رسم پوری کرنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کہا جائے۔ رونا رویا جائے تو اُس کا کیا فائدہ۔ وکلاء کو بُرا بھلا کہا جائے تو کسی کی صحت پہ کیا اثر۔ ایسی باتیں تو رسمی جملوں کی ادائیگی سے زیادہ معنی نہیں رکھتیں۔ سوال تو یہ ہے کہ اُس دوپہر حکومت نام کی چیز کہاں تھی؟

یہ واقعہ کہیں دُور دراز نہیں ہوا‘ گورنر اور چیف منسٹر ہاؤس کے بالکل قریب جیل روڈ پہ یہ سارے مناظر رونما ہوئے۔ ایک دن پہلے سے تناؤ کی صورت حال پیدا ہو چکی تھی۔ کوئی سپیشل برانچ صوبے میں کام کرتی ہے تو اُس نے ضرور اِس صورت حال کے بارے میں رپورٹ دی ہو گی۔ صرف چیف منسٹر کی بات نہیں ہے۔ وہ تو جیسے ہیں سب کو پتہ ہے۔ اُن کی صلاحیتوں پہ زیادہ الفاظ کیا ضائع کیے جائیں۔ لیکن باقی انتظامی مشینری، وہ کیا کر رہی تھی؟ چیف سیکرٹری سے لے کر آئی جی پولیس اور پھر اُن کے نیچے نہ ختم ہونے والا انتظامی سلسلہ۔ لاہور کے بابوؤں کو ایک قطار میں کھڑا کیا جائے تو وہ فوج کے ایک ڈویژن کے برابر نظر آئیں گے۔ صوبے میں جو پولیس ہے اُس کی تعداد برطانوی فوج سے اب زیادہ ہے۔ اِس وقت برطانوی فوج کی تعداد لگ بھگ ستر اسی ہزار ہے۔ پنجاب پولیس کی نفری ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ تو اندازہ کر لیجیے۔ افسران اتنے ہیں کہ ایک لمبے چوڑے بحری جہاز میں جگہ کم پڑ جائے۔

چیف سیکرٹری اور آئی جی حال ہی میں تعینات ہوئے ہیں۔ آئی جی کے بارے میں تو کہتے تھے بڑے سخت گیر آدمی ہیں، بڑی انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لاہور جیسے شہر میں گنے چُنے افسران ہوتے تھے۔ آج کل ایڈیشنل آئی جی اور مختلف قسم کے ایس پی اتنے ہیں کہ گنتے گنتے اُنگلیاں تھک جائیں۔ جب صاف ظاہر تھا کہ وکلاء نے جلوس نکالنا ہے اور وکلاء کا جو مزاج بن چکا ہے اُس کے بارے میں سب جانتے ہیں تو پولیس نے کیوں نہ کچھ انتظام کیا؟ وکلاء ہیلی کاپٹروں سے نہیں آئے تھے وہ تو مال سے چلے اور پھر جیل روڈ پہنچے لیکن روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ وکلاء کے بارے میں تو بعد میں سوچا جائے‘ پہلا ایکشن تو اس ہاتھی نما انتظامیہ کے بارے میں ہونا چاہیے کہ اُس دن وہ کہاں تھی اور کہاں سر چھپائے بیٹھی تھی۔ ہمارے رپورٹر حسن رضا سے میں نے پوچھا تو پتہ چلا کہ ایک ہی افسر وہاں نظر آ رہا تھا، مومن آغا جو کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہیں۔ باقی ڈی آئی جی فلاں اور ایس ایس پی فلاں کوئی نہ تھا۔

مانا کہ حالات خراب ہیں، پولیس کا مورال بھی گرا ہوا ہے۔ افسران ڈرے ڈرے رہتے ہیں کہ کچھ ہو نہ جائے اور پھر وہ مصیبت میں پھنس جائیں۔ لیکن ایسی صورت حال ہے تو پھر اپنے عہدے چھوڑ دیں‘ گاڑیاں اور گھر واپس کریں لیکن ظاہر ہے ایسا کسی نے نہیں کرنا۔ نوکری کا آج مطلب یہ نہیں کہ کوئی کام کرے بلکہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مراعات ملیں اور اُن سے انسان ہمیشہ چمٹا رہے۔ وکلاء کا مزاج تو بگڑ چکا ہے۔ ڈاکٹروں کا بھی یہی حال ہے۔ لیکن انتظامی مشینری کو دیکھیے‘ اُس کا تو وہ حال ہو چکا ہے کہ کچھ ہلکی سی اُمید بھی نہیں لگائی جا سکتی۔ ہاں کمزوروں پہ چڑھ دوڑنا ہو تو پھر انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ پھر نہ کوئی گنجائش نہ کوئی نرمی۔ لیکن جہاں ردِ عمل سخت ہونے کا اندیشہ ہو وہاں انتظامیہ اور پولیس کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ پھر تاویلیں آتی ہیں کہ احتیاط لازم تھی نہیں تو کہیں ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ سرزد نہ ہو جاتا۔

پچھلے دنوں جب ایک نازک معاملے پہ حتمی فیصلہ آیا تو چند مولوی صاحبان نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا اور صوبے بھر کی تقریباً بندش ہو گئی۔ اُس موقع پہ بھی پنجاب سرکار ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ پھر اور ادارے حرکت میں آئے اور مخصوص مولوی صاحبان کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ اگر ہر بار ایسا ہی ہونا ہے اور دیگر اداروں نے ہی ہاتھ پاؤں مارنے ہیں تو پھر یہ جو باتیں ہم سویلین بالا دستی کی کرتے ہیں‘ ان کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ اب تو حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تھوڑی سی صورت حال خراب ہوئی تو د یگر اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ یہ بھی شرم کی بات نہیں کہ ہسپتال پہ حملے کے بعد پنجاب رینجرز کو مختلف مقامات پہ حفاظت کے لئے مامور کیا گیا؟ ایسے موقعوں پہ رینجرز یا دوسروں نے ڈیوٹیاں دینی ہیں تو پولیس کس کام کی؟ اسے برخاست کریں یا دیگر امور پہ لگائیں۔

لیکن یہ رونا دھونا فضول ہے۔ کسی نے کیا اثر لینا ہے اور جہاں تک شرم آنے کی بات ہے اُس ماجرے کو ختم ہی سمجھیے۔ انتظامی بدحواسی یا نالائقی پر اَب شرم آنے کی نوبت نہیں آتی۔ بس کام چلاؤ اور ڈنگ ٹپاؤ۔ گمان تو یہ تھا کہ عمران خان بڑی بلا کے منتظم ثابت ہوں گے۔ کئی مواقع آئے جب وہ ایک مثال قائم کر سکتے تھے۔ لیکن شاید اُن کی دلیری تقریروں تک محدود ہے۔ میدانِ عمل میں ابھی تک کچھ خاص دیکھنے کو نہیں ملا۔

جہاں تک وکلاء کا تعلق ہے تو ہمارا اب قانون اور انصاف کے بارے میں نظریہ بدل جانا چاہیے۔ سمجھدار لوگ تو اب وکیل کی قابلیت کی بجائے اُس کی سینہ زوری کو د یکھتے ہیں۔ پیسے سینہ زوری کے دئیے جاتے ہیں۔ وکیلوں کے الیکشنوں میں کروڑوں خرچ ہوتے ہیں۔ بڑے ہوٹلوں میں کھانوں کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ یہ سب اس لیے کہ الیکشن جیت گئے تو سینہ زوری کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پھر شاید فیسیں بھی اسی لحاظ سے مقرر ہوتی ہوں۔ تگڑے لوگوں کی بات تو اور ہے‘ وہ یہ سب لوازمات پورے کر سکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا بھی ہے کہ صاحب ثروت لوگوں کو بڑے سے بڑا وکیل کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ بڑ ے وکیل بڑوں کے ہی کیس لڑتے ہیں۔ لیکن عام لوگ تو مارے گئے۔ کمزور وکیل ہو تو اس پر صحیح دھیان بھی نہیں دیا جاتا۔

سہر ا تو جاتا ہے وکلاء تحریک کو۔ ہم بھی ایک ادنیٰ سپاہی کی حیثیت سے اُس تحریک میں شامل رہے۔ جلوسوں کے ساتھ ہو لیتے اور ٹی وی کیمروں کے سامنے تبصرے کرتے۔ جب بول رہے ہوتے تو وکلاء کی ایک لائن پیچھے کھڑی ہو جاتی اور جب تک کیمرے چلتے وہاں سے ہٹنے کا نام نہ لیتے تھے۔ اُس سے پہلے عمومی طور پہ معاشرے میں وکلاء کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔ لیکن اُس تحریک اور ٹی وی کیمروں کی وجہ سے وکلاء میں وہ جان آئی جو اب اِس بپھرے ہوئے انداز میں بدل چکی ہے۔ دلائل کا سہارا کسی نے کیا لینا ہے اب تو بات مکوں اور لاتوں تک پہنچ چکی ہے۔ بات بات پہ، تھوڑی سی تکرار ہو تو آستینیں چڑھ جاتی ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا بھی یہی حال ہے لیکن وکلاء تعداد میں زیادہ ہیں اور منظم بھی۔ صرف ایک کسر رہ گئی ہے اور وہ ہے طلباء یونینز کی۔ مطالبہ اب زور پکڑ رہا ہے کہ طلباء تنظیموں کو بحال کیا جائے۔ یہ ہو گیا تو پھر جو زور آزمائی وکلاء صاحبان کی پہچان بن چکی ہے وہ ہم طلباء میں بھی دیکھ سکیں گے۔

یہی پاکستان کا مستقبل لگتا ہے کہ جس کے ہاتھ مضبوط اُسی کی بات چلے۔ تاجر برادری کی اپنی طاقت ہے۔ وہ ٹیکس نہیں دیتے اور ٹیکس نیٹ میں آنا نہیں چاہتے۔ حکومتیں اُن کے سامنے بے بس ہوتی ہیں۔ بس ہر ایک کی اپنی سینہ زوری ہے۔ وکلاء کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو گئے ہیں اور اس ہسپتال والے واقعے نے تو ثابت کیا ہے کہ وہ ہر حدیں پھلانگنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ اور آئی سی یو پہ حملہ بڑے دل گردے کا کام ہے‘ لیکن وکلاء یہ بھی کر گئے۔

اور وہ دیکھیں جو ہمارے دوست فیاض الحسن چوہان کے ساتھ ہوا۔ بھلے وقتوں میں بات توں تکرار تک رہتی تھی۔ گریبان کی طرف ہاتھ نہ جاتا۔ قانون کو ایک طرف رکھیے، تمیز بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ آج کے نوجوان وکلاء میں معمولی سی تمیز بھی نہیں رہی۔ رونا اس بات کا ہے۔ اور جہاں تک انتظامی کارکردگی کا تعلق ہے اُس کا مزید ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •