تھے)ماہرین کے خیال میں اور نج لائن سے ثقافتی ورثے کے حوالے سے ان خدشات میں کوئی حقیقت نہ تھی۔

معاملہ عدالت تک پہنچا۔ تو14ماہ پہلے لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں لگ گئے۔اپریل2017ء میں سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوگئی‘لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت میں‘ کئی اور اہم مقدمات بھی زیر سماعت تھے؛ چنانچہ اورنج لائن کا فیصلہ لکھنے میںآٹھ ماہ لگ گئے۔ دسمبر2017ء میں اورنج لائن کے حق میں فیصلہ آگیا۔ جناب چیف جسٹس ثاقب نثار‘ اسے لاہور کے شہریوں کے لیے عظیم تحفہ قرار دے رہے تھے اور ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار بھی کہ کسی روز وہ بھی اورنج لائن میں سفر کا لطف اٹھائیں گے۔

شہبازشریف کی حکومت کے پانچ ماہ باقی تھے اور ابھی بہت سا کام باقی تھا۔ شہباز صاحب کا ”جنون‘‘ بھی یہ معجزہ نہیں دکھا سکتا تھا۔ جاتے جاتے انہوں نے مئی2018ء میں ‘”آزمائشی سفر‘‘(فرسٹ ٹیسٹ ان) کا افتتاح کردیا۔اور اب ‘جناب بزدار کی حکومت منگل10دسمبر کو (دوبارہ) فرسٹ ٹیسٹ ان کا افتتاح کرنے جارہی ہے‘ لیکن اورنج لائن کے باقاعدہ سفر کے لیے ابھی کم از کم تین چار ماہ درکار ہیں۔

منگل کی افتتاحی تقریب میں جناب بزدار موجود نہیں ہوں گے کہ انہوں نے اسی وقت پنجاب کابینہ کااجلاس رکھ لیا ہے۔ ادھر مسلم لیگ(ن) کو خوب ”شرارت‘‘ سوجھی ہے‘ اس نے اس موقع پرا ورنج لائن کے سٹیشنوں پر جشن برپا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وہی حرکت جو اس نے گزشتہ دنوں حویلیاں ہزارہ موٹروے کے افتتاح کے موقع پر شہر میں نوازشریف کی تصاویر والے بینر لہراکر کی تھی۔جنابِ وزیر اعظم اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •