بولیویا کے پہلے ریڈ انڈین صدر کا کیا بنے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوپ فرانسس کے چہرے پر پہلے حیرت پھر ناپسندیدگی کے تاثرات ابھرے۔ انہوں نے صلیب دونوں ہاتھوں سے تھامی اور اس کا بغور جائزہ لیا۔ یہ ایک چھوٹی سی صلیب تھی، جسے بڑی مہارت اور خوبصورتی سے ایک بڑے ہتھوڑے اور درانتی پر نصب کیا گیا تھا۔ پوپ کو یہ انوکھی صلیب جولائی دو ہزار پندرہ میں بولیویا کے صدر ایوہ مورالس نے پیش کی تھی۔ پوپ نے صلیب کا یہ تحفہ وصول کرتے وقت تصاویر تو بنوائیں، مگر انہوں نے نہ تو نظر اٹھا کر فوٹو گرافرز کی طرف دیکھا، اور نہ ہی اپنے چہرے پر ابھرنے والے ناپسندیدگی کے تاثرات چھپانے کی کوشش کی۔ اس واقعے کو دنیا کے بڑے اخبارات نے شہ سرخیوں سے شائع کیا۔ پوپ نے بار بار اس بات کی تردید کی کہ انہیں کیتھولک مذہب اور مارکسزم کے اس امتزاج پر کوئی حیرت یا افسوس ہوا ہے۔

بولیویا کے حکام نے وضاحت کی کہ یہ صلیب بولیویا کے ایک مشہور پادری فادر لیوس اسپینل کی صلیب کی نقل تھی۔ یہ پادری بولیویا میں انسانی حقوق کی لڑائی لڑتے رہے تھے، اور ان کو سال انیس سو اسی میں ایک نیم فوجی فائرنگ سکواڈ نے قتل کر دیا تھا۔ اس پادری کا کیتھولک دنیا میں ایک خاص مقام تھا، اور پوپ فرانسس صدارتی محل میں جانے سے پہلے اس کی قبر پر حاضری دے چکے تھے۔

اس وضاحت کے باوجود بولیویا کے کچھ گہرے قدامت پرست لوگوں نے صدر ایوہ پر ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں اس قسم کی صلیب کا تحفہ دے کر صدر نے پوپ کے عقائد کا مذاق اڑایا تھا۔ مگر صدر ایوہ کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ پہلے بھی کئی بار اس طرح کے غم و غصے کا سامنا کر چکے تھے۔ وہ کئی بار عوامی جلسوں میں رومن کیتھولک چرچ کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دے چکے تھے۔ انہوں نے میڈیا کے سامنے صدارتی محل سے بائبل اور صلیب ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

ویٹی کن سٹی کے ایک دورے کے دوران انہوں نے پوپ ونڈیکٹ کو ایک خط دیا تھا جس میں ان سے مجرد اور عورت کو چرچ کا سربراہ نہ بنانے کی پالیسی میں تبدیلی کی اپیل کی تھی۔ مگر پوپ فرانسس کے رومن کیتھولک چرچ کا سربراہ بننے کے بعد بھی ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، جس کا ایک ثبوت فرانسس کا یہ دورہ بولیویا بھی تھا۔ صرف چرچ کو ہی نہیں صدر ایوہ نے اپنی زندگی میں ہر طاقت ور اور با اثر قوت کو چیلنج کیا تھا۔ صدر ایوہ کی زندگی کی حیرت انگیز کہانی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

صدرایوہ ایک انتہائی غریب کاشتکار کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا بچپن اپنے غریب والدین کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہوئے گزارا تھا۔ محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ انہوں نے تعلیم بھی جاری رکھی۔ اوائل جوانی میں انہوں نے کسانوں کی انجمنوں میں سرگرمی سے حصہ لینا شروع کیا، اور کئی ایک کسان انجمنوں کے مرکزی عہدیدار بنے۔ کسانوں اور مقامی ریڈ انڈینز میں مقبولیت کی وجہ سے وہ جب عملی سیاست میں آئے تو فوری طور پر ملک کے ایوان زیریں کے ممبر منتخب ہو گئے۔

مزدور انجمنوں اور پھر پارلیمنٹ میں انہوں نے سب سے پہلے بولیویا میں امریکی اثرورسوخ اور ان کی موجودگی کو للکارا، اور جو امریکی حکام ڈرگ انفورسمنٹ کے نام پر بولیویا میں مقیم تھے ان کی واپسی کی مہم چلائی۔ امریکیوں کے ساتھ ان کی دشمنی وقت گزرنے کے ساتھ اس حد تک بڑھی کہ جب انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اس وقت امریکیوں نے ”آؤٹ آف وے“ جا کر یہ اعلان کیا کہ اگر ایوہ کو صدر منتخب کیا گیا تو امریکہ بولیویا کی ساری امداد بند کر دے گا۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ بولیویا کے تمام با اثر اور طاقتور طبقات بھی صدر ایوہ کے خلاف تھے۔ بائیں بازو کے خیالات کے حامی ہونے کے ناتے وہ ملک میں جاگیرداری کے خاتمے کے پرجوش پرچارک تھے، جس کی وجہ سے ملک کے تمام با اثر جاگیردار اور زمیندار ان کے دشمن بن گئے۔ انہوں نے تیل جیسے قدرتی وسائل کو حکومتی تحویل میں لینے کی بات کی، جس کی وجہ سے تیل کے کاروبار سے جڑی ہوئیِ امیر ترین قوتیں بھی ان کی دشمن تھیں۔ مگر وقت کی سپر پاور، اس کی طاقت ور خفیہ ایجنسیوں اور ملک کی اسٹیبلشمنٹ یعنی ہیئت مقتدرہ کے خلاف بیک وقت جنگ چھیڑنے کے باوجود وہ دو ہزار چھ کے انتخابات میں واضح اکثریت سے جیت کر بولیویا کے پہلے ریڈ انڈین صدر بن گئے۔

صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے پروگرام کے مطابق انہوں نے کئی معجزہ نما کام دکھائے۔ انہوں نے کرپشن میں بڑی حد تک کمی کی۔ خواندگی کی شرح میں حیرت انگیز اضافہ کیا۔ غربت کی شرح میں کمی لائے۔ دیسی یعنی مقامی ریڈ انڈینز کی بہبود کے لیے قوانین بنائے۔ قدرتی وسائل کو قومیانے اور دولت کی زیادہ منصفانہ تقسیم کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ نتیجے کے طور پر دو ہزار نو کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر واضح اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔

دوسری بار انتخاب جیتنے کے بعد انہوں نے اس راستے پر چلنا شروع کر دیا، جس پر عموماً طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے لوگ چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے لگتے ہیں اور پے در پے غلطیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بولیویا کے آئین میں صرف دو دفعہ صدر بننے کی گنجائش تھی ’مگر انہوں نے تیسری بار انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عدالتوں کو استعمال کیا اور اپنے حق میں فیصلہ کرا لیا۔ وہ ایک بار پھر دو ہزار چودہ کے انتخابات جیت گئے، مگر عوام کا ان پر سے بھروسہ اٹھ چکا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ جیسا کہ عموماً ہوتا ہے‘ ملک میں کرپشن کے سکینڈل آنا شروع ہو گئے۔ ایک سکینڈل میں ان کی سابق محبوبہ پر پانچ سو ملین ڈالر کے ٹھیکے میں ملوث ہونے کا الزام آیا۔ اور جیسا کہ ان حالات میں ہوتا ہے ملک میں معیشت سست ہونا شروع ہو گئی، ترقی رک گئی اور عوام میں بے چینی بڑھنے لگی۔ مگر صدر ایوہ نے اس پر بس کرنے کے بجائے ایک بار پھر صدر بننے کی تیاری شروع کر دی۔ اس مسئلے کو لے کر ملک میں ایک ریفرنڈم ہوا، جس میں اکیاون فیصد لوگوں نے اس آئینی ترمیم کی مخالفت کی جو ان کو ایک بار پھر صدر کا انتخاب لڑنے کی اجازت دینے کے لیے لائی گئی تھی ’مگر عوامی رائے کی کوئی پروا کیے بغیر ایوہ نے عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ لے لیا۔

اس وقت تک عوام کی ایک بڑی تعداد ایوہ کے خلاف ہو چکی تھی‘ مگر الیکشن کے نتائج کے مطابق وہ یہ انتخابات بھی جیت گئے۔ حزب مخالف نے ان پر دھاندلی اور الیکشن فراڈ کا الزام لگایا۔ ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ یہ انتخابات ”آرگنائزیشن آف امریکن سٹیٹس“ نے مانیٹر کیے تھے۔ اس تنظیم نے دس نومبر کی رپورٹ میں ان انتخابات میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ’اور دوبارہ انتخابات کی سفارش کی۔ صدر ایوہ نے مطالبہ مان لیا‘ مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ ملک کی مسلح افواج کے سربراہ نے ان کو فوراً مستعفی ہونے کو کہا۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ تاحیات صدر رہنے کی خواہش میں مبتلا ہو جانے والا یہ ذہین شخص وہ واضح چیزیں بھی دیکھنے میں ناکام رہا جو بہت دور سے بھی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ یہ نہ دیکھ سکا کہ اس کی مسلح افواج کا سربراہ ایک وقت میں واشنگٹن میں ملٹری اتاشی رہ چکا تھا۔ اور صدر ایوہ کے سامنے لاطینی اور سنٹرل امریکہ کے ایسے اتاشیوں کی ایک طویل فہرست تھی، جو واشنگٹن میں تعینات رہے تھے، اور جنہوں نے بالآخر اپنی ان حکومتوں کے تختے الٹ دینے میں اہم رول ادا کیا تھا، جنہیں امریکی نا پسند کرتے تھے۔

وہ یہ بھی نہ دیکھ سکا کہ بولیویا کے کمانڈر انچیف سمیت چھ اعلیٰ عہدیدار ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے امریکہ کے مشہور ٹریننگ کالج ”دی سکول آف امریکاز“ سے تعلیم حاصل کی تھی، جو اس اعتبار سے ایک بدنام زمانہ ادارہ تھا، جس سے فارغ لوگ اپنی حکومتوں کے خلاف کسی نہ کسی بغاوت اور سازش میں شریک تھے۔ اسے یہ بھی نظر نہ آیا کہ اس کی پولیس کا کمانڈر انچیف وہ شخص ہے، جس نے پولیس ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکہ سے ٹریننگ لی ہوئی ہے حالانکہ اس کی یا اس کے کسی ساتھی کی نظر سے سی آئی اے کے فلپ ایجی کی شہرہ آفاق کتاب ”سب کچھ بتاو“ ضرور گزری ہو گی یا گزرنی چاہیے تھی۔

اس کتاب میں ایجی نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ کس طرح سی آئی اے غیر ملکی ایجنٹوں کی بھرتی کے لیے امریکہ آنے والے غیرملکی پولیس آفیسرز، غیرملکی فوجیوں اور ایمبیسی کے اتاشیوں پر تکیہ کرتی ہے۔ چار بار صدر رہنے والا یہ پہلا ریڈ انڈین شخص اس وقت میکسیکو میں جلا وطن اور پناہ گزین ہے، اور اپنے مستقبل کے بارے میں یقین سے کچھ بتانے سے قاصر ہے کہ اس کا کیا بنے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •