افغان جنگ: ‘امریکی حکام جان بوجھ کر غلط بیانی کرتے رہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں کئی سالوں سے امریکہ کی ناکامیوں کا سلسلہ جاری تھا اور حکام کو اس بات کا علم بھی تھا کہ ان کی حکمتِ عملی کام نہیں کر رہی ہے لیکن وہ جنگ کی سنہری تصویر پیش کرتے رہے۔

اخبار کو حاصل ہونے والی حکومتی خفیہ دستاویزات سے یہ پتا چلتا ہے کہ سینیئر امریکی حکام افغانستان کی جنگ کے بارے میں اپنی 18 سالہ مہم کے دوران حقیقت کے انکشاف میں ناکام رہے اور ایسے سنہری اعلانات کرتے رہے جو انھیں پتا تھا کہ غلط ہیں اور واضح شواہد چھپاتے رہے کہ اس جنگ میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔

واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکومت کی جنگ پر نظر رکھنے والے ادارے افغانستان کی تعمیر نو کے سپیشل انسپیکٹر جنرل سے ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات حاصل کیں جس میں 600 افراد کے انٹرویوز شامل ہیں۔ انھوں نے یہ دستاویزات اطلاعات کی آزادی کے قانون اور دو ديگر وفاقی قوانین کے تحت حاصل کیں۔

یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزارت دفاع پینٹاگون القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے خلاف مزید توجہ مرکوز کرنے کے لیے افغانستان میں اپنی فوج میں کمی کرنا چاہتے ہیں اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’افغان جنگ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد ہیں‘

جنگ بندی: افغان حکام اور طالبان کے درمیان خفیہ ملاقاتیں

اخبار نے لکھا ہے کہ حاصل شدہ دستاویزات امریکی وفاقی پروجیکٹ کا حصہ ہیں جن کا مقصد امریکی تاریخ کی طویل ترین مسلح جنگ میں ناکامی کی اصل وجوہات کی جانچ تھی۔

یہ دستاویزات دو ہزار صفحات پر مشتمل ہیں اور ان میں جنگ میں براہ راست شامل افراد بشمول فوجی جرنیلوں، سفارتکاروں، امدادی کارکنوں اور افغان حکام کے غیر مطبوعہ نوٹس اور انٹرویوز شامل ہیں۔

امریکی فوجی

EPA

امریکہ نے سنہ 2001 میں افغانستان کے خلاف حملہ کیا تھا اور وزارت دفاع کے مطابق اس وقت سے اب تک امریکہ وہاں سات لاکھ 75 ہزار فوجی تعینات کر چکا ہے جن میں بہت سوں کو کئی بار تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں سے 2300 فوج کی وہاں ہلاکت ہو گئی جبکہ 20589 فوجی زخمی ہوئے۔

ایک تھری سٹار سطح کے جنرل ڈگلس لیوٹ جنھیں صدر جارج ڈبلیو بش کے زمانے میں عراق اور افغانستان میں مرکزی ذمہ داریاں دی گئی تھیں نے سنہ 2015 میں انٹرویو کرنے والوں کو بتایا: ‘ہم افغانستان کی بنیادی سمجھ سے لاعلم تھے، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔’

اخبار کے مطابق انھوں نے مزید کہا: ‘ہم یہاں کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہمیں اس کا دھندھلا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہم کیا کر رہے تھے۔’

ساری جنگ کے دوران فوجی کمانڈر عوامی سطح پر یہ تاثر دیتے رہے کہ حالات بہتری کی جانب ہیں جبکہ طالبان افغانستان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرتے رہے اور بغیر فضائی جنگی صلاحیت کے امریکی اور افغان فوجیوں کو مارتے رہے۔

تاہم امریکی فوجی سرابراہان نے وقفے وقفے سے جنگ کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے بطور خاص اس وقت جب انھیں فوج کی تعداد میں اضافے یا طالبان سے لڑنے کے لیے خاص صلاحیتوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔

سنہ 2010 میں افغانستان میں امریکی فوج کے نائب چیف آف سٹاف انٹیلیجنس میجر جنرل مائیکل فلن نے افغانستان میں امریکی جاسوس ایجنسیوں کے کام پر شدید تنقید کی تھی اور انھیں لاعلم اور افغان عوام کے رابطے میں نہ رہنے والا بتایا تھا۔ فلن نے بعد میں صدر ٹرمپ کے سکیورٹی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

امریکی بریگیڈیئر

Getty Images

اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے سنہ 2001 سے 2006 کے درمیان کے میموز تک بھی رسائی حاصل کی۔

رمزفیلڈ نے سنہ 2002 کے اپنے ایک میمو میں کہا: ‘ہم افغانستان سے امریکی فوجی کبھی بھی نہیں نکال سکیں گے جب تک کہ ہم وہاں ایسا کچھ نہ کرتے رہیں جس سے وہاں استحکام آئے اور یہ ہمارے وہاں سے نکلنے کے لیے ضروری ہے۔’

حاصل شدہ انٹرویوز، جن میں مختلف سطح کے لوگوں کے تاثرات شامل ہیں، سے آج تک جاری جنگ کی ناکامیوں پر نظر پڑتی ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ تین صدور جارج ڈبلیو بش، براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے فوجی کمانڈرز افغانستان میں جیت کے اپنے وعدے کو نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔

انٹرویو میں شامل بہت سے لوگوں نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ کس طرح امریکی حکومت نے دانستہ طور پر عوام کو گمراہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کابل میں فوجی ہیڈکوارٹرز اور وائٹ ہاؤ‎س میں اعداد و شمار سے چھیڑ چھاڑ عام بات تھی۔ جس کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش ہوتی کہ جنگ جیتی جا رہی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔

امریکی فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز باب کرالی نے بتایا کہ ‘ہر اعداد و شمار کی بہترین تصویر پیش کرنے کے لیے بدلا جاتا تھا۔’

وہ سنہ 2013-14 کے دوران امریکی فوجی کمانڈر کے انسداد دہشت گردی کے سینیئر مشیر تھے۔ انھوں نے کہا کہ ‘مثال کے طور پر سرویز مکمل طور پر ناقابل یقین ہیں لیکن وہ یہ بتاتے تھے کہ جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے اور اس طرح ہم خود کو ہی کھانے والی آئسکریم کی کون بن گئے تھے۔’

انٹرویو لینے والے وفاقی ادارے کے سربراہ جان سوپکو نے واشنگٹن پوسٹ کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ ‘امریکی عوام سے مسلسل جھوٹ بولا گيا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14681 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp