قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کا بیان : آئینی ترامیم میں عدمِ تعاون، آئینی یا انتظامی بحران؟

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواجہ آصف

Getty Images
خواجہ آصف نے لندن میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر لوگوں کے مظاہرے پر شدید تنقید کی

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما کی طرف سے حکومت سے آئینی ترامیم میں تعاون نہ کرنے کے اعلان نے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے آئینی ترامیم میں حکومت سے تعاون نہ کرنے کا اعلان حکومت سے زیادہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران لندن میں ایک فلیٹ کے باہر چند نامعلوم افراد کے مظاہر ے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے ان کی جماعت آئینی ترامیم اور ایوان کی کارروائی بہتر انداز میں چلانے کے سلسلے میں حکومت سے تعاون نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھیئے

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع

جنرل قمر جاوید باجوہ ’کھلے ڈلے اور بے تکلف فوجی‘

بری فوج میں نئی تقرریاں اور تبادلے

’وزیراعظم ریٹائرڈ جرنیل کو بھی آرمی چیف لگا سکتا ہے‘

اس فلیٹ کے باہر جہاں پر نامعلوم افرد نے مظاہرہ کیا پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اپنے بیٹوں کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔

خواجہ آصف نے حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی حکومت سے اس ضمن میں تعاون نہ کریں۔

تجزیہ نگار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر کی طرف سے حکومت سے عدم تعاون کا اعلان اس مفروضے کی بنیاد پر کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کرنے کا کہہ دیتی ہے تو پھر حکومت کے ہاتھ بندھ جائیں گے اور اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کے ساتھ بارگین کرنے کی پوزیشن میں ہوں گی۔

پارلمیان

Getty Images
حزبِ اختلاف کی جماعتیں حکومت کا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کے لیے سب سے بڑی پریشانی موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کروانا ہے لیکن پارلیمنٹ میں حکومت کے پاس عددی برتری تو نہیں ہے اس لیے اسے قانون سازی کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کا تعاون درکار ہو گا۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ تمام افراد کی نظریں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کسی مخصوص فرد کے لیے آئینی ترمیم کی اجازت نہ دی تو پھر حکومت کے پاس آپشن نہیں ہے کہ وہ حزب مخالف کے مطالبات کو تسلیم نہ کرے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر حزب مخالف کی جماعتیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتیں تو ملک میں آئینی بحران تو نہیں البتہ انتظامی بحران ضرور پیدا ہوگا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم نامے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کی ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اس معاملے میں قانون سازی کرے۔

حکومت کے بعض وزراء کا کہنا ہے کہ انھیں قانون سازی کے لیے دو تہائی کی اکثریت نہیں بلکہ سادہ اکثریت چاہیے اور وہ اس معاملے میں آئین میں ترمیم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

وفاقی وزیر فیصل ووڈا کا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں یہ بیان بھی سامنے آیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ صرف پاکستان تحریک انصاف کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے آرمی چیف ہیں اس سے حزب مخالف کو بھی اس ترمیم میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ

Getty Images
آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع پر تفصیلی فیصلہ ابھی آنا ہے

اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی حکومت سے یہ شکوہ ہے کہ اُنھوں نے آئینی ترامیم کے لیے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے صحافی ایم بی سومرو کا کہنا تھا کہ اگر عدالت عظمی نے اپنے تفصیلی فیصلے میں آرمی چیف کی تقرری اور ان کی مدت ملازمت میں تعین کو آئین میں ترمیم کرنے سے مشروط کر دیا تو پھر حکومت کے لیے مشکلات بڑھیں گی کیونکہ حکومت کے پاس نہ تو قومی اسمبلی میں اور نہ ہی سینیٹ میں دو تہائی کی اکثریت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے پیر کے روز اپنی تقریر میں حکومت سے آئینی ترامیم میں تعاون نہ کرنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں ’جنھوں نے‘ توسیع کروانی ہے وہ خود ہی حزب مخالف کی جماعتوں سے رابطہ کر لیں گے یا ان کی ایما پر کوئی اور ان جماعتوں سے رابطہ کرے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی بھی جماعت ملٹری اسٹبلشمنٹ کو انکار نہیں کر سکی ہے۔

ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر نے اپنی تقریر میں یہ واضح طور پر نہیں کہا کہ وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق حکومت سے آئین میں ترمیم کے لیے تعاون نہیں کریں گے بلکہ اُنھوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا معاملہ جس طرح حکومت نے سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے، اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس 11 دسمبر کو ہو رہا ہے اور اس میں اس بات کے امکانات ہو سکتے ہیں کہ حزب مخالف کی جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے حکومت کا ساتھ دیں کیونکہ اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ اپنے حتمی مراحل میں ہے۔

ایم بی سومرو کا کہنا تھا کہ حزب مِخالف کی جماعتوں کو کسی حد تک یقین ہے کہ الیکشن کمیشن غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ہی فیصلہ دے گا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت سے تعاون نہ کرنے کے بارے میں پارلیمانی لیڈر کا بیان ان کے جماعت کا ہی موقف ہے۔ اُن سے جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے آئینی ترمیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو پھر حزب مخالف کی جماعتیں قانون سازی کے معاملے پر حکومت سے تعاون نہیں کریں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11836 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp